Ayah 107:1اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہیں جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا فرماتا ہے (اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ ) کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اور جو کچھ انبیا ومرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
Ayah 107:2(فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ ) پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تند خوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
Ayah 107:3(وَلَا يَحُضُّ ) اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا (عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ ) مسکین کو کھانے پر۔ اور وہ خود تو بالاولی مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
Ayahs 107:4–5(فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ ) ہلاکت ہے نماز کا التزا کرنے والوں کے لیے مگر وہ (عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ ) اپنی نماز سے غافل ہیں۔ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انہوں نے نماز کو ترک کردیا جو سب سے اہم عبادت ہے نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے اور رہا نماز کے اندر سہو تو یہ ہر ایک سے واقع ہوجاتا ہے حتی کہ نبی اکرم سے بھی سہو واقع ہوا ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بےرحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔
Ayah 107:6فرمایا (الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاۗءُوْنَ ) یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔
Ayah 107:7(وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ) کسی چیز کو عاریتا یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا روکتے مثلا برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیا کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیا لوگوں کو استعمال کے لیے دیتے وقت ان کا کیا حال ہوگا۔ اس سورة مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے اس کی حفاظت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب ہے۔ مثلا برتن، ڈول، اور کتاب وغیرہ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔