Explained with ayahs 1–7
نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے اس کا حق مارتا ہے اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا جیسے اور جگہ ہے (كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ 17 ۙ) 89۔ الفجر :17) یعنی جو برائی تمہیں پہنتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو یعنی اس فققیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے…
Read the full tafseer →سورة الماعون 9
فِیْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ نہیں کہا گیا بلکہ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ کہا گیا ہے۔ اگر فی سلوتہم کے الفاظ استعمال ہوتے تو مطلب یہ ہوتا کہ وہ اپنی نماز میں بھولتے نہیں۔ لیکن نماز پڑھتے پڑھتے کچھ بھول جانا شریعت میں نفاق تو درکنار گناہ بھی نہیں ہے، بلکہ سرے سے کوئی عیب یا قابل گرفت بات تک نہیں ہے۔ خود نبی ﷺ کو بھی کسی وقت نماز میں بھول لاحق ہوئی ہے۔ اور حضور نے اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو کا طریقہ مقرر فرمایا ہے۔ اس کے برعکس عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی نماز سے غافل ہیں۔ نماز پڑھی تو اور نہ پڑھہ تو، دونوں کی ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کبھی پڑھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے سو (آپ اس کا حال سننا چاہیں تو سنئیے کہ) وہ شخص وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور محتاج کو کھانا دینے کی (دوسروں کو بھی) ترغیب نہیں دیتا (یعنی وہ ایسا سنگدل ہے کہ خود وہ کسی غریب کو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتا۔ اور جب بندوں کا حق ضائع کرنا ایسا برا ہے تو خالق کا حق ضائع کرنا تو اور زیادہ برا ہے) سو (اس سے ثابت ہوا کہ) ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں (یعنی ترک کردیتے ہیں) جو ایسے ہیں کہ (جب نماز پڑھتے ہیں تو) ریا کاری کرتے ہیں اور زکوٰة بالکل نہیں دیتے (کیونکہ زکوٰة کے لئے شرعاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
بیت اللہ کے پروہتوں کی بے روح نمازیں: یہ بیت اللہ کے ان پروہتوں کی نمازوں کی بے حقیقتی کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ یہ بیت اللہ کے متولی ہونے کے تعلق سے اپنے عوام کو دکھانے کے لیے نماز کی رسم بھی ادا کرتے ہیں لیکن ان کی نماز محض دکھاوے کی ہوتی ہے اس وجہ سے روح سے بالکل خالی، نری ریاکاری ہوتی ہے۔
یہ امر واضح رہے کہ بیت اللہ کا اصل مقصد تعمیر نماز کا قیام تھا اور اس کے جوار میں حضرت اسمٰعیل کو حضرت ابراہیم نے خاص اسی مقصد سے بسایا تھا کہ وہ اور ان کی ذریت نماز کا اہتمام رکھیں۔ اسی کی خاطر انھوں نے ان کے لیے امن اور رزق کی دعا بھی فرمائی تھی۔ سورۂ ابراہیم میں یہ دعا یوں مذکور ہے:
رَبَّنَآ اِنِّیْٓ…
Read the full tafseer →5۔ 1 اس مراد وہ لوگ ہیں نماز یا تو پڑھتے ہی نہیں یا پہلے پڑھتے رہے پھر سست ہوگئے یا نماز کو اس کے اپنے مسنوں وقت میں نہیں پڑھتے۔ جب جی چاہتا ہے پڑھ لیتے ہیں یا تاخیر سے پڑھنے کو معمول بنا لیتے ہیں یا خشوع خضوع کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ یہ سارے ہی مفہوم اس میں آجاتے ہیں اس لیے نماز کی مذکورہ ساری ہی کوتاہیوں سے بچنا چاہیے۔ کہاں اس مقام پر ذکر کرنے سے یہ بھی واضح ہے کہ نماز میں ان کوتاہیوں کے مرتکب وہی لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کی جزا اور حساب کتاب پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لیے منافقین کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ (وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3: نماز سے غفلت برتنے میں یہ بھی داخل ہے کہ نماز پڑھے ہی نہیں اور یہ بھی کہ اس کو صحیح طریقہ سے نہ پڑھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 یعنی نہیں جانتے کہ نماز کس کی مناجات ہے اور مقصود اس سے کیا ہے اور کس قدر اہتمام کے لائق ہے یہ کیا نماز ہوئی کہ کبھی پڑھی کبھی نہ پڑھی، وقت بےوقت کھڑے ہوگئے، باتوں میں دنیا کے دھندوں میں جان بوجھ کر وقت تنگ کردیا، پھر پڑھی بھی تو چار ٹکریں لگا لیں۔ کچھ خبر نہیں کس کے رو برو کھڑے ہیں، اور احکم الحاکمین کے دربار میں کس شان سے حاضری دے رہے ہیں۔ کیا خدا صرف ہمارے اٹھنے بیٹھنے، جھک جانے اور سیدھے ہونے کو دیکھتا ہے ؟ ہمارے دلوں پر نظر نہیں رکھتا ؟ کہ ان میں کہاں تک اخلاص اور خشوع کا رنگ موجود ہے۔ یاد رکھو یہ سب صورتیں " عن صلاتھم ساھون " میں درجہ بدرجہ داخل ہیں۔ کما صرح بہ بعض السلف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 4 ‘ 5{ فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ - الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ۔ } ”تو بربادی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے ‘ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔“
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کے زمانے تک مشرکین عرب کے ہاں نماز کا تصور موجود تھا لیکن اس کی عملی شکل بالکل مسخ ہوچکی تھی۔ جیسا کہ سورة الانفال کی اس آیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے : { وَمَا کَانَ صَلاَتُہُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلاَّ مُکَآئً وَّتَصْدِیَۃًط } آیت 35 ”اور نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سوائے سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا“۔ ظاہر ہے جو لوگ برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس طواف کو سب سے اعلیٰ طواف سمجھتے تھے…
Read the full tafseer →4 اس سورت کی آیت نمبر 4 اور 5 سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ کیونکہ ان میں منافقوں کی نماز کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور منافقوں کا مکی دور میں کوئی وجود نہ تھا۔ یہ فرقہ مدنی دور میں ہی وجود میں آیا تھا جب مسلمانوں کی ریاست قائم ہوچکی تھی۔ نماز سے غافل رہنے سے مراد یہ ہے کہ کبھی پڑھ لی، کبھی نہ پڑھی، کبھی بےوقت پڑھ لی جب وقت تنگ ہوچکا ہو۔ جلدی جلدی چند ٹھونگیں مار لیں۔ نماز کو بس ایک عادت اور ورزش کے طور پر پڑھ لیا۔ مگر اللہ کی یاد ایک لمحہ کے لیے بھی نہ آئی۔ بس دنیوی خیالات میں مستغرق رہے۔ غرض نماز سے غفلت کی بیشمار صورتیں ہیں جو اسی ضمن میں آتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
2۔ یعنی نماز اگر پڑھتے بھی ہیں، تو نمائش اور دکھاوے کی، جسے اصل عقیدہ سے کوئی تعلق ہی نہیں، گویا بندوں کے حق ضائع کرتے کرتے خالق کے حق ضائع کرنے میں بھی دلیر ہوگئے ہیں۔ عام خیال یہ پھیلا ہوا ہے، اور اپنی جگہ پر صحیح بھی ہے کہ حقوق العبد، حقوق اللہ پر مقدم ہیں، لیکن یہ تقدم صرف زائد مؤکد اور اشد ہونے کے لحاظ سے ہے، ورنہ فی نفسہ اہمیت تو ظاہر ہے، کہ حقوق اللہ ہی کی ہے۔ حقوق العبد بھی تو اسی لیے فرض ہیں کہ اللہ کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہاں تنبیہ فرمائی ہے کہ سورت میں ذکر ان افعال کا ہے جو تکذیب دین سے پیدا ہوتے ہیں، خواہ کفرا خواہ نفاقا، باقی اگر وہ بلاتکذیب دین ہوں تو مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فویل اللمصلین (الآیۃ) یہ منافقین کا حال بیان فرمایا ہے جو لوگوں کو دکھلانے اور اپنے دعوائے اسلام کو ثابت کرنے کے لئے نماز تو پڑھتے ہیں، مگر چونکہ وہ نماز کی فرضیت کے معتقد نہیں، اس لئے نہ اوقات کی پابندی کرتے ہیں نہ اصل نماز کی۔
Read the full tafseer →الذین ھم عن صلوتھم ساھون
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 7) اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا سو ان منافقوں کے لیے دوزخ میں سخت عذاب ہے یعنی جو اپنی نمازوں میں لا پروائی کرتے ہیں اور انہیں چھوڑے بیٹھے ہیں کہ جب لوگوں کو دیکھتے ہیں تو نماز پڑھ لیتے ہیں ورنہ نہیں پڑھتے اور نیک کام سے روکتے ہیں یا یہ کہ زکوٰۃ اور معمولی سی چیز بھی نہیں دیتے۔
شان نزول : فَوَیْلٌ للمصلین الخ
ابن منذر نے طریف بن ابی طلحہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ نمازوں میں آتے تو مسلمانوں کو اپنی نمازیں دکھاتے تھے اور جب غائب ہوتے تو چھوڑ دیتے اور مانگی ہوئی چیز کو روک لیتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(فویل للمصلین…:”ساھون“”سھا یسھو سھواً“ (ن) (غافل ہونا) سے اسم فاعل ”ساہ“ (بروزن قاض) جمع ہے۔ ”یرآء ون“”راء ی یر ا ء ی مراعاۃ و ریاء“ مفاعلہ) سے فعل مضارع جمع مذکر غائب ہے، دکھاوا کرنا۔ آیات کی باہمی مناسبت یہ ہے کہپ ہلی آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو کھلم کھلا قیامت کو جھٹلاتے اور اس کا انکار کرتے تھے اور ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر دل سے قیامت کو نہیں مانتے۔ یہ منافقین تھے جو آخرت پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے نماز پڑھنا نہیں چاہتے تھے، مگر اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے انہیں پڑھنا پڑھتی تھی۔ حقیقت میں وہ اپنی نماز سے غافل تھے، یہ غفلت کئی طرح سے تھی :(1) طبری نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
کن نمازیوں کی ہلاکت ہے ؟
مسئلہ نمبر 3: فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ ۔ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ ۔ ان کے لیے عذاب ہے۔ پہلے بھی کئی مواقع پر یہ بحث گزر چکی ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : نہ اس سے مراد وہ نمازی ہے اگر وہ نماز پڑھے تو وہ ثواب کی امید نہ رکھے اگر اسے چھوڑ دے تو اس پر عقاب کا خوف نہ ہو۔ ان سے ہی بھی مروی ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نمازوں کو ان کے اوقات سے موخر کرتے ہیں۔ مغیرہ نے ابراہیم سے یہ قول نقل کیا ہے : وہ وقت ضائع کرنے کے ساتھ لاپرواہی کرتے ہیں۔ ابو العالیہ سے مروی ہے : وہ نمازوں کو ان کے اوقات میں نہیں پڑھتے اور ان کے رکوع و سجود کو مکمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ارأ یت الذی یکذب بالدین مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔
3۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارأیت الذی یکذب بالدین میں بالدین سے مراد ہے حساب۔
5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ارأیت الذی کذب بالدین سے مراد ہے کہ اللہ کے حکم کو جھٹلایا ہے۔ آیت فذلک الذی یدع الیتیم کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ یتیم کو اس کے حق سے پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابو طالب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
یقسم حقا…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ هُمْ : یہ وہ لوگ ہیں جو ][ عَنْ صَلَاتِهِمْ : اپنی نماز سے ][ سَاهُوْنَ : غافل ہونے والے ہیں ]
Read the full tafseer →پہلی صفت میں یہ بیان کیا کہ کہنے کو نمازی بھی ہیں لیکن نماز سے غفلت برتتے ہیں، یہ لفظ ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو نماز کو بالکل ہی نہیں پڑھتے اور ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو وقت سے ناوقت کر کے پڑھتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو اس کو ارکان اور شروط کے مطابق اداء نہیں کرتے اور ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو خشوع کی طرف دھیان نہیں دیتے اور اس کے معانی میں غور نہیں کرتے۔ مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ الفاظ کا عموم ان سب کو شامل ہے اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ جو شخص ان صفات میں سے کسی بھی ایک صفت سے متصف ہوگا اسی درجہ میں آیات کا مضمون اس کو شامل ہوگا، پھر لکھا ہے کہ جس میں یہ سب صفات موجود ہوں وہ پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
اے ہمارے پیغمبر یا اے مخاطب، کیا تو نے دیکھا ہے اس کو جو جھٹلاتا ہے، اعمال کے بدلہ کو اور انکار کرتا ہے قیامت کا اور اعمال کی جزاء وسزا کا، حالانکہ ہر انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت رکھی ہے کہ وہ اپنے خالق کو مانے اس کے انعامات کو سمجھے اور ان انعامات کے باعث اس پر ایمان لائے اور اس کی نعمتوں کا حق بھی ادا کرے اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو غریبوں مساکین ویتامی پر خرچ کرے لیکن افسوس صد افسوس یہ مکذب بالدین خدا اور قیامت کا منکر اور اس کی نعمتوں کو فراموش کرنے والا تو ایسا شخص ہے غرور وتکبر کے نشہ میں مست دھکے دیتا ہے یتیم کو اور خود تو کسی کی کیا مدد کرتا دوسرے کو بھی ترغیب نہیں دیتا مسکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
4:۔ ” فویل “ تو ایسے نمازیوں کے لیے ہلاکت اور ویل ہے جو نماز کی حقیقت اور اس کے اصل مقصد سے غافل ہیں۔ عن ابن عباس ھو المصلی الذی ان صلی لم یرج لھا ثوابا وان ترکہا لم یخش علیہا عقابا (قرطبی ج 20 ص 211) ۔ ” الذین ھم یراءون “ وہ لوگوں کو دکھانے کے لیے اور دنیوی مصلحتوں کے تحت نماز پڑھتے ہیں۔ خداوند تعالیٰ کی رضاء مقصود نہیں ہوتی۔ ” ویمنعون الماعون “ الماعون، بالکل معمولی اور ادنی سی چیز مثلاً سوئی، پانی، نمک آگ وغیرہ۔ وھو الشیء القلیل (روح) اور وہ ایسے بد اخلاق ہیں کہ ایک حقیر سی چیز بھی کسی کو استعمال کے لیے نہیں دیتے۔ اس سورت میں جو اوصاف ذکر کیے گئے ہیں وہ منافقوں کے اوصاف ہیں۔ کو نہا فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الماعون ہے۔ اس کی آخری آیت میں ماعون کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اسی لفظ سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اکثر مفسرین 1 ؎ کی یہی رائے ہے۔ تاہم بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی زندگی میں اور نصف حصہ مدنی زندگی میں نازل ہوا۔ اس سورة کے مدنی ہونے کا تصور اسی وجہ سے ہے کہ اس میں منافقین کا ذکر ہے اور وہ مدنی زندگی میں پیدا ہوئے تھے۔ مکی دور میں منافقین کا وجود نہیں تھا۔ اس وقت یا کافر تھے۔ یا مخلص مسلمان
اس سورة کی سات آیتیں ہیں۔ یہ پچیس الفاظ اور ایک سو پچیس حروف پر مشتمل ہے۔
1 ؎ تفسیر عزیزی فاسری 360/پارہ 30 ، تفسیر اتقان…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ 5 ۙ
سها
السَّهْوُ : خطأ عن غفلة، وذلک ضربان :
أحدهما أن لا يكون من الإنسان جو البه ومولّداته، کمجنون سبّ إنسانا، والثاني أن يكون منه مولّداته، كمن شرب خمرا، ثم ظهر منه منکر لا عن قصد إلى فعله . والأوّل معفوّ عنه، والثاني مأخوذ به، وعلی نحو الثاني ذمّ اللہ تعالیٰ فقال :
فِي غَمْرَةٍ ساهُونَ [ الذاریات/ 11] ، عَنْ صَلاتِهِمْ ساهُونَ [ الماعون/ 5]
( س ھ و ) السھو ( ن ) وہ غلطی جو غفلت کی وجہ سے سروز ہو اس کی دوقسمیں ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کے اسباب اور موارات انسان کے اپنے اختیار سے پیدا کردہ نہ ہوں جیسے مجنوں ادمی کا کسی انسان کو گالی دینا ۔ دوم یہ کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
1 ؎ یعنی جب جزا و سزا کا قائل نہیں تو پھر ہر قسم کی بےرحمی اور سنگدلی کرتا ہے۔ یتیم پر رحم کرنا مسکین کو کھانا کھلانا رحمدلی کی بات ہے اس کو بھی نہیں کرتا اور خدا کی طرف بھی نہیں سکتا اس لیے غفلت اور دکھاوے کی نماز پڑھتا ہے اور یہاں تک وفی الطبع ہوجاتا ہے کہ معمولی برتنے کی چیزیں بھی مانگے نہیں دیتا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فَوَیْلٌ لِّـلْمُصَلِّیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَ تِھِمْ سَاھُوْنَ ۔ (الماعون : 4، 5)
(پس خرابی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے۔ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ )
قریش کے سربرآوردہ لوگوں کی نمازیں اور ان کے اخلاق
یہ بیت اللہ کے پروہتوں اور قریش کے سربرآوردہ لوگوں کی نمازوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے اس سورة کو مدنی قرار دیا ہے انھوں نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ یہ منافقین کی نمازوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ پھر انھوں نے منافقین کی نمازوں کی کیفیت بیان کی ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے اور احادیث میں بھی اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے کہ یہاں عَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : قریش کی ناشکری اور کفر و شرک کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ قیامت کی جواب دہی کے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قرآن مجید نے کئی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ سیاق وسباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں ” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قیامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو قیامت کو جھٹلاتا ہے یہ ایسا شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ جس شخص کا قیامت پر ایمان نہیں ہوتا وہ نیکی اس جذبے کے ساتھ نہیں کرتا کہ مرنے کے بعد اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔ ایسا شخص مال کی محبت میں دوسرے…
Read the full tafseer →5 : الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ (جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں)
Read the full tafseer →5 ۔ الذین ھم عن صلاتھم ساھون “ مصب بن سعد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے ” الذین ھم عن صلاتھم ساھون “ کے بارے میں پوچھا گیا، فرمایا نماز کے وقت کو ضائع کرنا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ منافقین ہیں جو نماز کو چھوڑ دیتے ہیں جب لوگوں سے غائب ہوتے ہیں اور لوگوں کے سامنے نماز پڑھتے ہیں جب وہ موجود ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ یہ نصف سورة مکی ہے جو منکرین جزا و سزا کی شان میں ہے اور نصف مدنی ہے جو منافقوں کی شان میں ہے نماز سے بیخبر ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ وقت پر نماز ادا نہیں کرتے۔ چناچہ مسند 2 ؎ ابو یعلی میں معتبر سند سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے آیت الذین ھم عن صلاتھم ساھون کے معنی پوچھے تھے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ نے کہا ساھون سے یہ لوگ مراد لئے گئے ہیں جو وقت کو ٹال کر نماز پڑھتے ہیں یہ سعد بن ابی وقاص کا قول بمنزلہ حدیث نبوی کے ہے۔ کیونکہ صحابہ کی یہ عادت نہ تھی کہ قرآن شریف کی تفسیر وہ اپنی راے سے کریں چناچہ اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ ) ہلاکت ہے نماز کا التزا کرنے والوں کے لیے مگر وہ (عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ ) اپنی نماز سے غافل ہیں۔ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انہوں نے نماز کو ترک کردیا جو سب سے اہم عبادت ہے نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے اور رہا نماز کے اندر سہو تو یہ ہر ایک سے واقع ہوجاتا ہے حتی کہ نبی اکرم سے بھی سہو واقع ہوا ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بےرحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
نمازوں سے غفلت پر تنبیہ
قول باری ہے (الذین ھم عن صلاتھم ساھون) جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں) حرضت ابن عباس ؓ نے فرمایا ” نماز کو اس کے وقت سے موخر کرتے ہیں۔ “ مصعب بن سعد نے حضرت سعد ؓ سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے۔ مالک بن دینار نے حسن سے روایت کی ہے کہ نماز کی اس کے وقت میں ادا کرنے سے غفلت برتتے ہیں یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جاتا ہے۔
اسماعیل بن مسلم نے حسن سے روایت کی ہے کہ ” یہ منافق لوگ ہیں، نماز کو اس کے وقت سے موخر کرتے ہیں اور جب نماز پڑھتے ہیں تو دکھلاوے کے طور پر پڑھتے ہیں۔ “ ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے یہ پتہ نہیں چلتا کہ آیا اس نے دو رکعت کے بعد سلام پھیرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4 ۔ نماز سے غفلت برتنے والوں کے لیے سخت پھٹکار، والعیاذ باللہ العظیم : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی پھٹکار ہے ان لوگوں پر جو غافل ہیں اپنی نمازوں سے " کہ کبھی پڑھی، کبھی نہ پڑھی، پڑھی بھی تو دیر کر کے اور جلدی جلدی سے اس سے فراغت حاصل کرلی، گویا کہ جان چھڑانے کی کوشش ہورہی ہے، اور سر سے ایک بوجھ اتارا جارہا ہے اور کبھی پڑھی تو کاہلی سے پڑھی، کیونکہ آخرت کی جزا و سزا پر جب یقین نہ ہو تو آدمی کی کیفیت یہی ہوتی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ دوسرے مقام پر منافقین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نماز سے غفلت ریا کاری اور بخل سے بچو
تشریح : اس میں کچھ ایسی نصیحت کی باتیں بتائی گئی ہیں جو دنیا و آخرت کو سنوار سکتی ہیں جس میں سب سے اول عقیدہآخرت کی مضبوطی ہے۔ اصل میں یہ عقیدہ انسانی کا میابی کے لیے ایک چابی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ جب تک ہمیں یہ یقین نہیں ہوگا کہ ہمارا محاسبہ ضرور ہوگا اور ایسی ذات کے سامنے ہوگا جو ہمارے ظاہر باطن سے خوب واقفیت رکھتا ہے۔ جس کو نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے نہ سفارش کی گنجائش ہے نہ جھوٹ اور رشوت سے چھوٹ سکتے ہیں۔ تو پھر کوئی پاگل ہی ہوگا جو غلط کام کرے گا۔ لیکن ایسے سر پھرے لوگوں کی نہ پہلے کمی تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ تو ایسے ہی منافق لوگوں کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون۔
آیات 1 تا 7۔
اسرار ومعارف۔
آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو قیامت اور اسلام کا انکار کیے بیٹھے ہیں انہیں دولت دنیا نے اندھا کردیا ہے کہ اسلام کے نظام معشیت سے گھبراتے ہیں اور یتیموں اور کمزوروں کو دھکے دے کر ان کا حق دبالیتے ہیں اور محتاج وبے بس کو اس کا حق نہیں دینا چاہتے یہ صرف کافر ہی نہیں ان میں برائے نام مسلمان اور منافق بھی شامل ہیں جو بظاہر نماز ادا کرتے ہیں مگر عبادات کے اس کے نتیجے سے بیخبر ہیں کہ عبادات کا نتیجہ تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام پر عمل کرے اور ظلم کو مٹا دے مگر یہ اس ظلم میں گرفتار ہیں دکھلاوے کو عبادت کرتے ہیں اور کسی کا حق توکیادیں گے مانگنے پر برتنے کی چیز بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 5 یعنی کبھی نماز پڑھتے ہیں اور کبھی نہیں پڑھتے پڑھتے بھی ہیں تو نہایت بددلی سے جلدی جلدی۔
Read the full tafseer →(107:5) الذین ہم عن صلوتہم ساھون : یہ آیت اور اگلی آیت مصلین کی صفت میں ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں سے غفلت برتتے ہیں۔ وقت پر نماز نہیں پڑھتے۔ رکوع و سجود پورا نہیں کرتے۔ پرواہ نہیں کرتے پڑھ لی تو پڑھ لی نہ پڑھی تو نہ پڑھی۔ وغیرہ
ساھون بیخبر ۔ بھولنے والے۔ غافل، سھو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔
یہ اصل میں ساھیون تھا۔ ی مضموم ما قبل مکسور۔ ضمہ ی پر ثقیل ہوا نقل کرکے ماقبل کو دیا۔ اب واؤ اور ی دو ساکن جمع ہوگئے ی کو حذف کردیا گیا۔ ساھون ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن۔
ارءیت۔ کیا تو نے دیکھا۔ الدین۔ انصاف کا دن۔ قیامت۔ یدع۔ دھکے دیتا ہے۔ لا یحض۔ آمادہ نہیں کرتا۔ ساھون۔ بیخبر ۔ سستی کرنے والے۔ یراء و ن۔ وہ دکھاتے ہیں۔ یمنعون ۔ وہ منع کرتے ہیں۔ الماعون۔ برتنے کی (چھوٹی چھوٹی) چیزیں۔
تشریح : چند جملوں پر مشتمل سورة الماعون میں فکر آخرت، حقوق اللہ اور حقوہ العباد کو اس قدر خوبصورتی سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس میں غوروفکر کرنے والا کسی کے حق میں کمی کا تصور بھی نہی کرسکتا۔ فرمایا۔
……: کیا آپ نے دیکھا کہ کون ” الدین “ کو جھٹلاتا ہے۔ ممکن ہے اس سورت میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہو یا ہر دیکھنے والی آنکھ کو اس طرف متوجہ کیا ہو کہ کیا تم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نماز کی تاکید۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جو روز جزا کا یقین نہیں رکھتا، یہ وہی شخص ہے جو قیامت کے انکار کے ساتھ اور بھی عیب رکھتا ہے، یتیم کا مال سینہ زوری سے کھاتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی کسی کو رغبت نہیں دلاتا، خود تو کیا دے گا کسی سے دلواتا بھی نہیں ، پس معلوم ہوا کہ بخل کفر کا شعار ہے تو نماز اور زکوۃ وغیرہ فرائض کا ترک بدرجہ اعلی ہو، اور اس کا انجام بہت برا ہوگا، اس لیے ارشاد ہے کہ ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز کی حقیقت سے غافل ہیں یہ نہیں جانتے کہ نماز کس کی مناجات ہے اور مقصد نماز سے کیا ہے اور کس قدر اہتمام کے لائق ہے یہ نہیں جانتے کہ نماز مراقبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[2] یعنی کبھی پڑھتے ہیں کبھی نہیں پڑھتے۔ پڑھتے ہیں تو اس طرح کہ نماز کے وقت کو ٹالتے رہتے ہیں اور جب وقت ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الماعون
1: ان آیات سے شخص معین مراد نہیں ہے ۔ بلکہ اس وقت کے عام سرمایہ دار مراد ہیں کہ ان کی ذہنیت اس قسم کی تھی کہ یہ اللہ سے نہیں ڈرتے تھے اور عیش و عشرت میں اس چیز کا کبھی خیال نہیں کرتے تھے کہ ہمیں اللہ کے سامنے ایک دن ان رنگ رلیوں کا جواب دینا ہے ۔ یہ فواحش اور برائیوں پر تو بےدریغ روپیہ خرچ کردیتے تھے ۔ لیکن اگر کوئی یتیم بےنوا آجائے تو اس کو ڈانٹ دیتے تھے ۔ ان کے دلوں میں کبھی یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اپنی ثروت میں مسکینوں اور غریبوں کو بھی شامل کیا جائے اور ان کی ادنیٰ ضروریات بھی پوری کی جائیں ۔ یہ لوگ محض سنگ دل اور بداخلاق تھے اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی سرمایہ…
Read the full tafseer →(5) جو اپنی نماز سے غفلت اور بےاعتنائی برتتے ہیں - بغوی نے کہا نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ساھون کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اضاعۃ الوقت نماز کے وقت کو ضائع کرنا یا منافقین مراد ہیں کہ لوگوں میں ہوتے تو پڑھ لی نہیں تو چھوڑ دی یا وہ لوگ جو بےپروائی کرتے ہیں پڑھ لی یا نہ پڑھی یا یہ کہ دکھاوے کو پڑھتے ہیں اور اگر نماز فوت ہوجائے تو نادم نہیں ہوتے یا یہ کہ رکوع سجدہ صحیح طور پر نہیں کرتا اور تو چل میں آیا کی طرح پڑھتا ہے یا یہ کہ اخلاص اور خشوع سے خالی ہیں غرض یہ تمام صورتیں علی حسب مراتب ساھون میں داخل ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قضا کرتے ہیں یاتنگ وقت میں پڑھتے ہیں جان کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 4۔ کیونکہ اس میں اظہار مامور بہ اس لئے اس کو بالکلیہ ترک ہی کردیتے ہیں بخلاف نماز کے کہ اس کا اظہار مامور بہ اس لئے گاہ گاہ اظہار کے لئے پڑھ بھی لیتے ہیں اور جب نگاہ بچی چھوڑ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہی لوگ ہیں جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں
5 ؎ (ساھون) بیخبر ۔ بھولنے والے ۔ غافل ۔ سھو جس کے معنی غافل ہونے کے ہیں ۔ اسم غافل کا صیغہ جمع مذکر ( ساھون) اصل میں ساھیون تھا بروزن فاعلون ی مضموم ما قابل اس کا مکسور ، ضمہ ی پر ثقیل ہوا تو نقل کرکے ما قبل کردیا اب و اور ی دو ساکن جمع ہوگئے اس لیے ی کو حذف کردیا اور ( ساھون) ہوگیا ۔ امام راغب تحریر کرتے ہیں کہ ” غفلت سے جو خطا ہو وہ “ ” سہو “ ہے۔ اس کو دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ انسان سے ایسی چیزیں سر زد نہ ہوں جو اس خطا کو کھینچتی اور پیدا کرتی ہیں جیسے دیوانہ کس انسان کو گالی دے ، دوسرے یہ کہ اس سے ایسی چیزیں ہوئیں جو اس خطا کو پیدا کرتی ہیں جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
The love of the world causes nations to lose faith and consign Allah to oblivion
This Surah denounces some of the evil actions of the pagans and the hypocrites, and it holds out a threat of destruction to those who commit them. If these evil actions are committed by believers, who do not reject the true faith, they are still heinous and gravely sinful, but the threat of chastisement made in this surah does not apply to them. Therefore, verse [ 107:1] أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (Have you not seen him who denies the Requital?), as a preamble, makes plain that the person who…
Read the full tafseer →9 The words used are an-salat-i him sahun and not fi salat-i-him lahum. In case the words fi salat-i him had been used, the meaning would be that they forget in the course of their Prayer.' But forgetting in the course of the Prayer is no sin in the eyes of the Shari `ah, nothing to say of its being hypocrisy, nor is it a fault or anything blameworthy. The Holy Prophet (upon whom be peace) himself sometimes forgot in the Prayer a nd to compensate for it he prescribed the method of sajdah sahv. On the contrary, `an salat-i-him sahum means that they are neglectful of their Prayer. Whether they…
Read the full tafseer →