108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : عرب دستور کے مطابق اپنی اولاد خاص طور پر بڑے بیٹے کے نا پر ” کنیت “ رکھنے میں بڑ افخر محسوس کرتے تھے جیسے ابو طالب، ابو لہب، ابو جہل وغیرہ۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاجزادے حضرت قاسم اور دوسرے صاجزادے حضرت عبد اللہ کا انتقال ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صرف چار بیٹیاں حضرت زینب (رض) ، حضرت رقیہ (رض) ، حضرت ام کلثوم (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) رہ گئیں تو قریش سرداروں نے آپ کو ” ابتر “ کہنا شروع کردیا یعنی اولاد سے محروم۔ جس کے کوئی بیٹا نہ ہو۔ یہ طعنے دینے میں اگر ابوجہل، ابو لہب، کعب ابن اشرف یہودی اور عقبہ ابن ابی معیط وغیرہ کے علاوہ بہت سے لوگ تھے لیکن عاص ابن وائل کے سامنے جب آپ کا ذکر کیا جاتا وہ لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ ان کی بات چھوڑو۔ اب کوئی فکر کی بات نہیں ہے وہ تو (نعوذ باللہ) ابتر ہیں۔ یعنی جب ان کا انتقال ہوجائے گا تو ان کی نسل نہ چلے گی اور کوئی ان کا نام لیوا تک نہ رہے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک طرف تو اولاد نرینہ کے انتقال پر رنجیدہ تھے دوسری طرف کفار قریش کے طعنون نے آپ کو اور رنجیدہ کردیا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے تین آیتوں پر مشتمل ” سورة کوثر “ نازل فرما کر آپ کو تسلی دی اور فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے آپ کو خیر کثیر یعنی نہر کوثر، میدان حشر میں حوض کوثر، قرآن کریم اور اطاعت گزار جماعت صحابہ (رض) وغیرہ عطا کی ہے اور آپ کے ذکر کو قیامت تک کے لئے بلند کیا ہے۔ اس طرح آپ کی روحانی اور جسمانی اولاد آپ کا نام روشن رکھے گی۔ فرمایا کہ آپ کو ابتر کہنے والے خود دنیا سے اس طرح بےنام و نشان ہوجائیں گے کہ کوئی ان کا نام لیوا تک نہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے کہ آپ دین اسلام کی سربلندی کے مقصد اور مشن کو جاری رکھنے کے لئے نمازیں پڑھئے اور قربانی پیش کرتے رہیے کیونکہ نماز جیسی عظیم عبادت اور جانی، مالی قربانیوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کی بدخواہی کرنے والا، عداوت اور دشمنی رکھنے والا ور جو عیب لگا رہا ہے اور آپ کی توہین کر رہا ہے وہ ” ابتر “ یعنی بےنام و نشان ہوجائے گا۔ آپ کو اللہ نے ” خیر کثیر “ عطا فرمائی ہے۔ خاص طور پر جنت کی نہر کوثر جو نہایت حسین و خوبصرت ہوگی وہ عطا کردی گئی ہے (شب معراج آپ نے اس نہر کو دیکھا بھی ہے) ۔ اور فرمایا کہمیدان حشر میں جہاں لوگ پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے آپ کو ایسا حوض کوثر عطا کیا جائے گا جس میں پانی تو جنت کی نہر کوثر سے لایا جائے گا اور جو اس پانی کو پی لے گا جنت میں داخل ہونے تک اس کو کبھی پیاس نہ لگے گی۔ امام بخاری (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے ” کوثر وہ خیر کثیر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی ہے یعنی وہ دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے خیر کثیر ہے “۔ حوض کوثر جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو میدان حشر میں سیراب کرے گی اس میں پانی جنت کی نہر کوثر سے لایا جائے گا ۔ بہت سے لوگوں کو اس حوض کوثر سے روک دیا جائے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے الٰہی ! یہ تو میرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا تھا۔ علماء نے فرمایا ہے کہ حوض کوثر سے ان لوگوں کو ہٹا دیا جائے گا جو آپ کے بعد اسلام سے پھرگئے تھے اور اپنی منافقانہ روش سے اہل ایمان کو دھوکا دیتے رہے تھے۔ آپ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ان کی منافقت کھل کر سب کے سامنے آگئی۔ یہ اسی بات کی ان کو سزا دی جائے گی۔ قریشی سردار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی اور مخالفت میں اس قدر پتھر دل ہوچکے تھے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹوں حضرت قاسم اور حضرت عبد اللہ کے انتقال پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے بجائے طعن اور طنز کے تیز چلانے سے باز نہیں آرہے تھے۔ قلبی شفاوت، بےرحمی اور رسول دشمنی کی بھی ایک حد ہوتی ہے لیکن ان کا یہ حال تھا کہ جب آپ کے دونوں بیٹوں کا انتقال ہوگیا اور آپ نے انتہا رنجیدہ تھے اس وقت بھی وہ اظہار ہمدردی کے بجائے طنز کے تیز چلا رہے تھے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے صاجزادے حضرت قاسم تھے (جن کی وجہ سے عرب کے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابو قاسم کہا کرتے تھے) ۔ ان سے چھوٹی حضرت زینت (رض) تھیں پھر حضرت عبد اللہ تھے۔ ان تین اولاد کے بعد حضرت ام کلثوم (رض) ، حضرت رقیہ (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) تھیں۔ ان میں سے حضرت قاسم کا انتقال ہوا پھر حضرت عبد اللہ نے وفات فرمائی۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صرف چار بیٹیاں رہ گئیں۔ اس پر عاص ابن وائل نے کہا کہ ان کی نسل ختم ہوگئی۔ اب وہ ابتر ہیں یعنی ان کی جڑیں کٹ گئی ہیں۔ بعض روایات میں عاص ابن وائل کے یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہہ اب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتر ہیں ان کے کوئی بیٹا نہیں ہے جو ان کا قائم مقام بنے گا جب وہ مر جائیں گے تو دنیا سے ان کا نام مٹ جائے گا اور ان سے ہمارا پیچھا چھوٹ جائے گا۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ یہی بات حضرت عبداللہ کی وفات پر ابوجہل نے بھی کہی تھی۔ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاجزادے کا انتقال ہوا تو آپ کے حقیقی چچا ابو لہب جس کا گھر آپ کے گھر کے برابر تھا دوڑا ہوا مشرکین کے پاس گیا اور ان کو یہ خوش خبری سنائی کہ آج رات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بےاولاد ہوچکے ہیں۔ ایک قریشی سردار عاص ابن وائل سہمی کے سامنے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہ تاکہ ان کی بات چھوڑو وہ تو ایک ابتر (شخص ہیں جن کی جڑ کٹ چکی ہے) کیونکہ ان کے پاس کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے کل ان کا کوئی نام لیوا بھی نہ رہے گا۔ اسی طرح عقبہ ابن ابی معطی بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتا تھا۔ یہ اس قدر دل دہلان دینے والی صورتحال تھی کہ ایک طرف تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اولاد کا شدید صدمہ تھا اور دوسری طرف سراران قریش ہمدردی کرنے کے بجائے طنز کرتے ہوئے مذاق اڑا رہے تھے اور ان کا دل شکن حالات میں وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو طرح طرح کے طعنے دے رہے تھے اور ستار ہے تھے۔ آپ بہت زیادہ رنجیدہ اور فکر مند تھے۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان موجود تھے۔ اتنے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کچھ اونگھ سی طاری ہوگئی۔ کچھ دیر کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکراتے ہوئے اپنے سرمبارک کو اٹھایا تو اس وقت موجود کچھ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کس بات پر مسکرا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے میرے اوپر ایک سورت نازل کی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پرھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة کوثر کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے پوچھا کہ جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں۔ آپو نے فرمایا کہ وہ ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے۔ (مسلم۔ مسند احمد، بیقہی) ۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا اور کفار کی مخالفتوں نے شدت اختیار کرلی اور پوری قوم دشمنی پر تل گئی تھی، ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، ہر طرف سے مخالفتوں کے طوفان اٹھ رہے تھے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ان تک پیغام پہنچا رہے تھے تو دور دور تک کسی کامیابی کے آثار بھی نہیں تھے اسی دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اولاد کا شدید صدمہ پہنچا۔ اس وقت اپنے اور غیر ہمدردی کرنے کے بجائے ایسی دل شکن باتیں کررہے تھے جس سے دل چھلنی ہوجاتا ہے۔

Ayahs 108:1–3

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ ﷺ کو کوثر (خیر کثیر) عطا کیا

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

تو آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

بیشک آپ کا دشمن ہی بےنام و نشان ہوجائے گا۔

لغات القرآن۔ اعطینا ۔ ہم نے عطا یا۔ الکوثر۔ خیر کثیر۔ حوض کوثر۔ صل۔ نماز پڑھ۔ انحر۔ قربانی کر۔ شان۔ دشمن۔ الابتر۔ دم کٹا۔ نامراد۔ تشریح : قریشی سردار اور مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کی دشمنی میں اس قدر بےرحم، بد لحاظ اور پتھر دل ہوچکے تھے کہ جب نبی کریم ﷺ کے صاجزادے حضرت قاسم اور ان کے بعد دوسرے بیٹے حضرت عبد اللہ کا انتقال ہوا تو آپ کو اس غم کے موقع پر تسلی اور دلاسہ دینے کے بجائے انہوں نے اس پر کھلم کھلا خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب ان کے ہاں صرف چار بیتیاں رہ گئی ہیں لیکن وہ اولاد نرینہ جن سے کسی شخص کی نسل چلا کرتی ہے اب باقی نہیں ہے لہٰذا کسی غم اور فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک ایسا شخص جو سب سے کٹ جائے۔ اولاد نرینہ باقی نہ رہے تو اس کو ” ابتر “ کہا کرتے تھے یعنی جو بہت جلد بےنام و نشان ہوجاے گا اور کوئی اس کا نام لیوا تک نہ رہے گا۔ نبی کریم ﷺ اولاد کے غم سے نڈھال تھے۔ دوسری طرف قریشی سردار جو زیادہ تر آپ کے عزیز ہی تھے تسلی دینے کے بجائے طنز، مذاق اور دل توڑنے والی باتیں کر رہے تھے۔ ان دل شکن حالات میں آپ بہت رنجیدہ اور فکر مند تھے کہ اللہ نے آپ کو تسلی دینے کے لیئے سورة کوثر نازل فرمائی۔ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے۔ اتنے میں آپ پر ایک اونگھ جیسی کیفیت طاری ہوئی۔ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے۔ اتنے میں آپ پر ایک اونگھ جیسی کیفیت طاری ہوئی۔ کچھ دیر کے بعد آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے اپنے سر مبارک کو اٹھایا تو کچھ صحابہ کرام ؓ نے مسکرانے کا سبب پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے میرے اوپر ایک سورت نازل فرمائی ہے اور پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم کرکے آپ نے سورة کوثر تلاوت فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ ” کوثر “ کیا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے۔ (مسلم ۔ مسند احمد، بیقہی) احادیث میں کوثر، حوض کوثر، نہر کوثر کا کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ شب معراج آپ کو نہر کوثر کی سیر کرائی گئی۔ اس موقع پر آپ نے دیکھا کہ اس نہر کے اندر تراشے ہوئے موتی اور ہیروں کے قبے بنے ہوئے ہیں۔ اس کی تہہ متی مشک اذفر جیسی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے جب اتنی خوبصورت نہر کو دیکھا تو حضرت جبرئیل سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ حضرت جبرئیل نے بتایا کہ یہ وہ نہر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ (مسنداحمد۔ بخاری۔ مسلم ۔ ابودائود۔ ترمذی۔ ابن جریر) ۔ اسی طرح کی ایک روایت حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے بھی کی گئی ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ کوثر جنت کی ایک نہر ہے جس کے کنارے سونے کے ہیں اور وہ موتیوں اور ہیروں پر بہہ رہی ہے۔ اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ (مسند احمد۔ ترمذی) ۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ اس نہر کا پانی دودھ اور چاندی سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ اس کی تہہ کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار، اس پر آسمان کے تاروں جتنے کو زے (برتن) رکھے ہوئے ہوں گے جو اس کے پانی کو پئے گا اس کو پھر کبھی پیاس نہ لگے گی اور جو اس سے محروم رہا وہ کبھی سیراب نہ ہوگا۔ نہر کوثر اور حوض کوثر کو جو تفصیلات ارشاد فرمائی گئی ہیں اس کے مطابق میدان حشر میں جہاں ہر طرف سخت گرمی اور شدید پیاس ہوگی اور لوگ پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے کہ میدان حشر میں ایک حوض یعنی تالاب قائم کی جائے گی جو اس قدر وسیع اور پھیلی ہوئی ہوگی جیسے ایلہ سے صنعا تک (بخاری۔ ترمذی) ۔ اس حوض کوثر میں جنت کی نہر کوثر سے دو نالیاں نکالی جائیں گی جن کے ذریعہ نہر کوثر کا پانی حوض کوثر میں جمع ہوگا۔ اس حوض کوثر پر سب سے پہلے نبی کریم ﷺ پہنچیں گے اور اپنی امت کے پیاسوں کو حوض کوثر سے پانی پلائیں گے یقینا ان سے زیادہ کوئی خوش نصیب نہ ہوگا کیونکہ حوض کوثر کا پانی پینے کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہ لگے گی۔ لیکن اس موقع پر کچھ وہ بدنصیب لوگ بھی ہوں گے جنہیں حوض کوثر پر آنے سے روک دیاجائے گا۔ اس کی تفصیل یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اس حوض کوثر سے وہ لوگ ہٹا دئیے جائیں گے جو آپ ﷺ کے بعد اسلام کی تعلیمات سے پھرگئے تھے یا انہوں نے منافقت اختیار کر رکھی تھی۔ خلاصیہ یہ ہے کہ اللہ نے ان لوگوں سے جو کہتے تھے کہ آپ ابتر ( بےنام و نشان) ہوگئے ہیں ان سے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان تو یہ ہے کہ آپ کا فیض اس دنیا تک ہی نہیں بلکہ قیامت کے دن اس میدان میں بھی جاری رہے گا جب لوگ پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے۔ فرمایا ……: اے نبی ﷺ بیشک ہم نے آپ کو ” کوثر “ عطا فرمایا ہے۔ کوثر کے معنی ہیں ہر طرخ کی خیر، بھلائی، ہر ایک نعمت جو بہت کثرت سے ہو۔ یعنی اے نبی ﷺ آپکو اللہ نے قرآن کریم اور علم و حکت کی دولت سے مالا مال فرمایا ہے۔ ہر جگہ آپ کا نام بلند کیا ہے۔ جہاں اللہ کا نام لیا جائے گا وہیں آپ کا نام بھی لیا جائے گا۔ آپ کی روحانی اولاد اس کثرت سے ہوگی کہ وہ دن رات آپ پر درودوسلام بھیج رہی ہوگی۔ آپ کے ہاتھوں ایک ایسی مقدس اور پاکیزہ جماعت تیاری ہوگی جو دین اسلام کی دعوت کو ساری دنیا تک پہنچائے گی اور یہ سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا۔ یہ ہے وہ کوثر خیر کثیر جس کا فیض صرف اس دنیا تک نہیں بلکہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ لہٰذا بےنام و نشان تو وہ لوگ ہوجائیں گے جو اللہ کے اور ناشکرے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج دنیا کے گوشے گوشے میں نبی کریم ﷺ کا نام بلند ہو رہا ہے اور قیامت تک رہے گا۔ …… پھر آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور نحر (قربانی) کیجئے۔ علماء نے اس سے پانچ وقت کی نمازیں مراد لی ہیں یعنی اے نبی ﷺ آپ پانچوں نمازوں کو ادا کیجئے۔ ہوسکتا ہے اس سے بقر عید کی نماز مراد ہو جس کے بعد قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چونکہ بدنی عبادات میں سب سے افضل نماز ہی ہے اور پھر مالی عبادات میں ” نحر “ کرنا ہے یعنی قربانی پیش کرنا ہے۔ یعنی اے نبی ﷺ اللہ نے جو آپ پر بےانتہا کرم کئے ہیں آپ کو ” خیر کثیر “ عطا فرمایا ہے اس نعمت کا شکر نماز اور قربانی کے ذریعہ پیش کیجئے۔ یہ وہ سنت ہے جس پر ساری امت عمل کرتی ہے اور انشاء اللہ قیامت تک کرتی رہے گی۔ ……: اے نبی ﷺ ! بیشک آپ کا دشمن ہی بےنام و نشان ہوجائے گا۔ ابتر عربی میں کاٹنے، نامراد ہونے، ذرائع رسل و رسال سے محروم ہونے اور اولاد نرینہ سے محروم ہونے کو کہا جاتا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ وہ لوگ جو آپ سے دشمنی کر رہے ہیں وہی اس طرح بےنام و نشان ہوجائیں گے کہ کوئی ان کا نام لیوا تک نہ رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج وہ تمام دشمنان رسول دنیا سے اس طرح بےنام و نشان ہوچکے ہیں کہ خود ان کی اولادیں بھی ان کی طرف نسبت کرنے کو اپنی توہین سمجھتی ہیں۔ آج اگر قرآن و حدیث میں ان کے نام و شنان کا ذکر نہ کیا جاتا تو لوگ ان کے ناموں سے بھی واقف نہ ہوتے۔ اس کے برخلاف نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی طرف نسبت کرنے میں ہر شخص ایک خاص فخر محسوس کرتا ہے۔ تو فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ کا نام تو ہمیشہ بلند رہے گا آپ کی روحانی اولاد قیامت تک آپ کے نام کرو شنی کرتی رہے گی لیکن آپ کی مخالفت کرنے والے بےنام و نشان ہو کر رہ جائیں گے۔