106. Surah Quraish
قريشQuraysh · 4 ayahsعروۃ الوثقٰی
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader
قریش [ کے دلوں کو مانوس کرنے کے لیے
قریش کے دلوں کو مانوس کرنے کے لیے
1 ؎ قریش کیا ہیں ؟ قریش عدنان کے قبیلہ کنایہ کی ایک شاخ تھی جو دنیا میں قریش کے نام سے مشہور ہوئی ۔ اسلام سے پہلے تمام قبائل عدنان پر اس کو برتری حاصل تھی اور طلوع اسلام کے بعد تمام امت اسلامیہ نے اس کی عظمت تسلیم کرلی ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ سے قریش کے مؤرث اعلیٰ تک گیارہ پشتیں ہیں اور اس سے اوپر عدنان تک دس پشتیں ہیں ۔ عبد اللہ ، عبد المطلب و شیبہ ، ہاشم ، عمرو ، عبدمناف ( مغیرہ) قصیٰ ، کلاب ، مرۃ ، کعب ، لوی ، غالب ، فہر جن کا لقب قریش ہے۔ فہر کے اوپر کی پشتیں اسی طرح ہیں کہ مالک نفر ، کنانہ ، خزیمہ ، مدرکہ ، الیاس ، نضر ، نزار ، معد ، عدنان ہے۔ قبائل قریش کی تین شاخیں تھیں کچھ قریشی قبائل وادی کے اندر آباد تھے جن کو قریش بطحاء کہا جاتا تھا اور ان میں یہ قبائل شامل تھے یعنی عبد مناف ، بنی اسد ، بنی عبد العزیٰ ، بنی زہرہ ، بنی تیم ، بنی مخزوم اور جو وادی کے باہر بالائی حصوں میں آباد تھے ان کو قریش ظواہر کہا جاتا تھا اور ان میں یہ قبائل شامل تھے۔ ادرم بن غالب ، بنی محارب ، بنی فہر اور بنی مصیص اور تیسری شاخ نے مکہ کی سکوت ترک کردی تھی اور بنی اسامہ بن لومی عمان میں جا کر بس گئے تھے اور بنی جثم یمامہ میں۔
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ فہر کا لقب قریش تھا۔ اس کی وجہ کیا ہوئی ؟ اس سلسلہ میں مختلف اقوال درج کیے گئے ہیں لیکن جتنی وجہیں منقول ہیں ان میں یہ وجہ معقول نظر آتی ہے کہ فہر نے دوسرے قبائل سے زیادہ طاقت جمع کرلی اور اپنی قوتوں کو بروئے کار لا کر دوسروں پر فوقیت حاصل کرلی اور اسی باعث دوسروں نے اس کو فہر کی بجائے قریش کہنا شروع کردیا اور قریش کی وجہ تسمیہ بھی یہ نقل ہے کہ سمندری جانوروں میں ایک جانور کو قریش کہا جاتا تھا جس کی طاقت و قوت کا سکہ مانا گیا تھا کہ وہ جس جانور کا چاہے شکار کرسکتا ہے۔ ان جانوروں میں جو سمندر میں رہتے ہیں لیکن اس کے قرب بھی کوئی نہیں پھٹکتا کیونکہ مقابلہ میں ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے اور کسی سے مغلوب نہیں ہوتا اور فہر کی طاقت و قوت کے بول بوتے پر اس کو ریش کہا جانے لگا ۔
قصی نبی اعظم و آخر محمد رسول اللہ ﷺ کے دادا کے دادا تھے۔ انہوں نے بھی اپنے زمانہ میں قریش کے بکھرے ہوئے قبائل کو آپس میں جمع کرنے کی کوشش کی اور بیت اللہ کے قریب آ بسے تھے اور اس طرح آہستہ آہستہ تولیت کعبہ عبد الداد بن قصی کو حاصل ہوگئی اور نبی اعظم و آخر ﷺ کے دادا کے باپ عبد مناف جن کا اصل نام مغیرہ تھا ، قصی ہی کے بیٹے تھے اور عبد مناف یعنی مغیرہ کا مقام بھی قریش میں بہت بلند پایہ اور ان کو قمر البطحاء کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ عبد مناف یعنی مغیرہ کے 6 فرزند نرینہ تھے جن میں سے دوسرے فرزند کا نام عمرو تھا جو بعد میں ہاشم کے نام سے معروف ہوئے ۔ ہاشم میں جو خوبیاں پائی جاتی تھیں وہ دوسروں سے بھی سوا تھیں اور اپنے زمانہ کے نہایت زیرک اور نہایت عقل مند اور سمجھدار تھے ۔ انہوں نے اپنے بھائیوں سمیت یعنی مطلب ، عبد الشمس اور نوفل سب نے تجارت شروع کردی اور تجارت میں بڑا نام پیدا کیا اور چاروں نے بین الاقوامی تجارت میں حصہ لیا ۔ اس وقت بین الاقوامی تجارت جو عرب کے راستے بلاد مشق و شام اور مصر کے درمیان ہوتی تھی انہوں نے معاہدہ کیا کہ آپس میں مل کر تجارت کا کام کیا جائے اور اہل عرب کی ضرورت کا سامان بھی باہر سے خرید کر لایا جائے تاکہ راستے کے قبائل سے مال خریدیں اور مکہ کی منڈی میں اندرون ملک کے تجار خریداری کے لیے آنے لگے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایران کی ساسانی حکومت اس بین الاقوامی تجارت پر اپنا تسلط قائم کرچکی تھی جو شمالی علاقوں اور خلیج فارس کے راستوں سے رومی سلطنت اور بلاد مشرق کے درمیان ہوتی تھی ۔ اس لیے جنوبی عرب بحر احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ جو تجارتی راستہ شام و مصر کی طرف جاتا تھا اور اس کا کاروبار بہت چمک اٹھتا تھا ۔ دوسرے عربی قافلوں کی بہ نسبت قریش کو یہ سہولت حاصل تھی کہ راستے کے تمام قبائل بیت اللہ کے خدام ہونے کی حیثیت سے ان کا احترام کرتے تھے۔ حج کے زمانہ میں نہایت فیاضی کے ساتھ حاجیوں کی جو خدمت قریش کے لوگ کرتے تھے اس کی بناء پر سب ان کے احسان مند تھے انہیں اس امر کا کوئی خطرہ نہ تھا کہ راستے میں کہیں ان کے قافلوں پر ڈاکہ مارا جائے گا ، راستہ کے قبائل ان سے راہ گزر کے وہ بھاری ٹیکس بھی وصول نہ کرسکتے تھے جو دوسرے قافلوں سے طلب کیا جاتا تھا۔ ہاشم نے انہیں تمام پہلوئوں کو دیکھ کر تجارت کی سکیم بنائی اور اپنی سکیم میں اپنے تین بھائیوں کو شامل کیا ۔ شام کے غسانی بادشاہ ہاشم نے حبش کے بادشاہ عبد شمس نے یمن امراء سے مطلب اور عراق وفارس کی حکومتوں سے نوفل نے تجارتی مراعات حاصل کیں ۔ اس طرح ان لوگوں کی تجارت بڑی تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی۔ اس بنا پر چاروں بھائی متجرین ( تجارت پیشہ) کے نام سے مشہور ہوگئے اور جو روابط انہوں نے گرد و پیش کے قبائل اور ریاستوں سے قائم کیے تھے ان کی بناء پر ان کو اصحاب الایلاف بھی کہا جاتا تھا جس کے لفظی معنی الفت پیدا کرنے والوں کے ہیں ۔ اس کاروبار کی وجہ سے قریشی لوگوں کو شام ، مصر ، عراق ، ایران ، یمن اور حبش کے ممالک سے تعلقات کے وہ مواقع حاصل ہوئے اور مختلف ملکوں کی ثقافت و تہذیب سے براہ راست سابقہ پیش آنے کے باعث ان کا معیار دانش و بینش اتنا بلند ہوتا چلا گیا کہ عرب کا کوئی دوسرا قبیلہ ان کی ٹکر کا نہ رہا ۔ مال و دولت کے اعتبار سے بھی وہ عرب میں سب پر فائق ہوگئے اور مکہ جزیرۃ العرب کا سب سے زیادہ اہم تجارتی مرکز بن گار۔ ان بین لاقوامی تعلقات کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ عراق سے یہ لوگ رسم الخط لے کر آئے جو بعد میں قرآن کریم کے لکھنے کے لیے استعمال ہوا ۔ عرب کے کسی دوسرے قبیلے میں اتنے پڑھے لکھے لوگ نہ تھے جتنے قریش میں تھے۔ انہی جوہ سے نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا تھا کہ قریش قتادۃ الناس یعنی لوگوں کے لیڈر ہیں ۔ ( مسند احمد مرویات عمرو بن عاص) اور اسی طرح آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ پہلے عرب کی سرداری قبیلہ حمیر والوں کو حاصل تھی پھر اللہ تعالیٰ نے وہ ان سے سلب کر کے قریش کو دے دی۔ ( بیہقی)
اس طرح قریش کے قبائل تجارت میں مصروف ہوگئے کہاں وہ وقت تھا کہ ان کی ساری معیشت کا انحصار ان نذرانوں اور خدمات پر تھا جو ایام حج میں جزیرۃ عرب کے گوشہ گوشہ سے آنے والے حاجی پیش کیا کرتے تھے اور جب قریش کا کوئی خاندان مفلس اور کنگال ہوجاتا اور فاقہ کشی کی نوبت پہنچتی تو اس کے افراد ایک مقرر جگہ پر چلے جاتے اور وہاں ایک خیمہ نصب کرلیتے اور اس کے اندرداخل ہوجاتے یہاں تک کہ موت انہیں اپنی آغوش میں چھپا لیتی اور کہاں یہ مقام کہ پورے عرب میں نہیں بلکہ گرد و نواح میں بھی قریش ہی قریش چھا گئے۔ ان حالات میں یہ تصور کرنا کہ ابرہہ کے حملہ کے وقت قریش نے قطعا ً مزاحمت نہ کی اور اللہ تعالیٰ کے گھر کو اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کر کے خود پہاڑوں پر جا گزیں ہوگئے اور پھر ان قریش کی تعریف بھی کی جائے ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہو سکتا جیسا کہ ہم نے گزشتہ سورت میں اس کی وضاحت کردی ہے۔ بہر حال زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے قریش پر جو گونا گوں احسانات کیے انہیں کا ذکر کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جب یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش پر طرح طرح کے احسانات فرمائے ہیں اور ان کو اقوال عالم میں ایک مقام عطا کردیا ہے تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اللہ کے شکر گزار بندے بنتے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتے ۔ بڑے ذوق و شوق سے اس کی عبادت و بندگی میں مصروف رہتے۔ اگر دوسرے احسانات انہیں یاد نہیں رہے اور انکا شکر ادا کرنے کا احساس ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوا تو وہ اس احسان کو فراموش نہ کرتے کہ ہو اس وادی غیر ذی زرع میں اس لق و دق صحرا میں جہاں غذائی اجناس کے پیدا ہونے کا کوئی احتمال نہیں سامان زیست اور ضروریات زندگی کا کلیۃً فقدان ، اللہ تعالیٰ نے ان کی رزق رسانی کا بھی انتظام فرما دیا کہ ان کے دلوں میں تجارت کی الفت پیدا فرمادی۔
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader
ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر کی رغبت دلائی
ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر کی رغبت دلائی
2 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ یہ سال میں دو بار سفر کرتے تھے اور دو بار تجارتی سامان لے جاتے اور لے آتے تھے اور جاڑے اور گرمی کے موسموں پر الگ الگ علاقوں میں کاروبار کرنے کے لیے جاتے تھے اور انہیں کوئی نہیں روکتا تھا۔ یہ صحرا میں تھے اس کے باوجود دنیا بھر کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے تھے۔ یہ تو اس وقت کی حالت تھی لیکن آج بھی اس میں کچھ فرق نہیں پڑا بلکہ جوں جوں آبادی بڑھی توں توں حالات بھی ترقی کرتے گئے۔ اب بھی مکہ میں جا کر دیکھو کہ اشیائے خوردنی کے ڈھیر لگے رہتے ہیں اور تازہ پھلوں سے ان کی دکانیں بھری ہوتی ہیں تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کرنا اپنا شعار بنا لیتے اور کسی دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے لیکن انہوں نے بیت اللہ کو بت کدہ بنا کر رکھ دیا تھا ۔ جیسا کہ ذکر کیا جا رہا ہے کہ قریش تجارت پیشہ تھے وہ سردی کے موسم میں جزیرۃ عرب کے جنوبی صوبہ یمن کی بندرگاہوں میں پہنچتے اور یہاں سے ہندوستان اور جنوبی ایشیاء کے دوسرے ممالک کی مصنوعات وغیرہ موجود ہوتیں انہیں خریدتے اور اونٹوں پر لاد کردی مملکت کے علاقے شام میں لے جا کر فروخت کرتے۔ اس طرح گرمی کے موسم میں شام و فلسطین کے ٹھنڈے اور خشک علاقوں میں جاتے واں سے مغربی دنیا کی درآمدات مصنوعات خرید کر یمن میں لے جا کر فروخت کرتے۔ جو خریدو فروخت کی سکت نہیں رکھتے تھے وہ بار برداری میں کافی اجرت کما لیتے۔ شام اور یمن کے درمیان ایک وسیع صحرا ہے یہ لوگ ہی اس کی نشیب و فراز سے واقف تھے ۔ اس کو طے کرنے کا حوصلہ بھی انہی کو تھا۔ اس زمانے میں عرب میں کوئی متحد حکومت نہ تھی ، افراتفری کا دور دورہ تھا۔ تجارتی قافلوں کو قدم قدم پر صحرائی بدوئوں اور راہزنوں سے واسطہ پڑتا تھا لیکن ریش مکہ ان تمام خطرات اور راہزنی کی وارداتوں سے محفوظ تھے ۔ عرب کا کوئی باشندہ ان کے قافلے کی طرف للچائی ہوئی نظر سے نہیں دیکھ سکتا تھا اور نہ ان پر دست درازی کی کسی میں ہمت تھی اور یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان تھا کہ اپنے گھر کی برکت سے جریرۃ عرب کے تمام باشندوں کو اللہ تعالیٰ نے قریش کے لیے مسخر کردیا تھا۔ ( ایلاف) ایلافھم کا مادہ ا لہے اور یہ مادہ قرآن کریم میں کافی استعمال ہوا ہے جیسے : الف ، الفت ، یولف ، المولفۃ ، ایلاف ، ایلافھم ، الف ، الفا ، الفین ، الاف اور الوف وغیرہ استعمال ہوئے ہیں۔
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader
پس ان پر لازم تھا کہ وہ اس گھر یعنی کعبہ کے رب کی عبادت کرتے
پس ان پر لازم تھا کہ وہ اس گھر کعبہ کے رب کی عبادت کرتے
3 ؎ مطلب یہ ہے کہ قریش کو جو عزت اور جو شرف مکہ میں یا بیرون مکہ ملا وہ بیت اللہ کی نسبت سے ملا اس لیے ان کا تو حق یہ تھا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کرتے جب کہ وہی اب ان کا اپنا رب بھی تھا اور پھر یہ بھی کہ ان کی رزق رسانی کا ایسا باعزت انتظام فرما دیا کہ یہ عزت و شرف کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آیا اس لے ان کا حق تھا کہ وہ اس ذات الٰہ کی عبادت کرتے جو اس کعبہ کا مالک ہے۔ جس نے ابھی چند سال قبل ابرہہ کی یلغار سے ان کو بچایا اور ان کی حفاظت اس طرح کہ کی گویا باز کی چڑیوں سے مروا دیا ۔ جس کو اس دنیا نے حیرت کی نظر سے دیکھا اور اب تک ان پر تعجب کیا جاتا ہے اور حملہ آوروں پر ان کے صرف کنکر پھینکنے سے حالات کا رخ بدل دیا اور ابرہہ ایسا مبہوت ہوا کہ اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس خاموش حملہ کا وہ کیا جواب دے اور کس کو جواب دے اور کیسے جواب دے جب کہ سامنے اس کو کوئی نظر بھی نہیں آتا تھا اور توہمات کے باعث وہ خود اور اسکے تمام لشکری ایسے پریشان ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے بیت اللہ کے قریب پہنچنے سے قبل ہی یہاں سے واپس بھاگ جانا چاہا اور اس میں نجات سمجھی۔ قدرت الٰہ نے اتنے بڑے لائو لشکر کو اس طرح بھاگ جانے پر مجبور کان کہ پھر اس کو یا کسی دوسرے کو ایسی حرکت کی کبھی نہ سوجھی ۔ پھر جب یہ برکت ان کو بیت اللہ کے باعث نصیب ہوئی اور اس بات کا ان کو بھی پختہ یقین ہے پھر اسکے رسول کی مخالفت میں بھی وہ پیش پیش ہیں تو اس کا نتیجہ ان کا تتر بتر ہونا کیوں نہیں ہوگا ؟ اگر بیت اللہ کا یہ لحاظ ہے تو آخر وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا احترام بحال کرتے ہوئے ان کا ستیا ناس کیوں نہیں کرائے گا ؟
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader
(اللہ وہی ذات ہے) جس نے ان کو بھوک میں کھانے کو دیا اور خوف سے امن بخشا
جس نے رزق دے کر ان جو فاقہ سے نجات دی اور خوف سے امن بخشا
4 ؎ غور کرو کہ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر جو احسان کیے ہیں ان کا ذکر واضح الفاظ میں کیا ہے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ احسان اس لیے کیے گئے کہ ان کو وقت پر کھانے پکا کر بیجھتا رہا اور ان کو کسی طرح کا کوئی کام نہ کرنا پڑا اور بےخوف و خطر ایک ہی جگہ پڑے پڑے کھاتے رہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ اشارہ ان کی اس حالت کی طرف ہے کہ جب وہ بیت اللہ کے ارد گردصرف بیت اللہ کے نذرانوں پر گزر بسر کرتے تھے اور بھوکوں مر رہے تھے اور جس طرح گزر بسر کرتے تھے وہ بھی بد حالی اور فاقہ کشی کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہاشم کے ذہن میں ایک بات ڈال دی اور اس نے اپنے بھائیوں کو بھی ساتھ ملا لیا اور بیت اللہ کی تولت کے ساتھ ساتھ معاش کے لیے پیشہ اختیار کیا اور پیشہ بھی ایسا کہ جس میں دنیا کے رزق میں نوے فی صدی رزق رکھا گیا ہے اور دس فی صدی باقی کاموں میں یعنی تجارت کی رغبت ان کے دلوں میں پیدا کر کے اور اس پر عملی طور پر ان کو لگا کر ان کو خوشحالی بنا دیا اور نہ صرف یہ کہ بھوک نے صرف تاجروں کو چھوڑ دیا بلکہ وہ سارے قریش ہی کو چھوڑ کر رخصت ہوگئے اور قریش میں جذبہ ایثار ایسا بھر دیا گیا کہ ایک ایک تاجر نے پورے پورے قبیلہ کو تجارت کے کام پر لگا دیا اور مری مرائی کھانے والی شکار کر کے خود بھی کھانے لگے اور قوم کے غریبوں ، مسکینوں اور ضرورت مندوں کو بھی کھلانے لگے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اسوقت بھی ان لوگوں کو جو اپنے آپ کو دین سے وابستہ سمجھتے ہیں اور دین ہی کو ذریعہ معاش بنا کر بیٹھ رہے ہیں اور قوم کے لوگوں کو ثواب پہنچانے کے بہانے لوٹ کر کھائے جا رہے ہیں ان مردوں کے بیوپاریوں کو بھی توفیق بخشے کہ وہ محنت کرنا سیکھیں اور اس طرح ثواب پہنچانے کے بہانے قوم کو کھانا چھوڑ دیں اور اس بےعزتی اور بےعزتی کے کھانے کو عزت و غیرت سمجھ کر نہ کھائیں بلکہ وہ کام کریں جس کام سے اللہ تعالیٰ ان کی دنیا بھی سنوار دے اور آخرت بھی اور مردوں کی تجارت چھوڑ کر زندوں والے کاروبار کو اپنائیں۔
اللہ تعالیٰ نے دوسرا حسان ان پر یہ کیا کہ جہاں دنیا میں سارے قافلے لٹ رہے تھے اور لٹیرے ان کو لوٹ رہے تھے عربوں کا احترام ان لٹیروں کے ذہن و دماغ میں بٹھا دیا اور وہ بھی قریش کے تجارت کے قافلوں کو روکنے سے باز رہے اور جزیرۃ العرب جہاں ہر طرف بدامنی کے شعلے بھڑک رہے تھے ، فتنہ و فساد کی آگ لگی ہوئی تھی ، عام شاہراہوں پر لوٹ مار کا سلسلہ جاری تھا ، کسی مسافر کا سلامتی سے واپس گھر پہنچتا ایک عجوبہ تصور کیا جاتا تھا ، ہر قبیلہ اپنی جگہ خوفزدہ رہتا ، شہروں اور دیہات میں بھی ہر وقت قزاقوں کے آدھمکتے کا دھڑکا لگا رہتا لیکن قریش بیت اللہ کی برکت سے جہاں جاتے ان کی عزت کی جاتی ، ان پر دست درازی کی کسی کو جرأت نہ ہوتی اور یہ بھی محض اللہ تعالیٰ کا احسان تھا کہ اس نے لوگوں کے دلوں میں ان کا احترام پیدا کیا اور اس کی محض یہ وجہ تھی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے خادم ہیں اور ان کو ہر طرح کے خوف سے محفوظ کردیا گیا اور ان کے تجارتی قافلے جدھر جاتے امن و سلامتی کے ساتھ جاتے تھے۔ ہمارے نبی اعظم و آخر ﷺ نبوت و رسالت سے پہلے جب سن رشد کو پہنچے اور ان کو معاش کی طرف توجہ ہوئی تو تجارت سے بہتر کوئی پیشہ نظر نہ آیا ۔ ابو طالب کے ساتھ آپ ﷺ بچپن میں بھی بعض تجارتی سفر کرچکے تھے جس سے آپ ﷺ کو خاصا تجربہ حاصل ہوچکا تھا اور آپ ﷺ کے حسن معاملہ کی شہرت ہر طرف پیل چکی تھی ۔ لوگ ہمیشہ اپنا سرمایہ کسی تجربہ کار اور امین شخص کے ہاتھ میں دے کر اس کے منافع میں شرکت کرلیتے تھے ، آپ ﷺ بھی خوشی کے ساتھ اس شرکت کو قبول کرتے تھے ۔ آپ ﷺ کے ساتھ تجارت میں شریک ہونے والوں کی شہادتوں سے جو احادیث اور تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہیں ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کس دیانت اور راست بازی کے ساتھ اس کام کو انجام دیتے تھے۔ تاجر کے محاسن اخلاق میں سب سے زیادہ نادر مثال ایفائے عہد اور اتمام وعدہ کی ہو سکتی ہے لیکن منصب نبوت سے پہلے مکہ کا تاجر امین اس اخلاقی نظیر کا بہترین نمونہ تھا۔ عبد اللہ بن ابی المحار ؓ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ بعثت سے پہلے میں نے نبی اعظم و آخر ﷺ سے خریدو فروخت کا کوئی معاملہ کیا تھا ، کچھ معاملہ ہوچکا تھا کچھ باقی تھا میں نے وعدہ کیا کہ پھر آئوں گا ۔ اتفاق سے تین دن تک محمد کو اپنا وعدہ یاد نہ آیا ۔ تیسرے روز جب وعدہ گاہ پر پہنچاتو رسول اللہ ﷺ یعنی محمد بن عبد اللہ اس جگہ میرے انتظار میں تشریف رکھتے تھے لیکن میری اس خلاف وعدہ حرکت سے آپ ﷺ کی پشاینی پر بل بھی نہ آیا ۔ فرمایا تو صرف یہ کہ تم نے مجھے بہت زحمت دی کہ میں اس مقام پر تین دن سے موجود ہوں۔ ( سنن ابی دائود ، ج 2 ص 326 کتاب الادب باب الوعد)
نبی اعظم و آخر ﷺ کی عمر جب پچیس برس کی ہوچکی تھی متعدد قومی کاموں میں آپ ﷺ شریک ہوچکے تھے۔ تجارت کے کاروبار کے ذریعہ سے لوگوں کے ساتھ معاملات پیش آتے تھے اسی بناء پر آپ ﷺ کے حسن معاملہ ، راست بازی ، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاق کی عام شہرت ہوچکی تھی یہاں تک کہ زبان خلق نے آپ ﷺ کو امین کا لقب دے دیا تھا۔ سیدۃ خدیجہ ؓ نے ان اسباب کے لحاظ سے آپ ﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ﷺ میرا مال تجارت لے کر شام کو جائیں جو معاوضہ میں اوروں کو دیتی ہوں آپ ﷺ کو اس کے مصاعف دوں گی ۔ آپ ﷺ نے قبول فرمایا اور مال تجارت لے کر بصریٰ تشریف لے گئے اور جو نفع اس مال سے ہوا اس کی تفصیلات بہت لمبی ہیں مختصر یہ کہ واپس آنے کے تقریباً تین مہینہ بعد سیدۃ خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ کو شادی کا پیغام بھیجا اور اس طرح آپ ﷺ کا عقد آپ ﷺ کے خاندان کی موجودگی میں خدیجہ ؓ سے طے ہوا اور آپ ﷺ کے اس نکاح کا خطبہ ابو طالب نے پڑھا تھا اور پانچ سو طلائی درہم حق مہر مقرر کیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آپ ﷺ کی مالی حالت ماشاء اللہ کافی بہتر ہوچکی تھی اور یہ سب تجارت ہی کی برکت تھی ۔ تجارت کی اہمیت کے پش نظر ہم نے اس جگہ آپ ﷺ کے ایک دو واقعہ درج کیے ہیں اور اسی مضمون پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں ۔ اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذی الجد ضع الجد۔