107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsانوار البیان

Ayah 107:1

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے

(107:1) ارایت : أ ھمزہ استفہامیہ ہے۔ رایت ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر رؤیۃ (باب فتح) مصدر سے بمعنی تو نے دیکھا۔ ارایت (کیا تو نے دیکھا۔ بھلا تو نے دیکھا) میں الف اولیٰ بلفظ استفہام تقریر و تنبیہ کے لئے ہے محض استفہام کے لئے نہیں ہے امام راغب لکھتے ہیں :۔ ارایت۔ اخبرنی (تو مجھے بتا) کے قائم مقام ہوتا ہے اور اس پر ک داخل ہوتا ہے۔ اور ت کو تثنیہ ، جمع، تانیث میں اسی کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور تغیر و تبدل ک پر ہوتا ہے ت پر نہیں۔ جیسے :۔ قال ارایتک ھذا الذی (17:62) قل ارایتکم (6:4) بحر مواج میں ہے کہ :۔ یہ استفہام تقریری ہے اور روئت بمعنی علم ہے۔ کیا تجھے معلوم ہے ؟ کیا تو جانتا ہے ؟ الذی : ایک روایت میں مقاتل کا قول ہے کہ یہ آیت عاص بن وائل سہمی کے متعلق نازل ہوئی۔ بعض نے کہا ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ ضحاک نے کہا کہ عمرو بن عامر مخزومی کے حق میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک یہ آیت ایک منافق شخص کے حق میں نازل ہوئی ان تمام روایات پر الذی عہدی ہوگا۔ بعض لوگوں نے الف لام جنس کا قرار دیا ہے الذی اسم موصول۔ یکذب بالدین صلہ دونوں مل کر مفعول رایت کا۔ دین سے مراد اسلام یا روز جزاء ہے۔ بھلا تم نے اس شخص کو جانتے ہو جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے۔ یکذب : مضارع واحد مذکر غائب ، تکذیب (تفعیل) مصدر ۔ جھٹلانا۔
Ayah 107:2

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

یہ وہی (بدبخت) ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے

(107:2) فذلک الذی یدع الیتیم۔ جملہ جواب شرط ہے اور شرط محذوف ہے ای ان لم تعرفہ فذلک ۔۔ الخ۔جزائیہ جواب شرط کے لئے ہے۔ الذی اسم موصول واحد مذکر۔ یدع الیتیم اس کا صلہ، دونوں مل کر ذلک کی صفت ، یا ذلک مبتداء ۔ ہے اور باقی اس کی خبر (اگر تم اسے نہیں جانتے تو سمجھ لو) یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ یدع مضارع واحد مذکر غائب دع (باب نصر) مصدر سے۔ وہ دھکے دیتا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ یوم یدعون الی نار جھنم دعا (52:13) جس دن ان کو نار جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کرلے جایا جائے گا۔
Ayah 107:3

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو ترغیب نہیں دیتا

(107:3) ولا یحض علی طعام المسکین : اس جملہکا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ واؤ عاطفہ ولا یحض مضارع منفی واحد مذکر غائب حض (باب نصر) مصدر سے۔ جس کا معنی ہے آمادہ کرنا۔ ترغیب دینا۔ ابھارنا۔ وہ ترغیب نہیں دیتا۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولا تحاضون علی طعام المسکین (89:18) اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو
Ayah 107:4

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے

(107:4) فویل للمصلین : فویل مبتداء للمصلین اس کی خبر،ترتیب کے لئے ہے۔ یعنیکے ماقبل پر یہ نتیجہ مترتب ہوتا ہے کہ مصلین کے لئے ویل ہے۔ یاسببیہ ہے یعنی ما قبلمابعدکا سبب ہے۔ (لہم کی جگہ للمصلین فرمانے کی وجہ سے یہ ہے کہ پہلے مخلوق کے ساتھ معاملات کا ذکر تھا اور اب اس جگہ خدا کے ساتھ معاملہ کرنے کا ذکر ہے) ویل۔ عذاب ، دوزخ کی ایک وادی کا نام۔ رسوائی، تباہی ، ہلاکت، شدت، عذاب۔ (ویل قرآن مجید میں 27 جگہ آیا ہے) مصلین تصلیۃ (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ نماز پڑھنے والے۔
Ayah 107:5

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں

(107:5) الذین ہم عن صلوتہم ساھون : یہ آیت اور اگلی آیت مصلین کی صفت میں ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں سے غفلت برتتے ہیں۔ وقت پر نماز نہیں پڑھتے۔ رکوع و سجود پورا نہیں کرتے۔ پرواہ نہیں کرتے پڑھ لی تو پڑھ لی نہ پڑھی تو نہ پڑھی۔ وغیرہ ساھون بیخبر ۔ بھولنے والے۔ غافل، سھو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ یہ اصل میں ساھیون تھا۔ ی مضموم ما قبل مکسور۔ ضمہ ی پر ثقیل ہوا نقل کرکے ماقبل کو دیا۔ اب واؤ اور ی دو ساکن جمع ہوگئے ی کو حذف کردیا گیا۔ ساھون ہوگیا۔
Ayah 107:6

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

جو ریاکاری کرتے ہیں

(107:6) الذین ھم یراء ون (آیت بالا سے چل کر دوسری صفت ہے) جو ریا کاری کرتے ہیں۔ یراء ون مضارع جمع مذکر غائب مراء ۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ وہ دکھاوٹ کرتے ہیں۔ وہ ریا کاری کرتے ہیں۔ جناب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ :۔ جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا۔ جس نے دکھاوے کا روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کی خیرات کی اس نے شرک کیا۔
Ayah 107:7

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور برتنے کی چیزیں عاریۃً نہیں دیتے

(107:7) ویمنعون الماعون۔ اس کا عطف یراء ون پر ہے اور برتنے (روزمرہ کے استعمال) کی چیزیں نہیں دیتے۔ (اور وہ ماعون کو روک رکھتے ہیں) یمنعون : مضارع جمع مذکر غائب منع (باب فتح) مصدر سے۔ وہ روک رکھتے ہیں۔ وہ نہیں دیتے۔ وہ منع کرتے ہیں۔ الماعون سے کیا مراد ہے اس میں چند اقوال ہیں :۔ (1) لغت میں ماعون تھوڑی سی چیز کو کہتے ہیں۔ اور یہاں مراد زکوۃ ہے (حضرت علی ؓ حسن بصری (رح)۔ قتادہ۔ ضحاک) زکوۃ کو ماعون کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے مال کی زکوٰۃ تھوڑی سی ہوتی ہے (صرف ڈھائی فیصد) (2) ماعون سے مراد روزمرہ کے استعمال کی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔ مثلا کلہاڑی، ڈول، ہانڈی وغیرہ (حضرت ابن مسعود ؓ حضرت ابن عباس ؓ (3) ماعون سے مراد مستعارلی ہوئی چیز ہے۔ (مجاہد) (4) ماعون سے مراد معروف چیزیں ہیں جن کا لین دین لوگ آپس میں کرتے ہیں۔ (عکرمہ) (5) قطرب نے کہا۔ ماعون سے قلیل ہے عرب کا محاورہ ہے۔ مالہ سعۃ ولا معنۃ نہ اس کے پاس کوئی بڑی چیز ہے اور نہ چھوٹی۔ (6) بعض لوگوں کا قول ہے ماعون وہ چیز ہے جس سے کسی کو روکنا شرعا حلال نہیں جیسے پانی، نمک، آگ وغیرہ۔ (7) ماعون لغت اضداد میں سے ہے جو چیز کسی مانگنیوالے کی مدد کے لئے دیجائے وہ بھی ماعون ہے اور جو روک لی جائے وہ بھی ماعون ہے۔ (8) اس کے علاوہ ماعون بمعنی بھلائی، حسن سلوک، بارش ، پانی، گھر کا سامان۔ فرمانبرداری، زکوٰۃ وغیرہ بھی مستعمل ہے۔