107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 107:1

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو جزا و سزا کے دن کو جھٹلاتا ہے

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو جزا سزا کے دن کو جھٹلاتا ہے 1 ؎ (الدین) یا دین ۔ اصل اس کی د ی ن ہے اور معنی اس کے جزا و سزا ، اطاعت و فرمانبرداری ، شریعت ، بدلہ دینا ، اطاعت کرنا ، حکم ماننا ” دین “ بمعنی ملت بھی ہے مگر اس کا استعمال اطاعت اور شریعت کی پابندی کے معنی میں ہوتا ہے۔ دان بدین کا مصدر ہے اور ادریان جمع ہے ۔ اور اس جگہ مراد جزا و سزا بھی ہے ( رایت ) کے معنی آنکھوں سے دیکھنے کے بھی ہیں اور جاننے کے بھی اور کسی کا حال سننے کے بھی ۔ مطلب یہ ہے کہ کیا آپ ﷺ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو جزاء و سزا کو جھٹلاتے ہیں اور حق و صداقت کی تکذیب کرتے ہیں اور روز جزا جو ایک حقیقت ہے اس کے ماننے اور تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور پھر انکار کے لیے کوئی دلیل بھی نہیں محض انکار کیے جاتے ہیں ۔ گویا جو کچھ کرتے اور کہتے ہیں محض نادانی کے باعث کہتے ہیں اور کرتے ہیں نہ تو دلائل کو سننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی دلیل دینا ضروری سمجھتے ہیں ۔ فرمایا کہ ایسے ہٹ دھرموں کی نشانی کیا ہے جس سے ان کی شناخت ہوجائے اور وہ پہچانے جاسکیں ؟ آنے والی آیت میں ان کی شناخت بھی کرائی جا رہی ہے۔
Ayah 107:2

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

وہ وہی تو ہے جو یتیم کو دھتکارتا ہے

وہ وہی تو ہے جو یتیم کو دھتکارتا ہے 2 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو روز جزا یا دین اسلام کے منکر ہیں اگر تم ان کی حالت کو جانتے ہو اور ان کی شناخت رکھتے ہو تو بہت خوب اور اگر ان کی پہچان نہیں رکھتے اور ان کو نہیں جانتے تو اب جان لو اور سمجھ لو کہ وہ کیسے ہیں ؟ فرمایا ان کی اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ اگر یتیم ان کے ہاں رحمت و شفقت کا خواستگار بن کر آتا ہے تو اس کو اس کی خستہ خالی پر ذرا ترس نہیں آتا ۔ اس کی بےکسی کو دیکھ کر اس کا دل نہیں پسیجتا بلکہ وہ قہر آلود اور حقارت آمیز نگاہوں سے ان کی طرف دیکھتے ہیں اور دھکے دے کر ان کے اپنے ہاں سے نکال دیتے ہیں اور ان کو ان کے حق سے محروم کردینا چاہتے ہیں ۔ تو ایک ہی خصلت و عادت سے ان کی باقی ساری عادات و خصائل کا پتہ چل جاتا ہے کیونکہ یتیموں کو دھکے دینے والے غریبوں ، مسکینوں ، بیوائوں سے کیسے اچھا سلوک کرسکتے ہیں لیکن قابل غور ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ انہیں اس سنگدل معاشرہ کی طرف سے کسی طرح کے ردعمل کا کوئی اندیشہ نہیں ، انہیں یقین ہے کہ یتیم بچوں سے ان کا حق چھین لینے کے خلاف کوئی صدائے احتجاج بلندنہ ہوگی اور نہ ہی ان کی اس سنگدلانہ حرکت کے ساتھ ان کی ساکھ میں کوئی کمی واقع ہوگی اور دوسری اور اہم وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن پر کفار کو یقین نہیں ان کو یہ یقین ہے کہ اگر ہم نے اس یتیم کے ساتھ کوئی احسان کیا تو بےآسرا اور بےسہارا کم سن بچہ انہیں اس کا کوئی معاوضہ دے گا اور جہاں اس کو خرچ کر کے سو ملنے کی امید ہے واں اپنا مال خرچ کرنا بیوقوفی خیال کرتے ہیں اگر انہیں قیامت پر یقین ہوتا تو وہ اس امید پر اس بچے کے ساتھ احسان و مروت کا سلوک کرتے کہ اگرچہ یہاں تو مجھے اس کا کوئی معاوضہ نہیں ملے گا لیکن جب قیامت بپا ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اس کا بڑا فیاضانہ بدلہ ملے گا ۔ جب معاشرہ کی طرف سے اس پر کوئی گرفت نہیں اور قیامت کے دن اس کا کوئی ایمان نہیں تو پھر وہ کونسی چیز ہے جو اس کو یتیم کے ساتھ اچھارویہ اختیار کرنے پر مجبور کرے ؟ خیر یہ تو بات ان کی ہے جن کے دل میں ایمان نہیں اور معاشرہ کی طرف سے کوئی پابندی نہیں لیکن آج جب کہ ہمارا دعویٰ ایمان بھی ہے اور معاشرہ بھی یتیموں کے ساتھ اچھاسلوک کرنے کی تاکید کرتا ہے لیکن ہمارے ہاں یتیموں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یتیم کا مال کھانے کو قرآن کریم نے اپنے پیٹ میں آگ کھانے سے تعبیر کیا ہے لیکن ملائیت نے ایسی رسوم گھڑ لی ہیں کہ وہ ان یتیموں کو بھی معاف نہیں کرتے ہیں اور پھر اس معاملہ میں معاشرہ بھی ان پر گرفت نہیں کرتا کیونکہ ان کی عیاری و مکاری نے معاشرے کو اس پر گرفت کرنے کا نہیں رہنے دیا ۔ کیونکہ انہوں نے مرنے والے کی ہر رسم کے ساتھ شریف کا ایسا چوکا لگایا ہے کہ اس نے حرام کو حلال کردیا ہے۔ غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ ختم شریف ، قل شریف ، ساتواں شریف ، دسواں شریف ، چالیسواں شریف ان ساری رسومات کو جو شریف کہا گیا آخر ان کا اسلام سے بھی کوئی تعلق ہے ؟ جب کہ یہ سارے کھانے پینے کے ڈھنگ میں جن سے حرام کو حلال کرلیا گیا ہے۔ رہی یتیم کو دھکے دینے کی بات تو وہ یہی دھکے ہیں جو یتیموں کو دیئے جاتے ہیں کہ جائے ان کا خیال کرنے کے الٹا ان سے خیال کروایا گیا کہ جو پائی پیسہ ان کے پاس ہے وہ نہایت خوبصورتی کے ساتھ ہڑپ کرلیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
Ayah 107:3

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور (کبھی) مسکین کو کھانا کھلانے کے لیے (لوگوں کو) ترغیب نہیں دیتا

اور کبھی مسکینوں کو کھالا کھلانے کے لیے لوگوں کو ترغیب نہیں دیتے 3 ؎ ( یحض) کا اصل مادہ ح ض ض ہے جس کے معنی آمادہ کرنے کے ہیں اور ترغیب دینے کے جس کو برانگیختہ کرنے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ واحد غائب مضارع اس جگہ ( لا) نافیہ ہے یعنی وہ آمادہ نہیں کرتا ۔ ترغیب نہیں دیتا ، نہیں ابھارتا ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت پر ایمان رکھنے والے انسان ہمدردی کے جذبے سے کس قدر بےبہرہ ہوتے ہیں ۔ فرمایا وہ خود تو ان یتیموں کی کچھ مدد نہیں کرتے کہ بخل نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے تھے لیکن دوسرے لوگوں کو تو وہ رغبت دلا سکتے تھے کہ ان مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ وہ تعاون کریں لیکن وہ ایسے بد نصیب ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرسکے اور وہ ایسا کر بھی کیسے سکتے تھے کیونکہ اگر وہ دوسروں کو ان کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دیتے تو دوسرے بھی ان سے کہہ سکتے تھے کہ تم دن رات ان کو کھانے کے درپے ہو اور ہم کو ان کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہو اس لیے انہوں نے ایک خود ساختہ ضابطہ بنا لیا ہے کہ اگر ان غریب لوگوں کے ساتھ اور یتیموں کے ساتھ ایسا سلوک کرنا ضروری ہوتا تو اللہ کے خزانے میں کیا کمی تھی وہ خود ان کو دے دیتا جب اس نے ان کو مفلوک الحال رکھا ہے اور ان کو کنگال کردیا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی امداد کر کے مشیت ایزادی کا مقابلہ کریں ۔ اگر آپ کو اس کی مزید وضاحت دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہفتم سورة یٰسین کی آیت 47 کی تفسیر دیکھیں کہ من گھڑت مسئلے گھڑنے والے کس طرح گھڑ لیتے ہیں اور اس پر ان رسومات کو قیاس کرلیں جن کا ذکر ہم نے اوپر کردیا ہے جن کے ساتھ شریف کا لا حقہ لگایا گیا ہے اور پھر ان آیات کریمات پر غور کریں جن کی تفسیر ہو رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کو معاشرہ کے لیے سہارا اور ضرورت مند افراد کی امداد اور ان کی ضروریات زندگی فراہم کرنے کو کتنی اہمیت دی ہے۔ جو لوگ اسلامی تعلیمات کے اس پہلو کو در خور اعتنا نہیں سمجھتے وہ کتنے کوتاہ نظر اور بلیدالذہن ہیں اور ان کے رویہ میں کتنی سنگدلی اور کمینگی پائی جاتی ہے اور جو ان رسومات کے ذریعہ معاشرے کے اس کمزور عضو کو کھانے کے بہانے تراش کو اس طرح کھانے میں مصروف ہیں ان کا کیا حال ہوگا اس کا فیصلہ خود کرلیں اور جو مفہوم ہم نے بیان کیا ہے قرآن کریم کی آنے والی آیت نے کس طرح روز روشن کی طرح اس کی وضاحت فرما دی ہے ، ذرا غور کریں۔
Ayah 107:4

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

پس ان نمازیوں کے لیے بھی ہلاکت ہے

اس دن نمازیوں کے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے 4 ؎ اس دو لفظی آیت نے دین و مذہب کے ان پروہتوں کی ساری حقیقت کو واضح کردیا ہے کہ ان کی حیثیت کیا ہے اور ان کی نمازیں پڑھنے اور پڑھانے کا نتیجہ ان کو کیا ملنے والا ہے۔ اس مضمون پر اس نہج سے غور کریں کہ ایک مسجد میں اگر ایک سو نمازی ہیں تو ان میں نماز پڑھانے والا ایک ہے باقی سب پڑھنے والے ہیں اور اس پڑھانے والے نے بھی ویسی نماز پڑھی ہے جیسی نماز ان سارے نمازیوں نے پڑھی ہے لیکن باقی سب کے سب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا حکم سمجھ کر نماز پڑھ کر نکلیں گے اور یہ ایک اپنی نماز کے ادا کرنے کے بھی دام لے گیا اور پھر سب نمازیوں سے افضل کا افضل اور بہتر کا بہتر بھی رہا ۔ اس کو کہتے ہیں کہ ہم خرما و ہم صواب ۔ خبر ! یہ تو ہمارے سمجھنے اور ہمارے کہنے کی بات ہے لیکن جو کچھ اللہ رب کریم نے ارشاد فرمایا ہے اس کے حق ہونے میں تو کوئی شک و شبہ نہیں ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ایسے نمازیوں کے لیے افسوس ہی افسوس ہے پھر ان کی عیاریوں اور مکاریوں کی سزا ان کو قیامت کے روز کیوں نہیں ملے گی۔
Ayah 107:5

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں

یہی لوگ ہیں جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں 5 ؎ (ساھون) بیخبر ۔ بھولنے والے ۔ غافل ۔ سھو جس کے معنی غافل ہونے کے ہیں ۔ اسم غافل کا صیغہ جمع مذکر ( ساھون) اصل میں ساھیون تھا بروزن فاعلون ی مضموم ما قابل اس کا مکسور ، ضمہ ی پر ثقیل ہوا تو نقل کرکے ما قبل کردیا اب و اور ی دو ساکن جمع ہوگئے اس لیے ی کو حذف کردیا اور ( ساھون) ہوگیا ۔ امام راغب تحریر کرتے ہیں کہ ” غفلت سے جو خطا ہو وہ “ ” سہو “ ہے۔ اس کو دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ انسان سے ایسی چیزیں سر زد نہ ہوں جو اس خطا کو کھینچتی اور پیدا کرتی ہیں جیسے دیوانہ کس انسان کو گالی دے ، دوسرے یہ کہ اس سے ایسی چیزیں ہوئیں جو اس خطا کو پیدا کرتی ہیں جیسے وہ شخص کہ جس نے شراب پی اور پھر اس سے کوئی برائی بغیر اس برائی کے ارادہ کیے ظہور میں آئی تو اس پر مواخذہ ہوا ۔ وہ جو کھلے بندوں آخرت کا انکار کرتے تھے ان کا حال تو آپ نے سنا اب ذرا ان کا حال بھی سن لیجئے جنہوں نے بظاہر تو اپنے آپ کو مسلمانوں کے زمرے میں داخل کر رکھا ہے لیکن ان کے دلوں میں قیامت پر ایمان بالکل نہیں ہے اس لیے کہ وہ نماز کے بارے میں بڑی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ نماز کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ نماز بھی ادا ہوگئی اور نہ ہوتی تو ان کو ذرا دکھ نہیں اور ذرا افسوس نہیں وقت کی کوئی پرو نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں تو کسی ثواب کے امیدوار نہیں ہوتے اگر نہیں پڑھتے تو ان کو کسی عذاب کا اندیشہ نہیں ہوتا ۔ اگر لوگوں میں گھر گئے تو نماز پڑھ لی ، تنہا ہوئے تو ہضم کر گئے۔ اگر نماز پڑھتے بھی ہیں تو اول وقت نماز کا ادا کرنا ان پر بہت بھاری ہے بیٹھے گپیں ہانکیں گے لیکن نماز پڑھیں گے تو ایسے وقت کہ وقت بالکل ختم ہونے کو ہوگا ۔ ظہر کو عصر کے وقت اور عصر کو قریب المغرب کہ سورج قریب الغروب ہوگا اور ایسے وقت میں کیا کریں گے کہ تیزی سے تین چار ٹھونگے لگائے۔ وہ نماز جس میں خشوع و خضوع ہے وہ تو ان پر بہت ہی بھاری ہے اس طرح ان نمازیوں کی کئی قسمیں ہیں اور اگر ان کو گنوائیں گے تو بات تو بہت لمبی ہوگی کہ کھڑے تو ہوں گے نماز میں لیکن دل ان کے افکار غیر سے بھرے ہوتے ہیں ۔ یہ عبادت اور ذکر الٰہی کی لذت سے کبھی سرشار نہیں ہوتے اور غفلت کی یہ سب قسمیں ہیں لیکن اس وقت حالت بہت ہی عجیب ہے کہ مسلمانوں کی پوری آبادی میں مسلمان نمازیوں کی تعداد تین یا چار فی صد بھی بمشکل ہے اور جو نمازیں ادا کرتے ہیں ان کی حالت نمازیں ادا نہ کرنے والوں سے بھی سوا ہے تفصیل اس کی بہت لمبی ہے اور حالت ان نمازیوں کی معاشرے میں ہر وقت دیکھی جاسکتی ہے۔ پھر جو چیز ہر وقت مشاہدہ میں ہوا اس کی مزید بحث کی ضرورت کیا ہے ؟ نمازیوں کے جھگڑے ، نمازیوں کی تو تو میں میں ، نمازیوں کی جھک جھک اور بک بک ، نمازیوں کی لغویات اور فضولیات اور نمازیوں کی بحث و تمحیص پھر ایسے نمازی اس ویل اور اس ہائے ہائے اور افسوس سے مستثنیٰ رہیں تو کیوں اور کیسے ؟ نماز کے اندر تو سہو ہوگیا تو اس کا علاج سجدہ سے ہوگیا لیکن یہ نمازیوں کا کردار اور اخلاق یہ تو لا علاج مرض ہے ۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ کسی کو سمجھ عطا فرما دے اور وہ اپنا تجزیہ کر کے اپنی اصلاح پر نظر رکھتے ہوئے باقی لوگوں سے آنکھیں بند کرلے تو یہ دوسری بات ہے۔
Ayah 107:6

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

(اور) جو لوگ صرف دکھاوے سے کام لیتے ہیں

اور جو لوگ صرف دکھاوے سے کام لیتے ہیں 6 ؎ نماز اور نمازیوں کی بیماریوں کا ذکر جب شروع ہوگیا تو ان کی طرف اشارات کردیئے گئے تاکہ اصلاح کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ ہماری نماز کو کیا بیماری لا حق ہے اور اس کا علاج کیا ہے ؟ اس کی وضاحت میں فرمایا جا رہا ہے کہ بعض لوگ محض دکھاوے کی نمازیں بھی پڑھتے ہیں کہ وہ نماز میں جس طرح کی غفلت کرتے ہیں ان میں ایک ریا کاری کا مرض بھی ان کی نماز کو لا حق ہے کہ وہ جو نماز ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں پڑھتے اس لیے خلوص نیت سے وہ یکسر محروم ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں محض اس لیے کہ لوگ ان کو نیک خیال کریں کیونکہ نماز کا نیک کام ہونا ایک معروف بات ہے اس لیے ان کو نماز پڑھتے دیکھ کر لوگ ان کی عزت کریں اور ان کی اس معاملہ میں شہرت ہو کہ دور دور لوگ بھی جب ان کی شخصیت کو زیر بحث لائیں تو اس میں ان کے نمازی ہونے کا ذکر بھی آئے اور اس طرح وہ دنیوی منفعت اور مضاد زیادہ سے زیادہ حاصل کرسکیں ۔ اس وقت جو نمازیوں کی حالت ہے اس کا صحیح معنوں میں تجزیہ کیا جائے تو بہت ہی کم ایسے لوگ نکلیں گے جن کی نمازیں نمازیں کہلا سکیں گی اور جن کو نمازی سمجھا جاسکے گا اس لیے زیادہ بحث کی ضرورت نہیں فقط ایک بات ہے اور وہ یہ کہ ہر انسان خواہ وہ میں ہوں یا آپ اپنا تجزیہ خود کرے اور اپنی نماز کو اور اپنے آپ کو دیکھے اور جو کوتاہی پائے اس کی اصلاح کرے لیکن دوسرے کی طرف دھیان مت دے ۔ ہاں ! کوئی ظاہری بات ہو تو جس کی بات ہو اس کی تخلیہ میں کہہ دے اور اگر وہ پھر بھی عمل نہ کرے تو خاموشی اختیار کرلے۔ یہ پرہیز بھی ہے اور علاج بھی اگر کوئی خوش قسمت ایسا کرسکے۔
Ayah 107:7

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور (ایسے خسیس ہیں کہ) معمولی برتنے کی چیز بھی مانگے نہیں دیتے

اور ایسے خسیس ہیں کہ معمولی برتنے کی چیزیں بھی مانگے سے نہیں دیتے 7 ؎ ( الماعون) بھلائی۔ حسن سلوک ۔ بارش ۔ پانی ۔ گھر کا سامان ۔ فرمانبرداری ۔ زکوٰۃ وغیرہ ۔ ماعون کی لغت میں مختلف معانی ہیں جو چیز کسی مانگنے والے کی مدد کے لیے دے دی جائے وہ بھی ماعون اور جو روک لی جائے وہ بھی ماعون ہے۔ ( از لغات اضداد) اس لیے بعض اہل لغت کا قول ہے کہ ماعون کی اصل معونۃ تھی الف تاکہ عوض بڑھا یا گیا ۔ یہ قول اگرچہ بلا دلیل ہے لیکن ماعون کے مفہوم کے اعتبار سے بہت دل نشین ہے جو چیزدی جاتی ہے وہ دوسرے کے لیے سبب معونت بن جاتی ہے اور جونہی دی جات وہ اپنے لیے باعث معونت ہوتی ہے اس لیے دونوں صورتوں میں اس کو مامون کہا جاتا ہے۔ ابو عبیدہ کا قول ہے کہ جاہلیت میں ہر منفعت اور عطیہ کو ماعون کہتے تھے اور اسلام میں طاقت ، خیرات اور زکوٰۃ کا کام ماعون ہوگیا ۔ ( لسان) جیسا کہ کسی نے کہا ہے ؎ وم علی الاسلام لما یمعنوا ما عونھم ویضیعوا التھلیلا وہ لوگ اسلام پر قائم ہیں نہ انہوں نے اپنی زکوٰۃ دی نہ کلمہ لا الہ الا اللہ کو ضائع کیا۔ ( معجم القرآن ) آیت کی تشریح میں لفظ ماعون کا متعین ترجمہ کیا ہے اس کے متعلق قرن اول و دوم کے علماء کے اقوال مختلف ہیں ۔ سیدنا علی ؓ ، عبد اللہ بن عمر ؓ ، حسن بصری ، قتادہ اور ضحاک (رح) کے نزدیک زکوٰۃ مراد ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ کے قول پر کلہاڑی ، ڈول اور ہانڈی وغیرہ ضروریات خانگی کی چیزیں مراد ہیں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول بروایت سعید بن جبیر ؓ بھی یہی ہے اور مجاہد نے کہا ہے کہ عاریت مراد ہے۔ عکرمہ نے کہا ادنیٰ قسم کا اثاث خانگ کی عاریت اور اعلیٰ قسم زکوٰۃ ہے۔ قطرب نے کہا ماعون شے قلیل ہے۔ عرب کا محاورہ ہے ما لہ سعۃ ولا معنۃ تو اسکے پاس کوئی بڑی چیز ہے نہ چھوٹی زکوٰۃ صدقہ وغیرہ ۔ ماعون کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مال کثیر میں اس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے بعض لوگوں کا قول ہے کہ ماعون وہ چیز ہے جس سے کسی کو روکنا شرعاً جائز نہیں ہے جیسے پانی ، نمک ، مرچ ، ہلدی ، کلہاڑی ، لنگری ، ہاون دستہ ، ماچس ، آگ وغیرہ وغیرہ۔ دراصل اس میں بتایا گیا ہے کہ منکرین قیامت خواہ وہ بالکل انکاری ہوں یا زبان کے اقرار کے بعد عملی طور پر انکار کرنے والے ہوں ان کی اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ وہ عبادات سے کلیۃً بےاعتنائی برتتے ہیں اس پر ریا کاری اور اپنے ہمسایوں ، عزیز دوستوں ، قریبی رشتہ داروں ، عام ضرورت کے چیزوں کو روکنے کی قبیح عادت کا ذکر کر کے مسلمانوں کو ان سے اجتناب کی تلقنا کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ خصلتیں ان لوگوں کی ہیں جو دین کو نہیں مانتے اور جزا و سزا کو دل سے قبول نہیں کرتے ۔ رسما ً ذکر کردینا دوسری بات ہے اور خصوصاً جن کے دلوں میں نفاق کی غلاظ ہے ان کی عادات پر ابھی بو باس موجود ہوتی ہے۔ مسلمانو ! تم تو قیامت پر ایمان رکھتے ہو اللہ تعالیٰ کی توحید ، اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت ، نبوت و رسالت اور قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے پر یقین رکھتے ہو تمہیں تو اپنے دامن کو ان آلائشوں سے ہرگز آلودہ نہ ہونے دینا چاہیے ورنہ تم میں اور ان لوگوں میں وجہ امتیاز کیا رہے گی اور خطا فاصل کہاں کھینچا جائے گا ۔ بعض لوگوں کو نہیں بلکہ اکثرلوگوں کو جب مکی سورتوں میں نمازوں کا ذکر آتا ہے تو بہت تعجب ہوتا ہے وہ یا تو اس خیال میں گم ہوجاتے ہیں کہ نماز مکی زندگی ہی میں فرض ہوچکی تھی اور یا وہ جس سورت میں اس کا ذکر ہوتا ہے اس کو مدنی بنانے کی کوشش وسعی میں لگ جاتے ہیں ۔ یہی حال اس سورت میں بھی ہوا ہے کہ زیادہ نہیں تو وہ کہیں گے کہ جان لینا چاہیے کہ یہ آیت تو مدنی ہے اور باقی سورت مکی ہے حالانکہ ان کی حیرت و تعجب کی کوئی معقول وجہ ہم کو نظر نہیں آتی اس لیے کہ دین کے جتنے کام ہیں وہ شروع سے چلے آ رہے ہیں لیکن لوگوں نے ان کو اپنے اپنے دور میں مسخ کرنے کی کوشش کی ہے اور بعد میں آنے والے نبی و رسول کے دور میں اس کو فرض اس وقت قرار دیا گیا ہے جب براہ راست اس کو حکم خداوندی موصول ہوا ہے اگرچہ وہ قبل ازیں اس کے مطابق ہی عمل کرتا چلا آ رہا ہو بلکہ ہدایت کے معاملہ میں اکثر و بیشتر یہی ہوا ہے کہ نبی کریم ﷺ نبوت و رسالت سے بھی قبل ان ہدایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے تھے جب کہ ہدایات اسلام کے قانون میں واضح نہ ہوئی تھیں لیکن اس سے قبل آئی ہوئی فطری ہدایت میں وہ ہدایت موجود تھیں اور یہی حال اس نماز کا اور ان نمازیوں کا ہے اور آج ہم اس کو موجودہ زمانہ پر فٹ کرتے ہیں تو محض اس لیے کہ یہ تعلیمات ابدی ہیں جیسے وہ نزول کے زمانہ میں تھیں ویسے ہی اب بھی ہیں اس لیے اگر ہم نے ان نمازیوں کو بھی اسی میں شامل کیا ہے جو اس وقت اپنی نمازوں کے متعلق غفلت میں مبتلا ہیں تو یہ کوئی زیادتی نہیں اس لیے کہ جیسا یہ حکم اس وقت تھا جب قرآن کریم نازل ہوا ویسا ہی آج بھی موجود ہے اور قیامت تک یہ حکم اسی طرح موجود رہے گا ۔ ذرا غور کرو کہ اگر وہ نماز جو فرض بھی نہ تھی بلکہ نفل تھی اس نماز کے لیے یہ حکم نازل ہوا اور اس کے بعد نماز فرض ہوگی تو اس حکم کی تاکید مزید بڑھ گئی یا کم ہوگئی ؟ یقینا بڑھ گئی جس کا مطلب یہ ہوا کہ اتنی ہی تاکید اس کی زیادہ ہوگئی تو پھر اس بحث کا فائدہ کیا رہا ؟ حقیقت یہ ہے کہ نیکی نیکی ہی ہے خواہ وہ چھوٹی ہو اور اگر انسان چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے چھوڑنا شروع کر دے تو ایک دن وہ بڑی بڑی نیکیوں سے محروم ہوجاتا ہے اور اس طرح اگر چھوٹی چھوٹی برائیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کو کرنا شروع کر دے تو ایک نہ ایک دن وہ بڑی برائیوں کی بھی پرواہ نہ کر کے دوزخ کا ایندھن بن جائے گا ۔ اس لیے اس بات کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے چھوڑنا شروع کر دے تو ایک دن وہ بڑی بڑی نیکیوں سے محروم ہوجاتا ہے اور اس طرح اگر چھوٹی چھوٹی برائیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کو کرنا شروع کر دے تو ایک نہ ایک دن وہ بڑی برائیوں کی بھی پرواہ نہ کر کے دوزخ کا ایندھن بن جائے گا ۔ اس لیے اس بات کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی اور حقیر چیزوں کو جیسے ضروریات کے لے چھری ، چاقو ، دیا سلائی ، نمک ، ہینڈ پمپ سے یا نل سے پانی جیسی چیزوں کو ہمسایے میں عند الضرورت مانگے سے دینے کے لیے تیار نہ ہو تو وہ ہمسائیگی کا خیال چھوڑ دے گا اور یہ اجنبیت اس کو بڑی بڑی نیکیوں سے بھی غافل کر دے گی اور آج ہمارے معاشرے میں یہی حالت ہو رہی ہے کہ مدت گزر گئی ہے ایک دوسرے کے ہمسائے میں رہتے ہوئے اور آج تک ایک دوسرے کے ناموں تک سے واقفیت نہیں ۔ آنے جانے کا راستہ ایک ہے اور پہچان تک نہیں کہ یہ ہمارا ہمسایہ ہے۔ شہروں میں یہ مرض پرانا ہوچکا ہے اور اب اس کا دائرہ دیہات تک وسیع ہوگیا ہے حالانکہ یہ کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ نہایت گھٹیا اور بری بات ہے۔ ہمسائیگی اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں اور بعض اوقات حقیقی بھائیوں تک سے زیادہ قرب کا تعلق ہے اس لے اس کا خیال اور لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے اور ہمسائیگی کے حقوق کے لیے عروۃ الوثقیٰ ، جلد دوم سورة النساء کی آیت 36 کا مطالعہ کریں اور اسی نشاندہی پر ہم سورة الماعون کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں ۔ اللھم فاطر السموات والارض انت ولی فی الدنیا والاخرۃ توفنی مسلما والحقتی بالصالحین۔