103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 103:1

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

قسم ہے زمانہ (کے رب ) کی

قسم ہے زمانہ کے رب کی 1 ؎ ( والعصر) عصر سے مراد زمانہ ہے اور وقت عصر بھی ۔ امام راغب رقمطراز ہیں کہ عصر اور عصر کے معنی زمانے کے ہیں ۔ اس کی جمع عصور ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ( والعصر ان الانسان لفی خسر) زمانہ کے رب کی قسم بلا شبہ انسان ٹوٹے یعنی گھاٹے میں ہے۔ نیز عصر کے معنی پچھلے پہر یعنی دن کے آخری حصے کے بھی ہیں اور اس معنی میں نماز عصر بھی مراد لی گئی ہے۔ ( مفردات) صاحب قاموس نے اس کی جمع اعصار عصورا اعصر اور عصر نقل کی ہے۔ آیت میں ( عصر) سے مراد بعض نے زمانہ لیا ہے اور بعض نے نماز عصر اور دونوں معنی صحیح ہیں۔ (والعصر) ایک چھوٹا سا کلمہ ہے لیکن اس کے اندر بہت بڑا وسیع مضمون پنہاں ہے۔ غور کرو کہ دنیا کا کوئی نیک وبد ، بڑا اور چھوٹا ، امیر و غریب خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو اس زمانہ سے باہر ہے ؟ ہرگز نہیں زمانہ ہے تو سب کچھ ہے اور زمانہ نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ۔ جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا وہ زمانہ ہی میں رکھا اور زمانہ ہی میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا ۔ اس دنیا میں جتنے مصلح ، نبی و رسول آئے وہ اسی زمانے میں آئے اور اسی میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی زندگیوں کے حالات مرتب ہوئے ، ان کی قوموں کی داستانیں تیار ہوئیں تو زمانہ سب کے ساتھ ساتھ رہا ۔ اب بھی ہم کسی نبی و رسول کی قوم کی کہانی دیکھتے ، پڑھتے اور سنتے ہیں تو ان کے زمانہ کی بات ہوتی ہے گویا اس زمانہ نے کتنی تاریخ مرتب کی ہے اور اب بھی کر رہا ہے اور جب تک یہ نظام قائم ہے مرتب کرتا رہے گا ۔ یہ زمانہ ہی ہے جس نے ان ساری باتوں کو یاد رکھا جو انسانوں کی بھلائی کے لیے کام دیتی ہے ، دے رہی ہیں اور دیتی رہی گی۔ یہ زمانہ ہی ہے جو تلقین کرتا ہے کہ اپنی زندگیاں غفلت میں مت گزارو اور اگر تم نے غفلت میں زندگی بسر کردی تو زمانہ تم کو کبھی معاف نہیں کرے گا اور تمہارے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو تم سے پہلوں کے ساتھ ہوا ۔ زمانہ انسان کو بہت کچھ دیتا ہے لیکن اس کو جو اس سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ زمانہ ہی ہے جو انسان سے بہت کچھ لے بھی جاتا ہے لیکن اس سے جو زمانہ کو دے ، دینے پر تیار ہوتا ہے۔ تا ہم کوئی زمانہ سے روٹھ جائے تو زمانہ بھی اس سے روٹھ جاتا ہے اور اگر کوئی شخص زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وہ مجھے برا بھلا کہتا ہے اور باقی سب باتیں اگر حذف کردی جائیں تو اس سے زمانہ کی اہمیت صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے۔ زمانہ ہی وہ چیز ہے جو ماضی ، حال اور مستقبل پر یکساں اطلاق کرتا ہے اس لیے زمانہ کا لفظ بول کر ماضی ، حال اور مستبل سب اس میں شامل کردیا گیا اور اس لحاظ سے شہادت ہر آن ، ہر لمحہ اور ہر لحظہ کی پیش کی جاتی ہے اور پیش کی گئی ہے اور عصر میں وہ کچھ سما گیا ہے جو اب تک دنیا میں رونما ہوا اور جو اس وقت دنیا میں رونما ہو رہا ہے اور جو رہتی دنیا تک اس دنیا میں رونما ہوتا رہے گا ۔ پھر اس کی وسعت کا کوئی شمار باقی رہ جاتا ہے یا کوئی ہے جو اس کو ماپ سکے اور اس کی اہمیت کو واضح کرسکے۔ جس زمانہ نے آدم سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک سارے نبی و رسول دیکھے ، ان کے ساتھ رہا اور پھر ان کو باری باری رخصت کردیا اور جس زمانہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد سے لے کر اس وقت تک اربوں ، کھربوں انسانوں کو پیدا ہوتے اور مرتے دیکھا جو زمانہ نیک و بد اور خیر و شر سب ہضم کر گیا اس زمانہ کو اگر بطور شہادت یا گواہ پیش کیا گیا ہے تو کیا اس گواہی کو معمولی گواہی کہا جاسکتا ہے اس طرح اگر تم غور کرو گے تو اعتراف کرنا پڑے گا کہ قرآن کریم میں جتنی گواہیاں پیش کی گئی ہیں ان سب گواہیوں سے یہ گواہی زیادہ اہم اور زیادہ اہمیت کی حامل ہے اور اس سے یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ جس مضمون کو اس زمانہ کی شہادت سے مؤکد کر کر کے بیان کیا گیا ہے وہ مضمون کتنا اہم ہوگا اور بلا شبہ یہ مضمون بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی اہمیت کسی انسان سے بھی پوشیدہ نہیں ہے بشرطیکہ انسان میں انسانیت نام کی کوئی چیز موجود ہو۔
Ayah 103:2

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

بلاشبہ انسان خسارے میں رہا

بلا شبہ انسان خسارہ میں ہے 2 ؎ (الانسان) کا لفظ پورے قرآن کریم میں 58 بار استعمال ہوا ہے جس میں سے 16 بار صرف اس تیسویں پارہ میں ( الانسان) کا لفظ آیا ہے اور ان سولہ بار میں سے ہر ایک جگہ ( الانسان) سے وہی انسان مراد ہیں جو روز قیامت سے منکر ہیں خواہ ان کا انکار قولی ہے یا فعلی اور ان سولہ بار میں سے ایک بار اس جگہ بھی ہے اور ظاہر ہے کہ اس جگہ بھی ( الانسان) سے مراد ہی انسان ہے جو قیامت کے قولا ً فعلا ً انکاری ہیں اور جو فریاد قوم و جماعت بھی قیامت کی منکر ہے وہ دنیا میں کتنی ہی کامیاب و کامران ہو اس کے خسارہ میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ اس دنیا کی زندگی ہی بالکل عارضی اور نا پائیدار ہے پھر اس عارضی اور نا پائدیار زندگی کامیابی جبکہ صرف اس زندگی ہی تک محدود ہو اس اخروی زندگی کے خسارہ کے باعث کیا کامیابی ہوئی اور اس کو کیونکر کامیاب کہا جاسکتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ زندگ کے اس کاروبار میں ہمارا سرمایہ وقت ہے اور اس سے بیش قیمت اور عزیز القدر اور کوئی دوسرا سرمایہ نہیں پھر جو لوگ اس سرمایہ کو بےمقصد ضائع کرتے ہیں ، عیش و عشرت میں برباد کرتے ہیں ، باقیات صالحات کی بجائے زوال پذیر اور فانی چیزوں کے حصول میں صرف کرتے ہیں وہ کاروبار زیست سے کیا نفع حاصل کریں گے ؟ راکھ اور مٹی ۔ انہوں نے تو اپنی پونچی ہی ڈبو دی ہے۔ اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ نفع کی بجائے نقصان اٹھایا اور نقد وقت بھی ہاتھ سے کھو بیٹھے اور کاروبار زیست کو از سر نو شروع کرنے کا امکان بھی ختم ہوگیا ۔ اچھا آپ نے کبھی اس مسافر زار دیکھی ہے جو منزل کی طرف پیٹھ کر کے بھاگ رہا ہو اور پھر فل سپیڈ (Full Speed) اور زور سے بھاگ رہا ہو اور سورج ڈوبنے والا ہو اور اس کے ڈوبتے ہی رات کی تاریکی اس کو چار سو اپنی سیاہ زلفوں میں چھپا چکی ہو تو وہ منزل کے کتنا قریب ہوا ؟ اچھا وقت اس مسافر کا مقرر ہے اور اسی وقت مقرر کے اندر رہ کر اس کو بھاگنا ہے اس وقت میں کمی بیشی بھی ممکن نہیں ۔ وقت بہر حال ختم ہوجائے گا خواہ وہ منزل کے قریب ہوا یا منزل سے دور چلا گیا ۔ اب آپ کو منزل کی طرف پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے مسافر کی جستجو ہوگی کہ وہ کون ہے ؟ بلا شبہ یہ فطری تقاضا ہے ، میرا کام اشارہ کرنا ہے ، ٹوہ لگانا آپ کا کام ہے کہ فی الواقع جس طرح ٹوہ لگانا چاہتے آپ لگاتے ہیں یا سر نیچے کر کے اس ٹوہ ہی کو چھوڑ دیتے ہیں تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ میں اور آپ بلکہ ہم میں سے ہر ایک خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے ذرا اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں تو شاید وہ میں ، آپ اور ہم سب ہوں ۔ الا ماشاء اللہ کہ کوئی ہم میں سے ایسا خوش نصیب ہو جو اس کا مصداق نہ ہو۔ سمجھ لو ، سوچ لو اور اچھی طرح فکر کرلو کہ جو لمحہ گزر گیا وہ پھر واپس نہیں آئے گا ۔ اگر وقت کسی مفید کام میں صرف ہوگیا تو وہ ایک خزانہ ہے اور اگر اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور وہ یونہی گزر گیا تو گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔ دنیا کے کاموں کو دیکھ لو جس نے وقت کی قدر نہ کی اس کے گھاٹے میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ رہا ۔ انسان کی عمر کے ہر آنے والے لمحہ کی آرام و آسائش اور دکھ ، تکلیف گزرے ہوئے وقت کے مفید اور غیر مفید کام میں صرف ہونے کا نتیجہ ہوا کرتی ہے۔ امتحان کے لیے ایک میعادمقرر ہوتی ہے جس طاقت علم نے اس وقت مقررہ کے اندر محنت کی اور اپنے وقت کو ضائع نہ کیا وہ کامیاب ہوگیا اور جو کھیلتا اور وقت کو ضائع کرتا رہا وہ ناکام ہوگیا ۔ پس کامیابی حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کا راز یہی ہے کہ وقت کو مفید کاموں میں صرف کرے اور ضائع نہ جانے دے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عمر کا ایک محدود وقت عطا کیا ہے اس کی جو گھڑی بھی بغیر کسی مفید کام میں صرف ہوئے گزر گئی وہ انسان کو گھاٹا دے گئی۔ نادان انسان ہر سال اپنی سالگرہ مناتا اور خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میری عمر کا ایک اور سال بڑھ گیا حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کا ایک اور سال کم ہوگیا ؎ غافل تجھے گھڑیال یہ کرتا ہے منادی خالق نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی
Ayah 103:3

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

مگر ہاں ! جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے اور آپس میں ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور صبر (و استقلال) کی تاکید کرتے رہے

مگر ہاں ! ایمان لانے والے ، اچھے عمل کرنے والے جو حق کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے ہیں 3 ؎ اپنے گزرے ہوئے سال پر نظر ڈالو جس کا سال مفید کاموں میں صرف ہوا وہ کامیاب ہوا اور جس نے وقت کو ضائع کیا وہ خسارے میں پڑا ، زندگی کیا ہے ؟ ایک برف کی تجارت ہے جو برف بک گئی وہ بلا شبہ نفع دے گئی اور جو پڑی پڑی پگھل گئی وہ خسارہ میں چلی گئی اس طرح جو لمحہ کسی مفید کام میں صرف ہوگیا وہ نفع دے گیا اور جو آواز گزر گیا یا کسی غیر مفید کام میں صرف ہوگیا وہ خسارہ دے گیا ۔ انسان کی موجودہ زندگی بلا شبہ آئندہ زندگی کی تمہید ہے پھر اس زندگی کا ہر لمحہ اگر آئندہ زندگی کے اعلیٰ اور بہتر بنانے میں کام نہ آیا تو سمجھ لو کہ وہ خسارہ دے گیا ۔ یہی بات اس جگہ باور کرائی جا رہی ہے کہ وقت گزر رہا ہے اور اپنے گزر جانے کے باعث وہ انسان کو خسارے میں ڈال رہا ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وقت تو ان کا بھی گزر گیا مگر چونکہ اچھے اعمال میں گزرا اس لیے وہ ان کو نفع دے گیا لہٰذا انہوں نے مطلوب حاصل کرلیا اس لیے وہ خسارہ میں نہ رہے۔ گویا نوع انسانی کے وہ افراد جن میں مذکورہ خوباں پائی جاتی ہیں حقیقی فوز و فلاح کا تاج اٹھی کے سر پر سجایا جاتا ہے ۔ اب دیکھ لو کہ وہ خوبیاں کیا ہیں جو ذکر کی گئی ہیں ؟ فرمایا وہ یہ ہیں : (1) کہ وہ صدق دل کے ساتھ اپنے رب کریم پر ایمان لے آئیں نیز ان کے پروردگار اور خالق ومالک نے ان کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے جس نبی کو مبعوث فرمایا ہے اس کی تصدیق کریں اور اس نبی و رسول نے جو ان کے سامنے نظام حیات پیش کیا ہے اس کی تہہ دل سے قبول کریں ۔ (2) یہ کہ اپنی زبان سے جس قلبی ایقان کا انہوں نے اظہار کیا ہے میدان عمل میں اٹھنے والا ان کا ہر قدم اس کی تصدیق کرے۔ جہاں تک ان کی انفرادی زندگی کا تعلق ہے بلا شبہ وہ مذکورہ دو صفتوں کے پائے جانے سے حاصل ہوگئی لیکن اسے چراغ کون کہے گا جو اپنے ماحول کی تاریکیوں کو مٹا کر نہ رکھ دے ، وہ دریا دریا ہی کیا ہوا جو صحرائوں اور چٹیل میدانوں کو سیراب کر کے اشک فردوس نہ بنا دے ، اس لیے فرمایا کہ : (3) تیسری خوبی ان کی یہ ہے کہ وہ اپنے حلقہ اثر میں حق کی پذیرائی اور اسکی بالا دستی قائم کرنے کے لیے بھر پور کوشش کرتے ہیں اور یہ کوشش اس وقت تک بار آور نہیں ہوتی جب تک یہ خود اور ان کی محنت سے حق کو قبول کرنے والے اس راہ کو صعوبتوں کو جوانمردی سے برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا نہ کرلیں۔ (4) پھر یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب وہ ایک دوسرے کو صبر اور استقامت کا درس دیتے ہوں ، مصائب و آلام میں خود استقامت کا مظاہرہ کرکے دوسروں کے لیے دس کش نمونہ پیش کرتے ہیں ۔ یہ صبر کا میابی کی اہم شرط ہے ۔ اس سے مراد فقط یہ نہیں کہ آپ کو کوئی تکلیف آئے اور آپ گھبرائیں نہیں بلکہ اس کے علاوہ نیکیاں کرنے پر صبر ، گناہوں سے اجتناب کرنے پر صبر ، احکام شرعیہ کی پابندی پر صبر ، ماحول کے دبائو پر صبر ہے۔ جب ایک ایسی امت وجود میں آجائے گی جو ان صفات سے متصف ہوگی تو پھر حق کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے گا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایسی امت بنی بنائی آسمان سے نازل ہوگی ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو ہم سب کو مل کر غور کرنا چاہیے کہ ہم ہی امت ہیں اور ہم ہی کو مل کر ان صفات سے متصف ہونا ہے اور ہم ہیں کہ اس کے لیے کبھی تیار نہیں بلکہ ہم نے کبھی سوچا تک بھی نہیں کہ وہ امت ہم ہی ہیں جو اس وقت تک روایات اور رسم و رواج میں کھوئے ہوئے ہیں اور رسم و رواج کی آبیاری کر رہے ہیں اور مختلف فرقوں میں بٹ کر اپنے اپنے فرقہ کی ترجمانی کر رہے ہیں ۔ ہم ترجمان اسلام کے نہیں بلکہ اپنے اپنے مکتب فکر کے ہیں اور جب تک ہم اپنی حالت کو آپ نہیں بدلیں گے اس وقت تک ہماری حالت بدلنے کی کوئی صورت بھی نہیں کیونکہ یہ تو سنت اللہ ہے کہ جو قوم اپنی حالت کو بدلنے کی آپ کوشش نہ کرے اس کی حالت اللہ نے کبھی نہیں بدلی اور آج ہمارے لیے اللہ تعالیٰ اپنی سنت کو بدل دے گا ؟ ہرگز نہیں ، ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ، ہوتے رہیں گے تا آنکہ اللہ توفیق بخشے اور ہم اپنی اصلاح کر کے بدل جائیں اور دنیا پر ثابت کردیں کہ ع ” مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا “ جب ہم خود انحصاری سے کام لیتے ہوئے صرف اور صرف اللہ کو اپنا مدد گار اور حامی سمجھیں گے اور غیر اللہ کے سارے سہاروں پر لات پھیر دیں گے اور کسی بڑے سے بڑے سہارے کو سہارا تصور نہیں کریں گے سوائے اللہ تعالیٰ کے جب یہ عملی طور پر ثابت ہوگیا اور ہم اس کو ثابت کرسکے تو ان شاء اللہ العزیز کوئی طوفان بھی ہم کو سر نگوں نہیں کرسکے گا ، کوئی آندھی اسلام کی اس روشن شمع کو بجھا نہیں سکے گی ۔ آپ ان خوش نصیب انسانوں کی سعادت مندی کا اندازہ لگائیں جن کی عرق ریزیوں ، جگر کا ویوں اور شب بیداری کے باعث حق کو غلبہ نصیب ہوا تھا اور جن کی سرفروشی اور جذبہ ایثار و اخلاص نے ایسی شمعیں روشن کردی تھیں جن سے وہ راستے جگمگا اٹھے تھے جو صدیوں سے تار یک چلے آ رہے تھے ۔ اب وہ انسان کو اپنی حقیقی اور بلند منزل کی طرف لے جانے والے تھے ۔ آج وہ راہیں ہمارے لیے کیوں مسدود ہوگئیں ؟ اس لیے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرسکے اور ہم نے ایک اللہ تعالیٰ کی ذات کو آسرا اور سہارا سمجھنے کی بجائے اللہ کی مخلوق کو سہارا سمجھ لیا اور اس نظریہ و عقیدہ رکھنے والوں کا جو حال ہوتا ہے وہ ہمارا ہوگیا ۔ اس جگہ ( تو اصوا) کا استعمال اور اسکا تکرار بڑا غور طلب ہے کیونکہ ( تو اصوا) کے معنی ہوتے ہیں انہوں نے وصیت کی ، وہ کہہ مرے ، انہوں نے تاکید کی تواصی سے جس کے معنی ایک دوسرے کو باہم نصیحت کرنے اور مرنے کے ہیں ۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ لسان العرب میں ہے کہ : اوص الرجل ورصاہ ٗ عھد الیہ یعنی کسی شخص کا کسی دوسرے کو کسی کام کی تاکید کرنا ۔ علامہ راغب اس کی تشریح کرتے ہیں کہ : الوصیۃ التقدیم الی الغیر بما یعمل بہ متقرنا بوعظ من تولھم ارض واصبۃ متصلۃ النبات (المفردات) کسی کو پند و نصیحت سے کام کرنے پر ابھارنا ، برانگیختہ کرنا ، علاوہ ازیں اس میں تسلسل کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے وہ زمین جس میں مسلسل کاشت ہوتی رہے اور فصلیں اگتی رہیں اسے ارض واصیۃ کہتے ہیں ۔ جوہری نے صحاح میں اور زبیدی نے تاج میں اس کی یہی تشریح کی ہے۔ ( وتواصوا بالحق و تو اصوا بالصبر) کے چار الفاظ ہیں لیکن ان کے اندر جو مفہوم بند کیا گیا ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ جس کے کھولنے کے لیے اگر بیسیوں صفحات استعمال کیے جائیں تو بھی کم پڑیں اس لیے قدرے مزید وضاحت کردینا ہم مناسب سمجھتے ہیں ۔ یہ امر تو سب کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے (لم تقولون مالا تفعلون) (61 : 2) ” وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں “۔ پس مومن کے لیے ضروری ہے کہ جو کچھ دوسرے کو کہے وہ پہلے خود کرے ۔ اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں جو دوسروں کو وصیت کرنے کا حکم دیا ہے اس کو ( تو اصو ابالحق) کو ( امنوا) کے بالمقابل میں رکھا گیا اور (تواصوا بالصبر) کو (عملوالصلحت) کے مقابل میں رکھا ہے اور ( تو اصوا بالحق ) کو ( امنوا) کے مقابلہ میں رکھنے میں یہ اشارہ ہے کہ مومن جو دوسروں کو حق کے قبول کرنے کی وصیت کرتا ہے تو وہ خود ناحق کو کس طرح قبول کرسکتا ہے ؟ پس ( امنوا) کے معنی ہوئے حق پر ایمان لانے والا اور ایمان کہتے ہیں کسی سچائی اور حق و صداقت کو قبول کرنے کو ۔ ناحق اور جھوٹے عقیدے اور نظریوں کو ماننا قرآن کریم کی اصطلاح میں ایمان نہیں کہلا سکتا ۔ ہر ایک گندی ، مشرکانہ اور جھوٹی بات کو مان لینا اور اس کا نام ایمان رکھنا قرآن کریم کے صریح خلاف ہے پس مومن کا کام ہے کہ وہ خود بھی حق مانتا ہے اور دوسروں کو بھی حق پر ایمان لانے کی وصیت کرتا ہے ۔ اسی طرح مومن صبر کی کسی کو نصیحت نہیں کرسکتا ج تک وہ خود بھی اس پر عامل نہ ہو اس لیے ( تو اصوا بالصبر) کو ( عملوا الصلحت) کے مقابل پر رکھا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صبر اور اعمال صالحہ ایک دوسرے سے جدا نہیں اس لیے ایک کی جگہ دوسرے کو استعمال کیا تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہونے کی اہمیت واضح ہوجائے ۔ کسی عمل صالح پر نفع مرتب نہیں ہو سکتا جب تک اس پر استقامت نہ ہو ۔ اگر ایک شخص نے تیس برس نماز پڑھی اور بعد میں چھوڑ دی یا عمر بھر سچ بولے اور مرنے سے کچھ عرصہ قبل جھوٹ بولنا شروع کردیا اور تمام عمر ملازمت میں دیانت داری کرے اور پنشن سے قبل رشوت لینے لگے یا عمر بھر مسلمان رہے اور مرنے سے قبل مرتد ہوجائے تو بوجہ استقامت نہ ہونے کے اس کے اعمال صالحہ ضائع ہوگئے ۔ ایک جھوٹ بولنے والے کی اس لیے عزت نہیں کی جاسکتی کہ وہ آج سے ایک سال قبل سچ بولا کرتا تھا ، کسی بد دیانت ، رشوت خور کے ساتھ اس لیے رعایت نہیں کی جاسکتی کہ آج سے ایک سال قبل تک وہ بہت دیانت دار آدمی تھا۔ ایک شرابی سے اس لیے نہیں رعایت کی جاسکتی کہ آج سے ایک سال قبل تک اس نے تمام عمر شراب نہیں چکھی تھی ۔ اس چیز کے متعلق نبی اعظم و آخر ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایک شخص نیکیاں کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ بہشت کا دروازہ اس سے ایک بالشت کے فاصلہ پر رہ جاتا ہے اور روہاں سے وہ یکا یک جہنم میں جا گرتا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ اعمال صالحہ پر استقامت نہ ہونے کی وجہ سے وہ پھل جو ملنا تھا اس سے محروم ہوجاتا ہے ۔ ایک شخص کنواں کھودتا ہے لیکن تیس فٹ گہرا کھودنے کے بعد اس کو چھوڑ دیتا ہے ممکن ہے دو فٹ اور کھودنے سے پانی نکل آتا لیکن اب اس کی تیس فٹ کھودنے کی ساری محنت ضائع ہوگئی ، کیوں ؟ اس لیے کہ اس نے اپنے فعل میں استقامت نہیں دکھائی۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ : الستقامت فوز الکرامت کہ استقامت کرامت سے بھی بڑھ کر ہے ۔ بایزد بسطامی (رح) ایک ولی اللہ گزرے ہیں۔ ان کی خدمت میں ایک شخص آیا ، سال بھر ان کی خدمت میں رہا آخر ایک دن کہنے لگا کہ صاحب ہم تو آپ کی ولایت کی بڑی شہرت بن کر آئے تھے لیکن آپ میں تو ہم نے کوئی کرامت بھی نہ دیکھی ۔ آپ کہنے لگے اللہ کے بندے سال بھر تو نے میرا کوئی قول و فعل قرآن و سنت کے خلاف دیکھا ؟ اس نے کہا ، نہیں ، فرمایا اس سے بڑھ کر تو اور کیا کرامت مانگتا ہے ؟ اور بلا شبہ یہی سچ ہے کہ اعمال صالحہ پر استقامت ہی وہ چیز ہے جو انسان کو منزل مقصود پر پہنچاتی ہے ۔ پس اس سورت میں جو صبر کو اعمال صالحہ کے مقابلہ میں رکھا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی عمل صالح کہلا ہی نہیں سکتا جو کچھ وقت کر کے چھوڑ دیا جائے یا کوئی مصیبت آپڑے تو اس نے انحراف کرلیا جائے ۔ پس مومن کا کام ہے کہ وہ جن صداقتوں پر ایمان لایا ہے ان کے مطابق عمل بھی کرے اور اس شان سے عمل کرے کہ خواہ کوئی حالت بھی دکھ یا سکھ کی اس پر وارد ہو تو وہ کسی صورت میں بھی اس سے باز نہ آئے ۔ تب اس مقام پر وہ عمل حقیقی معنوں میں عمل صالح کہلانے کا مستحق ہوتا ہے جو اعلیٰ اور کامل نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے ۔ اس قسم کے اعمال کو جہاں ایک طرف اعمال صالحہ کہتے ہیں تو دوسری طرف (الصبر) کہا گیا ہے گویا اعمال صالحہ اور استقامت و صبر ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے بلکہ لازم و ملزوم ہیں اور اس قسم کے اعمال صالحہ یا صبر کی ایک مومن دوسروں کو وصیت کرتا ہے ۔ مختصر یہ کہ اس آیت میں مومن کے دو قسم کے فرائض بتائے ہیں جن کے بجا لانے سے وہ خسارے سے بچ سکتا ہے اور سچی عزت و دولت کا وارث ہو سکتا ہے ۔ ان میں سے ایک نفسی ہیں اور دوسرے اجتماعی ۔ نفسی وہ ہیں جن سے نفس کی اصلاح ہوتی ہے اور اجتماعی وہ ہیں جن سے دوسروں کی بھی اصلاح ہوتی ہے اور جب تک یہ دونوں قسم کے فرائض ادا نہ ہوں مومن اپنے فرائض سے سبکدوش نہیں ہوتا ۔ پھر ان دونوں قسم کے فرائض میں سے ہر ایک میں دو دو امور ضروری قرار دیئے ہیں ۔ اپنے نفس کی اصلاح کے لیے جو ضروری قرار پائے ہیں وہ : (1) حق پر ایمان لانا اور (2) حق کے مطابق اعمال بجا لانے میں استقامت دکھانے کی نصیحت کرنا ہے ۔ گویا مومن خود بھی حق کو قبول کرتا اور اپنے عمل سے اس پر قائم ہوجاتا ہے اور دوسروں کو بھی حق کے قبول کرنے اور اپنے عمل سے اس پر قائم ہوجانے کی تبلیغ کرتا ہے تب جا کر وہ اپنے فرائض سے سبکدوش ہوتا ہے اور اپنے مقصد زندگی کو پا لیتا ہے اور خسران سے بچ کر نفع کا وارث ٹھہرتا ہے اور یہی وہ عزت و دولت ہے جس کے لیے ہر ممکن مومن کو کوشش کرنی چاہیے اور جس میں نفع ہی نفع ہے خسران کا کوئی سوال نہیں ہے اور تحقیق کی اس روشنی میں آیت کے اس جملہ کا مفہوم مختصر الفاظ میں یہ ہوگا کہ حق کو قبول کرنے اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرتے وقت صبر کا دامن مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین و تاکید کی جا رہی ہے ۔ ان کے آبائو اجداد نے ان کو ان امور کے بارے میں جو وصیت کی ہے وہ اپنی آنے والی نسلوں کو اس کی وصیت کرتے رہیں کیونکہ حق کو قبول کرنا اور اس راہ میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا دونوں باتیں نہایت اہم ہیں اور ظاہر ہے کہ جو بات اہم ہو اس کا ذکر تکرار کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اس سے اس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے ۔ اس سورت کی اہمیت کے پیش نظر اس کے خلاصہ کو ایک بار پھر اپنے ذہن میں تازہ کرلیں اور آپ انسانی تاریخ کے کسی دور کا مطالعہ کریں ٓآپ یقینا اس نتیجہ پر پہنچیں گے جو اس مختصر سی سورت میں بیان کیا گیا ہے کہ جو افراد اور قومیں ان چار صفات سے متصف نہیں ہوتیں جو اس سورت میں بیان کی گیو ہیں تو وہ خائب و خاصر رہتی ہیں ۔ نمرود ، فرعون کو دیکھو ، قوم نوح اور قوم ثمود کے حالات کا مطالعہ کرو ہر جگہ اس حقیقت کی سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ نمرود اپنے وقت کا بہت بڑا بادشاہ تھا۔ ساری رعایا اس کی فرمانبردار تھی ۔ ملک کی ساری دولت اس کے قبضہ میں تھی ۔ اس کے شاہی خزانے سونے چاندی اور دیگر نوادرات سے بھرے ہوئے تھے ۔ فوج بھی اپنے بادشاہ کے ساتھ وفا کے جذبے سے سرشار تھی اور یہی حال فرعون کا تھا۔ ان دونوں میں اگر کسی چیز کی کمی تھی تو صرف یہ کہ وہ دونوں ان صفات جلیلہ سے محروم تھے جو انسانی فوز و فلاح کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کا انجام کیا ہوا ؟ ایک مطلق العنان بادشاہ فرمانروا کو ایک حقیر مچھر نے اللہ کے حکم سے ہلاک کردیا اور دوسرے کو سمندر کی موجیں خس و خاشک کی طرح بہہ کرلے گئیں۔ ان کے عبرتناک انجام پر ایک آنکھ بھی نم نہ ہوئی ، ایک دل بھی سوگوار نہ ہوا ۔ جس بات کا اعلان قرآن کریم نے ان الفاظ میں کیا کہ : ( وما بکت علیھم السماء والارض) (44 : 29) ان بد بختوں کی تباہی پر نہ چشم فلک سے کوئی آنسو ٹپکا اور نہ ہی زمین کی آنکھیں اشکبارہوئیں ۔ خس کم جہاں پاک ۔ قوم نوح کو جب طوفان کی بپھری ہوئی موجوں نے گھیر لیا اور وہ سب کے سب غرق ہوگئے تو ان ظالموں کی بربادی پر کائنات نے حمد باری تعالیٰ کے گیت گائے۔ اس سورة مبارکہ کے شروع میں جو ( والعصر) کا لفظ آیا ہے جس کے معنی زمانہ کے ہیں اس سے مراد ہم نے عام زمانہ ہی لیا ہے جیسا کہ سورت کے شروع میں ہم بیان کرچکے ہیں اور یہی مراد اکثر مفسرین نے بھی لی ہے لیکن اس کے باوجود چند معدودے مفسرین نے اس سے مراد خاص زمانہ محمد رسول اللہ ﷺ کا بھی مراد لیا ہے اس لحاظ سے اس کا ذکر کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے اگرچہ ہماری تفہیم اب بھی یہی کہتی ہے کہ جس چیز میں وسعت زیادہ ہے اس کو مراد لینا ہی زیادہ صحیح اور بہتر معلوم ہوتا ہے کیونکہ قرآن کریم کی تعلیمات کو کسی خاص زمانہ کے لیے مقید قرار دینا قرآن کریم کی وسعت کو کم کرنا ہے حالانکہ قرآن کریم بحمد اللہ ہر زمانہ کے لیے ایک سی اہمیت رکھتا ہے۔ اب بھی گزشہت زمانہ میں بھی اور آنے والے زمانہ میں بھی ۔ بہر حال جب یہ دنیا محمد رسول اللہ ﷺ کے وجود مسعود سے منور ہوئی ، وہ منور جب پھیلا تو اس وقت نے جو گواہی پیش کی اس کا سماں کچھ عجیب ہی سماں تھا اس لیے یہ حقیقت ہے کہ جیسی اٹل ، ناقابل تردید شہادت آپ ﷺ کے عہد ہمایوں نے پیش کی اس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی جن لوگوں نے اس دعوت احمدی ﷺ کو قبول نہ کیا وہ اپنی امارتوں ، ریاستوں اور گونا گوں دیگر خصوصیتوں کے باوجود مٹ گئے ، نیست و نابود ہوگئے ، انسانیت نے ان کو فراموش کردیا اور جن کی کچھ یاد باقی ہے ان کا نام گالی کے طور پر آج بھی استعمال ہوتا ہے لیکن جن خوش نصیبوں نے اس ہادی بر حق ﷺ کی دعوت کو قبول کیا اور اس کی غلامی کی سعادت سے بہرہ ور ہونے کے باعث ان چار خوبیوں سے اپنی زندگی کا دامن بھر لیا وہ انسانیت کی آبرو بن گئے ۔ چشم گیتی کا نور ، گلشن ہستی کی بہار اور فخر روز گار بن گئے اور آج بھی ان کا نام زبان پر آتا ہے تو پاکبازی اور نفع رسانی کی دنیا میں نور پھیل جاتا ہے ۔ ان کے ذکر سے طاغوتی طاقتوں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور لاکھوں قدسیوں کا گروہ اور ان کے نقش پا کو خضر راہ بنانے والے کا روان انسانیت کی قیادت کا فریضہ ادا کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی للیت اور خلوط عمل سے انسانوں کے سرے افتخار کو بہت بلند کردیا ہے۔ اس لیے جن لوگوں نے ( والعصر) سے مراد آپ ﷺ کا عہد لیا ہے ان کے بارے میں کوئی غلط رائے قائم نہیں کرنی چاہیے ۔ الایہ کہ انہوں نے وسعت کا دائرہ تنگ کیا ہے ۔ اور اسی مضمون پر ہم سورة العصر کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں للہ ما فی السموات وما فی الارض وانا تبدوا ما فی انفسکم اوتخفوہ یحاسبکم بہ اللہ۔