110. Surah An-Nasr
النصرDivine Support · 3 ayahsعروۃ الوثقٰی
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader
جب اللہ کی مدد اور کامل غلبہ آجائے گا
جب اللہ کی مدد اور کامل غلبہ آجائے گا (تو آپ ﷺ کی ذمہ داری ؟ )
1 زیر نظر ایت میں مکہ فتح ہونے کی خوشخبری سنائی جارہی ہے کہ اب وہ وقت بس آیا کہ آیا گویا مکہ فتح ہوا کہ ہوا۔ پھر جب تکمیل فرض کی سعادت آپ ﷺ کو حاصل ہو تو آپ ﷺ کی ذمہ داری کیا ہے اور وہ کونسا اُسوئہ حسنہ ہے جس کو ایسے موقع کے لیے آپ ﷺ کو چھوڑنا ہے ؟ فرمایا وہ یہ ہے کہ بھولے سے بھی یہ خیال آپ ﷺ کونہ آنئے کہ اس کامیابی میں تمہارا بھی کوئی کمال ہے اور یہ تمہاری کسی قابلیت کا نتیجہ ہے۔ تمہاری ہونہاری ، تمہاری ہوشیاری کا بھی کوئی دخل ہے بلکہ یہ خیال رکھنا کہ یہ میرے بندہ نواز اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نصرت و تائید اور میری یہ کامیابی اللہ تعالیٰ ہی کی مدد کی مرہون منت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فتح ونصیب کو جب انسان اپنی کسی قابلیت کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے تو پھر وہ تکبر و غرور کی طرف مائل ہوجاتا ہے اس لیے تکبر و غرور سے بچنے کے لیے اس کو اس بات کا خیال رکھنا کہ یہ جو کامیابی مجھے نصیب ہوئی ہے اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے ورنہ میں اس قابل کب تھا ؟ تو اس میں تکبر و غرور اور نخوت کی بُو باس پیدا نہیں ہوتی۔ بلاشبہ آپ ﷺ میں ایسی کوئی باتنہ تھی اور نہ ہی آپ ﷺ کے ذہن و دماغ میں کوئی ایسی بات آئی لیکن اسوہ حسنہ جس کو آپ ﷺ سے باقی رکھنا تھا وہ کیسے باقی رہتا اور بعد میں آنے والوں کو جب کوئی کامیابی اور فتح ونصرت ہوتی تو وہ اس پر کیسے کنٹرول کرتے ؟ اس لیے ضروری تھا کہ یہ سبق آپ ﷺ کو آپ ﷺ ہی کے اسوہ حسنہ سے سکھایا جاتا اور اس کے لیے یہی بہترین موقع تھا اور اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ فتح مکہ کے بعد یعنی 9 ، 10 ہجری میں جزیرہ عرب میں دور نزدیک جتنے قبائل بستے تھے جن کی تعداد اڑھائی صد کے قریب قریب بتائی جاتی ہے وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے اور آپ ﷺ سے دین اسلام کی ہدایات براہ راست لیں اور بعض قبائل نے معلمین کے لیے درخواست بھی پیش کی جن کے ساتھ معلمین بھی بھیجے گئے۔ ان نئے مسلمان ہونے والے قبائل کی کیا ذمہ داریاں تھیں یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جس کے ہاتھ میں انتظام کی باگ ڈور کبھی آئی ہو۔ آپ بحمد اللہ ذمہ داریوں سے بھی بحسن و خوبی عہدہ برآ ہوئے اور آپ ﷺ پر جو ذمہ داریاں عائد ہوئی تھی سب کو بحمد اللہ پورا کیا اس کے ساتھ سب سے بڑی ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر عائد کی گئی وہ یہ ہے کہ جب ان حالات سے دوچار ہوں تو تسبیح وتحمید میں مزید اضافہ کردیں اور پہلے سے زیادہ اس میں کثرت ہونی چاہئے اس طرح کیا آپ ﷺ اور کیا آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ نے کسی جشن کے منانے کی تیاری نہ کی بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تقدیس کے گیت گانے میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ کردیا اور اسی بات کا آپ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader
اور (اے پیغمبر اسلام ! ) تُو اس بات کو دیکھ لے گا کہ دین میں لوگ جوق در جوق داخل ہوں گے
آپ ﷺ دیکھ لیں گے کہ لوگ اسلام میں کس طرح جوق در جوق داخل ہو رہے ہیں
2 پھر یہ وقت بحمد اللہ آپ ﷺ نے دیکھا اور خوب دیکھا کہ لوگ اسلام میں جوق درجوقداخل ہونے لگے جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ آپ ﷺ نے جزیرۃ عرب سے تقریباً ڈھائی سو قبائل کو شرف بیعت بخشا۔ یہ فتح وہ فتح ہے جس نے ملکی حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی کہ لوگ اپنے دین کے انتخاب کے معاملہ میں بالکل آزاد ہوگئے اور سرزمین عرب سے اس فتنہ کا بالکلیہ خاتمہ ہوگیا جس کے بل پر قریش کے لیڈر لوگوں کے دین و ایمان کے مالک بنے بیٹھے تھے۔ اس بشارت میں آپ ﷺ کو بتا دیا گیا کہ اب جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگ قریش کے ظلم و استبداد سے بالکل آزاد ہو کر اللہ کے دین کی طرف دوڑیں گے جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ فتح ملکہ ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس نے بت پرستی کا کام تمام کردیا اور سارے عرب کے لیے حق و باطل کی پہچان ثابت ہوا اس کی وجہ سے ان کے شبہات جاتے رہے اس لیے اس کے بعد انہوں نے بڑی تیز رفتاری سے اسلام قبول کیا۔ حضرت عمرو بن سلمہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ ایک چشمے پر آباد تھے جو لوگوں کی گزرگاہ تھا۔ ہمارے ہاں سے قافلے گزر رہے تھے اور ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ لوگوں کا کیا حال ہے ؟ اس آدمی یعنی نبی ﷺ کا کیا حال ہے ؟ اور وہ کیسا ہے ؟ لوگ کہتے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے اسے پیغمبر بنایا ہے۔ اس کے پاس وحی بھیجی ہے اور اللہ نے یہ اور یہ وحی کی ہے۔ میں یہ بات یاد کرلیتا تھا گویا وہ میرے دل میں چپک جاتی تھی اور عرب حلقہ بگوش اسلام ہونے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے۔ کہتے تھے اسے اور اس کی قوم کو پنجہ آزمائی کیلئے چھوڑ دو اگر وہ اپنی قوم پر غالب آگیا تو سچا نبی ہے چناچہ جب فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا تو ہر قوم نے اپنے اسلام کے ساتھ مدینہ کی جانب پیش رفت کی اور میرے والد بھی میری قوم کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب خدمت نبوی سے واپسآئے تو فرمایا میں تمہارے پاس خدا کی قسم ایک نبی برحق کے پاس سے آرہا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ فلاں نماز فلاں وقت پر پڑھو اور فلاں نماز فلاں وقت پر پڑھو اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور جسے قرآن کریم زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔ (صحیح بخاری جلد دوم ص 615 ، 616) اب ہم ان وفود میں سے ایک وفد کا ذکر اس جگہ کریں گے تاکہ مزید وضاحت ہوجائے۔
وفد ثقیف کی آمد محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں
یہ وفد رمضان 9 ہجری میں تبوک سے واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس قبیلے میں اسلام پھیلنے کی صورت یہ ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ ذی قعدہ 8 ھ میں جب غزوہ طائف سے واپس ہوئے تو آپ ﷺ کے مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی اس قبیلہ کے سردار عروہ بن مسعود ؓ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلیا پھر اپنے قبیلہ میں واپس جا کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی وہ جو ن کہ اپنی قوم کا سردار تھا اور صرف یہی نہیں کہ اس کی بات مانی جاتی تھی بلکہ اسے اس قبیلہ کے لوگ اپنی لڑکیوں اور عورتوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتے تھے اس لیے اس کا خیال تھا کہ لوگ اس کی اطاعت کریں گے لیکن جب اس نے اسلام کی دعوت دی تو اس کی توقع کے بالکل برخلاف لوگوں نے اس پر ہر طرف سے تیروں کی بوچھاڑ کردی اور اسے جان ہی سے مار ڈالا پھر اسے قتل کرنے کے بعد چند مہینے تو یوں ہی مقیم رہے لیکن اس کے بعد انہیں احساس ہوا کہ گردوپیش کا علاقہ جو مسلمان ہوچکا ہے اس سے ہم مقابلہ کی تاب نہیں رکھتے لہٰذا انہوں نے باہم مشورہ کرکے طے کیا کہ ایک آدمی کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجیں اور اس کے لیے عبدیالیل بن عمرو سے بات چیت کی مگر وہ آمادہ نہ ہوا اسے اندیشہ تھا کہ کہیں اس کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو عروہ بن مسعود ؓ کے ساتھ کیا جاچکا ہے۔ اس لیے اس نے کہا میں یہ کام اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک میرے ساتھ مزید کچھ آدمی نہ بھیجے جائیں۔ لوگوں نے اس کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا اور اس کے ساتھ حلیفوں میں سے دو آدمی اور بنی مالک میں سے تین آدمی لگادئیے اس طرح کل چھ آدمیوں کا وفد تیار ہوگیا۔ اس وفد میں حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی بھی تھے جو سب سے زیادہ کم عمر تھے۔
جب یہ لوگ نبی اعظم وآخر ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپ ﷺ نے ان کے لیے مسجد کے ایک گوشے میں ایک قبہ لگوا دیا تاکہ یہ لوگ قرآن کریم سن سکیں اور صحابہ کرام ؓ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ سکیں۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے جاتے رہے اور آپ ﷺ انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ آخر ان کے سردار نے سوال کیا کہ آپ اپنے اور ثقیف کے درمیان معاہدہ صلح لکھ دیں جس میں زنا کرنے ، شراب پینے اور سود لینے کی اجازت ہو اور ان کے معبود ” لاۃ “ کو برقرار رہنے دیاجائے۔ انہیں نماز سے معاف رکھاجائے اور ان کے دوسرے بت بھی ان کے اپنے ہاتھوں سے نہ توڑے جائیں لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے کوئی بات بھی منظور نہ کی لہٰذا انہوں نے تنہائی میں مشورہ کیا مگر انہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سپر ڈالنے کے سوا کوئی تدبری نظر نہ آئی اور آخر انہوں نے یہی کیا اور اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے کرتے ہوئے اسلام قبول کرلیا البتہ یہ شرط لگائی کہ لاۃ کو ڈھانے کا انتظام رسول اللہ ﷺ خود فرمائیں۔ ثقیف اسے اپنے ہاتھوں سے نہ ڈھائیں گے۔ آپ ﷺ نے یہ شرط منظور کرلی اور نوشتہ لکھ دیا اور عثمان بن ابی العاص ثقفی کو ان کا امیر بنادیا کیونکہ وہی اسلام کو سمجھنے اور دین و قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے میں سب سے زیادہ پیش پیش اور حریص تھے۔ اس کی وجہ یہتھی کہ وفد کے ارکان ہر روز صبح خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوتے تھے اور عثمان بن ابی العاص کو اپنے ڈیرے پر چھوڑ دیتے تھے اس لیے جب وفد واپس آکردوپہر میں قیلولہ کرتا تو عثمان بن ابی العاص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر قرآن کریم پڑھتے اور دین کی باتیں دریافت کرتے اور جب آپ ﷺ کو استراحت فرماتے ہوئے پاتے تو اس مقصد کے لیے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خدمت میں چلے جاتے۔ حضرت عثمان بن ابی العاص کی گورنری بڑی بابرکت ثابت ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب خلافت صدیقی میں ارتداد کی لہر چلی اور ثقیف نے بھی مرتد ہونے کا ارادہ کیا تو انہیں عثمان بن ابی العاص ؓ نے مخاطب کرکے کہا کہ ثقیف کے لوگو ! تم سب سے اخیر میں اسلام لائے ہو اس لیے سب سے پہلے مرتد نہ ہو۔ یہ سن کر لوگ ارتداد سے رک گئے اور اسلام پر ثابت قدم رہے۔ بہرحال وفد نے اپنی قوم میں واپس آکر اصل حقیقت چھپائے رکھی اور قوم کے سامنے لڑائی اور مار دھاڑ کا ہوا کھڑا کیا اور حزن و غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام قبول کرلیں اور زنا ، شراب اور سود چھوڑ دیں ورنہ سخت لڑائی کی جائی ﷺ ک۔ یہ سن کر پہلے تو ثقیف پر نخوت جاہلیہ غالب آئی اور دو تین روز تک لڑائی ہی کی بات سوچتے رہے لیکن پھر اللہ نے ان کے دلوں پر رعب ڈال دیا اور انہوں نے وفد سے گزارش کی کہ وہ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس جائے اور آپ ﷺ کے مطالبات تسلیم کرلے۔ اس مرحلے پر پہنچ کر وفدنے اصل حقیقت ظاہر کی اور جن باتوں پر مصلحت ہوچکی تھی ان کا اظہار کیا۔ ثقیف نے اسی وقت اسلام قبول کرلیا۔
ادھر رسول اللہ ﷺ نے لاۃ کو ڈھانے کے لیے حضرت خالد بن ولید ؓ کی سرکردگی میں چند صحابہ ؓ کی ایک نفری روانہ فرمائی۔ حضرت مغیرۃ بن شعبہ نے کھڑے ہو کر گرز اٹھایا اپنے ساتھیوں سے کہا کہ واللہ میں ذرا آپ لوگوں کو ثقیف پر ہنسائوں گا۔ اس کے بعد لاۃ پر گرز مار کر خود بھی گر پڑے اور ایڑیاں پٹخنے لگے۔ یہ بناوٹی منظردیکھ کر اہل طائف پر ہول طاری ہوگیا۔ کہنے لگے اللہ مغیرۃ کو ہلاک کرے ، اسے دیوی نے مار ڈالا۔ اتنے میں حضرت مغیرہ ؓ اُچھل کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اللہ تمہارا برا کرے یہ تو پتھر اور مٹی کا تماشا ہے۔ پھر انہوں نے دروازے پر ضرب لگائی اور اسے توڑ دیا اس کے بعد سب سے اونچی دیوار پر چڑھے اور ان کے ساتھ کچھ اور صحابہ ؓ بھی چڑھے پھر اسے ڈھاتے ڈھاتے زمین کے برابر کردیا حتیٰ کہ ان کی بنیاد بھی کھود ڈالی اور اس کا زیور اور لباس نکال لیا۔ یہ دیکھ کر ثقیف دم بخود رہ گئے۔ حضرت خالد ؓ وہ زیور اور لباس لیکر اپنی ٹیم کے ساتھ واپس ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے سب کچھ اسی دن تقسیم فرما دیا اور نبی کی نصرت اور دین کے اعزاز پر اللہ کی حمد کی۔ ( زاد المعادج 3 ص 26 ، 27 ، 28)
مکہ فتح ہونے کے بعد جو وفود آئے ان میں یہ ایک وفد کا مختصر قصہ ہے اور اس کو ہم نے اس لیے نقل کیا ہے تاکہ دکھایاجائے کہ اسلامی حکومت کی اولین ذمہ داری کیا ہے اور جب تک اس ذمہ داری کو پورا نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی حکومت اسلامی حکومت نہیں کہلوا سکتی ہے۔ جسار کہ ہم پیچھے ذکر کرتے آئے ہیں کہ بت فی نفسہ کوئی چیز نہیں تھے اصل معاملہ صاحب بت شخصیتوں کا تھا جن کے بت انہوں نے تیار کر رکھے تھے اس لیے کہ بت خانہ کو ڈھانا اور کسی خانقاہ کے مقبرہ کو منہدم کرنا دونوں ایک ہی طرح کے کام ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور جو حکومت مزار اور مقیرے بنائے وہ حکومت اسلامی حکومت نہیں ہوسکتی اور جو لوگ امراء و وزراء ان مقبروں اور خانقاہوں کو سجائیں اور ان کو غسل دیں وہ لوگ مسلمان امراء و وزراء نہیں ہوسکتے خواہ وہ ناموں کے لحاظ سے اور کاغذات میں اندراجات کے لحاظ سے اپنے آپ کو مسلمان ہی کہلواتے ہوں۔ ان کو مشرک کہا جائے گا اور اس حکومت کو مشرکوں کی حکومت سمجھاجائے گا اور جو لوگ ایسا نہ سمجھیں وہ اسلامی روح سے یا تو ناواقف ہیں یا وہ پکے منافق ہیں جو ایسی مصلحت سے کام لے رہے ہیں جس مصلحت کا اسلام میں کوئی جواز نہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کا روضہ جس حکومت نے بنوایا وہ حکومت باوجود اسلامی حکومت کہلانے کے اسلامی روح سے ناواقف تھی اور اب جب ایک غیر اسلامی روح رکھنے والی حکومت نے ایک عمارت وہاں بنادی تو وہاں کی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے کہ کسی شخص کی مجال نہیں خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں کا رہنے والا ہو یہاں تک کہ کسی اسلامی حکومت کا سربراہ ہی کیوں نہ ہو وہ وہاں جا کر ایسی حرکت نہیں کرسکتا جو غیر شرعی حرکت ہے یعنی نہ تو قبر کے قریب جھک سکتا ہے ، نہ سجدہ کرسکتا ہے اور نہ ہی چوم سکتا ہے اور منت ، چڑھاوے کا تو وہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا اور اب وہ مسجد سے الگ رکھنے کا ایک نشان ہے تاکہ مسجد کی وسعت میں وہ کہیں سما نہ جائے۔
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader
اس وقت تو اپنے رب کی ستائش میں (مزید) مشغول ہوجا اور اپنے پروردگار سے بخشش طلب کر بلاشبہ وہ لوٹ کر آنے والا ہے
اپنے رب کی ستائش میں مشغول ہوجائو اور اس سے بخشش طلب کرو
3 فرمایا اے میرے رسول ﷺ اب وہ دن آیا ہے کہ تمام ملک عرب نور اسلام سے چمک اٹھا ہے اور ایک وحشی اور جاہل مطلق قوم جو طرح طرح کے شرک اور اوہام کی غلام تھی اور ہر طرح کی جہالت اور گندگی میں مبتلا تھی وہ ایک مہذب اور بااخلاق بلکہ با خدا قوم بن گئی ہے یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ایسا ہوگیا اور جو آپ ﷺ کی زندگی کا مقصد تھا وہ بحمد اللہ پورا ہوگیا کہ کامیابی کا سہرا آپ ﷺ کے سر بندھ گیا اور لوگ فوج درفوج اس دین میں داخل ہونا شروع ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کو زیادہ کردو اور اللہ تعالیٰ سے حفاظت طلب کرو۔ اس طرح آپ ﷺ کو اور پوری قوم مسلم کو مخاطب کرکے یہ بات ارشاد فرمائی جارہی ہے کہ غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت فتوحات کی طرح آپ ﷺ کے شامل حال ہوئیں اور آپ ﷺ کی تسبیح وتحمید یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید و معرفت کی تبلیغ وتعلیم سے اور اس پر عمل کرنے سے کس طرح تمہاری ایک مردہ قوم زندہ ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہو کر جاہل و مشرک قوم سے ایک مہذب اور با اخلاق قوم بن گئی۔ اس پر آپ جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ تسبیح کیا ہے ؟ تسبیح کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کو ہر ایک نقص اور عبد سے پاک سمجھنا اور بیان کرنا۔ تقدیس کیا ہے ؟ تقدیس کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے افعال کو ہر ایک نقص اور عیب سے پاک سمجھنا اور بیان کرنا گویا تسبیح و تقدیس تقریباً ہم معنی ہیں صرف صفت اور فعل کاف رق ہے۔ تحمید کیا ہے ؟ تحمید کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات اور افعال کو ہر ایک اعلیٰ اور عمدہ خوبیوں سے موصوف سمجھنا اور بیان کرنا ( فسبح بحمد ربک) کے معنی ہوئے۔ پس اپنے رب کی تسبیح کر حمد کے ساتھ یعنی اس کی صفات کو ہر ایک نقص اور عیب سے پاک اور ہر ایک عمدہ اور اعلیٰ خوبی سے موصوف سمجھنا اور بیان کرنا اور باقی استغفار کا لفظ رہ جاتا ہے۔
استغفار کیا ہے ؟ استغفار کہتے ہیں حفاظت طلب کرنے کو۔ یہ حفاظت تین رنگ میں طلب کی جاتی ہے :
(1) گناہ کے بد نتیجہ سے حفاظت طلب کرنا
(2) ایسی کسی کمزوری سے حفاظت طلب کرنا جس کی وجہ سے انسان گناہ کا مرتکب ہوجاتا ہے اس لیے جوش خص جتنی زیادہ استغفار طلب کرتا ہے اتنا ہی وہ گناہوں سے بچا رہتا ہے۔ دنیا میں گناہوں سے وہی بچے گا جو ان میں پڑنے سے ڈرتا اور ان سے بچنے کے کل سامان مہیا کرتا ہے اور اس حفاظت کا بڑا ذریعہ اللہ تعالیٰ سے حفاظت طلب کرنا ہے اور اسے قرآن کریم کی اصطلاح میں استغفار کہتے ہیں۔ آپ ﷺ کو گناہوں سے کس قدر نفرت تھی اور آپ ﷺ ان سے کسی قدر ڈرتے تھے اسی وجہ سے آپ ﷺ ہر آن اللہ رب کریم سے حفاظت طلب کرتے رہتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ معصومیت اور اخلاق کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر تھے جس سے بڑھ کر انسان کیلئے ممکن نہیں ہے۔
(3) نیکی میں ترقی کرنے میں بعض دفعہ انسان جو اپنے اندر کمزوری محسوس کرتا ہے اس سے حفاظت طلب کرتا ہے ۔ مختصر یہ کہ استغفار کا لفظ مذکورہ بالا تین اقسام کی حفاظت میں سے کسی ایک پر بھی بولا جاتا ہے اور ان میں سے دو پر بھی اور تینوں پر بھی بولا جاتا ہے جیسا موقع ہوگا ویسے معنی لیے جائیں گے اور اس طرح استغفار سے کام لینے والا نیکیوں کے اس کمال کو حاصل کرلیتا ہے جسے معصومیت اور قرب الٰہی کے مقام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جو شخص جتنا زیادہ استغفار کرے گا وہ اسی قدر ترقیات اور کمالات روحانی کا وارث ہوگا اور ظاہر ہے کہ ان درجات میں آپ ﷺ سے آگے نکلنے والا کون ہوسکتا ہے ؟ لاریب یہ ممکن ہی نہیں اس کی مزید وضاحت کیلئے عروۃ الوثقی جلد ہشتم سورة الفتح کی آیت اول ، دوم میں اس کی وضاحت دیکھی جاسکتی ہے جس میں اس فتح مکہ کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ اسی مضمون پر ہم اس سورة کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں ۔ سبحانک الھم وبحمدک الھم اغفرلی۔ 23 جولائی 1998ء