Ayahs 107:1–7خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے سو (آپ اس کا حال سننا چاہیں تو سنئیے کہ) وہ شخص وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور محتاج کو کھانا دینے کی (دوسروں کو بھی) ترغیب نہیں دیتا (یعنی وہ ایسا سنگدل ہے کہ خود وہ کسی غریب کو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتا۔ اور جب بندوں کا حق ضائع کرنا ایسا برا ہے تو خالق کا حق ضائع کرنا تو اور زیادہ برا ہے) سو (اس سے ثابت ہوا کہ) ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں (یعنی ترک کردیتے ہیں) جو ایسے ہیں کہ (جب نماز پڑھتے ہیں تو) ریا کاری کرتے ہیں اور زکوٰة بالکل نہیں دیتے (کیونکہ زکوٰة کے لئے شرعاً یہ ضروری نہیں کہ سب کے سامنے ظاہر کر کے دے اسلئے اس کو بالکل نہ دینے سے بھی کوئی اعتراض نہیں کرسکتا بخلاف نماز کے وہ جماعت کے ساتھ علانیہ ادا کی جاتی ہے اس کو بالکل چھوڑدے تو سب پر نفاق ظاہر ہوجاوے اس لئے نماز کو محض دکھلاوے کے لئے پڑھ لیتا ہے)
معارف و مسائل
اس سورة میں کفار و منافقین کے بعض افعال قبیحہ مذمومہ کا ذکر اور ان پر جہنم کی وعید ہے، یہ افعال اگر کسی مومن سے سرزد ہوں جو تکذیب نہیں کرتا وہ بھی اگرچہ شرعاً مذموم اور سخت گناہ ہیں مگر وعید مذکور ان پر نہیں ہے اسی لئے ان افعال و اعمال سے پہلے ذکر اس شخص کا فرمایا ہے جو دین اور قیامت کا منکر ہے اس کی تکذیب کرتا ہے اس میں اشارہ اس طرف ضرور ہے کہ یہ اعمال جن کا ذکر آگے رہا ہے مومن کی شان سے بعید ہیں وہ کوئی منکر کافر ہی کرسکتا ہے، وہ اعمال قبیحہ جنا کا اس جگہ ذکر اس سورة میں فرمایا ہے یہ ہیں، یتیم کے ساتھ بدسلوکی اور اس کی توہین۔ مسکین محتاج کر باوجود قدرت کے کھانا نہ دینا اور دوسروں کو اس کی ترغیب نہ دینا، نماز پڑھنے میں ریا کاری کرنا، زکوٰة ادا نہ کرنا یہ سب افعال اپنی ذات میں بھی بہت مذموم اور سخت گناہ ہیں اور جب کفر و تکذیب کے نتیجہ میں یہ افعال سرزد ہوں تو انکا وبال دائمی جہنم ہے جیسا کہ اس سورة میں اس کو ویل کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے۔
فویل للمصلین، الذین ھم عن صلاتھم ساھون الذین ھم یرآنءون یہ حال منافقین کا بیان فرمایا ہے جو لوگوں کو دکھلانے اور اپنے دعوائے اسلام کو ثابت کرنے کے لئے نماز تو پڑھتے ہیں مگر چونکہ وہ نماز کی فرضیت ہی کے معتقد نہیں اس لئے نہ اوقات کی پابندی کرتے ہیں نہ اصل نماز کی، جہاں دکھلانے کا موقع ہوا پڑھ لی، ورنہ ترک کردی عن صلاتھم میں لفظ عن کا مفہوم یہی ہے کہ اصل نماز ہی سے بےپروائی اختیار کرے جو منافقین کی عادت ہے اور نماز کے اندر کچھ سہو و نسیان ہوجانا جس سے کوئی مسلمان یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ بھی خالی نہیں، وہ اس کلمہ کی مراد نہیں ہے کیونکہ اس پر وعید ویل جہنم کی نہیں ہو سکتی، اور اگر یہ مراد ہوئی تو عن صلاتھم کے بجائے فی صلاتھم فرمایا جاتا احادیث صحیحہ میں متعدد مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے نماز میں سہو واقع ہونا ثابت ہے ویمنعون الماعون ماعون کے اصل لفظی معنے پشئی قلیل و حقیر کے ہیں اس لئے ماعون ایسی استعمالی اشیاء کو کہا جاتا ہے جو عادة ایک دوسرے کو عاریتة دی جاتی ہیں اور جن کا باہم لین دین عام انسانیت کا تقاضا سمجھا جاتا ہے جیسے کلہاڑی پھاوڑو یا کھانے پکانے کے برتن جن کا ضرورت کے وقت پڑوسیوں سے مانگ لینا کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا اور جو اس میں دینے سے بخل کرے وہ بڑا کنجوس کمینہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر آیت مذکورہ میں لفظ ماعون سے مراد زکوة اور زکوة کو ماعون اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ مقدار کے اعتبار سے نسبتہً بہت قلیل ہے یعنی صرف چالیسویاں حصہ، حضرت علی، ابن عمر، حضرت بصری، قتادہ ضعاک، غیرہ جمہور مفسرین نے اس آیت میں ماعون کی تفسیر زکوة ہی سے کی ہے (مضہری) اور اس کے نہ دینے پر جو عذاب ویل جہنم کا مذکور ہے وہ بھی ترک فرض ہی پر ہوسکتا ہے اشیاء استعمال کا دوسروں کو دنیا بہت بڑا ثواب اور انسانیت و مروت کے لحاظ سے ضروری سہی مگر فرض و واجب نہیں جس کے روکنے پر جہنم کی وعید ہو اور بعض روایات حدیث میں جو اس جگہ ماعون کی تفسیر استعمالی اشیاء اور بترنوں سے کی گئی ہے اس کا مطلب ان لوگوں کی انتہائی خست کا اظہار ہے کہ یہ زکوة تو کیا دیتے استعملای اشیاء جن کے دینے میں اپنا کچھ خرچ نہیں ہوتا اس میں بھی کنجوسی کرے ت ہیں تو وعید صرف ان اشیاء کے نہ دینے پر نہیں بلکہ زکوة فرض کی عدم ادائیگی اور اس کے ساتھ مزید بخل شدید پر ہے واللہ اعلم۔