105. Surah Al-Fil
الفيلThe Elephant · 5 ayahsعروۃ الوثقٰی
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader
کیا آپ نے نہیں دیکھا (یا سنا) کہ آپ کے رب نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا کیا ؟
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا کیا ؟
1 ؎ جب یہ سورت نازل ہوئی اسوقت اس واقعہ کو مشاہدہ کرنے والے کچھ نفوس موجود ہوں گے کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت اور اس واقعہ کے معرض وجود میں آنے کے وقت میں صرف بیالیس سے چوالیس سال کا فاصلہ ہے اس لیے اس واقعہ کو دیکھنے والوں کی اکثریت موجود نہ ہو تو بھی تقریباً برابر لوگ موجود ہوں گے جن کو آدھے یا آدھے سے زیادہ کہا جاسکتا ہے پھر جس واقعہ کو اتنی کثیر تعداد جانتی ہو اسکی طرف اشارہ کردینے سے سب لوگ جان جاتے ہیں کیونکہ جو عینی شاہد نہ ہوں تو بھی وہ عینی شاہدوں سے سننے واولے ضرور ہوتے ہیں لہٰذا اس وقت اس واقعہ کی طرف اشارہ کردینا کفایت کرتا تھا۔ پھر قرآن کریم کو اس کی تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت اس لیے بھی نہیں تھی کہ اس واقعہ کی تفصیلات میں جانا مقصود ہی نہ تھا ۔ ابرہہ کون تھا ، ابرہہ تھا یا کوئی اور تھا ؟ وہ کہاں سے آیا اور اس کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا اور جو کچھ ہوا وہ کرنے والا کون تھا ، اس کی تفصیلات کیا ہیں ؟ ان سارے سوالوں کے جوابات دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی بلکہ مقصود صرف یہ تھا کہ اصحاب الفیل کے نام سے جن لوگوں نے مکہ پر حملہ کیا اور حملہ کا مقصد صرف بیت اللہ کو منہدم کرنا یا بےحرمت کرنا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے مقصد میں ناکام کردیا باوجود اس کے کہ ان کے پاس بہت بڑی طاقت اور قوت تھی لیکن ان کے مقابلہ میں مکہ کے لوگوں کی طاقت عشر عشیر بھی نہ تھی لیکن اس کے باوجود مکہ والو نے ان کو تتر بتر کردیا اور اس کو اگر اس طرح کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں کے ہاتھوں سے ان کو تتر بتر کرا دیا تو یہ زیادہ صحیح ہوگا ۔ تا ہم اس وقت صورت ِ حال اس وقت سے مختلف ہے کیونکہ ایک تو بہت عرصہ گزر چکا ہے ، دوسرے تاریخ ، سیرت اور تفسیر بیان کرنے والوں نے اس میں رطب دیا بس بہت کچھ بھر دیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ مختصر حالات ضروربیان کیے جائیں تاکہ حقائق کے قریب رہ کر بات کی جائے اور زیادہ دور نکلنے والوں کی نشاندہی بھی کردی جائے تاکہ اس واقعہ سے جو ہمارے لیے اسباق رکھے گئے ہیں ان سے ہم فائدہ حاصل کرسکیں ۔
تاریخی حقائق سے جو بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے وہ یہ ہے کہ بحر احمر کی دائیں طرف یمن کا ملک ہے اور اس کے مد مقابل دوسری طرف براعظم افریقہ کا ملک حبشہ ہے جسے ایتھوپیا اپبی سینیا بھی کہا جاتا ہے۔ علم انساب کے ماہرین کا خیال ہے کہ حبش کے باشندے دراصل یمن کی قوم سباہی کے افراد تھے جنہوں نے یمن کی خوشحالی کے دور میں یمن سے نقل مکانی کر کے اپنے سینیا کے ساحل پر اپنی تجارتی منڈیاں اور مراکز قائم کرلیے تھے۔ زیادہ دیر تک وہ اپنی انفرادیت قائم نہ رکھ سکے افریقہ کے اصل باشندوں کے ساتھ ان کے شادی بیاہ کا سلسلہ شروع ہوگیا یہاں تک کہ نہ تو وہ خالص سبائی رہے اور نہ خالص افریقی بلکہ ایک مخلوط قوم بن گئے اس لیے ان کو حبش کہا جاتا ہے جس کے معنی اختلاط و امتزاج کے ہیں ۔ اس طرح گویا سبا کی قوم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ ایک حصہ اپنے اصل وطن یمن میں اقامت پذیر رہا جن کو سبائے حمرح کہا جاتا ہے اور جو لوگ ترک وطن کر کے یہاں آ کر آبادہو گئے انہیں سبائے حبش کے نام سے یاد کیا جانے لگا ۔ اس زمانہ میں ان کی مذہب حیثیت کیا تھی ؟
یمن کے اصل باشندے ستاروں کی پوجا کیا کرتے تھے۔ مختلف ستاروں کے لیے انہوں نے بڑے بڑے معبد بنا رکھے تھے لیکن اس زمانہ میں افریقہ ، قیصر روم کے قبضہ میں تھا۔ رومی عیسائی تھے ، انکے حکومتی اثر اور سر گرم تبلیغی کوششوں کے باعث عیسائیت کو یہاں بڑا فروغ حاصل ہوا ۔ حبشہ کے باشندے بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ ان کی اکثرین نے عیسائی مذہب کو قبول کرلیا ۔ یمن میں بھی عیسائی مبلغین کی کوششوں سے نجران کے خطہ میں عیسائیت نے اپنا اثرو رسوخ قائم کرلیا۔ ذونو اس حمیر کا آخری بادشاہ عیسائیت کے فروغ سے زیر پا ہوگیا اور اس نے گڑھے کھدوائے اور ان میں آگ جلوائی اور ان عیسائیوں کو آگ میں پھینک کر جلوا دیا اس کا تفصیلی تذکرہ آپ پیچھے سورة البروج میں پڑھ چکے ہیں ۔ یمن کا ایک عیسائی امیر دوس بن ثعلبان جو بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا وہ نجاشی بادشاہ حبشہ کے پاس فریاد دی ہوا ۔ نجاشی نے قیصر روم سے مشورہ کیا اور یمن پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کردی ۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ چند عیسائی جو بچ گئے تھے وہ بھی قیصر کے پاس قسطنطنیہ پہنچے اور وہاں جا کر اپنے بھائیوں کی داستان الم بیان کی ۔ قیصر نے نجاشی کو یمن پر حملہ کرنے اور ان مقتولین کا انتقام لینے کی ہدایت کی چناچہ حبشی لشکر یمن پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوا ۔ قیصر نے اپنا بحری بیڑا فراہم کیا تاکہ یہ لشکر جرار اس کے ذریعہ بحر احمر کو عبور کرے۔ قیصر نے یہ رویہ کیوں اختیار کیا ، اس فراخ دلانہ اعانت کا محرک کیا صرف مذہبی جذبہ تھا ؟ یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک بہانہ تھا اصل مقصد اس کا یہ تھا کہ اس تجارتی شاہراہ پر اپنی گرفت مضبوط کی جائے جس کے ذریعہ مشرقی ممالک کا قیمتی سامان تجارت مغربی ممالک تک پہنچتا ہے اس سے پیشتر اس شاہراہ پر اہل عرب کی اجارہ داری تھی اور انہیں کے ان گنت اونٹوں پر مشتمل قافلے اس سامان کو بحر احمر کی بندرگاہ سے اٹھا کر بحر روم کے ساحل تک پہنچایا کرتے تھے ۔ کئی صدیوں سے رومی للچائی ہوئی نظروں سے اس شاہراہ کو دیکھ رہے تھے اور محض کسی بہانہ کی تلاش میں تھے ۔ عرصہ سے رومیوں اور ایرانیوں میں جنگ شروع تھی اور حالت جنگ میں اس راستے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی تھی ممکن ہے کہ قیصر کے اس اقدام کے محرم یہ دونوں سبب ہوں ۔ الغرض جب حبشی لشکر حملہ آور ہوا تو شاہ یمن ذونو اس نے عدن اور حضرموت کے ساحل پر اس کا استقبال کیا اور اسے پسپا ہونے پر مجبور کردیا ۔ حبش وطن واپس آئے اور از سر نو بڑے زور و شور سے بہت بڑا حملہ کرنے کی تیاری شروع کردی ۔ اس دفعہ ذونوس ان کے حملہ کی تاب نہ لاسکا اس کا حمیری لشکر بری طرح شکست سے دو چار ہوا ۔ ذونو اس نے راہ فرار اختیار کی اور اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا لکن وہیں اس کا کام تمام ہوگیا ۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا نائب زوجون مقابلہ کے لیے بڑھا لیکن وہ بھی قتل ہوا ۔ ذوالبزان نے حبشی فوج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوا اس طرح 515 عیسوی میں سارا یمن حبشیوں کے قبضہ میں چلا گیا ۔ عرب مؤرخین کے نزدیک اس حبشی لشکر کے سالار کا نام ارباط تھا ۔ شاہ نجاشی نے اس کو وہاں کا والی مقرر کردیا لیکن یونانی مؤرخ اس سالار کا نام اسمینیوس بتاتے ہیں اور اس وقت کے نجاشی کا نام الیباس لکھتے ہیں ۔ عربی روایات کے مطابق ارباط نے تقریباً بیس سال تک یمن پر حکومت کی اس کے بعد حبشی فوج نے ایک فوجی افسر ابرہہ کی قیادت میں اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ۔ ارباط مارا گیا اور ابرہہ یمن کا والی بن بیٹھا ۔ سال کا تعیین مشکل ہے البتہ ایک کثبہ جو ابرہہ کا نصب کردہ ہے اس پر 697 یمنی سال مرقوم ہے جو 543ء کے مطابق ہے ۔ نجاشی نے ابرہہ کی بغاوت اور ارباط کے قتل کی خبر سنی تو بہت غضبناک ہوا اور قسم اٹھائی کہ وہ خاک یمن کو اپنے پائوں تلے روند ڈالے گا اور ابرہہ کا خون بہائے گا ۔ ابرہہ نے ایک ششیک میں اپنا خون بھرا اور یمن کی کچھ مٹی ایک فریط میں بند کی دونوں کی دونوں کو بادشاہ کے پاس بھیجا اور لکھا کہ میں آپ کا حلقہ بگوش ہوں ۔ آپ نے جو حلف اٹھایا ہے اس کو پورا کرنے کے لیے اپنا خون اور یمن کی مٹی بھیج رہا ہوں آپ اس مٹی کو اپنے پائوں سے روند ڈالے اور میرا خون جو شیشی میں ہے اس کو زمین پر بہا دیجئے۔ ابرہہ کی اس پیش کش سے نجاشی بہت خوش ہوا اور اسے یمن کا والی برقرار رکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابرہہ نے ایک بہت بڑا امیر ہونے کے باوجود کتاب الحیل کا خوب مطالعہ کر رکھا تھا اور وہ مذہب عیسائیت سے خوب واقف تھا۔ جب ابرہہ کو کچھ اطمینان ہوا تو اس نے یمن میں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے تحریک شروع کردی ۔ بڑے بڑے شہروں میں گرجے تعمیر کیے اور یمن کے دارالسلطنت صنعا میں ایک بہت بڑا عظیم الشان گرجا تعمیر کیا جس کو عب القلیس یا القلیس کہتے ہیں ۔ ابرہہ نے اس کی زیب وزینت اور آرائش پر دل کھول کر روپیہ خرچ کیا ۔ ان تمام کوششوں اور اقدامات کے باوجود عیسائیت کی اشاعت میں اسے حسب منشاء کامیابی حاصل نہ ہوئی ۔ اس کے سامنے ایک ایسی رکاوٹ تھی جس نے اس کی کوششوں کو تقریباً بےاثر بنا دیا۔ مکہ مکرمہ میں جو کعبہ حضرت خلیل اور اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنے مبارک ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا ہر عربی باشندے کو اس سے قلبی اور فطری عقیدت تھی ، وہ کسی قیمت پر اس سے صرف نظر نہیں کرسکتا تھا ۔ عیسائیت قبول کرنے کا فوری نتیجہ اس رشتہ کا انقطاع تھا جس کے لیے اہل عرب بالکل تار نہ تھے۔
ابرہہ نے اس رکاوٹ کو اپنے راستہ سے ہٹانے کا عزم کرلیا ۔ اس نے عرب کے تمام علاقوں میں منادی کرا دی کہ میں نے تمہارے لیے ایک بہت خوبصورت کعبہ بنایا ہے تم وادی غیر ذی ذرع میں واقع ان گڑھے سیاہی مائل پتھروں کے بنے ہوئے کعبہ کی بجائے یہاں آ کر اپنا حج کیا کرو جو صنعاء کی جنت نظیر وادی میں انسانی تعمیر کا ایک شاہکار ہے لیکن اس کی یہ دعوت صدا بصحراء ثابت ہوئی ۔ لوگ اس کے ہر طرح کے پروپیگنڈے کے باوجود تپتی ہوئی ریت کے صحرا میں بےآب و گیارہ ریگستانوں کو مستانہ وار عبور کرتے ہوئے مکہ مکرمہ حاضر ہوتے اور کعبہ مشرفہ کا طواف کر کے سکون قلب حاصل کرتے ۔ اس چیز نے ابرہہ کو اور مشتعل کردیا اس نے قسم کھائی کہ وہ اس گھر کو گرا کر نیست و نابود کر دے گا ۔ ان حالات میں ایک اور واقعہ رو پذیر ہوا یا رو پذیر کرلیا گیا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ بنی کنانہ کے کسی شخص نے رات کو اس کو اس کلیسا میں جا کر قضائے حاجت کردی لیکن بعد کی رائے ہے کہ چند عرب کے نوجوانوں نے اس کلیسا کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی لیکن مقابل بن سلیمان کی رائے یہ ہے کہ چند مسافر رات بسر کرنے کے لیے اس گرجا کے پڑوس میں اترے۔ انہوں نے کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی ، آندھی آگئی اور اس سے کوئی چنگاری اڑ کر اس گرجے میں جا پہنچی جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی لیکن ابرہہ یہ سن کر برا فروختہ ہوگیا اور اس نے مکہ پر فوری چڑھائی کا عزم کرلیا اور چند ہی روز میں ایک لشکر جرار لے کر کعبہ اللہ کو منہدم کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوگیا ۔ اس کا سالار اعلیٰ خود ابرہہ تھا۔ جزیرہ عرب میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی ۔ خود یمنی امراء و سرداروں نے کعبہ مقدسہ کو بچانے کے لے سر دھڑ کی بازی لگا دی ۔ یمن کے ایک رئیس ذونفر نے اپنی قوم اور جملہ قبائل عرب کی ابرہہ کا مقابلہ کرنے کے لیے للکارا اور اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے بیشمار لوگ اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوگئے۔ گھمسان کی جنگ ہوئی لیکن ذونقر کے لشکر نے شکست کھائی اور یہ خود گرفتار کرلیا گیا ۔ ابرہہ اس کو ہمراہ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا ۔ جب اس کا گزر بلاد ختم سے ہوا تو بنی خشعم کے سردار نفل بن حبیب شعمنی نے اس کا مقابلہ کیا ۔ بنی خشعم کے دونوں قبیلے شہران اور ناہث اس کے ساتھ تھے لیکن انہیں بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا ، نفیل بھی گرفتار کرلیا گیا ۔ ابرہہ نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا لیکن پھر اسے معاف کردیا ۔ اس نے اس کو بھی ساتھ لا تاکہ بلاد حجاز میں وہ اس کا دلیل کارواں بن سکے۔ جب یہ لشکر طائف کے قریب پہنچا تو اہل طائف کو یہخطرہ لا حق ہوا کہ کہیں ابرہہ ان کے مندر کو منہدم نہ کر دے جس میں ان کے معبود لات کا بت نصب تھا۔ چناچہ وہاں کے روسا ابرہہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے بتایا کہ ہمارا یہ معبود وہ نہیں ہے جسے گرانے کا تم نے قصد کیا ہے بلکہ وہ آگے مکہ میں ہے اور ہم اس سلسلہ میں آپ کی ہر خدمت بجا لانے کے لیے تیار ہیں چناچہ ابرہہ نے ان کو اطمینان دلایا اور ان کی عزت و تکریم کی اور انہوں نے ابو رغال کو اس کے ہمراہ بھیجا تاکہ وہ راستہ بتائے اور کعبہ کی نشاندہی کرے جب ابرہہ اپنے لشکر جراجر کو لے کر مکہ کے نزدیک وادی ٔ مغمس میں خیمہ زن ہوا تو اس کے لشکریوں نے ماردھاڑ شروع کردی ۔ بھیڑ بکریاں اور اونٹ جو کچھ بھی ان کے ہاتھ لگا سب کا سب ہانک کرلے گئے اور اپنے پڑائو میں لا کر اپنے بادشاہ کے سامنے سب کچھ پیش کردیا اور کہا جاتا ہے کہ ان اونٹوں میں دو سو اونٹ عبد المطلب کے بیٹے کے بھی تھے جو نبی اعظم و آخر کے دادا مجد تھے ۔ ابرہہ نے حمیر قبیلہ کے ایک حناطہ نامی شخص کو بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو یہ بتائے کہ ابرہہ ان سے جنگ کرنے کے لیے نہیں آیا بلکہ بیت اللہ کو گرانے آیا ہے ۔ اگر اہل مکہ نے مزاحمت نہ کی تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا لیکن اگر انہوں نے مزاحمت کی تو پھر نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ حناط مکہ گیا ، اس نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہاری بستی کا سردار کون ہے ؟ تو لوگوں نے عبد المطلب کا نام لیا ۔ حناط نے آپ سے ملاقات کی اور ابرہہ کا پیغام پہنچایا ۔ آپ نے حناطہ سے کہہ دیا کہ ہمارا ارادہ بھی ابرہہ سے جنگ کرنے کا نہیں ہے اور نہ ہی ہم میں اتنی ہمت ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس کے خلیل کا حرم ہے اگر وہ چاہے گا تو خود ہی اس کی حفاظت کرے گا ورنہ جیسے اس کی مرضی اور عبد المطلب نے یہ بات حناط تک پہنچا دی تاکہ وہ اپنے سپہ سالار کو یہ بات کہہ کر مطمئن کر دے اور یہ چال یعنی جنگی حکمت عملی کے مطابق تھی اور عبد المطلب یہ قدم نہایت دانشمندانہ تھا پھر حناطہ سے یہ کہہ کر وہ مکہ میں نہیں رکے بلکہ حناط کے ساتھ ابرہہ اشرم کے پاس رد در رو بات کرنے کے لیے چلے گئے جب آپ ابرہہ کے قریب پہنچے تو اس نے اٹھ کر استقبال کیا اور آپ کی بار عب شخصیت اور نورانی چہرہ دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا اور آپ کو اپنے برابر بٹھایا ۔ اور خود اٹھ کر آپ کے برابر آ بیٹھا ۔ ترجمان کے ذریعہ جب بات چیت شروع ہوئی تو عبد المطلب نے وہی بات ابرہہ سے کہی جو وہ اس سے پہلے حناطہ سے کہہ چکے تھے اور اپنے اونٹوں کا مطالبہ کیا جو اس کے کارندے ہنکا کرلے آئے تھے۔ ابرہہ نے اس پر حیرانی کا اظہار کیا تا ہم ان کے اونٹ واپس کردیئے اور اپنی غرض بھی کھل کر بیان کردی کہ ہم فقط بیت اللہ کو گرانے کی نیت سے آئے ہیں ہمارا ارادہ جنگ کرنے کا نہیں ہے۔ عبد المطلب ابرہہ کے لشکر میں جس غرض سے آئے تھے اس کا مکمل جائزہ آپ نے لے لیا اور جو عرب سردار ابرہہ کے ساتھ اسکی قید میں تھے ان سے ملاقات بھی کی اور ایک عرب سردار نے اپنی ساری بات ان عرب سرداروں تک پہنچا دی جو ابرہہ کی قید میں تھے اور دونوں طرف اشاروں ہی اشاروں میں ان کے درمیان جو بات ہوئی ہوگئی وہ خوب سمجھ سمجھائی گئی ۔ عبد المطلب جب ابرہہ سے ملاقات کر کے آئے تو مکہ میں ایک خاص میٹنگ کی اور اس میں طے پایا کہ عورتوں اور بچوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا جائے اور مکہ اور مضافات کے مردوں کا ایک لشکر پہاڑوں پر چڑھ کر محفوظ مورچے سنبھال کر رات کے کسی خاص حصہ میں ابرہہ کے لشکر پر سنگ باری کرے اور ان سب کا رخ بیت اللہ کی طرف ہو جس طرف سے ابرہہ اور اس کا لشکر مکہ پر چڑھائی کرنا چاہتا ہے تاکہ بھاگنے والے لوگ جب بھاگیں تو وہ بیت اللہ سے دور ہوتے جائیں اور خصوصاً فیل بانوں سے ایک خفیہ معاہدہ کرلیا گیا کہ وہ جب اچانک حملہ ہو تو ہاتھیوں کو رات کے اندھیرے میں واپسی کی طرف دواڑئیں تاکہ وہ جتنے دور نکل سکتے ہیں نکل جائیں اور ان کا ہر قدم ان کو بیت اللہ سے دور کرتا چلا جائے۔ وہ سردار جو ابرہہ کی تحویل میں تھے انہوں نے بھی اس سکیم میں مکہ والوں کا ساتھ دیا اس لیے کہ یہ دونوں اور ان کے ساتھی تو پہلے ہی محض ان کی قید میں ہونے کے باعث ان کے ساتھ تھے اور فیل بان بھی قریش ہی تھے جو یمن کی طرف بھاگ گئے تھے یعنی نقل مکانی کر گئے تھے اس طرح اللہ تعالیٰ نے حالات کا ایسا رخ بدلا کہ ابرہہ کا اپنا لشکر ہی ابرہہ کے خلاف ہوگیا اور نتیجہ لازم تھا کہ وہی نکلنا تھا جو گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے سے نکلتا ہے ۔ ایک طرف تو عبد المطلب نے یہ تدبیر اختیار کی اور دوسری طرف جب مکہ کے لوگ ہدایات کے مطابق اپنا اپنا کام کر رہے تھے تو عبد المطلب بت اللہ میں حاضر ہوئے اور بیت اللہ کے دروازے کے نیچے کھڑے ہو کر نہایت عجز و نیاز سے رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہوئے فرمایا :
لاھم ان المرء یمنع رحلہ فامنع رحالک
لا یغلبن صلیبھم و محالھم ابدا محالک
ان کنت تارکھم وقبا لنا فامرما بدالک
(1) ” اے اللہ ! ہر شخص اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما۔ (2) کل ان کی صلیب اور ان کی قوت تیری قوت پر غالب نہ آجائے۔ (3) اگر تو انہیں اور ہمارے قبیلہ کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہتا ہے تو جو تیری مرضی ہے ایسا کر “ ۔ ان اشعار پر غور کرنے والا اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ عبد المطلب نے بیت اللہ کو چھوڑ نہیں دیا بلکہ بیت اللہ کی حفاظت کا سامان کرنے کے بعد خالصتا ً اللہ تعالیٰ پر انحصار کیا ہے اور اپنی جانوں کی بازی لگانے کے بعد بیت اللہ کو اللہ کا گھر قرار دے کر اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست چاہی ہے اور اپنی درخواست پر انحصار کیا وہ غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگوں میں رہ کر بھی خالصتا ً اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے اپنی عرضیاں پیش کر رہے ہیں اور اس مواحد ہونے کا عملی ثبوت مہیا کر رہے ہیں اور انہوں نے وہی کام کیا ہے جو خود محمد رسول اللہ ﷺ نے میدان بدر میں کیا تھا کہ اے اللہ ! اگر تیرے خالص بندے اس میدان میں ناکام ہوگئے تو رہتی دنیا تک تیرا نام لینے والا کوئی نہیں رہے گا ۔ گویا ایک طرف ان نہتے لوگوں نے سر دھڑ کی بازی لگا دی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے زیادہ اپیل کر رہے ہیں گویا دونوں کام بیک وقت جاری ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا بھی اور ایڑی سے چوٹی تک کا سارا زور بھی اور یہی اسلام کی تعلیم ہے اس لے زیر نظر آیت میں بلکہ پوری سورت میں اسی کردار کا مظاہرہ کیا گیا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس کا مطلب کیا سمجھ لیا ؟ اور جو سمجھ لیا وہ ایسا مطلب ہے کہ نہ کوئی اللہ کا رسول اس کو پسند کرتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کی کبھی خلاف ورزی کی ہے کہ کسی کو تو مرتے دیکھے اور اس کا دل بھی نہ پسیجے اور کسی کو چوٹ آئے تو اس کا دل تڑپ اٹھے اور اس کو زمین سے اٹھا کر زندہ آسمان پر پہنچا دے اور ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کرے کہ ؎
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader
کیا (اللہ نے حملہ سے قبل ہی) ان کی تمام تدبیروں پر پانی نہیں پھیر دیا تھا ؟
کیا اللہ تعالیٰ نے حملہ سے قبل ہی ان کی تمام تدبیروں پر پانی نہیں پھیر دیا تھا ؟
2 ؎ ابرہہ کا لشکر ساٹھ ہزار جنگجو سپاہیوں پر مشتمل تھا اور اس کے ساتھ ایک ہاتھیوں کا دستہ بھی تھا جس میں مفسرین کے مطابق 9 تا 12 تھی مصروف کار تھے اور یہ دستہ لشکر کے آگے آگے جھوم جھوم کر بڑے طمطراق سے چل رہا تھا۔ اہل مکہ کیا اہل عرب نے اتنا بڑا ٹڈی دل کب دیکھا تھا وہ تو بدوں میں ایک دوسرے سے لڑنا بھڑنا جانتے تھے اتنی بڑی فوج سے مڈ بھیڑ ان کے لیے ایک تعجب خیر بات تھی جو کیھ ان کے تصور میں بھی نہ آئی تھی اور خصوصاً ہاتھی تو اہل عرب کے لیے ایک بالکل ہی نئی چیز تھی ۔ اس خصوصیت کے باعث اس سارے لشکر کو اصحاب الفیل کہا گیا ہے۔ چند غیر مند قبائل نے ابرہہ کا مقابلہ بھی کیا مگر کامیابی نہ ہوئی جس سے ابرہہ کی رعونت اور بڑھ گئی اور دو عرب سردار اس کی قید میں چلے گئے جن کو وہ اپنے ساتھ ہی لیے پھر رہا تھا تاکہ باقی عربوں کو ایسے اقدام کی جرأت ہی پیدا نہ ہو ۔ مکہ والے اس لیے بھی اور بیچارگی کی حالت میں کعبہ چھوڑ کر اردگرد پہاڑوں میں محفوظ جگہوں پر چلے گئے اور سب نے بظاہر کسی طرح کی کوئی مزاحمت نہ کی لیکن اندر کے حالات بالکل اس سے جدا تھے۔ مکہ کے نوجوان پوری مستعدی کے ساتھ پتھروں سے حملہ کرنے کے لیے بالکل تیار تھے اور اس غرض کے لیے سازو سامان انہوں نے اکٹھا کر رکھا تھا اور اب ان کو صرف انتظار تھا تو حکم (Order) کا انتظار تھا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ عبد المطلب نے نہایت ذہانت کے ساتھ سارے انتظامات کرلیے تھے۔ ابرہہ کے ساتھ جو مکہ کے سردار اس کی قید میں تھے ان سے بات چیت ہوچکی تھی اور فیل بانوں سے جو دراصل قریش ہی کے آدمی تھے جو یمن میں سکونت پذیر تھے ان سے بات چیت ہوچکی تھی ۔ عبد المطلب بس موقع کی تلاش میں تھے کہ کب اور کس وقت ؟ وہ وقت آیا کہ بیت اللہ کی طرف سے جس طرف کو وہ آگے بڑھنا چاہتے تھے ایک زور دار حملہ ان پر کیا گیا اور پھر حملہ رات کے وقت پتھروں کے ساتھ تھا بیت اللہ کی طرف سے ابرہہ کے لشکر پر اتنی مستعدی کے ساتھ پتھرائو کیا گیا کہ فیل باتوں نے پیچھے کی طرف ہاتھیوں کا منہ کر کے چھوڑ دیا اور ان کو خوب زور سے چلایا پھر ابرہہ کا لشکر اندھا دھند اس طرح بھاگا کہ رات کے اندھیرے میں ان کو سمجھ بھی کچھ نہ آیا اور وہ لوگ پہاڑوں سے ٹکرا ٹکرا کر مارے گئے اور سپیدی ظاہرہونے تک اس کے لشکر کے ایک خاص بڑے حصے کا صفایا کردیا گیا اور اس عرصہ میں وہ بیت اللہ سے بھی بہت دور پیچھے نکل گئے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کو جس طرح بچایا اور اپنے پیارے رسول محمد اللہ ﷺ کی اولین درسگاہ کی عزت و حرمت کا سکہ جس طرح لوگوں کے دلوں میں بٹھا دیا عقل انسانی اس کو دیکھ کر دنگ رہ گئی اور انسان یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جس ذات رب ذوالجلال والاکرام کا یہ گھر ہے اس کی قدرت بےپناہ ہے اور اس کی تدبیریں لاجواب ہیں ۔ جس بات کا وہ ارادہ کرتا وہ ہو ہو کر رہتی ہے جسے کوئی ماں کا لال روک نہیں سکتا۔
اللہ تعالیٰ نے صرف دو تین لفظوں میں ان کے سارے مکر اور فریب کی کلی کھول کر رکھ دی ۔ بلا شبہ ابرہہ کی لشکر کشی پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہ تھی لیکن ساٹھ ہزار آدمیوں کا جمع کرنا اور پھر ہاتھیوں کو ساتھ لے کر آنا اور جس مذموم ارادہ کے لیے وہ آیا بھی اس نے ہرگز ہرگز چھپا کر نہ رکھا ، اس نے ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان کردیا تھا کہ وہ کعبہ کو منہدم کرنے کے لے آیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا سارا پروگرام اس طرح فیل کیا کہ اس کے اپنے ہی لشکریوں اور اس کے قید کیے گئے عرب امیروں کے ہاتھوں اس کو تباہ و برباد کرا دیا اور لشکر کے اندر ہاتھیوں نے وہ ہڑبونگ مچائی کہ اپنے ہی لشکریوں کو تکا بوٹی کر کے رکھ دیا اور ایک طرف سے ہاتھیوں اور دوسری طرف سے عربی نوجوانوں کے سنگ باری نے لشکر کے اوسان خطا کردیئے اور ہاتھیوں نے لشکریوں کی لاشوں کو میدان میں مسل (Grand) کر کے رکھ دیا اور صبح تک ابرہہ کے لشکر میں شاید ہی کوئی صحیح اور درست باقی بچا ہو ۔ جو مرے وہ مر ہی گئے لیکن جو بچے وہ بھی دوبارہ جمعیت کو اکٹھاکر کے لڑنے کے قابل نہ رہے اور صبح تک جب ان کا صفایا ہوگیا تو اس طرح کے صفایا سے کسی دوسرے کو دوبارہ لشکر کشی کی ہمت نہ پڑی بلا شبہ ابرہہ نے تو جنگی تدبیر میں کوئی کسر نہ رہنے دی تھی لیکن رب ذوالجلال والاکرام نے اس کی ساری تدبیروں کو ناکام بنا دیا اور اس کی ساری چالوں کو خاک میں ملا دیا اور یہی معنی (تضلیل) کے ہیں کیونکہ کسی کوشش و تدبیر کو ناکام بنانے کو عربی میں ( تضلیل) کہتے ہیں۔
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader
اور (یہ اس طرح کہ اللہ نے) ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرند بھیجے
اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجے تھے
3 ؎ (ابابیل) جھنڈ کے جھنڈ۔ ابو عبدہ نے تصریح کی ہے کہ متفرق جماعت کو ( ابابیل) کہتے ہیں ۔ چناچہ عرب کے لوگ بولتے ہیں : جاءت الحیل ابابیل من ھھنا وھھنا (ادھر اور ادھر سے سواروں کے پرے کے پرے آئے) اس کا واحد آتا ہے یا نہیں اس بارے میں دو اقوال ہیں اخفش اور فراء کا بیان ہے کہ اس کا واحد نہیں آتا اور دوسرا قول یہ ہے کہ واحد آتا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ( ابابیل) کا واحد ابالۃ ہے اور یہ وہ پرندے ہیں جو مرداروں کو کھانے کے لیے خود بخود ہی اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں ایسے پرندوں کو چیل اور گدھ کہتے ہیں اور عربوں کے ہاں ان کو ( ابابیل) کے نام سے موسوم کرتے ہیں لیکن اردو میں ایک چھوٹے پرندے کو جو چڑیا کے برابر ہو یا اس سے ذرا بڑا ہوتا ہے (ابابیل) کہتے ہیں اس لیے ہمارے مترجمین نے وہ اپنے ابابیل مراد لے لیے ہیں لیکن اس کی کوئی سند عربی زبان میں نہیں ملتی کہ ان پرندوں کو جن کو ہمارے ہاں ابابیل کہا جاتا ہے عربوں کے ہاں کیا کہا جاتا ہے یا یہ کہ ابابل ہی کہا جاتا ہے۔ جب کسی نے ایک بار ایک بات کہہ دی تو بس وہ پکی ہوگئی چاہے قرآن کریم اس کو قبول نہ کرے یہی صورت حال اس جگہ ہوئی ہے۔
شان خداوندی کا اظہار دیکھیں کہ جونہی ان پرندوں نے جو مردوں کے لاشوں کو چیر پھاڑ کر کھانے اکور اس زمین کو تعفن سے پاک کرنے کے لیے رکھے ہیں کسی طرح ان کو معلوم ہوجاتا ہے اور ان کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ ہماری خوراک کا بندوبست کردیا گیا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے انسانوں کے سروں پر اڑتے پھرتے نظر آنے لگتے ہیں جب وہ پرندے ان مرداروں کی لاشوں کو کھانے کے لیے آئے تو آسمان پر جدھر نظر پڑتی تھی پرند ہی پرند نظر آتے تھے جس سے دور دراز رہنے والوں کو اور پہاڑوں پر چھپنے والوں کو بھی معلوم کر وا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی جو اسکیم تھی وہ تیار ہوگئی اور اب ان مرنے والوں کا انداز ہوتا ہے کہ ان کی تعداد کتنی ہوگی وہ فوج بھی اپنے فوجیوں کی موت سے اندازہ لگائے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سارے انسانوں کی تفہیم کے لیے ان پرندوں کو بھیج دیا جن کو دیکھ کر ہی مرنے والوں کا اندازہ لگا یا جاسکتا تھا کہ وہ سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہیں اور پہاڑوں کے نشیب و فراز سے لاشوں کا جمع کرنا بھی اتنا آسان نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو نہ صرف دشمنوں سے پاک و صاف کردیا بلکہ ان کے تعفن سے بھی بیت اللہ کے مضافات کو پاک و صاف کرا دیا اور ابرہہ اور اس کے بچے ہوئے لشکر نے دوبارہ بیت اللہ کی طرف رخ ہی نہ کیا وہ سیدھے جہاں سے آئے تھے کٹے پھٹے اور مرے مارے جو بچے کھچے تھے وہ واپس صنعا پہنچ گئے تاکہ ان کو دیکھ کر اہل صنعا اس بات کا اندازہ لگا لیں کہ جس کو اللہ تعالیٰ ذلیل و خوار کرنا چاہے اس کو ضلالت اور خواری سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader
وہ (بھی جو) ان (کی فوج) پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے
عربوں کی وہ فوج جس نے ابرہہ کے لشکر پر سنگ باری کی
4 ؎ قدرت خداوندی کا اندازہ لگائو کہ وہ کیونکر چڑیوں سے بازوں کو مروا دیتا ہے۔ طاقتوروں کو بےطاقتوں اور ہتھوں والوں کو نہتوں سے اس طرح ذلیل و خوار کر کے رکھ دیتا ہے کہ صاحب عقل و فکر حیران و ششدر ہو کر رہ جاتے ہیں کہ نظر کیا آتا تھا اور کیا ہو کر رہ گیا ۔ ترمی فعل ہے اور اس کے فاعل مفسرین نے ان پرندوں کو کردیا ہے جن کا ذکر ابابیل کے نام سے کیا گا ہے لیکن ہمارے نزدیک ترمی کے فاعل وہ عرب اور خصوصاً قریش نوجوان ہیں جو اس مقصد کے لیے تیار کیے گئے تھے اور جو پہلی آیت میں ( الم تر) کے مخاطب بھی ہیں ۔ مفسرین نے ترمی کے فاعل پرندے قرار تو دے دیئے لیکن اس کے لیے کوئی دلیل وہ پیش نہ کرسکے کہ پرندوں کے پتھر پھینکنے پر اس کا اطلاق کیسے درست ہے جب کہ اس میں ارادہ اور جس آلہ سے رمی کرنا ہے اس کا ہونا بھی ضروری ہے خواہ وہ آندھی کے تیز و تند تھپڑے ہوں یا انسان کے ہاتھ اور فلا فن ہو ۔ مفسرین نے یہ تخیل کہاں سے لیا اور یہ کہانی کیسے گھڑی کہ جب عربوں نے بیت اللہ کو بچانے کی کوئی تدبیر نہ کی بلکہ جس کا گھر ہے اس کو اس پر چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے جو صاحب گھر ہے پرندوں کو بھیجا جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکر تھے اور وہ پرندے ابرہہ کے لشکر پر جب اپنی اپنی جرنچوں اور پنجوں سے پتھر پھینکتے تو وہ کلاشن کو(Clashun Caaf) کے فائر (Brust) کا کام کرتے تھے اور اس طرح گویا ان پرندوں نے ابرہہ اور اس کے لائو لشکر کو بھگا کر رکھ دیا حالانکہ نہ تو اس کا ذکر قرآن کریم میں ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں ہے بس ایک تخیل ہے جو بالکل خود ساختہ ہے ۔ ہم کو معلوم ہے کہ لوگ ہم کو مطعون کریں گے کہ یہ معجزات کے انکار کے باعث ہے لیکن پہلے تو معجزات گھڑنے کی کوئی ٹکسال اسلام نے نہیں کھولی اور دوسری بات یہ ہے کہ صرف ایک معجزہ گھڑنے کے باعث اصولوں سے انحراف کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ انسانوں کو جو صاحب ارادہ ہیں ان کی استطاعت کے مطابق زور لگانے کی ہدایت کرتا ہے اور مسلسل اس جدوجہد کو شروع کرا دیتا ہے کہ تم اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کرو اور پھر انحصار اللہ پر رکھو اور جو قوم جدوجہد نہ کرے ، اندھی ، بہری ہو کر بیٹھ رہے تو ان لوگوں کی مدد اللہ تعالیٰ کبھی نہیں کرتا وہ ہمیشہ بد اعتدالیوں سے کرتے ہیں جو کچھ کرتے ہیں ۔ غور کرو کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے قوم نے زمین کی پیداوارساگ پات ، دالیں ، سبزیاں اور تر کاریاں وغیرہ کھانے کی اپیل کی تو ان کو حکم دیا کہ تم مصر میں جائو وہاں جا کر اس طرح کی جدوجہد کرو جس جد وجہد کے نتیجہ میں تم کو وہ ساری چیزیں میسر آجائیں گی جن کا تم مطالبہ کر رہے ہو لیکن بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے صاف کہہ دیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم جائو اور تمہارا اللہ ۔ تم جا کر لڑتے رہو ہم تو اس جگہ بیٹھیں گے ہم کو دینا ہے تو اسی طرح دینا ہے ۔ پھر کیا ہوا کہ وہ مدتوں ان میدانوں میں خراب ہوتے رہے اور جب تک انہوں نے اپنا فرض ادا نہ کیا اللہ تعالیٰ نے بھی انکی حالت کبھی نہ بدلی ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ اسی کی مدد بھی کرتا ہے جو خود اپنی مدد کے لیے آپ تیارہو ۔ رسول اللہ ﷺ کے مغازی پر نظر دوڑائو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جہاد کے لیے میدان میں آپ ﷺ کس طرح اترتے رہے اور کن کن مشکلات سے گزر کر آپ ﷺ نے کامیابیاں حاصل کیں حالانکہ حالات اگر بہت زیادہ نازک ہوگئے تو مدینہ طیبہ کے گرد ایک بہت بڑی خندق کھود کر اپنے بچائو کی ساری تدبیریں بھی کیں اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کو حرکت دی اور ان کو تہہ وبالا کر کے رکھ دیا ۔ لفظ ( سجیل) کی تحقیق قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ یہ فارسی لفظ سنگ و گل کا مغرب ہے جس کے معنی کنکر اور پتھر کے ہیں جب کہ اس کے ساتھ ( حجارۃ) کا لفظ بھی واضح طور پر موجود ہے۔
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader
پھر ان کو کھائے ہوئے بھوسی کی طرح (بےحیثیت) کر دیا
پھر ان کو کھائے ہوئے بھوس کی طرح کر دیا
5 ؎ ( عصف) بھس ، بھوسا ، بھوسی چھلکا کھیت کے پنے ۔ تفسیر کبیر میں اس کے حسب ذیل معانی بیان کیے گئے ہیں : (1) بھوسا جو ہمارے مریض استعمال کرتے ہیں۔ (2) اس پودے کے پتے کہ جس میں ڈنٹھل نہ ہوں اور اس ڈنٹھل کے اطراف و جوانب میں پتے ہوں جیسا کہ خوشے کے اوپر پتے ہوتے ہیں پ۔ (3) کھائے ہوئے پھل کا چھلکا اور دراصل یہ بےحیثیت چیز کے لے بولا جاتا ہے جس کو بےحیثیت یا بےوقعت کہتے ہیں اور کمال کی چیز کیا ہے ذرا غور کرو کہ اس بھس وغیرہ کو جب جانور کھاتے ہیں تو پہلے وہ اسے اپنے دانتوں سے چبا کر ریزہ ریزہ کردیتے ہیں اور پھر وہ چبائے ہوئے پتے اور بھس معدہ میں جا کر ہضم کا مرحلہ طے کرتے ہیں اور آخر میں وہ گوبر یا لید کی صورت اختیار کر کے باہر نکلتے ہیں اب خود ہی سوچو کہ ان پتوں کی حالت کتنی خستہ اور تباہ ہوتی ہے ؟ یہی حالت ان کی بھی ہوگئی تھی کہ ان میں سے لشکر کی اکثریت تو مکہ کے میدانوں میں مر کھپ گئی جن سے پرندوں نے پیٹ بھرے اور جو باقی بچے وہ بھی ناکارہ ہو کر تھوڑی سی تعداد میں واپس یمن پہنچے اور اس وقت ابرہہ اور اس کے ساتھی اپنے ملک میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہے اور آج تک دنیا ان کی (تضللی) کر رہی ہے۔ گویا اس طرح وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی آخرت بھی برباد ہوئی اس طرح قرآن کریم نے جو ان کی ذلالت کا نقشہ کھینچا وہ ان پر سو فیصد صادق آتا ہے اور مومنوں اور مسلمانوں کے لیے اس میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ ؎
دنیا کے عبادت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
اور اقبال (رح) اس کو یوں بیان فرماتے ہیں ؎
مزا تو جب ہے کہ ہم خود دکھائیں کچھ کر کے جو مرد ہے ، نہیں ہوتا ہے غیر کا ممنون
اور اسی پر ہم اس سورة کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں سبحان اللہ ذی الملک الملکوت سبحان ذی العزۃ والعظمۃ والھیبۃ والکبریا والجبروت۔