108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 108:1

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے عطا کردیا آپ ﷺ کو (اے پیغمبر ! ) کوثر

1 ۔ کوثر کا معنی و مفہوم اور اس سے مقصود و مراد ؟ کوثر کثرت سے مبالغے کا صیغۃ ہے، یعنی وہ خیر کثیر جو دنیا آخرت کی سب بھلائیوں اور جملہ خیرات و برکات کو عام اور شامل ہے اور جس کی کامل و مجموعی شکل قرآن حکیم اور دین حنیف کی صورت میں اب تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے موجود ہے، اور جو حق و ہدایت کے نور سے سرفراز کرنے والی سب سے بڑٰ اور جامع نعمت ہے، جو دنیا و آخرت کی سعادت و کامیابی کی ضامن و کفیل ہے، جس سے دنیا تا قیام قیامت فیضیاب ہوتی رہے گی، اور جنت کی نعیم مقیم کی حق دار بنتی رہے گی، اور اسی خیر کثیر کا ایک عظیم الشان مظہر و مصداق حوض کوثر اور نہر کوثر کا وہ پانی بھی ہے جو صحیح احادیث و روایات کے مطابق دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور جس کو وہ ایک مرتبہ پینا نصیب ہوگیا اس کو پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی، آنحضرت ﷺ اپنے دست سخا و برکت سے اپنے امتیوں کو اس کے جام پہ جام پلا رہے ہوں گے کہ اتنے میں کچھ لوگوں کو وہاں پر روک دیا جائے گا تو آپ اپنی رحمتوں بھری آواز میں فرمائیں گے کہ ان کو آنے دو کہ یہ میرے امتی ہیں، مگر جواب ملے گا " انک لا تدری ما احدثوا بعدک " یعنی امتی تو یہ بیشک آپ کے ہیں مگر آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد آپ کے دین میں کیا کیا نئی چیزیں شامل کردی تھیں، اور کیا کیا بدعات و خرافات ایجاد کرلی تھیں، تو آپ فرمائیں گے کہ " فسحقا سحقا لمن غیر دینی بعدی " یعنی دوری اور ہلاکت و خرابی ہو اس کے لیے جس نے میرے بعد میرے دین کو بدل دیا، سو بدعتی لوگ اپنی بدعت پرستی کی بنا پر حوض کوثر کی اس عظیم الشان نعمت سے محروم کردیے جائیں گے، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ پس سعادت و کامیابی اور دارین کی فوز و فلاح کی راہ اتباع سنت کی راہ ہے اور اس کے بالمقابل بدعت کی راہ ہلاکت و تباہی اور دارین کے خسارے و نقصان کی راہ ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر افسوس کہ اس کے قدرت کے باوجود آج امت کے ایک بڑے حصے نے اپنے دین میں طرح طرح کی بدعات کو شامل کردیا ہے اذان کے کلمات کریمہ جو کہ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں، ان کے شروع میں ان کے درمیان میں اور ان کے آخر میں کیا کچھ اور کس کس طرح ملا دیا گیا ہے، اور اس کا اظہار و اعلان ہمارے برصغیر کے ملکوں میں روزانہ جابجا اور طرح طرح سے ہوتا ہے، اور حتی کہ کلمہ طیبہ جو کہ دین حق کی اساس و بنیاد ہے اس کے ساتھ بھی ظالموں نے طرح طرح کے سابقے اور لاحقے جوڑ دیے ہیں، پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ ان بدعات اور محدثات سے توبہ کرنے کی بجائے الٹا ان کو جائز ثابت کرنے کے لیے نصوص کتاب و سنت میں طرح طرح کی تاویلات کی جاتی ہیں، اور تحریفات تک کا ارتکاب کیا جاتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم والی اللہ المشتکی۔ بہرکیف " کوثر " کثرت سے " فوعل " کا صیغہ ہے جس میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں اس لیے " کوثر " کا معنی جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے خیر کثیر ہے، سو آنحضرت ﷺ کو دین حنیف کی جس نعمت عظمی سے نوازا گیا اور جو عبارت ہے قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ سے توبہ عظیم الشان خیرات و برکات کا مجموعہ ہے، دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ضامن و کفیل ہے، اس لیے کوثر کا اصل اور بڑا مصداق یہی قرآن حکیم ہے جیسا کہ مختلف روایات میں وارد ہے۔ چناچہ حضرت ابو بشر سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن جبیر سے " الکوثر " کے مصداق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا " ھو الخیر الکثیر الذی اتاہ اللہ رسولہ " کہ اس سے مراد وہ خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو عطا فرمائی، تو آپ نے پھر پوچھا کہ ہم تو یہ سنا کرتے تھے کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو جنت میں ہوگی، تو حضرت سعید بن جبیر نے جواب دیا کہ ہاں وہ نہر بھی اسی خیر کثیر میں سے ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سرفراز فرمایا ہے۔ ( ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، خازن، مراغی، محاسن، جامع، معارف، کبیر، مظہری اور روح المعانی وغیرہ) سو وہ حوض کوثر اس دین متین کے ذریعے ہی حاصل ہوسکے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق نازل فرمایا ہے، سبحانہ و تعالی۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ جل وعلا۔
Ayah 108:2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

پس آپ ﷺ اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھئیے اور (اسی کے نام کی) قربانی کیجئے

2 ۔ اعطاء کوثر کا تقاضا کہ ہر قسم کی عبادت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہو : سو ارشاد فرمایا گیا اور اعطاء کوثر کے تقاضے کے طور پر اور اس کے نتیجے کے ذکر وبیان کے لیے فاء تفریع کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ اپنے ہی رب کے لیے نماز پڑھو اور اسی کے لیے قربانی کرو، یعنی اس عظیم الشان نعمت کے شکریے کے طور پر جس سے آپ کو آپ کے رب نے نوازا ہے کہ ہر بدنی و مالی عبادت خالص اسی کے لیے کریں جیسا کہ آپ اب تک کرتے رہے ہیں، بعض حضرات نے " وانحر " سے مراد نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا لیا ہے، مگر یہاں پر اس کا کوئی موقع اور محل نہیں، اسی لیے علامہ ابن کثیر جیسے محققین نے اپنے ناقدانہ کلام سے اس کو مرجوح قرار دیا ہے، نحر کے لفظ کا اصل استعمال اونٹ کی قربانی کے لیے معروف ہے، لیکن یہ اپنے عام استعمال میں دوسرے جانوروں کی قربانی کے لیے بھی آتا ہے، یہاں پر اس لفظ کے استعمال سے اصل مقصود ابراہیمی قربانی کی طرف اشارہ کرنا ہے، اس لیے کہ اونٹ کی قربانی ملت ابراہیمی کی ایک محبوب قربانی تھی، جس کو یہود نے اپنی خواہشات اور ہوائے نفسانی کے تقاضوں کی بناء پر حرام قرار دے رکھا تھا، بہرکیف اس ارشاد سے کوثر کے عطیے اور احسان سے سرفرازی کی ذمہ داری اور اس کے تقاضوں کی وضاحت فرما دی گئی، کیونکہ ہر حق کے ساتھ ذمہ داری کا ہونا لازمی ہے اور اس کے ادا کرنے پر ہی اس حق کے قیام اور اس کی بقا کا انحصار ہوتا ہے، سو اس کی وضاحت میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم نماز بھی اپنے رب ہی کے لیے پڑھو، اور قربانی بھی اسی کے لیے کرو، اور لربک میں لام اختصاص کا ہے یعنی نماز بھی خاص اسی کے لیے پڑھو، اور قربانی بھی خاص اسی کے لیے کر وہ، کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لا شریک ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے، خواہ وہ جسمانی عبادت ہو یا مالی یا ان دونوں سے مرکب اور جب اسی وحدہ لاشریک نے آپ ﷺ کو کوثر یعنی خیر کثیر کی اس عظیم الشان اور بےمثال نعمت سے نوازا ہے تو اسی کا حق ہے کہ ہر قسم کی عبادت اسی کے لیے بجا لائی جائے کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحاہ وتعالی فعلیہ نتوکل وبہ نستعین فی کل ان و حین۔
Ayah 108:3

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا دشمن ہی کٹا ہوا ہے (ہر خیر سے)

3 ۔ اعطائے کوثر کے نتیجہ و انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اعطاء کوثر کے نتیجہ و انجام کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا آپ کا دشمن ہی کٹا ہوا ہے ہر خیر سے، نہ کہ آپ اے ہمارے رسول۔ جیسا کہ ان بدبختوں کا کہنا ہے۔ واضح رہے کہ ھو الابتر کی تعبیر حصر کی تعبیر ہے، یعنی دم بریدہ اور " مقطوع النسل " آپ ﷺ کے وہ دشمن ہیں جو کہ آپ ﷺ کے بارے میں اس طرح کہہ رہے ہیں وہی ایسے ہیں کہ نہ آپ ﷺ کا نام اور کام اور آپ کا فیض و انعام تو ہمیشہ باقی اور سدا جاری رہے گا۔ چناچہ آج مشرق و مغرب میں ہر طرف ہر جگہ اور ہر وقت آپ کے نام نامی اور اسم گرامی کی گونج باقی اور موجود ہے، اور لاکھوں کروڑوں انسانوں کے لیے تقویت قلوب کا باعث اور نور و سرور کا ذریعہ بنتی رہتی ہے اور پوری روئے زمین پر آپ کا لایا ہوا اور آپ کا پیش فرمودہ دین حق ہی سرچشمہ فیض اور ذریعہ ہدایت بنا ہوا ہے، آپ کے نام لیوا آپ کے روحانی فرزند کروڑوں اور اربوں کی تعداد کو پہنچ گئے ہیں، اور آپ کی صلبی اولاد میں سے صرف حضرت فاطمہ الزہراء ؓ کی اولاد ہی اتنی پھیلی پھولی کہ آج روئے زمین کا کوئی خطہ اور کوئی چپہ شاید ہی ایسا ہو جو ان سے خالی ہو، اور انکا سرمایہ افتخار ہی آپ کی طرف یہ نسبت ہے جب کہ اس کے برعکس آپ کو طعنے دینے والے اور آپ کی مصیبت پر خوشیاں منانے والے ابو لہب، ابوجہل، عاص بن وائل، عقبہ بن ابی معیط وغیرہ جیسے کفار و اشرار و روسائے قریش کا آج کہیں کوئی نام لیوا بھی موجود نہیں، بلکہ ان کا نام گالی بن گیا ہے، اور وہ ہر خیر سے محروم ہو کر " فی النار والسقر " ہوگئے، والعیاذ باللہ العظیم۔ روایات کے مطابق جب آنحضرت ﷺ کے فرزند اکبر حضرت قاسم کا انتقال ہوا تو اس پر بدبختوں نے خوشیاں منائیں اور کہا کہ محمد کی نسل اب کٹ گئی ہے، اور اب ان کے بعد ان کا کوئی نام لیوا نہیں ہوگا، اور اس طرح ان کا لایا ہوا یہ نیا دین بھی ان کی زندگی تک اور کچھ ہی عرصہ کا مہمان ہے، اس کے بعد ہمیشہ کے لیے چھٹی ہوجائے گی (والعیاذ باللہ) تو اس موقع پر یہ مختصر ترین اور عظیم الشان سورة کریمہ نازل ہوئی، جس میں آپ کو اس عظیم الشان خوشخبری سے بھی نوازا گیا اور اس میں آپ کو عظیم الشان پیغام و پروگرام بھی دیا گیا، اس کے مقتضی سے بھی آگہی بخشی گئی، اور عظیم الشان نتیجہ کی پیشگوئی سے بھی سرفرازی فرمایا گیا ( فسبحان اللہ ما اعظم شانہ وما اکرم برھانہ وما اجل انعامہ واحسانہ جل وعلا۔ سو اس سورة کریمہ میں آپ کو پیغام بھی عنایت فرما دیا گیا اور پروگرام بھی اور نتیجہ و انجام سے بھی آگہی بخش دی گئی۔ چناچہ پیغام یہ ہے کہ آپ کو اس خیر کثیر سے نواز دیا گیا جو تمام بنی نوع انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے اور پروگرام یہ کہ بدنی و مالی ہر قسم کی عبادت آپ ﷺ کے خالق ومالک اللہ وحدہ لا شریک ہی کے لیے کی جائے۔ کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لا شریک ہے اور عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور نتیجہ و انجام یہ کہ کامیابی بہرحال آپ ہی کی ہے اور جڑ آپ ﷺ کے دشمنوں ہی کی کٹے گی، اور بہرحال کٹ کر رہے گی، سو ایسے ہی ہوا جو دنیا نے دیکھا، والحمدللہ رب العالمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ فی کل زمان ومکان وانت العزیز الوھاب، جل وعلا۔