108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsمعارف القرآن
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
بیشک ہم نے دی تجھ کو کوثر
خلاصہ تفسیر
بیشک ہم نے آپ کو کوثر (جنت کی ایک حوض کا نام بھی ہے اور ہر خیر کثیر بھی اس میں شامل ہے) عطا فرمائی ہے (جس میں دنیا و آخرت کی ہر خیر و بھلائی شامل ہے دنیا میں دین اسلام کی بقاء و ترقی اور آخرت میں جنت کے درجات عالیہ سب داخل ہیں) سو (ان نعمتوں کے شکر میں) آپ اپنے پر ورگدار کی نماز پڑھئے (کیونکہ سب سے بڑی نعمت کے شکر میں سب سے بڑی عبادت چاہئے اور وہ نماز ہے) اور تکمیل شکر کے لئے جسمانی عبادت کے ساتھ مالی عبادت یعنی اسی کے نام کی) قربانی کیجئے (جیسا دوسری آیتوں میں عموماً نماز کے ساتھ زکوة کا حکم ہے اس میں زکوة کے بجائے قربانی کا ذکر شاید اس لئے اختیار کیا گیا کہ قربانی میں مالی عبادت ہونے کے علاوہ مشرکین اور مشرکانہ رسوم کی عملی مخالفت بھی ہے کیونکہ مشرکین بتوں کے نام کی قربانی کیا کرتے تھے۔ آگے آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے قاسم کی بچپن میں وفات پر بعض مشرکین نے جو یہ طعنہ دیا تھا کہ ان کی نسل نہ چلے گی اور ان کے دین کا سلسلہ جلد ختم ہوجائے گا، اس کا جواب ہے کہ آپ بفضلہ تعالیٰ بےنام و نشان نہیں ہیں بلکہ) بالیقین آپ کا دشمن ہی بےنام و نشان ہے (خواہ ظاہری نسل اس دشمن کی چلے یا نہ چلے لیکن دنیا میں اس کا ذکر خیر باقی نہیں رہے گا۔ بخلاف آپ کے کہ آپ کی امت اور آپ کی یاد نیک نامی، محبت و اعتضاد کے ساتھ بای رہے گی اور یہ سب نعمتیں لفظ کوثر کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اگر پسری اولاد کی نسل نہ ہو نہ سہی، جو نسل سے مقصود ہے وہ آپ کو حاصل ہے یہاں تک کہ دنیا سے گزر کر آخرت تک بھی، اور دشمن اس سے محروم ہے۔)
معارف و مسائل
شان نزول۔ ابن ابی حاتم نے سدی سے اور بیہقی نے دلائل نبوت میں حضرت محمد بن علی بن حسین سے نقل کیا ہے کہ جس شخص کی اولاد ذکور مر جائے اس کو عرب ابتر کہا کرتے تھے یعنی مقطوع النسل جس وقت نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے قاسم یا ابراہیم کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تو کفار مکہ آپ کو ابتر کہہ کر طعنہ دینے لگے ایسا کہنے والوں میں عاص بن وائل کا نام خاص طور پر ذکر کیا جاتا ہے اس کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جاتا تو کہتا تھا کہ ان کی بات چھوڑو یہ کچھ فکر کرنے کی چیز نہیں کیونکہ وہ ابتر (مقطوع النسل) ہیں جب ان کا انتقال ہوجائے گا ان کا کوئی نام لینے والا بھی نہ رہے گا، اس پو سورة کوثر نازل ہوئی (رواہ البغوی، ابن کثیر و مظہری)
اور بعض روایات میں ہے کہ کعب بن اشرف یہودی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آیا تو قریش مکہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ آپ اس نوجوان کو نہیں دیکھتے جو کہتا ہے کہ وہ ہم سب سے (دین کے اعتبار سے) بہتر ہے حالانکہ ہم حجاج کی خدمت کرنے والے اور بیت اللہ کی حفاظت کرنے والے اور لوگوں کو پانی پلانے والے ہیں۔ کعب نے یہ سن کر کہا کہ نہیں تم لوگ اس سے بہتر ہو، اس پر سورة کوثر نازل ہوئی (ذکرہ ابن کثیر عن البزار باسنا (صحیح و قدر واہ مسلم قالہ مظہری)
خلاصہ یہ ہے کہ کفار مکہ جو رسول اللہ ﷺ کے پسری اولاد نہ رہنے کے سبب ابتر ہونے کے طعنے دیتے تھے یا دوسری وجوہ سے آپ کی شان میں گستاخی کرتے تھے ان کے جواب میں سورة کوثر نازل ہوئی ہے جس میں ان کے طعنوں کا جواب بھی ہے کہ صرف اولاد نرینہ کے نہ رہنے سے آپ کو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر کہنے والے حقائق سے بیخبر ہیں۔ آپ کی نسل نسبی بھی انشاء اللہ دنیا میں تاقیامت باقی رہے گی اگرچہ دختری اولاد سے ہو اور نسل معنوی یعنی آپ پر ایمان لانے والے مسلمان جو درحقیقت نبی کی اولاد معنوی ہوتے ہیں وہ تو اس کثرت سے ہوں گے کہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں سے بھی بڑھ جائیں گے اور اس میں رسول اللہ ﷺ کا اللہ کے نزدیک مقبول اور مکرم و معظم ہونا بھی مذکور ہے جس سے کعب بن اشرف کے قول کی تردید ہوجاتی ہے۔ یہ سب مضمون سورة کی تیسری آیت میں آیا ہے۔
انا اعطینک الکثور، امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر میں وایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ”کوثر وہ خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔“ ابن عباس کے خاص شاگرد سعید بن خبیر سے کسی نے کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کوثر جنت کی ایک نہ کا نام ہے تے تو سعید بن جبیر نے جواب دیا کہ (ابن عباس کا قول اس کے منافی نہیں بلکہ) وہ نہر جنت جس کا نام کوثر ہے وہ بھی اس خیر کثیر میں داخل ہے اسی لئے امام تفسیر مجاہد نے کوثر کی تفسیر میں فرمایا کہ وہ دنیا و آخرت دونوں کی خیر کثیر ہے، اس میں جنت کی خاص نہر کوثر بھی داخل ہے۔
حوض کوثر۔ بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی نے حضرت انس سے روایت کیا ہے۔ مسلم کے الفاظ یہ ہیں۔
ایک روز جبکہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں ہمارے درمیان تھے اچانک آپ پر ایک قسم کی نیند یا بیہوشی کی سی کیفیت طاری ہوئی پھر ہنستے ہوئے آپ نے سر مبارک اٹھایا، ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے ہنسنے کا سبب کیا ہے، تو فرمایا کہ مجھ پر اسی وقت ایک سورت نازل ہوئی ہے پھر آپ نے بسم اللہ کے ساتھ سورة کوثر پڑھی، پھر فرمایا تم جانتے ہو کوثر کیا چیز ہے ہم نے عرض کیا اللہ و رسولہ اعلم، آپ نے فرمایا یہ ایک نہر جنت ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے جس میں خیر کثیر ہے اور وہ حوض ہے جس پر میری امت قیاتم کے روز پانی پینے کے لئے آئے گی اس کے پانی پینے کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہوں گے اس وقت بعض لوگوں کو فرشتے حوض سے ہٹا دینگے تو میں کہوں گا کہ میرے پروردگار یہ تو میری امت میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائیگا کہ آپ نہیں جانتے کہ اس نے آپ کے بعد کیا نیا دین اختیار کیا ہے۔
ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کر کے مزید لکھا ہے،
حوض کی صفت میں روایات حدیث میں آیا ہے کہ اس میں دو پر نالے آسمان سے کے ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔
اس حدیث سے سورة کوثر کا سبب نزول بھی معلوم ہوا اور لفظ کوثر کی صحیح تفسیر بھی یعنی خیر کثیر، اور یہ بھی کہ اس خیر کثیر میں و حوض کوثر بھی شامل ہے جو قیامت میں امت محمدیہ کو سیراب کریگی۔ نیز اس روایت نے یہ بھی واضح کردیا کہ اصل نہر کوثر جنت میں ہے اور یہ حوض کوثر میدان حشر میں ہوگی اس میں دو پرنالوں کے ذریعہ نہر کوثر کا پانی ڈالا جائیگا۔ اس میں ان روایات کی بھی تطبیق ہوگئی جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حوض کوثر پر امت کا درود دخول جنت سے پہلے ہوگا اور اس حدیث میں جو بعض لوگوں کو حوض کوثر سے ہٹا دینے کا ذکر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو بعد میں اسلام سے پھرگئے یا پہلے ہی سے مسلمان نہیں تھے مگر منافقانہ اظہار اسلام کرتے تھے، آنحضرت ﷺ کے بعد ان کا نفاق کھل گیا، واللہ اعلم
احادیث صحیحہ میں حوض کوثر کے پانی کی صفائی اور شیرینی اور اس کے کناروں کا جواہرات سے مرصع ہونے کے متعلق ایسے اوصاف مذکور ہیں کہ دنیا میں ان کا کسی چیز پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
اس سورة کا نزول اگر کفار کے طعنوں کے دفاع میں ہو جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ آپ کی اولاد نرینہ فوت ہوجانے کی وجہ سے وہ آپ کو ابتر مقطوع النسل قرار دے کر کہا کرتے تھے کہ ان کا کام چند روزہ ہے پھر کوئی نام لینے والا بھی نہ رہے گا تو اس سورة میں آپ کو کوثر عطا فرمانے کا ذکر جس میں حوض کوثر بھی شامل ہے ان طعنہ زنوں کی مکمل تردید ہے کہ ان کی نسل و نسب صرف یہی نہیں کہ دنیا کی عمر تک چلے گی بلکہان کی روحانی اولاد کا رشتہ محشر میں بھی محسوس ہوگا جہاں وہ تعداد میں بھی تمام امتوں سے زیادہ ہوں گے اور ان کا اعزازو اکرام بھی سب سے زیادہ ہوگا۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
سو نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور قربانی کر
فصل لربک وانحر، انحر، نحر سے مشتق، اونٹ کی قربانی کو نحر کہا جاتا ہے جس کا مسنون طریقہ اس کا پاؤں باندھ کر حلقوم میں نیزہ یا چھری مار کر خون بہا دینا ہے جیسا کہ اگئے بکری وغیرہ کی قربانی کا طریقہ ذبح کرنا یعنی جانور کو لٹا کر حلقوم پر چھری پھیرنا ہے۔ عرب میں چونکہ عموماً قربانی اونٹ کی ہوتی تھی اس لئے قربانی کرنے کے لئے یہاں لفظ وانحر استعمال کیا گیا۔ بعض اوقات لفظ نحر مطلقاً قربانی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سورة کی پہلی آیت میں کفار کے زعم باطل کے خلاف رسول اللہ ﷺ کو کوثر یعنی دنیا و آخرت کی ہر خیر اور وہ بھی کثیر مقدار میں عطا فرمانے کی خوشخبری سنانے کے بعد اسکے شکر کے طور پر آپ کو دو چیزوں کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایک نماز، دوسری قربانی، نماز بدنی اور جسمانی عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت ہے اور قربانی مالی عبادتوں میں اس بناء پر خاص امتیاز اور اہمیت رکھتی ہے کہا للہ کے نام پر قربانی کرنا بت پرستی کے شعار کے خلاف ایک جہاد بھی ہے کیونکہان کی قربانیاں بتوں کے نام پر ہوتی تھیں۔ اسی لئے قرآن کریم کی ایک اور آیت میں بھی نماز کے ساتھ قربانی کا ذکر فرمایا ہے ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی لل رب العالمین اس آیت میں وانحر کے معنے قربانی ہونا حضرت ابن عباس، عطار، مجاہد اور حسن بصری وغیرہ سے مستند روایات میں ثابت ہے۔ بعض لوگوں نے جو وانحر کے معنی نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کے بعض ائمہ تفسیر کی طرف منسوب کئے ہیں اس کے متعلق ابن کثیر نے فرمایا کہ روایت منکر (ناقابل اعتبار) ہے۔
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
بیشک جو دشمن ہے تیرا وہی رہ گیا پیچھا کٹا۔
ان شانئک ھوالابتر لفظ شانی کے معنے بغض رکھنے والے عیب لگانے والے کے ہیں یہ آیت ان کفار کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ کو ابتر مقطوع النسل ہونے کا طعنہ دیتے تھے۔ اکثر روایات میں عاص بن وائل، بعض میں عقبہ، بعض میں کعب بن اشرف اس کے مصداق ہیں۔ حق تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو کوثر بیعنی خیر کثیر عطا کی جس میں اولاد کثیر بھی داخل ہے آپ کے لئے اولاد کی کثرت اس لحاظ سے ہے کہ نسبی اولاد بھی آپ کی ماشاء اللہ کچھ کم نہیں اور پیغمبر چونکہ پوری امت کا باپ ہوتا ہے اور پوری امت اس کی اولاد روحانی اور آپ کی امت پچھلے تمام انبیاء کی امتوں سے تعداد میں زیادہ ہوگی ایک طرف تو ان دشمنوں کی بات کو اس طرح خاک میں ملا دیا دوسری طرف یہ بھی فرما دیا کہ جو لوگ آپ کو ابتر ہونے کا طعنہ دیتے ہیں وہ ہی ا بتر ہیں۔
عبرت۔ اب غور کیجئے کہ رسول مقبول ﷺ کے ذکر کو حق تعالیٰ نے کیسی رفعت اور عظمت فرمائی کہ آپ کے عہد مبارک سے آج تک پوری دنیا کے چپہ چپہ پر آپ کا نام مبارک پانچ وقت اللہ کے نام کے ساتھ میناروں پر پکارا جاتا ہے اور آخرت میں آپ کو شفاعت کبریٰ کا مقام محمود حاصل ہوگا، اس کے بالمقابل دنیا کی تاریخ سے پوچھئے کہ عاص بن وائل، عقبہ، کب کی اولاد کہاں اور ان کا خاندان کیا ہوا، خود ان کا نام بھی اسلامی روایات سے تفسیر آیات کے ذیل میں محفوظ ہوگی اور نہ دنیا میں آج ان کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں ہے۔
فاعتبروا یا اولی الاصبار