الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَ ۟ۙالَّذِيْنَ هُمْ يُرَاۤءُوْنَ
جو ریا کاری کرتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Those who make show [of their deeds]
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 32 of juz
الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَ ۟ۙالَّذِيْنَ هُمْ يُرَاۤءُوْنَ
جو ریا کاری کرتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Those who make show [of their deeds]
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 32 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Maa'un
جو ریا کاری کرتے ہیں
جو ریا کاری کرتے ہیں
جو ریاکاری کرتے ہیں
جو دکھاوا کرتے ہیں۔
وہ جو دکھاوا کرتے ہیں
وہ لوگ (عبادت میں) دکھلاوا کرتے ہیں (کیونکہ وہ خالق کی رسمی بندگی بجا لاتے ہیں اور پسی ہوئی مخلوق سے بے پرواہی برت رہے ہیں)،
وہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔
جو ریا کاری کرتے ہیں
جو ریاکاری کرتے ہیں
جو دکھلاوا کرتے ہیں اپنے کاموں میں
(اور) جو ایسے ہیں کہ ریاء کاری کرتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو دکھاوا کرتے ہیں۔
جو ریا کاری کرتے ہیں
those who do good (in order) to be seen,
who (do good only to) show off,
who (do good only to) show off,
Those who do good deeds only to be seen,
Who would be seen (at worship)
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Those who make show [of their deeds]
who show off (his good deeds)
Who do (good) to be seen,
They who would be seen,
Those who (want but) to be seen (of men),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–7
نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے اس کا حق مارتا ہے اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا جیسے اور جگہ ہے (كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ 17 ۙ) 89۔ الفجر :17) یعنی جو برائی تمہیں پہنتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو یعنی اس فققیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے…
Read the full tafseer →سورة الماعون 10 یہ فقرہ ایک مستقل فقرہ بھی ہوسکتا ہے اور پہلے فقرے سے متعلق بھی۔ اگر اسے ایک مستقل فقرہ قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نیک کام بھی وہ خالص نیت کے ساتھ خدا کے لیے نہیں کرتے بلکہ جو کچھ کرتے ہیں دوسروں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی تعریف ہو، لوگ ان کو نیکو کار سمجھیں، ان کے کار خیر کا ڈھنڈورا دنیا میں پٹے، اور اس کا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں انہیں دنیا ہی میں حاصل ہوجائے۔ اور اگر اس کا تعلق پہلے فقرے کے ساتھ مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ مفسرین نے بالعموم دوسرے ہی معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ پہلی نظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
خلاصہ تفسیر کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے سو (آپ اس کا حال سننا چاہیں تو سنئیے کہ) وہ شخص وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور محتاج کو کھانا دینے کی (دوسروں کو بھی) ترغیب نہیں دیتا (یعنی وہ ایسا سنگدل ہے کہ خود وہ کسی غریب کو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتا۔ اور جب بندوں کا حق ضائع کرنا ایسا برا ہے تو خالق کا حق ضائع کرنا تو اور زیادہ برا ہے) سو (اس سے ثابت ہوا کہ) ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں (یعنی ترک کردیتے ہیں) جو ایسے ہیں کہ (جب نماز پڑھتے ہیں تو) ریا کاری کرتے ہیں اور زکوٰة بالکل نہیں دیتے (کیونکہ زکوٰة کے لئے شرعاً…
Read the full tafseer →نمازوں کی بے حقیقتی کی وضاحت: یہ ان کی نمازوں کی بے حقیقتی کی وضاحت ہے کہ یہ محض دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی بخیل ہیں۔ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کی نمازوں کے بے روح و بے جان ہونے پر دو چیزوں سے دلیل قائم کی ہے۔ ایک ان کی ریاکاری سے دوسرے ان کی خِسّت سے۔ نماز کی اصل حقیقت اخلاص ہے۔ یعنی وہ صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کی خوشنودی اور رضا طلبی کے لیے پڑھی جائے۔ اس کے سوا اگر کوئی اور غرض اس میں شامل ہو جائے تو نماز بالکل باطل اور اپنے اصل مقصد کے اعتبار سے نہ صرف بے نتیجہ بلکہ نہایت مہلک ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی نمازیں اول تو ان کے فساد عقیدہ کے…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی ایسے لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ ہوئے تو نماز پڑھ لی بصورت دیگر نماز پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے، یعنی صرف نمود و نمائس اور ریا کاری کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔
Read the full tafseer →4: یعنی اگر پڑھتے بھی ہیں تو اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کو دکھاوا کرنے کے لئے پڑھتے ہیں۔ اصل میں یہ کام منافقوں کا تھا۔ اگرچہ مکہ مکرمہ میں جہاں یہ سورت نازل ہوئی، منافق موجود نہ ہوں، لیکن چونکہ قرآن کریم عام احکام بیان فرماتا ہے، اور آئندہ ایسے منافق پیدا ہونے والے تھے، اس لیے ان گناہوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی…
Read the full tafseer →5 یعنی ایک نماز کیا، ان کے دوسرے اعمال بھی ریاکاری اور نمود و نمائش سے خالی نہیں گویا ان کا مقصد خالق سے قطع نظر کر کے صرف مخلوق کو خوش کرنا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6{ الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَآئُ وْنَ۔ } ”یہ وہ لوگ ہیں جو دکھاوا کرتے ہیں۔“ وہ نماز کی ادائیگی سمیت ہر نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی نیکی کا چرچاہو۔
Read the full tafseer →5 اگر اس آیت کو سابقہ آیت سے متعلق قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسی بھی وہ نماز پڑھتے ہیں وہ بھی اللہ کے حکم یا آخرت کے ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانے کی خاطر پڑھتے ہیں۔ پھر اس ریا کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ منافق نماز اس لیے پڑھتے ہیں کہ دوسرے مسلمان انہیں دیکھ لیں اور ان کا شمار مسلمانوں میں ہوجائے۔ دوسری یہ کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص انہیں نماز پڑھتے دیکھ رہا ہے تو اس وقت وہ نماز بنا سنوار کر اور لمبی کرکے پڑھنے لگتے ہیں۔ ایسی نمازیں ان کو فائدہ پہنچانے کی بجائے ان کی ہلاکت کا سبب بن جائیں گی اور حقیقتاً ایسے لوگ بھی آخرت کے منکر ہی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
2۔ یعنی نماز اگر پڑھتے بھی ہیں، تو نمائش اور دکھاوے کی، جسے اصل عقیدہ سے کوئی تعلق ہی نہیں، گویا بندوں کے حق ضائع کرتے کرتے خالق کے حق ضائع کرنے میں بھی دلیر ہوگئے ہیں۔ عام خیال یہ پھیلا ہوا ہے، اور اپنی جگہ پر صحیح بھی ہے کہ حقوق العبد، حقوق اللہ پر مقدم ہیں، لیکن یہ تقدم صرف زائد مؤکد اور اشد ہونے کے لحاظ سے ہے، ورنہ فی نفسہ اہمیت تو ظاہر ہے، کہ حقوق اللہ ہی کی ہے۔ حقوق العبد بھی تو اسی لیے فرض ہیں کہ اللہ کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہاں تنبیہ فرمائی ہے کہ سورت میں ذکر ان افعال کا ہے جو تکذیب دین سے پیدا ہوتے ہیں، خواہ کفرا خواہ نفاقا، باقی اگر وہ بلاتکذیب دین ہوں تو مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فویل اللمصلین (الآیۃ) یہ منافقین کا حال بیان فرمایا ہے جو لوگوں کو دکھلانے اور اپنے دعوائے اسلام کو ثابت کرنے کے لئے نماز تو پڑھتے ہیں، مگر چونکہ وہ نماز کی فرضیت کے معتقد نہیں، اس لئے نہ اوقات کی پابندی کرتے ہیں نہ اصل نماز کی۔
Read the full tafseer →الذین ھم یراؤن . یُرْآءُ وْنَ رویت سے باب مفاعلت ہے۔ لوگوں کو وہ اپنے (اچھے) اعمال دکھاتے ہیں تاکہ لوگ ان کی تعریف کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے دکھاوٹ کی نماز پڑھی۔ اس نے شرک کیا ‘ جس نے دکھاوٹ کا روزہ رکھا ‘ اس نے شرک کیا۔ جس نے دکھاوٹ کی خیرات کی اس نے شرک کیا۔ (رواہ احمد عن شداد بن اوس)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 7) اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا سو ان منافقوں کے لیے دوزخ میں سخت عذاب ہے یعنی جو اپنی نمازوں میں لا پروائی کرتے ہیں اور انہیں چھوڑے بیٹھے ہیں کہ جب لوگوں کو دیکھتے ہیں تو نماز پڑھ لیتے ہیں ورنہ نہیں پڑھتے اور نیک کام سے روکتے ہیں یا یہ کہ زکوٰۃ اور معمولی سی چیز بھی نہیں دیتے۔ شان نزول : فَوَیْلٌ للمصلین الخ ابن منذر نے طریف بن ابی طلحہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ نمازوں میں آتے تو مسلمانوں کو اپنی نمازیں دکھاتے تھے اور جب غائب ہوتے تو چھوڑ دیتے اور مانگی ہوئی چیز کو روک لیتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(فویل للمصلین…:”ساھون“”سھا یسھو سھواً“ (ن) (غافل ہونا) سے اسم فاعل ”ساہ“ (بروزن قاض) جمع ہے۔ ”یرآء ون“”راء ی یر ا ء ی مراعاۃ و ریاء“ مفاعلہ) سے فعل مضارع جمع مذکر غائب ہے، دکھاوا کرنا۔ آیات کی باہمی مناسبت یہ ہے کہپ ہلی آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو کھلم کھلا قیامت کو جھٹلاتے اور اس کا انکار کرتے تھے اور ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر دل سے قیامت کو نہیں مانتے۔ یہ منافقین تھے جو آخرت پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے نماز پڑھنا نہیں چاہتے تھے، مگر اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے انہیں پڑھنا پڑھتی تھی۔ حقیقت میں وہ اپنی نماز سے غافل تھے، یہ غفلت کئی طرح سے تھی :(1) طبری نے…
Read the full tafseer →ریا اور اس کی حقیقت : مسئلہ نمبر 4: الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاۗءُوْنَ : وہ لوگوں کو دکھاتا ہے کہ وہ طاعت کے طور پر نماز پڑھتا ہے جبکہ وہ تقیہ کے طور پر نماز پڑھ رہا تھا جس طرح فاسق کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ وہ عبادت کی غرض سے نماز پڑھ رہا تھا حالانکہ وہ اس لیے نماز پڑھ رہا تھا تاکہ اسے یہ کہا جائے کہ وہ نماز پڑھتا ہے۔ ریا کی حقیقت یہ ہے دنیا میں جو کچھ ہے اسے عبادت کے ذریعے طلب کرنا۔ اس کی اصل یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں مقام و مرتبہ کی طلب کرنا۔ اس کا ابتدائی مرحلہ اچھی شہرت ہے اس کے ذریعہ جاہ و ثنا چاہتا ہے۔ چھوٹے اور کھردرے کپڑوں کے ذریعہ ریا تاکہ اس کے ذریعے وہ دنیا میں زہد حاصل کرے۔ زبان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ارأ یت الذی یکذب بالدین مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارأیت الذی یکذب بالدین میں بالدین سے مراد ہے حساب۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ارأیت الذی کذب بالدین سے مراد ہے کہ اللہ کے حکم کو جھٹلایا ہے۔ آیت فذلک الذی یدع الیتیم کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ یتیم کو اس کے حق سے پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابو طالب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ یقسم حقا…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ هُمْ : یہ وہ لوگ ہیں جو ][ يُرَاۗءُوْنَ : ریاکاری کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →﴿الَّذِيْنَ هُمْ يُرَآءُوْنَۙ006﴾ کو مستقل آیت قرار دے کر اور ﴿ يُرَآءُوْنَ﴾ کا مفعول حذف فرما کر ہر قسم ریاکاروں کی مذمت بیان فرما دی۔ بدنی عبادات کے علاوہ مالیات خرچ کرنے میں بھی ریاکاری ہوتی ہے۔ مسجد بنا دی تو شہرت کے لیے اپنے نام پر مسجد کا نام رکھنے کی ضد، کسی مدرسہ میں کوئی حجرہ بنوا دیا اس پر اپنے نام کا کتبہ لگانے کا اصرار، کوئی کتاب چھپوا کر تقسیم کردی اس پر اپنے نام کی تشہیر، زکوٰۃ دے دی تو اس کا اشتہار، مدارس کے سفراء سے رسید لے کر اپنے ہاتھ سے اپنے القاب و آداب کے ساتھ نام لکھنا تاکہ روئیداد میں القاب کے ساتھ نام چھپے۔ یہ چیزیں دیکھنے میں آتی رہتی ہیں اور بہت سے لوگ کسی کی مالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
اے ہمارے پیغمبر یا اے مخاطب، کیا تو نے دیکھا ہے اس کو جو جھٹلاتا ہے، اعمال کے بدلہ کو اور انکار کرتا ہے قیامت کا اور اعمال کی جزاء وسزا کا، حالانکہ ہر انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت رکھی ہے کہ وہ اپنے خالق کو مانے اس کے انعامات کو سمجھے اور ان انعامات کے باعث اس پر ایمان لائے اور اس کی نعمتوں کا حق بھی ادا کرے اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو غریبوں مساکین ویتامی پر خرچ کرے لیکن افسوس صد افسوس یہ مکذب بالدین خدا اور قیامت کا منکر اور اس کی نعمتوں کو فراموش کرنے والا تو ایسا شخص ہے غرور وتکبر کے نشہ میں مست دھکے دیتا ہے یتیم کو اور خود تو کسی کی کیا مدد کرتا دوسرے کو بھی ترغیب نہیں دیتا مسکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
4:۔ ” فویل “ تو ایسے نمازیوں کے لیے ہلاکت اور ویل ہے جو نماز کی حقیقت اور اس کے اصل مقصد سے غافل ہیں۔ عن ابن عباس ھو المصلی الذی ان صلی لم یرج لھا ثوابا وان ترکہا لم یخش علیہا عقابا (قرطبی ج 20 ص 211) ۔ ” الذین ھم یراءون “ وہ لوگوں کو دکھانے کے لیے اور دنیوی مصلحتوں کے تحت نماز پڑھتے ہیں۔ خداوند تعالیٰ کی رضاء مقصود نہیں ہوتی۔ ” ویمنعون الماعون “ الماعون، بالکل معمولی اور ادنی سی چیز مثلاً سوئی، پانی، نمک آگ وغیرہ۔ وھو الشیء القلیل (روح) اور وہ ایسے بد اخلاق ہیں کہ ایک حقیر سی چیز بھی کسی کو استعمال کے لیے نہیں دیتے۔ اس سورت میں جو اوصاف ذکر کیے گئے ہیں وہ منافقوں کے اوصاف ہیں۔ کو نہا فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الماعون ہے۔ اس کی آخری آیت میں ماعون کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اسی لفظ سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اکثر مفسرین 1 ؎ کی یہی رائے ہے۔ تاہم بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی زندگی میں اور نصف حصہ مدنی زندگی میں نازل ہوا۔ اس سورة کے مدنی ہونے کا تصور اسی وجہ سے ہے کہ اس میں منافقین کا ذکر ہے اور وہ مدنی زندگی میں پیدا ہوئے تھے۔ مکی دور میں منافقین کا وجود نہیں تھا۔ اس وقت یا کافر تھے۔ یا مخلص مسلمان اس سورة کی سات آیتیں ہیں۔ یہ پچیس الفاظ اور ایک سو پچیس حروف پر مشتمل ہے۔ 1 ؎ تفسیر عزیزی فاسری 360/پارہ 30 ، تفسیر اتقان…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ ہُمْ يُرَاۗءُوْنَ 6 ۙ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
1 ؎ یعنی جب جزا و سزا کا قائل نہیں تو پھر ہر قسم کی بےرحمی اور سنگدلی کرتا ہے۔ یتیم پر رحم کرنا مسکین کو کھانا کھلانا رحمدلی کی بات ہے اس کو بھی نہیں کرتا اور خدا کی طرف بھی نہیں سکتا اس لیے غفلت اور دکھاوے کی نماز پڑھتا ہے اور یہاں تک وفی الطبع ہوجاتا ہے کہ معمولی برتنے کی چیزیں بھی مانگے نہیں دیتا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآئُ وْنَ ۔ (الماعون : 6) (جو ریاکاری کرتے ہیں۔ ) ان کی نمازیں دکھاوے کی تھیں یعنی قریش کے نام نہاد متولی جو نمازیں پڑھتے تھے وہ درحقیقت لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوتی تھیں۔ اس سے مقصود لوگوں میں اپنے لیے ایک اچھا تصور پیدا کرنے کی کوشش تھی، اللہ تعالیٰ کی یاد کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تو جو نماز محض دکھاوے کی ہو اس کا مذہب سے کیا رشتہ اور اخلاص سے کیا تعلق۔ وہ تو محض شہرت اور نیک نامی کے حصول کی ایک کوشش ہے۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ قریش کے بڑے لوگ دنیوی جاہ و مرتبت کے سوا اور کسی چیز کے طلبگار نہ تھے۔ حالانکہ ان کے جدِامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی اولاد کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن ربط سورت : قریش کی ناشکری اور کفر و شرک کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ قیامت کی جواب دہی کے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ ” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قرآن مجید نے کئی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ سیاق وسباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں ” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قیامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو قیامت کو جھٹلاتا ہے یہ ایسا شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ جس شخص کا قیامت پر ایمان نہیں ہوتا وہ نیکی اس جذبے کے ساتھ نہیں کرتا کہ مرنے کے بعد اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔ ایسا شخص مال کی محبت میں دوسرے…
Read the full tafseer →6 : الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآ ئُ وْنَ (جو ایسے ہیں کہ ریاکاری کرتے ہیں)
Read the full tafseer →6 ۔” الذین ھم یراء ون “ کی وجہ سے۔ اور منافقین کے وصف میں فرمایا ” واذاقاموا الی الصلا ۃ قاموا کسالی یراء ون الناس “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس سے غافل پرواہ نہیں کرتے کہ نماز پڑھی ہے یا نہیں پڑھی۔ کہا گیا ہے اس کے ثواب کی امید نہیں کرتے اگر نماز پڑھیں اور اگر چھوڑ دیں تو سزا سے نہیں ڈرتے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس سے غافل ہیں اس میں سستی کرتے ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں یہ وہ شخص ہے کہ اگر نماز پڑھے تو ریاکاری کرتے ہوئے پڑھتا ہے اور اگر نماز چھوٹ جائے تو شرمندہ نہیں ہوتا اور ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں وہ نماز کو نماز کے وقت پر نہیں پڑھتے اور اس کا رکوع و سجدہ مکمل نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ یہ نصف سورة مکی ہے جو منکرین جزا و سزا کی شان میں ہے اور نصف مدنی ہے جو منافقوں کی شان میں ہے نماز سے بیخبر ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ وقت پر نماز ادا نہیں کرتے۔ چناچہ مسند 2 ؎ ابو یعلی میں معتبر سند سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے آیت الذین ھم عن صلاتھم ساھون کے معنی پوچھے تھے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ نے کہا ساھون سے یہ لوگ مراد لئے گئے ہیں جو وقت کو ٹال کر نماز پڑھتے ہیں یہ سعد بن ابی وقاص کا قول بمنزلہ حدیث نبوی کے ہے۔ کیونکہ صحابہ کی یہ عادت نہ تھی کہ قرآن شریف کی تفسیر وہ اپنی راے سے کریں چناچہ اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر…
Read the full tafseer →فرمایا (الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاۗءُوْنَ ) یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
معمولی ضرورت کی اشیاء نہ دینے والا قابل مذمت ہے قول باری ہے (ویمنعون الماعون اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں) حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ (ایک روایت کے مطابق) حضرت ابن عمر ؓ اور سعید بن المسیب تاقول ہے کہ ماعون زکوۃ کو کہتے ہیں۔ حارث نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ ماعون سے مراد آری، ہانڈی اور ڈول وغیرہ ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطابق عادیت میں کوئی چیز دینا مرا ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ ماعون مال کو کہتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ ہر ایسی چیز ماعون کہلاتی ہے جس میں منفعت کا پہلو موجود ہو۔ ابوبکر حبصاص کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4 ۔ نماز سے غفلت برتنے والوں کے لیے سخت پھٹکار، والعیاذ باللہ العظیم : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی پھٹکار ہے ان لوگوں پر جو غافل ہیں اپنی نمازوں سے " کہ کبھی پڑھی، کبھی نہ پڑھی، پڑھی بھی تو دیر کر کے اور جلدی جلدی سے اس سے فراغت حاصل کرلی، گویا کہ جان چھڑانے کی کوشش ہورہی ہے، اور سر سے ایک بوجھ اتارا جارہا ہے اور کبھی پڑھی تو کاہلی سے پڑھی، کیونکہ آخرت کی جزا و سزا پر جب یقین نہ ہو تو آدمی کی کیفیت یہی ہوتی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ دوسرے مقام پر منافقین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نماز سے غفلت ریا کاری اور بخل سے بچو تشریح : اس میں کچھ ایسی نصیحت کی باتیں بتائی گئی ہیں جو دنیا و آخرت کو سنوار سکتی ہیں جس میں سب سے اول عقیدہآخرت کی مضبوطی ہے۔ اصل میں یہ عقیدہ انسانی کا میابی کے لیے ایک چابی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ جب تک ہمیں یہ یقین نہیں ہوگا کہ ہمارا محاسبہ ضرور ہوگا اور ایسی ذات کے سامنے ہوگا جو ہمارے ظاہر باطن سے خوب واقفیت رکھتا ہے۔ جس کو نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے نہ سفارش کی گنجائش ہے نہ جھوٹ اور رشوت سے چھوٹ سکتے ہیں۔ تو پھر کوئی پاگل ہی ہوگا جو غلط کام کرے گا۔ لیکن ایسے سر پھرے لوگوں کی نہ پہلے کمی تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ تو ایسے ہی منافق لوگوں کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون۔ آیات 1 تا 7۔ اسرار ومعارف۔ آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو قیامت اور اسلام کا انکار کیے بیٹھے ہیں انہیں دولت دنیا نے اندھا کردیا ہے کہ اسلام کے نظام معشیت سے گھبراتے ہیں اور یتیموں اور کمزوروں کو دھکے دے کر ان کا حق دبالیتے ہیں اور محتاج وبے بس کو اس کا حق نہیں دینا چاہتے یہ صرف کافر ہی نہیں ان میں برائے نام مسلمان اور منافق بھی شامل ہیں جو بظاہر نماز ادا کرتے ہیں مگر عبادات کے اس کے نتیجے سے بیخبر ہیں کہ عبادات کا نتیجہ تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام پر عمل کرے اور ظلم کو مٹا دے مگر یہ اس ظلم میں گرفتار ہیں دکھلاوے کو عبادت کرتے ہیں اور کسی کا حق توکیادیں گے مانگنے پر برتنے کی چیز بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 6 یعنی خدا کے لئے نہیں پڑھتے بلکہ اس لئے پڑھتے ہیں کہ لوگ انہیں غازی و پرہیز گار جانیں اور عزت و احترام کا مقام دیں۔7 یعنی معمولی اور عمومی استعمال کی چیزیں۔ مطلب یہ ہے کہ نہایت بخیل اور بےمروت ہیں نہ خدا کی عبادت ٹھیک طرح سے کرتے ہیں اور نہ خلق خدا سے وہ برتائو کرتے ہیں جو میل جول کا کام سے کم تقاضا ہے۔
Read the full tafseer →(107:6) الذین ھم یراء ون (آیت بالا سے چل کر دوسری صفت ہے) جو ریا کاری کرتے ہیں۔ یراء ون مضارع جمع مذکر غائب مراء ۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ وہ دکھاوٹ کرتے ہیں۔ وہ ریا کاری کرتے ہیں۔ جناب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ :۔ جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا۔ جس نے دکھاوے کا روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کی خیرات کی اس نے شرک کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔ ارءیت۔ کیا تو نے دیکھا۔ الدین۔ انصاف کا دن۔ قیامت۔ یدع۔ دھکے دیتا ہے۔ لا یحض۔ آمادہ نہیں کرتا۔ ساھون۔ بیخبر ۔ سستی کرنے والے۔ یراء و ن۔ وہ دکھاتے ہیں۔ یمنعون ۔ وہ منع کرتے ہیں۔ الماعون۔ برتنے کی (چھوٹی چھوٹی) چیزیں۔ تشریح : چند جملوں پر مشتمل سورة الماعون میں فکر آخرت، حقوق اللہ اور حقوہ العباد کو اس قدر خوبصورتی سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس میں غوروفکر کرنے والا کسی کے حق میں کمی کا تصور بھی نہی کرسکتا۔ فرمایا۔ ……: کیا آپ نے دیکھا کہ کون ” الدین “ کو جھٹلاتا ہے۔ ممکن ہے اس سورت میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہو یا ہر دیکھنے والی آنکھ کو اس طرف متوجہ کیا ہو کہ کیا تم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نماز کی تاکید۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جو روز جزا کا یقین نہیں رکھتا، یہ وہی شخص ہے جو قیامت کے انکار کے ساتھ اور بھی عیب رکھتا ہے، یتیم کا مال سینہ زوری سے کھاتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی کسی کو رغبت نہیں دلاتا، خود تو کیا دے گا کسی سے دلواتا بھی نہیں ، پس معلوم ہوا کہ بخل کفر کا شعار ہے تو نماز اور زکوۃ وغیرہ فرائض کا ترک بدرجہ اعلی ہو، اور اس کا انجام بہت برا ہوگا، اس لیے ارشاد ہے کہ ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز کی حقیقت سے غافل ہیں یہ نہیں جانتے کہ نماز کس کی مناجات ہے اور مقصد نماز سے کیا ہے اور کس قدر اہتمام کے لائق ہے یہ نہیں جانتے کہ نماز مراقبہ…
Read the full tafseer →[3] یعنی جو دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں۔ مراد اس سے منافقین ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون 1: ان آیات سے شخص معین مراد نہیں ہے ۔ بلکہ اس وقت کے عام سرمایہ دار مراد ہیں کہ ان کی ذہنیت اس قسم کی تھی کہ یہ اللہ سے نہیں ڈرتے تھے اور عیش و عشرت میں اس چیز کا کبھی خیال نہیں کرتے تھے کہ ہمیں اللہ کے سامنے ایک دن ان رنگ رلیوں کا جواب دینا ہے ۔ یہ فواحش اور برائیوں پر تو بےدریغ روپیہ خرچ کردیتے تھے ۔ لیکن اگر کوئی یتیم بےنوا آجائے تو اس کو ڈانٹ دیتے تھے ۔ ان کے دلوں میں کبھی یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اپنی ثروت میں مسکینوں اور غریبوں کو بھی شامل کیا جائے اور ان کی ادنیٰ ضروریات بھی پوری کی جائیں ۔ یہ لوگ محض سنگ دل اور بداخلاق تھے اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی سرمایہ…
Read the full tafseer →(6) جو ایسے ہیں کہ ریاکاری کرتے ہیں۔ یعنی عبادت میں خشوع و خضوع کا اظہار اللہ تعالیٰ کے نہیں بندوں کے دکھانے کو تاکہ وہ اس کے معتقد ہوجائیں اور سمجھیں کہ یہ بڑا نیک ہے اور لوگ اس کو اہل دین اور صلاح وتقوے والا جانیں۔ اگر قلب میں کفر ہو تو منافق ہے اور اگر قلب میں ایمان ہے اور پھر لوگوں کو دکھانے کو طویل عمل کرتا ہے تو ریاکار ہے جس کی نماز اس کے لئے وبال ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 4۔ کیونکہ اس میں اظہار مامور بہ اس لئے اس کو بالکلیہ ترک ہی کردیتے ہیں بخلاف نماز کے کہ اس کا اظہار مامور بہ اس لئے گاہ گاہ اظہار کے لئے پڑھ بھی لیتے ہیں اور جب نگاہ بچی چھوڑ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →اور جو لوگ صرف دکھاوے سے کام لیتے ہیں 6 ؎ نماز اور نمازیوں کی بیماریوں کا ذکر جب شروع ہوگیا تو ان کی طرف اشارات کردیئے گئے تاکہ اصلاح کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ ہماری نماز کو کیا بیماری لا حق ہے اور اس کا علاج کیا ہے ؟ اس کی وضاحت میں فرمایا جا رہا ہے کہ بعض لوگ محض دکھاوے کی نمازیں بھی پڑھتے ہیں کہ وہ نماز میں جس طرح کی غفلت کرتے ہیں ان میں ایک ریا کاری کا مرض بھی ان کی نماز کو لا حق ہے کہ وہ جو نماز ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں پڑھتے اس لیے خلوص نیت سے وہ یکسر محروم ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں محض اس لیے کہ لوگ ان کو نیک خیال کریں کیونکہ نماز کا نیک کام ہونا ایک معروف بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
The love of the world causes nations to lose faith and consign Allah to oblivion This Surah denounces some of the evil actions of the pagans and the hypocrites, and it holds out a threat of destruction to those who commit them. If these evil actions are committed by believers, who do not reject the true faith, they are still heinous and gravely sinful, but the threat of chastisement made in this surah does not apply to them. Therefore, verse [ 107:1] أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (Have you not seen him who denies the Requital?), as a preamble, makes plain that the person who…
Read the full tafseer →10 This can be an independent sentence as well as one relating to the preceding sentence. In the first case, it would mean that they do not perform any act of goodness with a pure intention for the sake of God, but whatever they do , they do to be seen of others so that they are praised, are considered righteous, their good act is publicised and its advantage and benefit accrues to them here in the world. In the second case, the meaning would be that they pray to be seen. The commentators generally have preferred the second meaning, for at first sight it appears that it relates to the…
Read the full tafseer →