109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 109:1

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو ! [

آپ ﷺ کہہ دیجئے اے کافرو ! (الکفرون) اسم فاعل جمع مذکر معرفہ حالت رفع ال کافر مفرد۔ شریعت ، نبوت ، توحید ، الوہیت کونہ ماننے والے۔ جان لینا چاہئے کہ کافر کافر نعمت ( ناشکرا) کو بھی کہتے ہیں اور کافر دین کو بھی۔ پھر کافر دین میں کافر التزامی بھی داخل ہے اور کافر لزومی بھی۔ کفر حقیقی کو بھی یہ لفظ حاوی ہے کہ اور کتفر تسیہی کو بھی لیکن ان آیات میں کافر دین حقیقی التزامی مراد ہے یعنی منکر شریعت ونبوت و رسالت۔ اگرچہ وضع لغوی کے اعتبار سے کافر دین ہو یا کافر نعمت دونوں کی جمع کفرۃ ہی آتی ہے اور اسی طرح کفار بھی لیکن قرآن کریم کے استعمال میں بیشتر کفار سے مراد منکر دین اور کفرۃ سے کافران نعمت مراد ہوتے ہیں۔ ( مرح بہ الراغب) لیکن آیت ( یعجب الکفار) میں بعض اہل تحقیق کی نظر میں کاشتکار مراد ہیں کیونکہ لہلہاتا سبزہ اور شاداب و سرسبز کھیت اس کے لیے دلآویز ہوتے ہیں اور یہ دلفریبی کافر ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے مسلمان کاشتکار بھی اپنی کھیتی کو ہرا بھرا دیکھ کر باغ باغ ہوجاتا ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کی مخالفت کرنے والے اگرچہ کفر و شرک میں بری طرح پھنسے ہوئے تھے لیکن وہ لوگ اپنے آپ کو کافر نہ کہتے تھے اور نہ ہی وہ یہ پسند کرتے تھے کہ ان کو کافر کہا جائے لیکن آپ ﷺ کو اس جگہ حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اے کافرو ! سے مخاطب کریں ، کیوں ؟ اس لیے کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ جو بات کل ہونے والی ہے اگر آج نہ کہی جائے تو آنے وال کل میں وہ کہہ سکیں گے کہ جب تک طاقت نہیں تھی وحی اور طریقہ سے آتی رہی اور جونہی طاقت آئی تو وحی کا خطاب بھی بدل گیا۔ آنے والے کل میں کیوں ضروری ہے کہ ان کو اس طرح خطاب کیا جائے ؟ اس لیے کہ جو دعوت ان کو دی جارہی ہے اور وہ اس کو بدستور ٹھکرائے جا رہے ہیں یہ دعوت ان کے طریقہ عمل کے بالکل خلاف ہے اور دوسرا یہ کہ یہ دعوت اس ذات کی طرف سے دی جارہی ہے جو سب کا خالق ومالک ہے ، جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے ، جس نے اس کائنات کا نظام چلا رکھا ہے اس لیے ظاہر ہے کہ یہ دعوت تو وہی دعوت ہے جو اس نے سارے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ اس دنیا میں بھیجی ہے لہٰذا اس کے غلط ہونے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تاہم دو دعوتیں جو آپس میں متضاد جارہی ہوں ان دونوں کو صحیح اور درست تو نہیں کہا جاسکتا ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے ایک یقینا غلط ہے اور پھر جب دلائل محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے ساتھ ہیں اور جو بےدلیل کہہ رہے ہیں وہ یقینا غلط ہے اور غلط کو غلط نہ کہنا بلکہ صحیح کہتے جاناصحیح کو غلط کہنے کے مترادف ہے اور کوئی صحیح کبھی غلط نہیں ہوسکتا اس لیے ضروری ہے کہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہا جائے اور جب ایسا کہا جائے تو یہ بات لازم ہے کہ جو اسلام نہیں وہ کفر ہے اور جو کفر ہے اس کا کرنے والا یقینا کافر ہے۔ پھر کفر بھی کیا جارہا ہے اور اس کے کرنے والے بھی موجود ہوں اور یہ پابندی لگا دی جائے کہ ان کو کافر بھی نہیں کہا جاسکتا تو یہ سراسر تحکم ہے جو کسی حال میں بھی قابل قبول نہیں ہے لہٰذا ضروری ہے کہ کفر کرنے والوں کو کافر کہا جائے خواہ وہ کوئی ہوں ، کون ہوں اور کہاں ہو ؟ یہ اعلان کرنا ہے کہ مجھے تمہارا کوئی خوف اور ڈر نہیں اور میرے دل میں تمہارے لیے کوئی عزت و احترام نہیں اور نہ ہی میں کسی طرح کی مداہنت کرکے سب کو صحیح اور سب کو سچ کہہ سکتا ہوں جیسا کہ آج کل ہمارے پاپولر لوگ سب کو صحیح کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کو صحیح کہنے والے خود کبھی صحیح نہیں ہوتے ، ہاں ! کافر کو کافر کہنا اور کافر سمجھنا اور اس کے باوجود اس کو برداشت کرنا یہ دوسری بات ہے اور اس کو مداہنت کہا بھی نہیں جاتا۔ پس میرے نزدیک تم کافر ہو اور میں اس لفظ سے تم کو مخاطب کر رہا ہوں نیز کافرون کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ کردیا کہ میری تمہاری کوئی ذاتی مخاصمت نہیں ، اسی طرح میری اور تمہاری عداوت کی وجہ یہ بھی نہیں کہ میرے اور تمہارے دنیاوی مفادات میں تصادم ہے ، میں نے تو صرف اس لیے تم سے قطع تعلق کرلیا ہے کہ تم نے کفر کو اپنا شعار بنالیا ہے اگر تم کفر کو ترک کردو اور ایمان قبول کرلو تو میری اور تمہاری دشمنی محبت و اخوت میں بدل جائے گی۔ میں تم کو اپنے سینے سے لگا لوں گا اور ہم سب توحید کے پرچم تلے متحد اور متفق ہوجائیں گے اور اگر ایسا نہ کرو اور تم یقینا اتنی جلدی ایسا نہیں کرو گے تو پھر ہماری تمہاری صلح کا کوئی مفہوم نہیں ہے کہ دو متضاد چیزیں کبھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔
Ayah 109:2

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

میں (اس طریقہ کی) عبادت نہیں کرتا جس (طریقہ) کی تم عبادت کرتے ہو

میں اس طریقہ سے عبادت نہیں کرتا جس طریقہ سے تم عبادت کرتے ہو 2 میرا اعلان تو تم نے آج سنا ہے لیکن یہ بات تم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ میں نے کبھی بھی ان کی پرستش نہیں کی اور نہ کبھی ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل شکل سمجھا ہے جن کی تم پرستش کرتے ہو اور ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو۔ میں ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اسی کو مشکل اور حاجت روا سمجھتا ہوں اور کسی دوسرے کی نہ تو میں عبادت کرتا ہوں اور نہ ہی کسی دوسرے کی عبادت کرنے کیلئے تیار ہوں اور تم مجھے معلوم ہے کہ ایک اللہ پر بس اور اکتفا کرنے والے نہیں تم کو شیطان نے یہ بات پڑھا دی ہے کہ کیا بزرگ اور کیا ولی اللہ اللہ نے نہیں پیدا کیے ہیں ، کیوں نہیں ؟ اللہ تعالیٰ ہی سب کا خالق ومالک ہے اور سب کو وہی پیدا کرنے والا ہے لیکن اس نے مخلوق میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ خالقیت میں شریک نہیں کیا اور نہ ہی کبھی وہ کسی کو شریک کرے گا اور یہی وجہ ہے کہ میں اپنا سر کسی غیر اللہ کے سامنے نہیں جھکا سکتا۔ میرا سر جھکے گا تو صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے جھکے گا جو وحدہ لا شریک لہ ہے۔ میری جبین نیاز سجدہ ریز ہوگی تو صرف ابسی کے سامنے ہوگی اور میں نہیں چاہتا کہ تم بھی کسی دوسرے کے سامنے سجدہ ریز ہو بلکہ میں تو ہر حال میں یہی چاہوں گا کہ تم بھی صرف اور صرف اسی کے لیے سجدہ ریز ہو اور اسی کو اپنا خالق ومالک سمجھو میں تو چاہتا ہوں کہ جس کو میں رب مانتا اور تسلیم کرتا ہوں تم بھی اسی کو خالق ومالک مانو اور تسلیم کرو۔ میں ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ اس کے علاوہ کی غیر کو اپنا معبود و مسجود بنائوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ تم کبھی کسی دوسرے کو سجدہ کرو اور سمجھو کہ ہم سجدہ تعظیمی کر رہے ہیں جو جائز اور درست ہے۔ یاد رکھو کہ سجدہ کی کوئی قسم بھی اس کا مستحق صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے۔ میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ میں اس کی بھی عبادت کروں اور اس کے ساتھ دوسروں کی بھی۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ اسلام کی حقیقت اور روح سے بالکل واقف نہیں ہے۔ اسلام ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے اور اس طرح دیتا ہے کہ : ( من یکفر بالطاغوت ویومن باللہ) جو شخص طاغوت کا انکار کرنے کے بعد ایمان لانے کا دعویٰ کرے وہ مومن ہوسکتا ہے اور جو طاغوت کا انکار نہ کرے اور ایمان کا دعویدار ہو اس کے ایمان کا اعتبار نہیں ہے۔
Ayah 109:3

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور نہ تم (اس طریقہ کی) عبادت کرتے ہو جس (طریقہ) کی میں عبادت کرتا ہوں

3 ؎ تم میرے متعلق جانتے ہو اور میں تمہارے متعلق جانتا ہوں کہ تم بھی اللہ کی عبادت کرتے ہو اور میں بھی اللہ کی عبادت کرتا ہو۔ نہ میں اس بات کا انکار کرتا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت نہیں کرتے اور نہ تم ہی اس بات کا انکار کرسکتے ہو کہ میں اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت نہیں کرتا۔ لیکن مجھے اس بات کا مکمل علم ہے اور میں پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ جس طریقہ پر میں ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں تم اس طریقہ پر ایک اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ کیونکہ میں اس طرح اللہ کی عبادت میں منہمک ہوں کہ غیر اللہ کی طرف عبادت کی نظر سے دیکھنا بھی حرام جانتا ہوں اور تم ہو کہ غیر اللہ کو مع اللہ کہہ کر اللہ ہی تصور کر بیٹھے ہو اور پھر جس طرح تم اللہ کی عبادت کرتے ہو ، ان اللہ والوں کو اللہ ہی سمجھنے لگتے ہو حالانکہ غیر اللہ کبھی عبادت کا مستحق نہیں ہوسکتا خواہ وہ کون ہو اور کہاں سے آیا ہو۔ اس لیے میرا طریقہ عبادت تمہارے طریقہ عبادت سے بالکل مختلف ہے اور یہ اختلاف ایسا نہیں ہے کہ اس کو فروعی اختلاف کہا جاسکے یہ اصولوں کا اختلاف ہے جس اختلاف پر ایمان اور کفر کا دارومدار ہے۔ اس طرف ایمان ہے اور اس طرف کفر ہے۔
Ayah 109:4

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور نہ ہی میں (ان کی) عبادت کرتا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو

4 ؎ میں نے جس طرح تمہارے بارے میں دو ٹوک بات کی ہے اسی طرح اپنے بارے میں دو ٹوک بات کرتا ہوں ، کوئی لگی لپٹی کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوں ۔ میں نے آج تک ان کی عبادت نہیں کی جس کی تم عبادت کرتے ہو اور جن جن کو تم حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہو میں ان کو قطعاً حاجت روا اور مشکل کشا نہیں مانتا۔ نبوت کا دعویٰ تو میں نے بعد میں کیا ہے اور اس وقت کیا ہے جب مجھے نبی و رسول بنانے والے نے اس کے اعلان کا حکم دیا ہے لیکن میرا کردار و اخلاق تو نبوت سے پہلے بھی تمہارے سامنے موجود ہے اور تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آج میں کسی ایسی بات کا حکم دے رہا ہوں جس کو کل تک میں خود کرتا رہا ہوں۔ نہیں ! ہرگز نہیں آج تک تم نے مجھے برداشت کیے رکھا ، کیوں ؟ اس لیے کہ میں نے تم کو کچھ نہیں کہا بلکہ جو کچھ میں کرتا رہا انفرادی طور پر کرتا رہا اور آج جب میں نے تم کو کہا کہ تم اس شرک اور کفر سے باز آجائو تو تم میرے درپے ہوگئے ورنہ آج تک میں نے قطعاً ان کی عبادت نہیں کی جن کی عبادت سے میں نے تم کو آج روکا حالانکہ میرا یہ روکنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نبوت سے قبل بھی جب میرا دامن کفر و شکر کی ہر آلائش سے پاک رہا ہے تو اب جب کہ میں نے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان بھی کردیا ہے اور میرے اللہ نے میرے سینے کو روشن و مستنیر کردیا ہے اور کسی طرح کا کوئی شک و شبہ بھی باقی نہیں رہا اس وقت اگر تم مجھ سے شرک کی توقع کروتو تمہاری بیوقوفی کا کیا ہی حال ہوگا۔
Ayah 109:5

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم (صرف اس کی) عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں

اور نہ تم اس کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں 5 یہ آیت آیت 3 کے طور پر بھی گزر چکی ہے اور اس کو دوبارہ اسی تاکید کیلئے بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طریقہ پر کرنے کیلئے تیار نہیں جس طریقہ پر میں عبادت کرتا ہوں اور طریقہ میں جو فرق ہے وہ کیا ہے ؟ وہ یہی ہے کہ تم اللہ کی عبادت بھی کیے جاتے ہو اور اس کے ساتھ مخلوق کی بھی اور جب خالق کے ساتھ مخلوق کو بھی عبادت میں شریک اور ساجھی کرلیاجائے تو اس سے خالق کی عبادت کی نفی نکل آتی ہے اور صرف مخلوق ہی کی عبادت کرنا باقی رہ جاتا ہے اس لیے کہ اس عبادت کو عبادت نہیں کہا جاسکتا جس میں خالق کے ساتھ مخلوق کو شریک کیا جائے اس لیے میرا حال یہ ہے کہ میں صرف اور صرف اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ یہ امر حرام ہے اور تم ایسا کرنا اچھا نہیں سمجھتے اس لیے اس تفاوت کا حل یہ ہے کہ بات سیدھی کی جائے کہ تم صرف اللہ کی عبادت نہیں کرتے اس لیے سرے سے عبادت ہی نہیں کرتے کیونکہ جس عبادت کے ساتھ شرک لگا یا جائے وہ عبادت عرف اسلام میں عبادت نہیں رہتی اور شرک ہی ایک ایسی چیز ہے جو خالص عبادت خداوندی کو بھی ضائع کردیتا ہے اور ہر نیک عمل شرک کی وجہ سے حبط ہوجاتا ہے۔ اس کی وضاحت کیلئے عروۃ الوثقی جلد اوّل سورة البقرہ کی آیت 218 جلد دوم سورة آلِ عمران کی آیت 22 ، سورة الانعام کی آیت 88 ، جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 53 ، سورة الاعراف 148 ، جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 18 ، 29 ، سورة ہود کی آیت 16 ، جلد پنجم سورة الکھف کی آیت 105 ، جلد ہفتم سورة الزمر کی آیت 65 ، جلد ہشتم سورة محمد کی آیت 79 ، 28 ، 32 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 109:6

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تمہارا دین (طریقہ عبادت) تمہارے لیے ہے اور میرا دین (طریقہ عبادت) میرے لیے ہے

تمہارا دین تمہارے لیے ہے اور میرا دین میرے لیے ہے 6 بات وہ جو کھری کھری اور صاف صاف ہو اور دو ٹوک ہو اس میں کسی طرح کا ابہام نہ ہو جیسا کہ پاپولر لوگوں کی باتوں میں ہوا کرتا ہے کہ بات کریں تو ذو معنی اور پھر نہ ادھر کے ہوں گے اور نہ ادھر کے اور یہ عادت جس کو پڑجاتی ہے ایسی نامراد ہے کہ وہ کبھی صاف اور دو ٹوک بات کر ہی نہیں سکتا۔ لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ کو ہدایت دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ صاف صاف اور دو ٹوک بات ان سے کہہ دیں جس میں کسی طرح کا ابہام نہ ہو کہ حق و باطل میں آمیزش کا میں قائل نہیں ہوں اور مجھے ایسے اتحاد کی بھی قطعاً کوئی ضرورت نہیں جو باطل کے ساتھ مصالحت پر موقوف ہے جیسا کہ آج کل مذہبی راہنما ، سیاسی راہنمائوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے کر رہے ہیں تاکہ جو پکایا جاچکا ہے بیرس تحقیق کے وہ حلال ہے یا حرام مل کر کھایاجائے اس لیے وہ اس کی تاویل یہی کرتے ہیں کہ مصلحت کا تقاضا ہے کہ اس موجودہ سیاست میں حصہ لیاجائے حالانکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی جمہوریت اس دور کا سب سے بڑا بت ہے حالانکہ جس کو یہ لوگ مصلحت کہتے ہیں یہی دراصل منافقت ہے اور اس لحاظ سے اس وقت کے مذہبی راہنما جو اس سیاست میں کسی نہ کسی طرح شریک کار ہیں سب کے سب منافق ہیں خواہ وہ کسی اسلامی فرقہ اور مکتب فکر کا نام استعمال کرتے ہیں۔ ہاں ہاں ! اہل حدیث کہلانے والے بھی ، کیوں یہ کہیں آسمان سے براہ راست آئے ہیں کہ ان کے لیے سب حلال اور طیب ہے۔ بہر حال نبی اعظم و آخر ﷺ سے اعلان کر ایاجارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہہ دیں کہ بلاشبہ تم اپنے کفر پر ڈٹے رہناچاہتے ہو تو ڈٹے رہو میری خاطر تم اس کفر میں توحید کا پیوند نہ لگائو اور نہ ہی ان دونوں میں کسی طرح کا کوئی جوڑ لگ سکتا ہے۔… ایں خیال است ومحال است و جنوں ان دونوں میں کوئی مناسبت نہیں اور نہ ہی ان میں پیوند کاری ممکن ہے کیونکہ پیوند کاری کے لیے دو جنسوں کا آپس میں قریب الجنس ہونا ضروری ہے اور کفرو شرک اسلام کی مخالفت ہینہ کہ قریب الجنس کوئی چیز ہے۔ ان دونوں میں کوئی مناسبت نہیں۔ اس طرح میں تمہارے فریب میں آکر توحید کو مکدر ہرگز نہیں کروں گا کیونکہ اس صورت میں توحید توحیدنہ رہے گی۔ سمجھ لو کہ حق کا نور پھیلانے کیلئے اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اگر میں تمہاری بات مان لوں تو گویا حق باطل بن جائے گا جو کسی حال میں بھی ممکن نہیں اور اگر ممکن نہیں تو اس کو میں کروں ، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ تم اپنے حال میں مست ہو تو مست رہو اور میں اپنے حق پر ثابت قدم رہوں گا اور اس طرح حق و باطل کا یہ معرکہ ایک دن اپنے طبعی نتیجہ پر پہنچ جائے گا اور تم دیکھو گے کہ سارا جزیرہ عرب کس طرح اسلام میں جوق در جوق داخل ہوگا اور اسلام کا بول بالا ہوگا۔ خلاصہ سورت سورة الکافرون میں اللہ تعالیٰ نے توحید کامل کو عملی رنگ میں پیش کیا ہے کہ مومن فقط اعتقاد اً ہی نہیں بلکہ اپنی زندگی کو عملاً اس توحید کامل کا مرقع بنا کر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرتا ہے۔ اس لیے اسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ انسان کسی چیز کی عبادت تب ہی کرتا ہے یعنی اس کو معبودتب ہی بناتا ہے جب اس سے اس طرح کی توقع کی امید ہو کہ اس میں میرا نفع ہے یا یہ خیال ہو کہ یہ مجھے اس نقصان سے بچائے گا۔ دنیا نے جس قدرچیزوں کی پرستش کی ہے خواہ عناصر کی کی ہے ، خواہ اجرام فلکی کی ، کسی شجر کی کی ہے یا حجر کی ، انسان کی کی ہے یا حیوان کی ، گزشتہ نبیوں ، رسولوں ، ولیوں ، بزرگوں ، پیروں ، مرشدوں کی کی ہے یا مزاروں ، قبروں ، شبیہوں کی کی ہے یا بتوں اور تصویروں کی ہمیشہ انہی دو امور کے ماتحت پرستش کی ہے کہ یا تو انسانوں کو ان سے کچھ نفع کی توقع تھی یا نقصان کا خطرہ چناچہ معبودان باطلہ کی نفی قرآن کریم نے انسان کی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس طرح فرمائی کہ : ( قل اندعو من دون اللہ مالا ینفعنا ولا یضرنا) (الانعام : 71) ” کہہ دیجیے کہ کیا ہم پکاریں اللہ کے سوا ان کو جو ہم کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ “ واضح ہوگیا کہ کہا جارہا ہے کہ جنہیں تم نفع حاصل کرنے یا نقصان سے بچنے کیلئے پکارتے ہو ان میں تو نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت اور قوت ہی نہیں ہے کہ انہیں پکارنے کی ضرورت ہو۔ “ اور ان تمام معبودوں کی عبادت کے اندر ایک اور بھی حقیقت پنہاں ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام غیر اللہ کی پرستش درحقیقت انسان اپنے نفس کیلئے کرتا ہے یعنی یا تو اسے اپنے نفس کیلئے نفع حاصل کرنا منظور ہوتا ہے یا اسے کسی نقصان سے بچانامقصود ہوتا ہے گویا ان تمام عبادتوں اور قربانیوں میں درحقیقت پس پردہ اس کا اپنا نفس ہوتا ہے اور یہ تمام عبادتیں اور قربانیاں درحقیقت سب نفس کی خاطر ہوتی ہیں۔ پس سب سے بڑا معبود و مطلوب پس پردہ خود انسان کا اپنا نفس ہے جس بت کی حقیقت کو طشت ازبام کرنا قرآن کریم ہی کا کام تھا اور لاریب اس نے کہا اور برملا کہا کہ : (افرء یت من اتخذ الھہ ھوہ) (الجاثیہ : 23) ” کیا تُو نے غور نہیں کیا اس شخص پر جس نے اپنی خواہشاتِ نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ “ وضاحت کے لیے عروۃ الوثقی جلد ہشتم کی محولہ سورة کی آیت 23 کی تفسیر دیکھیں۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم کی نظر میں توحید کامل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ نہ صرف تمام ماسویٰ اللہ سے نفع و نقصان کی توقعات کو برطرف اور قربان کردے بلکہ اپنے نفس کی تمام لذات اور خواہشات کو بھی قربان کردے۔ خیال رہے کہ لذات و خواہشاتِ نفس سے مراد اس جگہ وہی ہے جو شریعت اسلامیہ کی حدود سے باہر ہوں۔ اسلام کے دائرہ کے اندر کی لذت و خواہشات کو نفس کی لذت و خواہشات نہیں کہا جاسکتا بلکہ ان کو فطرت کی لذات و خواہشات کہا جاتا ہے جو شریعت کے مطابق پوری کی جاتی ہیں اور ان کو حدود اللہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اب سمجھ لو کہ جس کے نفع ونقصان کی خاطر اسے عبادت کی تحریک ہوتی ہے توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو اگر نفع کی توقع ہو تو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے اور اگر نقصان کا خطرہ ہو تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے اور وہ سچے دل سے یہ یقین رکھے کہ بغیر منشائے الٰہی کے کوئی مخلوق کسی فرد و بشر کو نہ نفع پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان۔ اس کی وضاحت مطلوب ہو تو عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس کی آیت 104 سے 109 کی تفسیر دیکھیں۔ اب آپ توحید کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو توحید تو کہیں گے لیکن توحید کامل نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ ابھی ماسویٰ اللہ میں سے ابھی صرف مخلوق ذبح ہوئی ابھی نفس قربان نہیں ہوا جس کی خاطر نفع و نقصان کا خیال ابھی باقی ہے اور توحید کا کمال یہ ہے کہ مخلوق کے ساتھ نفس بھی ذبح ہوجائے یعنی نفس کی خاطر نفع کی خواہش اور نقصان کا خطرہ ہی دل سے نکل جائے یہاں تک کہ بندہ کو اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنا ذاتی نفع بھی قربان کردینے میں قطعاً تامل نہ ہو اور اسکی رضا کو حاصل کرنے کے لیے اگرچہ اسے اپنے نفس کو سخت سے سخت خطرہ میں بھی ڈالنا پڑجائے تب بھی مضائقہ نہ کرے تب وہ توحید اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ اس کو عبدالقادر جلاتنی (رح) فتوح الغیب مقالہ اوّل میں تحریر کرتے ہیں کہ ” توحید کامل تب ہوتی ہے جب انسان مخلوق اور نفس دونوں کو اپنے رب کے لیے قربان کردے۔ مخلوق کو اس طرح کہ اللہ رب کریم کے سوا مخلوق سے نفع کی توقع اور نقصان کا خطرہ نہ رہے اور نفس کو اس طرح کہ نفس کا نفع و نقصان اللہ کی رضا کے لیے قربان کردے یعنی اللہ کی عبادت محض محبت خالص سے ہو اپنے نفس کا نفع و نقصان اس میں مدنظر نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمانبرداری کے لیے اگر اپنے نفس کے نفع کو قربان بھی کرنا پڑے اور سخت سے سخت نقصان بھی اٹھانا پڑے تو بھی ایک لمحہ کے لیے اسے تامل نہ ہو۔ یہ وہ توحید کامل ہے جو قرآن کریم نے سکھائی ہے اور اس سورة الکافرون میں اسے نبی اعظم و آخر ﷺ کی زندگی میں عملی رنگ میں پیش کرکے دکھایا ہے۔ “ آپ ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان کافروں سے کہہ دیں جو آپ ﷺ کے پیغام توحید کے انکاری ہیں کہ : ( لا اعبد ما تعبدون) میں ان کی عبادت نہیں کروں گا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ کیا صرف یہ آپ ﷺ نے کہہ بھی دیا یا کرکے بھی دکھایا ؟ لاریب آپ ﷺ نے کرکے دکھایا۔ کفار مکہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور باہمی سمجھوتے کے لیے تجویز پیش کرتے ہیں کہ آئو ہم یا اس سے یا اس سے ایک دوسرے کے معبود کی پرستش کرلیا کریں۔ یہ وہ طریقہ تھا جس سے ان تمام جسمانی تکالیف کا خاتمہ ہوتا تھا جس میں آپ ﷺ کو کفار نے ڈال رکھا تھا۔ لیکن آپ ﷺ نے توحید کی ایک ہی تلوار سے مخلوق اور نفس کے تمام معبودوں کو ذبح کرکے رکھ دیا اور وہ یہی آیت تھی جو چھری کے طور پر ان پر پھیری کہ : (لا اعبدما تعبدون) پھر کفار مکہ جن کو ہم کہہ رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان میں کوئی آپ ﷺ کا چچا ہے تو کوئی تایا ہے ، کوئی بڑا بھائی ہے تو کوئی چھوٹا ، کوئی سسرال سے تعلق رکھتا ہے تو کوئی ددھیال سے اور انھی تعلقات کے باعث وہ پھر کوشش کرتے ہیں اور اس دفعہ تجویز یہ پیش کی ہے کہ آپ ﷺ صرف ہمارے معبودوں کو تردید نہ کریں گویا : ( یکفر بالطاغوت) نہ کہیں ( یومن باللہ) کے متعلق جو چاہیں کہتے رہیں اور اس کے بدلہ اگر آپ ﷺ عرب کی حکومت چاہتے ہیں تو ہم آپ ﷺ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیتے ہیں اگر آپ ﷺ دولت چاہتے ہیں تو بندوبست کردیتے ہیں اگر آپ ﷺ کسی حسین ترین عورت سے شادی چاہتے ہیں تو ہم جس طرف آپ ﷺ اشارہ کریں ماننے کے لیے تیار ہیں۔ گویا انہوں نے انسانی نفس کی تین بڑی تمنائیں جو دنیا میں کسی انسان کو ہوسکتی ہیں یعنی عزت و حکومت ، مال و دولت اور حسین و جمیل عورت تو انہوں نے ان تینوں کو پورا کرنے کا وعدہ کیا لیکن آپ ﷺ کی تلوار توحید نے تینوں کا سر قلم کردیا اور اس طرح گویا تمام تمنائوں اور لذات کو بھی ذبح کرکے توحید کامل کا اعلیٰ ترین نمونہ دنیا کو دکھادیا اور وہ آپ ﷺ کی یہی آرزو تھی کہ : ( لا اعبدو ما تعبدون) ازیں بعد آپ ﷺ کی زندگی کے ان خطرات کا دور شروع ہوتا ہے جو اس انکار کا لازمی نتیجہ تھا۔ کفار نے آپ ﷺ کو طرح طرح کی ایذائیں دیں ، سخت سے سخت تکلیفیں دیں ، آپ ﷺ کو ایک وادی میں محصور کیا ، آپ ﷺ کا بائیکاٹ کیا ، آپ ﷺ کو بھوکا ماردینا چاہا ، آپ ﷺ کو قتل کردینا چاہا ، آپ ﷺ کے صحابہ کو ایسے ایسے دکھ دئیے کہ ان کو سن کر آج بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کو ایذائیں دیں ، ان کو قتل کیا ، ان کو جلا وطن کیا لیکن ان تمام خطرات کی جن سے آپ ﷺ کے نفس کو سابقہ پڑا آپ ﷺ نے ذرا بھی پروا نہ کی اور ہر مصیبت اور خطرہ میں ، ہر ایک محاصرہ اور بائیکاٹ میں اور ہر ایک نازک سے نازک لمحہ میں ایک ہی آواز آپ ﷺ کی زبان سے نکلی : (لا اعبدما تعبدون) جنگِ اُحد میں لشکراسلام کا بےپناہ نقصان ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کی اپنی جان کو چاروں طرف سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ پر تلواریں برس رہی ہیں۔ بس مٹھی بھر صحابہ ؓ آپ ﷺ کے اردگرد ہیں جو وار پر وار برداشت کرتے چلے جا رہے ہیں۔ قدرت کے ہاتھ نے آگے بڑھ کر ان نازک حالات کو سہارا دیا۔ ذرا جنگ میں توقف آیا ہے کہ ابوسفیان جو کفار کی طرف سے سپہ سالار اعظم تھا زور سے پکارتا ہے کہ کیا تم میں محمد ﷺ ہیں ؟ پھر پوچھا کہ کیا تم میں ابوبکر ہیں ؟ پھر پوچھا کہ کیا تم میں عمر ہیں ؟ لیکن آپ ﷺ نے ہر بار اپنے ساتھیوں کو جواب نہ دینے کا اشارہ دیا۔ ابو سفیان سمجھا کہ سب مارے گئے اور اس طرح خوشی کے جذبے سے کود کر زور دار نعرہ مارا کہ اعل الھبل اس پر توحید کی آواز نے خاموش رہنا پسند نہ کیا اور سارے خطرات پس پشت ڈال کر ارشاد فرمایا کہ عمر زور دار آواز سے گرج کر جواب دو : اللہ عزوجل یہ آواز سن کر ابو سفیان چلایا کہ : لنا عزی ولا عزی لکم تو آپ ﷺ نے اس کا جواب بھی خوب زور دار آواز میں دلوایا کہ : اللہ مولانا ومولالکم غور کرو کہ یہ سب کیا تھا ؟ وہی پرانا سبق تھا کہ : ( لا اعبدو ما تعبدون) غور کرنے والی بات پر غور کرنے سے بہت کچھ حاصل ہوجاتا ہے تم بھی غور کرو ہم نے چند اشارات دئیے ہیں اس خلاصہ کلام میں زیادہ کچھ نہیں بیان کیا جاسکتا ورنہ ان چھ چھوٹی آیات کریمات میں جتنا مضمون بند ہے اگر اس کو کھولاجائے تو اس کے لیے دفتر درکار ہے لیکن ہم پہلے ہی قلم کا استعمال بہت کرچکے ہیں۔ ہمارے ساتھی اس تفسیر کی سات جلدوں تک تیار تھے لیکن یہ نویں جلد ہے اس میں اختصار کرنے کے باوجود صفحات ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ہم قلم روکتے ہیں تو سر درد شروع ہوجاتا ہے اور قلم چلاتے ہیں تو ساتھی درد میں مبتلانظر آتے ہیں بہرحال اپنی درد کو برداشت کرتے ہوئے اللہ سے ملتجی ہیں کہ وہ اس اختصار کو منظورفرمالے۔ ایک بات کہہ کر اس خلاصہ کو ختم کرتے ہیں کہ ابو سفیان فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے وہ سسر بھی تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ اب اسلام کے قبول کرنے کی وجہ کیا ہے ؟ جب کہ میں نے اسلام کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا۔ وہ کونسے دلائل ہیں جن کی بنیاد پر آپ نے اسلام میں آنا پسند کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ بات اصل یہ ہے کہ ہم نے اپنے معبودوں کو بچانے کے لیے آپ ﷺ کی اس قدر مخالفت کی کہ اس سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں اور آپ ﷺ کو مٹا ڈالنے کے لیے کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا۔ ہم بہت تھے اور آپ ﷺ تنہا لیکن با ایں ہمہ آپ ﷺ کامیاب اور ہم ناکام ہوئے اگر ہمارے معبودوں میں کچھ بھی طاقت ہوتی اور ان کی کچھ بھی حقیقت ہوتی تو وہ کچھ نہ کچھ ہماری روحانی مدد کرتے جب کہ ہم ان کی مدد کرتے رہے اور پھر بھی وہ اپنے آپ کو بچا نہ سکے بس ان کی کیا حقیقت ہوسکتی ہے۔ اسی رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے جس نے اپنے واحد پر ستار کو ایک پورے ملک پر غلبہ دے دیا جس کی نظیر نہیں پیش کی جاسکتی اور آپ ﷺ کی صدا ہم شروع سے سنتے آئے کہ تمہارا دین تمہارے لیے اور ہمارا دین ہمارے لیے ہے۔ اب ہمارا دین وہی ہے جو آپ ﷺ کا دین ہے اور ہم وہی کچھ کریں گے جو آپ ﷺ ارشاد فرمائیں گے۔ اسی پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں اللھم صلی علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم و علیٰ ابراہیم انک حمید مجید۔