108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsعروۃ الوثقٰی
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
(اے پیغمبر اسلام ! ) بلاشبہ ہم نے آپ کو خیر کثیر دیا
1 ؎ (الکوثر) قیل نھر فی الجنۃ و قیل بل ھو الخیر العظیم الذی اعطاہ اللہ تعالیٰ الرسول الکریم و ھذا القول ارجع لما تدل علہ ضیغۃ ( فوعل) من المبالغۃ والا فراط فی الکثرۃ التی من اللہ بھا علی رسولہ الکریم (الکوثر) کا لفظ صرف اس جگہ بیان ہوا ہے اگرچہ اس مادہ ک ث ر کے الفاظ قرآن کریم میں بکثرت پائے جاتے ہیں ۔ کوثر کثرۃ سے بنا ہے اور جو چیز تعداد میں کثیر اور مرتبے ہو اس کو عرب کوثر کہتے ہیں ۔ صاحب معجم القرآن نے سیدنا ابن عباس ؓ کے اس قول ہی کو راجح قرار دیا ہے اور روایات میں جنت میں ایک نہر اور حوض بھی بتایا گیا ہے جو اس خیر کثیر کے تحت آ کر صحیح اور درست ہے۔
کوثر ہر شے کی کثرت کو کہا جاتا ہے۔ ( کو ثر) کے معنی ہیں خیر کثیر ۔ جس زمانہ میں اس سورت کا نزول ہوا اس وقت آپ ﷺ کی حالت نہایت بےکسی اور بےکسی کی تھی ۔ چاروں طرف مخالفت کا طوفان برپا تھا اور طرح طرح کی ایذائیں اور تکلیفیں آپ ﷺ کو دی جا رہی تھیں ۔ کامیابی کو بظاہر کوئی امید نظر نہ آتی تھی بلکہ اسباب دنیوی پر نظر کرتے ہوئے ناکامی کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس وقت آسمان سے یہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے آواز آتی ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو خیر کثیردیا ہے یہاں ماضی بمعنی استقبال اس لیے استعمال ہوا ہے تاکہ وہ اس یقین کو ظاہر کرے جس کا اس عطیہ کے متعلق رب کریم کا اعلان کرنا منظور تھا یعنی یہ بتانا مقصود تھا کہ یہ ایک امر ہے جو آسمان پر مقرر ہوچکا ہے ۔ غرض کہ اس آت میں بڑی زور اور تحدی سے خیر کثیر کے ملنے کی بشارت دی جاتی ہے اور واقعات عالم اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ جائو بلا شبہ تاریخ عالم پر نظر ڈالو اور وہ خیر کثیر جو آپ ﷺ کو دیا گیا اس کے متعلق غور کر کے دیکھ لو کہ کونسی دینی دنیوی ، زمینی و آسمانی نعمت اور برکت ہے جو آپ ﷺ کو نہیں دی گئی اور بہتر سے بہتر اور اعلیٰ سے اعلیٰ رنگ میں اور بہت ہی مقدار میں نہیں دی گئی ؟ طاقت اور سلطنت ، امت و جماعت ، شرف عزت اور نیک نامی ، شرافت اور تہذیب ، اخلاقی فاضلہ اور معرفت کاملہ ، علم اور حکمت ، نور قلب اور نور ایمان ، عقل اور فراست اولاد روحانی مثل علمائے ربانی اور اولیائے امت ، قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب اور قیامت تک آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کا فیضان روحانی ۔ غور کریں کہ ان میں سے کونی نعمت ہے جو انسان ہے جو انسان کو مل سکتی اور نبی اعظم و آخر محمدرسول اللہ ﷺ کو بہتر سے بہتر شکل میں وہ کثیر سے کثیر مقدار میں نہیں ملی ۔ یہ پیش گوئی جو نہایت بےکسی اور عجز و ضعف کے وقت میں قرآن کریم نے کی تھی جس شان و شوکت کے ساتھ پوری اس کا اعتراف دشمنوں کو بھی کرنا پڑا ۔ چناچہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں تحریر ہے کہ ” مذہبی شخصیتوں میں سب سے بڑھ کر کامیاب شخصیت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے “ تاریخ گواہ ہے ، واقعات کا انکار نہیں ہوسکتا اور جو کچھ دنیا میں آپ ﷺ کو ملا ہے اس کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتا ہے جو آخرت میں آپ ﷺ کیلئے مقدر ہے۔ اس دنیا میں آپ ﷺ کے فیض باطنی اور شفاعت روحانی کے کمالات کا ظہور اگر آخرت میں شفاعت کبریٰ اور نہر کوثر کی شکل میں ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر ہو تو آخر کیا تعجب ہے جیسا کہ سعید بن جبیر ؓ سے کوثر کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے ہر قسم کی خیر سے کثرت عطا فرمائی۔ پوچھنے والے نے کہا وہ جنت میں نہر ہے ؟ آپ نے کہا نہر بھی اور اس کے سوائے اور بھی یعنی وہ نہر بھی اس خیر کثیر میں سے ایک ہے۔
بخاری شریف میں بھی سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ الکوثر الخیر الکثیر کوثر کے معنی خیر کثر کے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں : ومن ذلک النھر اس خیر کثیر میں ایک جنت والی نہر بھی ہے جو آپ ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ جنت میں ملے گی جیسے ابن عباس ؓ عکرمہ اور سعید بن جبیر ، مجاہد اور محارب ، حسن بن ابی الحسن بصری (رح) نے فرمایا ہے کہ کوثر سے مراد بہت سی بھلائیاں ہیں اور مجاہد نے تو ان پر بہت زور دیا ہے کہ کوثر کے معنی بہت بڑی بھلائی کے ہیں جو اس دنیا میں بھی آپ ﷺ کو ملے گی اور آخرت میں بھی آپ ﷺ کو ملے گی اور یہ کہ کوثر میں نبوت ، قرآن کریم اور آخرت کے انعامات بھی سب شامل ہیں اور کوثر کے وسیع معنی مراد ہیں۔ انہیں محدود کرنا صحیح نہیں ہے اور یہ کہ جو معنی میں نے کیے ہیں میرے ساتھ ان معنوں میں صحابہ کرام (رح) اور بہت تابعین (رح) بھی شامل ہیں اور یہی ہم اس جگہ معنی مراد لے رہے ہیں۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ کوثر بروزن مبالغہ استعمال کیا گیا تو اس کے معنی کثرت بالائے کثرت اور فزونی پیش از فزونی اور فراوانی بر از فراوانی کے ٹھہرے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے :
” ابوبشر نے سعدن بن جبیر سے ، انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ کوثر کے معنی وہ خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمائی ۔ اور ابو بشر کہتے ہیں میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ لوگوں کا گمان تو یہ ہے کہ کوثر ایک نہر کا نام ہے جو جنت میں ہے تو سعید نے جواب دیا ہاں ! وہ جنت والی نہر بھی تو اسی خیر کثیر ہی میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے نبی اعظم و آخر ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔ “
حوضِ کوثر کے وجود کی تصدیق صحیحین کی حدیث انس ؓ سے ہوتی ہے لہٰذا حوض کوثر کے وجود اور عطیہ پر یقین رکھتے ہوئے بھی یہ تفسیر صحیح ہے کہ جو آیت زیر عنوان ہے اس خیر کثیر کے تحت بہت سی اشیاء کا ذکر کیا جاسکتا ہے جیسا کہ امام فخر الدین رازی (رح) نے کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ :
(ا) کوثر سے مراد امت محمدیہ ہے ایسی نبوت جامعہ اور ریاست عامہ اور دعوت کاملہ اور ہدایت بالغہ پہلے کب کسی کو عطا ہوئی تھی ؟ اس نبوت کے ثمرات میں سے ہے کہ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ (4 : 80) ” جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی “ کا فرمان صادر ہوا اور اس نبوت کے گلہائے رنگینی میں سے ہے کہ : ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ (4 : 64) ” ہم نے جو رسول بھیجا وہ اس لیے بھیجا کہ اس کی اطاعت ہمارے اذن کے تحت کی جائے۔ “ کے منشور کی اشاعت فرمائی گئی۔ واضح ہوگیا کہ :
صاحب کوثر وہی ہے جس کی اطاعت کا حکم الٰہی جاری ہوا۔
صاحب کوثر وہی ہے جس کی اطاعت کو اطاعت الٰہی فرمایا گیا۔
صاحب کوثر کی نبوت وہی نبوت ہے جس کی قدامت تاریخ بشر سے پہلے کی ہے اور جس کی نہایت انتہائے عالم سے ملی ہوئی ہے۔
رب ذوالجلال والاکرام کے کلام پر غور کرو کہ وہ فرماتا ہے : (شہد اللہ انہ لا الہ الا ھوا) (3 : 18) ” اللہ کی شہادت ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے “ اور اللہ ہی نے یہ اعلان فرمایا ہے کہ : (اللہ یشھد انک الرسولہ) (63 : 1) ” اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ بھی ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں “ جب ( رب المشرقین و المغربین) خود شہادتین کو اپنی شہادت سے مصدقین و مؤکد فرماتا ہے تو نبوت اور رسالت مصطفویہ کے خیر کیر ہونے میں کیا کلام باقی رہ جاتا ہے۔
(2) کوثر سے مراد اسلام ہے۔ وہی اسلام جس کے سوا اور کوئی دین اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حضور میں مقبول و منظور ہی نہیں ہے۔ وہی اسلام جس کا انبیاء عظام (علیہم السلام) نے ہمیشہ اعلام فرمایا۔ وہی اسلام جو سعادت دارین کا جامع اور صلاح یا فلاح ثقلین کا ذخیرہ ہے۔
(3) کوثر سے مراد کثرت امت ہے اور یہ کثرت حدوعدد کے احاطہ سے باہر ہے اور یوما فی یوم ترقی پذیر ہے۔ اس وقت دنیا میں جتنی اقوام آباد ہیں ان سب میں تعداد کے لحاظ سے قوم مسلم زیادہ ہے اور قوم مسلم جہاں بھی ہے اور جیس بھی ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کو مانتی ہے تب ہی وہ مسلم ہے اور آپ ﷺ کے بعد وہ کسی نبی و رسول کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ اسلام کی تعریف میں یہ چیز موجود ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کے تسلیم کرنے کے بعد کسی بھی نبی و رسول کے آنے سے انکار لازم و ضروری ہے اور اسی کو مسلم کہتے ہیں اور اس وقت دنیا میں مسلم قوم کی کل آبادی تقریباً بتائی جاتی ہے جو دوسری اقوام عالم کے مقابلہ میں آبادی کے لحاظ سے زیادہ ہے۔ بلاشبہ یہ اسلام ہی ہے جس کا پاک درخت اپنی جڑوں کو زمین کے سوتوں تک پھیلا رہا ہے اور جو اپنی پھل دار شاخوں کے ساتھ فضائے آسمانی پر چھا رہا ہے۔
(4) کوثر سے مراد قرآن کریم اور کتاب شمیم ہے۔ یہ وہی خیر کثیر ہے کہ شاخ ہائے اشجار کی اقلام اور قطرات بحار کی مداد جس کی مدح و ثنا کے استیفاء سے عاجز ہے کہ عمر نوح اور فہم جبریل بھی اگر جمع ہوجائیں تو حصر اسرار قرآنیہ سے قاصر ہیں۔ بلاشبہ یہ کتاب قلزم حقائق ہے اور یہی کوثر علوم ہے۔ یہی مطلع الانوار ہے اور یہی مخزن الاسرار ہے۔ قرآن کریم سے پہلے معجزات کا انبساط اظہار ایک وقت خاص میں ہوتا تھا اور پھر انہی کے عہد مبارک میں اس معجزہ کا وجود نمونہ پایاجاتا تھا۔ موسیٰ کے عصا کا اژدھا بن جانا ، پھر اژدھا کا سیرت اولیٰ پر عود کرجانا ایک ایسا نظارہ تھا جو کوہ طور کے بعد فرعون ہی کے دربار میں دیکھا گیا۔ وہی عصا بنی اسرائیل کے لیے انفجار ماہ کا آلہ بنا اور اس سے پانی کی نشاندہی کی گئی اور جب ضرورت جاتی رہی تو وہ عصا کا عصا رہ گیا اور پھر وہی عصا کسی دوسرے کے ہاتھ میں جا کر ایک لکڑی کی لکڑی رہ جاتا تھا۔
قرآن کریم ہمارے سید و آقا نبی اعظم و آخر ﷺ کا وہ معجزہ ہے جو آج تک زندہ وجاوید ہے اور قیامت تک رہے گا کیونکہ یہ دائمی اور ابدی معجزہ ہے اور اس کا اعجاز ہر وقت ہر آن موجود و مشہور ہے اور ہر ایک عالم دین اس کے معجزہ ہونے کی براہین صادقہ ہر وقت اور ہر حین پیش کرسکتا ہے اور جس کے ہاتھ میں جائے ویسا کا ویسا بھی رہے۔ بلاشبہ یہ ایسی خیر کثیر ہے جس کا اعلان ہونا منجانب رب ذوالجلال والاکرام ضروری تھا۔
(5) کوثر سے مراد و فصائل کثیر اور محاسن جمیلہ اور لغوت متکاثرہ ہیں جو وجود باوجود مصطفویٰ میں مندرج اور منظوی تھے جیسے انابت آدم اور استقامت نوح۔ حلم اسماعیل و علم ابراہیم۔ درس ادریس و تفیث شیث ، حقانیت اسحٰق اور عاقبت بینی یعقوب۔ نورانیت یوسف و صالحیت صالح۔ ہدیٰ ہود اور جمعیت شعیب۔ لطافت ہود اور عبرت عزیز۔ شکوہ سلیمان واندوہ یحییٰ ۔ دادِدائود و دعائے یونس۔ ایاب ایوب و ذُہاب زکریا۔ امامت ہارون و ایناس الیاس۔ زہد عیسیٰ و علوموسیٰ ۔ احسانیت لقمان وانقیاد خضر۔ ساعی الیسع و کفالت ذوالکفل علیہم السلام۔ یہ ایسے اموال گوناگوں ہیں جو رب ذوالجلال والاکرام کی اس سراجاً منیراً کی حقیقت کے پیکر نوری میں مجمع ہیں اور پھر رحمۃ للعالمین کا وہ رنگ ہے جس نے ان اعوان کو اپنے اندر جمع کرلینے کے بعد اپنے رنگ خاص سے رنگین بنادیا ہے۔
(6) کوثر سے مراد سید کثیر الخیر ہے اور یہ معنی صاحب صحاح اللغات نے تحریر کیے ہیں۔ بلا ریب آپ ﷺ سید ولد آدم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یٰس کہہ کر خطاب فرمایا ہے اور بلاشبہ آپ ﷺ کثیر الخیر ہیں اور آپ ﷺ ہی وہ مشعل ہدایت ہیں کہ ظلمات کو ظلمات کفر و شرک کو دور فرمایا ہے۔ آپ ﷺ ہی وہ سراج منیر ہیں کہ چشم کور سواد کو بینائے حقائق بنایا۔ آپ ﷺ ہی وہ نور محبت ہیں کہ قلب عالم کو منور اور روح اعظم کو مستنیر فرمایا۔ آپ ﷺ ہی وہ عہد کامل ہیں کہ انسانیت کو تخت سیادت پر بٹھایا۔
(7) کوثر سے مراد صحابہ کرام ؓ کی کثرت ہے کیونکہ جتنے صحابہ ؓ آپ ﷺ کے تھے کسی دوسرے نبی یا رسول (علیہ السلام) کو اتنے صحابہ میسر نہ آئے۔
(8) کوثر سے مراد رفع ذکر ہے کہ ساری کائنات کی بلندیوں اور پستیوں میں جس طرح اس نبی اعظم و آخر ﷺ کے ذکر مبارک کا ڈنکا بج رہا ہے اس کی مثال دوسری جگہ نہیں ملتی۔
(9) کوثر سے مراد آپ ﷺ کے دل کی روشنی ہے جس نے آپ ﷺ کی اللہ تعالیٰ تک راہنمائی کی اور ماسوا سے ہر قسم کا رشتہ منقطع کردیا۔
(10) کوثر سے مراد مقام محمود ہے اور روز محشر جب نبی اعظم و آخر ﷺ شفاعت عالم فرمائیں گے۔ مختصر یہ کہ عطیہ کوثر نبی اعظم و آخر و رسول ِمعظم کے خصائص میں سے ہے اور امید ہے کہ فروائے قیامت کو تشنگان جمال آپ ﷺ کے زلال الطاف سے بہرہ یاب اور عطشان مشک زبان آپ ﷺ کے جامِ کوثر سے ضرور شاداب و سیراب ہوں گے۔ اللعھم اجعلنا منھم۔
غور کرو کہ اس آیت زیر نظر کی ابتدا (ان) سے کی گئی ہے جو تاکید پر دلالت کرتا ہے پھر ضمیر جمع ذکر کی گئی ہے جو تعظیم کا مفہوم دیتی ہے اور پھر اعطاء کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایتاء کا نہیں اور اعطاء میں ملکیت پائی جاتی ہے اور ایتاء میں نہیں پائی جاتی اور یہاں ماضی کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے جو تحقیق پر دلالت کرتا ہے یعنی یہ کام ہوگیا۔ الغرض کوثر کے فضاء تو ختم نہیں ہوسکتے ، ہم ہی کو بس کرنا ہے تاکہ آنے والے مزید غورو فکر کرسکیں اور اپنی غوطہ زنی سے دُرہائے نایاب نکال سکیں۔ اللھم صلی علی محمد و علی ال محمد۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
سو تو اپنے رب کی (کثرت سے) عبادت کر اور اس کی خاطر قربانی کر
سو تو اپنے رب کی کثرت سے عبادت کر اور اس کی خاطر قربانی کر
2۔ (فصل) تو نماز پڑھا۔ تو دعائے تصلیۃ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ (انحر) ” تو قربانی کر نحر سے جس کے معنی قربانی کرنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نحر سینہ کے اس بالائی حصہ کا نام ہے جہاں قلاوہ پڑا رہتا ہے اور اس کے اعتبار سے نحر کے معنی سینہ پر مارنے یا ذبح کرنے کے آتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں (فصل لربک وانحر) پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے۔ عام مفسرین کے نزدیک قربانی کرنا ہی مراد ہے لیکن بعض کے نزدیک نحر نماز سے متعلق ایک فعل کا نام ہے جو نماز کے اندر یا اس سے پہلے انجام دیاجاتا ہے ۔ چناچہ فراء نے نحر سے قبلہ رُخ ہونا مراد لیا ہے اور کلبی اور ابوالاحوص بھی اس کے ہم زبان ہیں لیکن مستد رک حاکم ، سنن بیہقی نے حضرت علی ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے جبریل سے پوچھا کہ یہ نحیرہ کیا ہے ؟ جبریل کہنے لگے کہ نحر نہیں بلکہ آپ ﷺ کو حکم دیاجارہا ہے کہ جب نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہو تو ہاتھ اٹھائو اور اسی طرح جب رکوع میں جائو تو ہاتھ اٹھائو کیونکہ فرشتوں کی نماز کا یہی طریقہ ہے لیکن اس پر بحث کرنے کے بعد اس کو سخت منکر بتایا گیا ہے اور یہ بحث بہت لمبی ہے کہ کس نے کیا کہا ہے اور کس نے کیا بتایا ہے اور حضرت علی ؓ کی ایک روایت ( وانحر) کے معنی سینہ پر ہاتھ باندھنے کے بھی آئے ہیں اور یہ روایت بھی سنن بیہقی اور تاریخ بخاری میں درج ہے۔ ( ملاحظہ ہو سنن بیہقی ج 2 ص 29 ، 30) اور یہ بحث اس جگہ ختم نہیں ہوتی اس کے معنی اور مفہوم مزید بھی بتائے گئے ہیں اور ان معنوں پر اعتراض بھی وارد کیے گئے ہیں۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے ان سب کو اس جگہ نقل کرکے ان کی تردید کردی ہے اور نحر کے معنی قربانی کو قبول کیا ہے۔ اور محمد بن کعب قرطّی نے صاف تصریح کی ہے کہ مشرکین اپنی نماز اور قربانی اپنے بزرگوں کے نام سے کرتے تھے جن کے مرنے کے بعد انہوں نے ان کے بت بنا لیے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ یہ دونوں باتیں صرف اور صرف اللہ رب کریم کے لیے ہونی چاہئیں اور قرآن کریم نے صرف اس جگہ نہیں بلکہ بہت سی جگہ نماز اور قربانی کا ساتھ ساتھ ذکر کیا ہے اور ان دونوں کو اللہ کے لیے خاص رکھا ہے۔ تفصیل کے لیے عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 162 کی تفسیر دیکھیں وہاں پوری وضاحت مل جائے گی۔
اگر آپ غور کریں گے تو اس چھوٹی سی آیت میں پورے دین کا خلاصہ جمع کردیا گیا ہے۔ گویا جو اس آیت پر عمل کرتا ہے وہ اپنے عمل سے دین اسلام کی تصدیق کرتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور اپنے رب کے لیے قربانی کرو۔ دین پر عمل کرنے یین اللہ رب کریم سے تعلق پکڑنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں ، ایک عبادت اور دوسرے عمل۔ عبادت کا مغز دعا ہے اور دعا کی سب سے بہترین صورت نماز ہے جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور میں اعتراف عبودیت کرتا ہے اور اعمال صالحہ یعنی کامل فرمانبرداری کیلئے امداد طلب کرتا ہے۔ نماز دنیا کے سارے مذاہب میں کسی نہ کسی رنگ میں موجود ہے اور نماز اسلام کچھ حرکات جسم اور کچھ اذکار پر مشتمل ہے اور اسی طرح اسلامی نماز کو یہ فضلیت بھی حاصل ہے کہ اس کی تمام باوقار ، باغرض اور بافائدہ ہیں اور اس میں تمام طریق اختیار کیے گئے ہیں جو مختلف اقوام میں اظہار ادب کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ ایرانی اقوام میں ہاتھ پیچھے چھوڑ کر کھڑے ہوجانا اظہار ادب کی علامت ہے۔ ترکی نسل کی اقوام میں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجانا اظہار ادب کی علامت ہے۔ ہندوئوں ، جاپانیوں اور بعض دوسری اقوام میں جھکنا اظہار ادب کی علامت ہے۔ ہندوستان اور افریقہ میں سجدے کے طور پر گر جانا اظہار ادب کی علامت ہے اور یورپین اقوام گٹھنے کے بل بیٹھ جانے کو اظہار ادب کی علامت سمجھتی ہیں۔ ہندو اور سکھ اب تو خیر الگ ہوگئے ہیں لیکن پہلے اکٹھے ہی تھے اور دونوں ملنے کے لیے پائوں کی طرف جھکنے کو یا پائوں کو ہاتھ لگانے کو ادب سمجھتے ہیں۔ تُرک اب بھی جب کوئی ادب کا کام کرتے ہیں مثلاً مثنوی رومی پڑھتے ہیں تو ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور نماز اسلام کا ایک ایسا شعار ہے جس میں اسلام نے اس قسم کے تمام آداب کو جمع کردیا ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ یوں تو ایک مومن کو ساری نماز میں لذت آتی ہے لیکن کوئی شخص جب اپنے قومی شعار میں پہنچے گا تو اس سے کمال لذت محسوس ہوگی۔ ایک بھائی تشہد کے وقت کو بہت پسند کرے گا کیونکہ ان میں تشہد کا رواج ہے۔ ہندوستانی کو سجدہ کی حالت میں بڑا تذلل معلوم ہوتا ہے ، ایرانی کو ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونے میں تذلل معلوم ہوتا ہے ، یہودی کو رکوع میں بڑا تذلل ہوگا۔ مختصر یہ ہے کہ جس قوم سے نکل کر بھی کوئی شخص اسلام کی طرف آئے گا وہ اپنی روح کی تسکین اسلامی نماز میں ضرور پائے گا اور اگر تم غور کرو گے تو یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے جو اسلام میں پائی جاتی ہے۔ اس نے بتا دیا کہ اسلام میں ساری دنیا نے شامل ہونا ہے اور سب کو اپنے اپنے طریقہ میں لطف ایک فطری امر ہے اور اس کو اسلام کی نماز میں وہ طریقہ مل جائے گا اگر اس کی وضاحت کو مزید بیان کرنے لگیں تو بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن اختصار کے پیش نظر ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں ورنہ نماز کے ایک ایک جز اور وضو کی ایک ایک حرکت ، نماز سے پہلے کچھ نماز رکھنے کی حکمت ، نماز فرض کے بعد کچھ نماز کی ضرورت سب پر تفصیل سے کلام ہوسکتا ہے۔
عمل کا انتہائی کمال قربانی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کو اس کمال پر پہنچا دینا کہ اس کے لیے مخلوق اور اس کی تمام دلچسپیوں اور نفس اور اس کی تمام خواہشات و جذبات کو قربان کردینا ہے۔ نماز اور قربانی ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح وابستہ ہیں کہ نہ تو کوئی نماز اپنے کمال کو پہنچتی ہے جب تک قربانی نہ ہو اور نہ ہی کوئی قربانی اپنے کمال کو پہنچتی ہے جب تک نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب نہ کی جائے۔ نماز کا کمال یہ ہے کہ نماز کینیت کے ساتھ انسان تمام ماسوی اللہ سے منقطع ہوجائے اور مخلوق اور اس کی تمام دلچسپاوں اور توقعات اور نفس اور اس کی تمام خواہشات اور جذبات کی گردن پر چھری پھرجائے۔ گویا نماز کی پہلی تکبیر تحریمہ اس تکبیر کے قائم مقام ہوجائے جو کسی جانور کے گلے پر چھری پھیرتے وقت پڑھی جاتی ہے تب اس قربانی کے ساتھ و انقطاع الی اللہ پیدا ہوتا ہے جو نماز کو اپنے کمال تک پہنچا دیتا ہے اور اس کو الصلوٰۃ معراج المومین کا مصداق بنا دیتا ہے۔ گویا نماز مومن کی معراج ہوجاتی ہے۔ پس نماز ادا کرنے کے حکم کے ساتھ ہی قربانی کا حکم اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز اپنے کمال کو تب حاصل کرتی ہے جب انسان اسے اس مرتبہ پر پہنچا دے کہ نماز کی نیت اور تکبیر تحریمہ کے ساتھ تمام ماسوی اللہ کو قربان کردے۔ یعنی مخلوق اور اس کی تمام دلچسپیوں اور توقعات اور نفس اور اسکی تمام خواہشات اور جذبات پر چھری پھیر دے۔
اسی طرح قربانی کا جو حکم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے لیے مخلوق اور اس کی تمام دلچسپیوں اور نفس اور اس کی تمام خواہشات اور جذبات کو قربان کردینا یہ اپنے کمال کو نہیں پہنچتا جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہوا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان نماز کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا اور استمداد کرے تب انسان اپنے اعمال کو اس اعلیٰ مقام پر پہنچادیتا ہے جو کامل قربانی کا مقام ہے۔ پس قربانی کے حکم سے قبل جو نماز کا حکم دیا گیا ہے اس میں یہی اشارہ ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ عمل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کو اس کمال تک پہنچا دو جسے قربانی کہتے ہیں جس کے معنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے مقابلہ میں مخلوق اور اسکی تمام دلچسپیوں اور توقعات اور نفس اور اس کی تمام خواہشات و جذبات کو قربان دینا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ نماز کو قائم کرو اور اس دعا کے ذریعے اپنے رب سے مدد چاہو اور اس طرح تمہاری کی ہوئی قربانی یقینا اپنے کمال کو پہنچ جائے گی اسی طرح قربانی کے لیے جانور کے خریدنے سے پہلے اپنے مال کی تطہیر لازم سمجھی جائے گی کیونکہ رضائے الٰہی مال کے طیب ہونے میں ہے اور طیب کا مقام حلال سے بھی بہت اوپر ہے اور اسی طرح جانور کے سارے اعضا پر بحث کرنے سے پہلے انسان اپنی ہر بات کی اصلاح چاہے گا۔ اس کے اپنے کام بھی درست ہوں گے اور ہاتھ اور پائوں بھی اللہ کی رضا کے سوا حرکت نہیں کرتے ہوں گے۔ اس کے جسم کی ہر حرکت اللہ کی رضا کے لیے ہوگی گویا جانور کو درست اور صاف ستھرا تلاش کرنے سے قبل اپنے جسم کی صفائی اور تندرستی کا خیال کرے گا اور اس طرح اپنے آپ کو سنوارنے کے بعد وہ ستھرا جانور لے کر قربانی کرے گا تو گویا وہ ثابت کرے گا کہ میرے جسم کی اسلام کو جب ضرورت پڑے تو وہ حاضر ہے۔ میرے مال کی جب ضرورت پڑے تو وہ حاضر ہے غرض میری جس چیز کی بھی اسلام کو ضرورت ہوگی میں اس کو پوشیدہ رکھوں گا بلکہ حاضر کردوگا۔ اس لیے ضروری قرار دیا گیا کہ قربانیاں رضائے الٰیہ کے لیے ہوں اگر کسی انسان کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کی جائے تو اس پر احسان رکھنے کی نیت نہ ہو بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہو اس طرح اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری جب بھی ہو تو محض اللہ کی رضا کے لیے ہو ، ریا کاری یا شہرت حاصل کرنے کے لیے یا کسی اور نفسیاتی غرض کے لیے نہ ہو۔ اس لیے نماز اور قربانی کے احکام کو (لربک) کے ساتھ مخصوص کیا کہ یہ دونوں کام ہی اللہ کی رضا کے لیے کیے جائیں اور شفقت علی خلق اللہ کے وقت کسی پر احسان رکھنے کی نیت نہ ہو اور تعظیم لا مر اللہ کے وقت کسی قسم کی ریاکاری کی غرض مخفی نہ ہو جب انسان قربانی کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو بلاشبہ توحید کامل کو پا لیتا ہے اور یہی اصل مقصود ہے جس کو یہ گوہر نصیب ہوگیا بلاشبہ وہ جوہری ہوگیا۔
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
اور یقین جان کہ تیرے مخالف ہی ” اوتر “ ثابت ہو گا
اور یقین جان کر تیرا مخالف ہی ” اوتر “ ثابت ہوگا
3 ؎ (الابتر) ابتر دُم کٹا۔ جس کے ہاں نرینہ اولاد نہ ہو۔ جس کا ذکر باقی نہ رہے۔ بتر سے صفت مشبہ کا صیغہ ( شانئک ( تیرا دشمن شانی شناء سے جس کے معنی دشمن رکھنے کے ہیں۔ اس فاعل کا صیغہ واحد مذکر مضاف ہے۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔ کفار سمجھتے تھے کہ چونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی کوئی اولاد نرینہ موجود نہیں تھی اس لیے آپ ﷺ کی زندگی کے ختم ہوتے ہی آپ ﷺ کا ذکر بھی منقطع ہوجائے گا اور اس کے بعد آپ ﷺ کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ تیرے بعد تیرا ذکر باقی نہ رہے گا وہ اچھی طرح سن لیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کوثر عطا فرما یا ہے اور آپ ﷺ خیر کثیر کے وارث ہیں اور آپ ﷺ کا نام لینے والے دنیا میں اس قدر ہوں گے کہ ان کی تعداد کو کوئی چھو بھی نہیں سکے گا اور دنیا کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہوگی۔ آپ ﷺ کی روحانی اولاد کا سلسلہ قیامت تک ممتد ہے۔ ہاں ! آپ ﷺ کے دشمنوں کا ذکر دنیا میں باقی نہ رہے گا اگر کہیں ان کا نام لیا ہی جائے گا تو اوتر سمجھ کر کہ انہوں نے آپ ﷺ کی مخالفت کی اور کون ان میں سے اس مخالفت میں پیش پیش تھا اور کس نے کیا کردارادا کیا تھا ؟ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ بات کس قدر سچ ثابت ہوئی کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ کا نام کہاں سے کہاں تک پہنچا اور خلافت راشدہ کے زمانہ سے لیکر جب ابھی صنعتی ترقی کا زمانہ نہیں آیا تھا آج تک آپ ﷺ کا نام پوری دنیا میں جہاں جہاں آبادی موجود ہے خواہ وہ کس صورت اور کس حال میں ہے آپ ﷺ کا نام لے رہی ہے جب کہ آپ ﷺ کی زبان سے بھی وہ ناواقف ہیں اور یہ بات بھی کہ آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے صحابہ ؓ تابعین (رح) کا نام جتنا دنیا میں روشن ہے اتنا اور کسی نبی و رسول اور اس کے حواریوں کا بھی نہیں۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ سچ ثابت ہوئی ہے کہ جب کوئی بندہ اپنے پروردگارِ حقیقی کے لیے تمام ماسوی اللہ یعنی نفس اور اس کی تمام خواہشات و جذبات کو اور مخلوق اور اس سے تمام تر توقعات کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمانبرداری کے لیے قربان کردیتا ہے تو ھر اللہ تعالیٰ بھی اس کی دستگیری فرماتا ہے اور جو شخص بھی اس کے راستے کی روک بنتا ہے اور مزاحم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ خاص فضل و کرم سے اور اس کی سعی و کوشش کے نتیجہ میں اس روک کو مٹادیتا ہے۔ غور کرو کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کتنی کثرت عطا فرمائی اور کس خیر کثیر کا وارث کردیا اور آپ ﷺ کے دشمن کس طرح (ابتر) ثابت ہوئے۔ کیا آج ان کا کوئی نام لینے والا باقی ہے ؟ ان کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے نام پر جان قربان کرنے والوں کی تعداد آج دنیا میں اربوں تک پہنچی ہوئی ہے اور جس قدر روحانی اولاد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بخشی ہے دنیا کے کسی دوسرے انسان کیلئے وہ نہیں پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ایک آیت سے مخالفین کی مخالفتوں کے باوجود ان کی گستاخیوں کا منہ توڑ جواب دیا اور ان کی ساری خوش فہمیوں کا خاتمہ کردیا۔ فرمایا جو میرے پیارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا دشمن ہوگا ، جو ان کے دین کا بدخواہ ہوگا ، جو ان کے نظام شریعت پر خاش رکھے گا وہ بلاشبہ مٹ جائے گا۔ اس کی قوم اسے بھول جائے گی۔ تاریخ اسے فراموش کردے گی۔ اس کا کوئی نام لینے والا نہ ہوگا۔ اس کی اولاد بھی اس کا نام لیناچھوڑ دے گی۔ اس کی طرف ہر قسم کی نسبت ان کے لیے باعث ننگ و عار بن جائے گی اور میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ شان ہے کہ ان کا ہر امتی خواہ وہ کسی قبلیہ کا فرد ہو ، کسی ملک کا رہنے والا ہو ، کوئی زبان بولنے والا ہو ، میرے رسول کریم ﷺ کے ذکر پاک کی شمع ہر وقت روشن رکھے گا۔ دوسرے لوگوں کی نسل ان کی اولاد در اولاد سے چلتی ہے لیکن میں اپنے رسول ﷺ کی نسل روحانی سے اس سلسلہ کو چلائوں گا اور وہ ساری دنیا میں پھیل جائے گی اور ان کی بیٹی فاطمہ ؓ کی نسل درنسل سے بھی نسل چلے گی اور باہر سے آکر لوگ اس نسل میں داخل ہونے کی سر توڑ کوشش کریں گے۔ اس سورت میں تین آیات کریمات ہیں اور ان تین آیات کریمات پر اگر الگ الگ مقالے لکھے جائیں تو ہر مقالہ ایک جلد شمار ہوسکتا ہے لیکن ہم اس جگہ اسی مضمون پر اکتفا کر رہے ہیں اور سورة الکوثر کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں۔ الھم صلی علی محمد و علی ال محمد کما صلیت علی ابراہیم و علیٰ ابراہیم انک حمید مجید۔