Ayah 104:1[وَيْلٌ لِكُلِ : تباہی ہے ہر ایک ][ هُمَزَةٍ : بہت طعنہ زنی کرنے والے ][ لُّمَزَةِۨ: بہت عیب جوئی کرنے والے کے لیے ]
ترکیب : (آیات۔ 1 تا 4) ھُمَزَۃٌ۔ لُمَزَۃٌ۔ حُطَمَۃٌ یہ تینوں الفاظ اسمائے صفت ہیں اور ان تینوں پر تائے مبالغہ ہے۔
نوٹ 1: سابق سورة العصر اور اس سورة کے مضمون میں نہایت واضح مناسبت یہ ہے کہ سابق سورة میں فلاح پانے والے انسانوں کا کردار بیان ہوا ہے اور اس سورة میں اس کے بالکل ضد کردار بیان ہوا ہے جو روپیہ گن گن کر رکھتے ہیں اور لوگوں کے حقوق ادا کرنا تو درکنار، کسی کو اگر دیکھ پائیں کہ وہ ادائے حقوق کے معاملے میں عملاً وقولاً سرگرم ہے تو اپنے طعن وطنز سے اسے تنگ کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اس کا حوصلہ پست کردیں تاکہ ان کی بخالت پر پردہ پڑا رہے اور ان کو خفت و ندامت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ قرآن نے بخیل سرمایہ داروں کے اس کردار کی طرف جگہ جگہ اشارہ کیا ہے۔ مثلاً سورة توبہ کی آیت۔ 49 ۔ میں ہے۔ ” جو لوگ خوش دلی سے انفاق کرنے والے اہل ایمان پر ان کے صدقات کے باب میں نکتہ چینی کرتے ہیں اور جو غریب اپنی محنت مزدوری سے انفاق کرتے ہیں، ان پر پھبتیاں چست کرتے ہیں، اللہ نے ان لوگوں کا مذاق اڑایا اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ “ (تدبر قرآن)
نوٹ 2: اس سورة کو اگر ان سورتوں کے تسلسل میں رکھ کر دیکھا جائے جو سورة زلزال سے یہاں تک چلی آرہی ہیں تو آدمی بڑی اچھی طرح یہ سمجھ سکتا ہے کہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور میں کس طریقے سے اسلام کے عقائد اور اس کی تعلیمات کو لوگوں کے ذہن نشین کیا گیا تھا۔ سورة زلزال میں بتایا گیا کہ کوئی ذرہ برابر نیکی یا بدی ایسی نہ ہوگی جو اس نے دنیا میں کی ہو اور وہ آخرت میں اس کے سامنے نہ آجائے۔ سورة عادیات میں اس کشت وخون اور غارت گری کی طرف اشارہ کیا گیا جو عرب میں ہر طرف برپا تھی۔ پھر یہ احساس دلانے کے بعد کہ خدا کی دی ہوئی طاقتوں کا یہ استعمال اس کی بہت بڑی ناشکری ہے، لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ معاملہ اسی دنیا میں ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ موت کے بعد دوسری زندگی میں صرف افعال ہی کی نہیں بلکہ نیتوں تک کی جانچ پڑتال ہوگی۔ سورة قارعہ میں قیامت کا نقشہ پیش کرنے کے بعد لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ آخرت میں انسان کے انجام کا انحصار اس پر ہوگا کہ اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا ہلکا۔ سورة تکاثر میں اس ذہنیت پر گرفت کی گئی جس کی وجہ سے لوگ مرتے دم تک دنیا کے عیش و آرام اور جاہ ومنزلت میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ پھر اس کے برے انجام سے آگاہ کیا گیا کہ ایک ایک نعمت جو یہاں تمہیں مل رہی ہے اس کے لیے تمہیں اپنے رب کو جواب دینا ہوگا کہ اسے کیسے حاصل کیا اور کہاں استعمال کیا۔ سورة عصر میں بتادیا گیا کہ نوع انسانی کا ایک ایک فرد خسارے میں ہے اگر اس میں مذکورہ چار صفات نہ ہوں۔ اس کے بعد یہ سورة آئی ہے جس میں جاہلیت کی سرداری کا ایک نمونہ پیش کر کے لوگوں کے سامنے گویا یہ سوال رکھ دیا گیا کہ یہ کردار خسارے میں کیوں نہ ہو۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 104:2[الَّذِي جَمَعَ مَالًا : جس نے جمع کیا کچھ مال ][ وَّعَدَّدَهٗ : اور وہ بار بار گنتا رہا اس کو ]
Ayah 104:3[يَحْسَبُ ان مَالَهٗٓ: وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال ][ اَخْلَدَهٗ : دوام بخشے گا اس کو ]
(آیت۔ 3) اَنَّ کا اسم مَالَہٗ ہے اس لیے یہ حالت نصب میں ہے اور یہ اَخْلَدَ کا فاعل ہے۔ اس سے متصل ہٗ کی ضمیر مفعولی گزشتہ آیت میں اَلَّذِیْ کے لیے ہے۔
نوٹ 3: آیت۔ 3 ۔ کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے حیات جاوداں بخش دے گا یعنی دولت جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں وہ ایسا منہمک ہے کہ اسے اپنی موت یاد نہیں رہی اور اسے کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ایک وقت یہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہونا ہے۔
Ayah 104:4[كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ : ہرگز نہیں ! اس (شخص) کو لازماً پھینکا جائے گا ][ فِي الْحُطَمَةِ : اس بہت روندنے والی میں ]
Ayah 104:5[وَمَآ اَدْرٰىكَ : اور تو نے کیا سمجھا ][ مَا الْحُطَمَةُ : کیا ہے وہ بہت روندنے والی ]
Ayah 104:6[نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ : (وہ) اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے ]
(آیت۔ 6) نَارُ اللّٰہِ خبر ہے۔ اَلْمُوْقَدَۃْ ۔ نَارْ کی صفت ہے اس لیے اس پر تائے تانیث ہے۔ اس خبر کا مبتدا ھِیَ محذوف ہے۔
Ayah 104:7[الَّتِيْ تَـطَّلِــعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَةِ : جو چڑھتی ہے دلوں پر ]
آیت۔ 7 ۔ میں افگدۃ کا لفظ آیا ہے جو فواد کی جمع ہے اور جس کے معنی دل کے ہیں۔ لیکن یہ لفظ اس عضو کے لیے استعمال نہیں ہوتا جو سینے کے اندر دھڑکتا ہے بلکہ اس مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے شعور و ادراک، جذبات و خواہشات، عقائد و افکار اور نیتوں اور ارادوں کا مقام ہے۔ دلوں تک اس آگ کے پہنچنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ آگ اس جگہ تک پہنچے گی جو انسان کے فاسد عقائد اور ناپاک خواہشات و جذبات کا مرکز ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی وہ آگ دنیا کی آگ کی طرح اندھی نہیں ہوگی کہ مستحق اور غیر مستحق سب کو جلا دے بلکہ وہ ایک ایک مجرم کے دل تک پہنچ کر ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق عذاب دے گی۔ (تفہیم القرآن) ۔
مورخہ 20 ۔ صفر 1432 ھ۔ بمطابق 25 ۔ جنوری 2011 ء
Ayah 104:8[انهَا عَلَيْهِمْ : بیشک وہ (آگ) ان پر ][ مُّؤْصَدَةٌ: اوپر سے بند کی ہوئی ہے ]
(آیت۔ 8) اِنَّ کا اسم اس کے ساتھ ھَا کی ضمیر ہے جو نَارٌ کے لیے ہے۔ مُؤْصَدَۃٌ اس کی خبر ہے اس لیے اس پر تائے تانیث ہے۔
Ayah 104:9[ فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ : دراز کیے ہوئے ستونوں میں ]
(آیت۔ 9) فِیْ عَمَدٍ متعلق خبر ہے اِنَّھَا کی اور مُمَدَّدَۃٍ صف ہے عَمَدٍ ، جو جمع مکسر ہے۔ اس لیے اس کی صفت واحد مؤنث آئی ہے۔