104. Surah Al-Humaza

الهمزةThe Traducer · 9 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 104:1

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ Open ayah 104:1 in the Quran reader

خرابی ہے اس شخص کے لیے جو طعنہ زنی اور عیب جوئی کرنے والا ہے

خرابی ہے اس شخص کے لیے جو طعنہ زنی اور عیب جوئی کرنے والا ہے 1 ؎ (ھمزۃ) اس کا اصل مادہ م ز ہے اور ہمزہ صیغہ مبالغہ ہے۔ بڑا عیب گو اور کثیر الغیۃ یعنی کثرت سے غیب کرنے والا ۔ بطور طعن آنکھ سے اشارہ کرنا ، نچوڑنا ، چبھونا ، عیب گوئی کرنا ، دور کرنا ، مارنا ، کاٹنا ، توڑنا ، شیطانی وسوسہ اور دیوانگی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ لوگوں کے عیب ڈھونڈنے والا ، چغل خور اور عیب چیں وغیرہ سب اس کے معانی ہیں اور اس کے معنوں میں بہت وسعت ہے اور اس میں خرابی اور بڑائی ۔ ہائے ہائے اور افسوس پایا جاتا ہے۔ ( لمزۃ) صیغہ صفت برائے مبالغہ عیب چینی اور پس پشت عیب بیان کرنے والا ۔ آنکھ سے بطور طنز اشارہ کرنے والا اور اس کا مادہ ل م ز ہے اور اس مادہ کے چند الفاظ بھی قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں جیسے ( تلمزوا) (49 : 11) (یلمزک) (9 : 58) (یلمزون) (9 : 79) اور زیر نظر آیت میں ( لمزۃ) گویا ہمزہ اور لمزہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں ۔ ہر چغلی کھانے والے ، دوستوں میں جدائی اور تفرقہ ڈالنے والے ، بےقصور اور بےعیب انسانوں میں نقص نکالنے والے کو ہمزہ اور لمزہ کہتے ہیں اور بعض اہل زبان نے ان دونوں میں جو باریک فرق بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ بدو لعنت زنی کرنے والے کو ہمزہ اور پس پشت عیب جوئی کرنے ووالے کو لمزہ کہتے ہیں ۔ اور بعض نے اس کا عکس بھی بیان کیا ہے علاوہ ازیں ان کے لیے کئی اقوال نقل کیے گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ اتنے قریب المعنی ہیں کہ اہل لغت کے لیے ان کا الگ الگ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔ کفار مکہ میں بھی قرآن کریم کے نزول کے وقت ایسے لوگ موجود تھے لیکن اس وقت ہمارے معاشرہ اسلامی میں بھی بکثرت ایسے لوگ موجود ہیں اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ وہ کافر تھے اور ہم مسلمان ہیں اور اس وقت مسلمانوں میں یہ کمزوریاں عام ہیں کہ جہاں غریب اور کمزور سے آمنا سامنا ہوا تو اس کے منہ پر اس کو برا بھلا کہہ لیا کیونکہ اس کی طرف سے کسی طرح کی مزاحمت کا خطرہ کم ہی ہوتا ہے اور وہ جوابی کارروائی کر ہی نہیں سکتا اور اگر زبان کھولے گا تو بھی سختی سے اس کو لگام دی جاسکتی ہے اور جہاں کوئی اپنے سے طاقتور مد مقابل ہوا اس کے سامنے اس کی تعریف بھی کردی اور اس کی خوشامد میں بھی چند جملے بول دیئے اور جب وہ چلا گیا تو دوسروں سے آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کی غیبت کرنا شروع کردی یہ ایسا ہے ، ویسا ہے ، اس میں یہ عیب ہے ، وہ عیب ہے اور اس میں فلاں کمزوری ہے اور فلاں کمزوری ہے گویا اس کی عدم موجودگی میں دل کی بھڑاس نکال لی جاتی ہے اور اس وقت بڑے علامہ حضرات اور حضرت العلام ، مذہبی رہنما اور قوم کے و ڈیرے سب کے سب اس میں شامل ہیں لیکن ماشاء اللہ سب اس وقت کے کفار کے لیے یہ آیت خاص سمجھتے ہیں اگرچہ یہ بات سو فی صد غلط ہے کیونکہ یہ عادات و خصائل ہیں ، جس زمانہ میں ، جس میں یہ پائی جائیں گی ان کو ان القابات کا مستحق قرار دیا جائے گا خواہ موجودہ دور میں ہوں یا کسی آگے آنے والے زمانہ میں ۔
Ayah 104:2

اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ Open ayah 104:2 in the Quran reader

جو مال کو (ناجائز طریقہ سے) جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے

جو مال کو جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے 2 ؎ گزشتہ آیت میں دو صفات جن لوگوں کی گنائی گئی ہیں ان کے متعلق مزید فرمایا جا رہا ہے کہ یہ عادات و خصائل ان لوگوں کے ہیں جو بہت مالدار ہیں اور مال و دولت کے جمع کرنے کے عادی مجرم ہیں کہ پیسہ خرچ ہو تو ان کی جان ہوتی ہے اور مال و دولت کی جمع کرنے کے لیے وہ سارے جتن کرتے ہیں اور جب مال جمع ہوگا تو اب گویا وہ بڑے لوگ بن گئے اور پھر کوئی سمجھے یا نہ سمجھے بہر حال وہ خود تو اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھنے لگتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بنظر حقارت دیکھتے ہیں لیکن دولت مند ہونے کے باوجود بڑے کنجوس مکھی چوس ہیں کہ مال و دولت کو گن گن کر بڑی احتیاط سے اسے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ایک درہم بھی خرچ کرنے کی ان کو ہمت نہیں ہوتی حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ مال دے تو انسان اس کے ساتھ نیکی کما سکتا ہے لیکن نیکی نام کی کوئی شے ان کے نزدیک ہی کب ہے ؟ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مال کی محبت انسان کو ہو تو وہ اس حد تک ہو کہ انسان اس کے باعث اپنی اور دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرے لیکن جو خود اپنی ذات کے لیے خرچ نہیں کرسکتا وہ دوسروں کے لیے کیا خاک خرچ کرے گا ؟
Ayah 104:3

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ Open ayah 104:3 in the Quran reader

وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس (کے نام) کو باقی رکھے گا

وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کے نام کو باقی رکھے گا 3 ؎ انسانی خواہشات میں سے یہ خواہش بھی سر فہرست ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ میرا نام باقی رہے اس کے لیے وہ اولاد کی خواہش رکھتا ہے اور اولاد کے بعد مال کی خواہش رکھتا ہے تو اس کا مدعا بھی یہ ہے لیکن اگر انسان غور کرے تو گزشتہ لوگوں کے حالات پڑھنے اور سننے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نہ تو کوئی شخص اولاد کے باعث اپنا نام زندہ رکھ سکا اور نہ مال و دولت کے بل بوتے پر کوئی شخص اپنے نام کو سدا زندہ رکھ سکا پھر یہ مقصد بھی تو اس کا اسی طرح پورا ہو سکتا تھا کہ وہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ، اپنی ذات پر بھی خرچ کرتا اور دوسروں کی ضرورتوں کے لیے بھی خرچ کرتا لیکن جب وہ بوجہ بخل مال کو خرچ کرنا جانتا ہی نہیں وہ تو لے لے آ اور دھر دھرجا کو سمجھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص محض اپنی حماقت سے سمجھتا ہے کہ محض روپیہ اسے ہمیشہ رکھے گا کیونکہ آخر اس کو مرنا ہے اور اس مال کو اس نے اس دنیا میں چھوڑ کر چلے جانا ہے تو ضرور تھا کہ وہ اپنے لیے بھی خرچ کرتا اور اللہ کی راہ میں اس کی مخلوق کی ہمدردی میں بھی مال کو خرچ کرتا کیونکہ یہی طریقہ ہے جس سے دنیا میں بھی انسان کے سر پر بقائے دوام کا تاج رکھا جاتا ہے اور آخرت میں بھی ابدی جتنی زندگی نصیب ہوتی ہے اس لیے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مال اگر کسی صورت میں نفع دے سکتا ہے تو اس کے لیے صرف اور صرف یہ صورت ہے کہ مال کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وہ اپنی ضرورتوں اور مخلوق کی دوسری ضرورتوں پر خرچ کیا جائے اس میں جس قدر بھی علو اور ہمیشگی انسان کو مال کے ذریعہ سے حاصل ہے یا ہو سکتی ہے وہ اسی مال کے برمحل خرچ کرنے میں مضمر ہے نہ کہ مال کو باقی رکھنے میں خواہ دنیا کے لیے ہو یا آخرت کے لیے لیکن جو شخص مال کو خرچ ہی نہیں کرتا اور دن رات اس کی بڑھوتری کی فکری میں غلطاں و پیچاں ہے تو سوائے اس کے کیا سمجھا جائے گا کہ وہ سمجھتا ہے نہ میں مروں گا اور نہ یہ مال مجھ سے جدا ہوگا اور یہ سونے چاندی کے ٹکڑے ہی میری زندگی اور ہمیشگی کا موجب ہیں ۔ تو اس نے جو سمجھا غلط سمجھا اور بالکل فضول سمجھا اور یہی بات قرآن کریم کی آیت کہہ رہی ہے۔
Ayah 104:4

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ Open ayah 104:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، وہ یقینا (اپنے مال سمیت) حطمہ [ میں پھینک دیا جائے گا

ہرگز نہیں وہ یقینا حطمہ میں پھینک دیا جائے گا 4 ؎ (ینبدن) کا اصل ماد ہ ن ب ذ ہے ۔ واحد مذکر غائب مضارع مجہول یا نون تاکید ثقیلہ نبذ مصدر اس کو ضروری پھینکا جائے گا ( حطمۃ) روندنے والی ۔ حطم سے مشتق ہے اور دوزخ کے ایک طبقہ کا نام ہے یعنی ضرور اس کو ( حطمۃ) میں پھینکا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ حسد و بخل کا مجسمہ ایک دن اسی طرح حسد و بخل کی آگ میں جلتا ہوا دنیا کا سب مال و دولت اور جھوٹی عزت چھوڑ چھاڑ اگلے جہان میں اپنے اعمال کے نتائج بھگت رہا ہوگا اور وہاں اپنے آپ کو وہ اس دوزخ میں پائے گا جس کا نام ( حطمۃ) بھی ہے۔ گویا ایسے ننگ انسانیت کو دوزخ میں پھینکنے کا ذکر کرتے وقت ایسا لفظ استعمال ہوا جو اس مفہوم کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تحقیر و تذلیل کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج یہ لوگ اپنے اپ کو باپ دادا والے سمجھتے ہیں اور برادری اور خاندان کے نشہ میں مست ہیں اور اپنے آپ کو رئیس ، بڑے رئیس اور سردار تصور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم رانی خاں کے سالے ہیں اور اس طرح معاشرے میں ان کو جو اہمیت حاصل ہے دولت کی کثرت کے باعث لوگوں کے دلوں پر ان کا رعب بیٹھا ہوا ہے اس لیے یہ اپنے آپ کو اس طرح سمجھنے لگے ہیں لیکن یہ خوب کان کھول کر سن لیں کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے نزدیک یہ لوگ پھٹی پرانی جوتی سے بھی زیادہ حقیر ہیں اس لیے ان کو اوپلے اور ایندھن کے طور پر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا جو آن واحد میں ان کو پیس کر رکھ دے گی اور ان کے پرخچے اڑا دے گی اور پوچھنے والے ان سے پوچھیں گے کہ : ( ذوق انک انت العزیز الکریم) (44 : 49)
Ayah 104:5

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ Open ayah 104:5 in the Quran reader

اور تجھے کیا معلوم کہ وہ حطمہ کیا شئے ہے ؟

اور تجھے کیا معلوم کہ وہ حطمہ کیا شے ہے ؟ 5 ؎ اس طرح کا سوال جس چیز کے متعلق کہا جاتا ہے محض اسکی اہمیت کو بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے اور یہاں بھی اسی عرض کے لیے یہ سوال اٹھایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جذبات کے غلام ہوں اور ان کے دلوں میں حسد ، غضب ، شہوت اور طمع و بخل وغیرہ کے جذبات موج زن ہوں وہ ایک ایسی آگ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ دنیا کی کوئی چیز اسے سرد نہیں کرسکتی پس جو لوگ خود بھی اخلاق فاضلہ سے عاری ہیں اور دوسروں کی عیب جوئی ، عیب شماری اور طعن وتشنیع میں لگے رہتے ہیں ظاہر ہے کہ ان کے قلب کے اندر حسد کی آگ جل رہی ہے جس کے ماتحت وہ لوگوں کی عزت اور خوبی کو دیکھ ہی نہیں سکتے اور اپنی اپنی زبان کے حملوں سے ان کو توڑنا چاہتے ہیں ۔ پس ضروری ہے کہ ان کی سزا میں اللہ تعالیٰ ان کی جھوٹی شیخی اور ناحق بڑائی کو توڑ دیتا ہے اور ان کا انجام حطمہ ہے جو توڑدینے والی ہے اور ضروری ہے کہ حسد کی آگ جو ان کے دلوں میں موجزن ہے۔ آخرت میں آگ کی شکل میں انہیں گھیرے اور دنیا میں بھی جو لوگ دولت کے جمع کرنے میں طمع اور بخل کے جذبات میں گھرے ہوتے ہیں ایک آگ ہوتی ہے جو ان کے دلوں میں جل رہی ہوتی ہے جو کسی طرح ٹھنڈی ہونے میں نہیں آتی اور آخرت میں یہی آگ متمثل نظر آئے گی گویا یہ وہی لوگ ہوگی جو حسد ، طمع اور بخل کے اخلاق رذیلہ میں گھرے ہوئے انسانوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ وہ آخرت میں ان لوگوں کے اراد گرد نظر آئے گی ۔ اس آگ کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے یہی وہ حطمہ ہے جو اچانک ان کو توڑ کر رکھ دے گی اور ان کا سارا بھرم سب کے سامنے کھل جائے گا ۔ اب حطمہ کی مزید وضاحت خود قرآن کریم نے کردی جو آگے آنے والی ہے اس کو ملاحظہ کریں۔
Ayah 104:6

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ Open ayah 104:6 in the Quran reader

وہ (حطمہ) اللہ کی خوب بھڑکائی ہوئی آگ ہے

وہ حطمہ اللہ تعالیٰ کی خوب بھڑکائی ہوئی آگ ہے 6 ؎ ( الموقدۃ) اسم فاعل واحد مؤنث ایقاد مصدر ۔ بھڑکائی ہوئی ۔ اس کا اصل مادہ و ق د ہے اور وقود اس ایندھن کو بھی کہتے ہیں جو چولہے میں جلایا جاتا ہے ۔ بخیل اور حاسد انسان نہیں چاہتے کہ دوسروں کے حصے میں بھی کچھ آئے بلکہ وہ سب کچھ خود ہی سمیٹ لینا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ جو کچھ وہ جمع کرسکتے ہوں اپنے لیے جمع کرلیں اور دوسروں کو اس سے محروم دیکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کی تمنائوں اور درخواستوں کی آگ بھی ان کے گرد آ کر سمٹ جاتی ہے پس وہ آگ جو ان کے دلوں سے شروع ہوئی تھی ان کی بڑھتی ہوئی تمنائوں اور خواہشات کی وجہ سے ان میں وہ تمام عمرگھرے رہے اس جگہ بھی ان کو اپنے گھیرے میں لے لے گی۔ اس لیے اس کے متعلق ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جلائی ہوئی آگ ہے کیونکہ ان کے اعمال و افعال کے نتائج اللہ تعالیٰ ہی کے ہاں تیار ہو رہے ہیں اور اسی کے نظام کے مطابق ان کو محفوظ رکھا جا رہا ہے۔
Ayah 104:7

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ Open ayah 104:7 in the Quran reader

جو دلوں کی تہ تک جا پہنچے گی

جو دلوں کی تہہ تک جا پہنچے گی 7 ؎ (تطلع) تو خبردار ہوتا ہے ۔ تو خبردار ہوگا ۔ اطلاع سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ وہ خبر دار ہوتی ہے۔ وہ جھانک لیتی ہے۔ (افتدۃ) دل ۔ فواد کی جمع جس کے معنی دل کے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ دلوں کو جھانک لیتی ہے اور جن لوگوں کے دل دنیا کی طرف مائل ہوتے ہیں اور آخرت کو وہ نہیں چاہتے ان کے دلوں کو آگ جھانک لیتی ہے اور اس کی شوزش اور تپش (Heat) سے دل بھن کر کباب ہوجاتے ہیں اور آخرت میں بھی وہی آگ اس کے لیے دوزخ کی آگ ثابت ہوگی۔
Ayah 104:8

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ Open ayah 104:8 in the Quran reader

بلاشبہ وہ (آگ میں) بند کردیئے جائیں گے

بلا شبہ وہ آگ میں بند کردیئے جائیں گے 8 ؎ ( موصدۃ) جس کا اصل مادہ اص د ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے دوسرا کوئی لفظ اس مادہ کا قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا اور اس کا استعمال بھی صرف دوبارہ ہوا ہے ایک بار سورة البلد کی آیت 20 میں اور دوسری بار اس سورة الھمزہ میں۔ ( موصدۃ) اسم مفعول واحد مؤنث ہے۔ ایصاد باب افعال بند کی ہوئی ۔ وصد بنناد صید اور وصیدہ چوکھٹ ، صحن ، وہ خطیر جو جانوروں کے لیے پتھروں کا بنا لیا جاتا ہے۔ لکڑیوں سے بنایا ہوا باڑ ۔ اصحاب کہف کا غار بند کیا ہوا۔ دروازہ بند کرنا اور قفل لگانا ۔ اس حالت پر غور کرو کہ جب کسی دروازے کے کواڑ بند کردیئے جائیں اور اندر سے کنڈی لگا دی جائے اور ان کے دوبارہ کھلنے کی بظاہر کوئی صورت نہ ہو تو عرب کہتے ہیں : صدت الباب اور اسی سے ( موصدۃ) ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ۔ اسم مفعول ہے یعنی ان ناہنجاروں اور نابکاروں کو دوزخ میں داخل دیا جائے گا اور اس کے دروازے بہت مضبوطی کے ساتھ مفعل کردیئے جائیں گے نہ انہیں کوئی کھول سکے گا اور نہ ہی اس عذاب الیم سے وہ نکل سکیں گے اور دوسری جگہ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمادیا گیا ہے کہ دوزخ میں ان کو کھانے کے لیے اور مشروبات میں کیا کچھ پیش کیا جائے گا اس کی تفصیل عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہشتم سورة الواقعہ میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔
Ayah 104:9

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ Open ayah 104:9 in the Quran reader

(وہ لوگ اس آگ میں) لمبے لمبے ستونوں میں بندھے ہوئے ہوں گے

وہ لوگ اس آگ میں لمبے لمبے ستونوں میں بندھے ہوئے ہوں گے 9 ؎ (عمد) ستون ، عمود اور عماد کی جمع ہے۔ ( ممددۃ) اسم مفعول واحد مؤنث ۔ تمدید مصدر باب تفعیل ۔ لمبے کیے گئے ۔ اس کا اصل مادہ م د د ہے اور مد یمد کے معنی کھینچنے اور لمبا کرنے کے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے بہت لمبے لمبے ہوں گے جو اپنی لپیٹ میں دھاڑ کرلینے کے لیے تیار ہوں گے اور لمبے لمبے ستونوں کی طرح بلند ہوں گے جو نہ تو بجھیں گے اور نہ ہی ان کے درد و الم میں کوئی تخفیف ہوگی پھر اس طرح ان کی سزا کٹے گی اور جوں جوں ان کی سزا کٹتی جائے گی دوزخ سے ان کو نکال لیا جائے گا اور اس میں وہی بد بخت رہ جائیں گے جو ابدی عذاب میں جلنے والے ہوں گے ۔ اگر مزید تفصیل درکار ہو تو اس جلد کے اندر سورة الحاقہ کی آیت 30 تا 34 کی تفسیر دیکھ لیں حقیقت مزید واضح ہوجائے گی اور بحمد اللہ ہم سورة الھمزۃ کی تفسیر کو اسی جگہ ختم کر رہے ہیں ۔ اللھم اغفرلنا ، اللھم اغفرلنا ، اللھم اغفرلنا وارحمنا مولانا۔