108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 108:1

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے

انا اعطینک الکوثر . اہل لغت نے لکھا ہے کہ کوثر بروزن فوعل کثرت سے مشتق ہے ‘ جیسے نوفل ‘ نفل سے۔ جو چیز تعداد میں زیادہ یا مرتبہ اور قدر میں بڑی ہو ‘ عرب اس کو کوثر کہتے ہیں۔ اسی کی تائید کرتا ہے حضرت ابن عباس کا یہ قول کے کوثر سے مراد ہے وہ خیر کثیر جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو عطا فرمائی تھی۔ اس قول کے راوی ابو بشر اور عطاء بن سائب ہیں۔ دونوں نے سعید بن جبیر کے حوالہ سے یہ قول نقل کیا ہے۔ ابو بشر کا بیان ہے میں نے سعید بن جبیر سے کہا : لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت کے اندر ایک نہر ہے۔ سعید نے جواب دیا : جنت کے اندر والی نہر بھی تو اسی خیر کثیر کا ایک حصہ ہے جو اللہ نے حضور ﷺ کو عطا فرمائی تھی ‘ اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس نے الکوثر کے لام کو جنسی قرار دیا ہے اور آپ کے خیال میں حوض کوثر الکوثر (یعنی نعمت کثیرہ) کا ایک حصہ ہے۔ اسی طرح جن لوگوں نے الکوثر کو نبوت اور قرآن کہا ہے ان کے نزدیک بھی لام جنسی ہے۔ اولیٰ یہ ہے کہ لام کو عہدی قرار دیا جائے اور وہی تفسیر کی جائے جو رسول اللہ ﷺ نے کی ہے ‘ جس کا ذکر مسلم میں حضرت انس کی روایت کردہ حدیث میں آچکا ہے۔ صحیحین میں بھی حضرت انس کی روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں گیا تو وہاں ایک نہر دیکھی ‘ جس کے دونوں کناروں پر موتی کے خیمے تھے۔ میں نے نہر میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو خالص مشک (کی طرح خوشبودار) تھا۔ میں نے کہا : جبرئیل ( علیہ السلام) یہ کیا ہے ؟ جبرئیل نے کہا : یہی وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے۔ حضرت انس کی مرفوع روایت میں آیا ہے کہ وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے بڑھ کر شیریں ہے۔ اس میں پرندے ہیں ‘ جن کی گردنیں اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! پھر وہ تو بڑے لطیف ہوں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : عمر ان کا کھانا ان سے زیادہ لطیف ہے۔ (احمد و ترمذی) حضرت اسامہ ؓ بن زید راوی ہیں کہ حضرت حمزہ ؓ بن عبدالمطلب کی بیوی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ ﷺ کو جنت کے اندر ایک نہر دی گئی ہے ‘ جس کو کوثر کہا جاتا ہے ‘ فرمایا : ہاں ! اور اس کی زمین موتی ‘ مونگے ‘ زبرجد اور یاقوت کی ہے وہ (اتنی بڑی ہے جیسے) ایلہ سے صنعاء تک مسافت ہے ‘ اس کے کوزے ستاروں کی تعداد کے موافق ہیں۔ (طبرانی) طبرانی کی دوسری روایت ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے انا اعطیناک الکوثر کی تشریح میں فرمایا : جنت میں ایک بہت بڑے پاٹ کی نہر ہے۔ جس کے ظروف سونے ‘ چاندی کے ہوں گے جن (کی تعداد) سے سوائے ‘ خدا کے کوئی واقف نہیں۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کوثر جنت میں ایک نہر ہے ‘ جس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں اور پانی موتیوں (کی زمین) پر بہتا ہے۔ (ابن ماجہ و احمد و ترمذی) ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے انا اعطیناک الکوثر کے متعلق دریافت کیا گیا ‘ تو فرمایا : ایک نہر ہے جو اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔ (رواہ البخاری) حوض کوثر کا تذکرہ کچھ اوپر پچاس صحابیوں کی روایات میں آیا ہے۔ چاروں خلفاء حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت امام حسن بن علی ‘ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ‘ حضرت عائشہ ‘ حضرت امّ سلمہ ‘ حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت جابر بن عبداللہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) اور دوسرے صحابہ کی روایت کردہ احادیث میں حوض کوثر کا ذکر موجود ہے۔ سیوطی (رح) نے بدور سافرہ میں تقریباً ستّر احادیث نام بنام ‘ ترتیب وار صحابہ کرام کی نقل کی ہیں۔
Ayah 108:2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو

فصل لربک . فاء سببی ہے۔ یعنی اللہ نے تم کو کوثر عطا فرمائی۔ اس کے شکریہ میں نماز پڑھو۔ نماز کے اندر شکر کی ہر قسم موجود ہے۔ زبان سے ‘ دل سے اور ہاتھ پاؤں سے ہر طرح سے نماز میں شکر خدا ہوتا ہے۔ بعض نے لوگوں نے کہا کہ صلِّ سے مراد ہے ‘ نماز پر قائم رہو (ترک نہ کرو) مطلب یہ ہے کہ خلوص کے ساتھ محض رب کے لیے نماز پڑھو۔ ان لوگوں کی طرح نہ کرو جو غیر اللہ کے لیے نماز پڑھتے اور قربانی کرتے ہیں ‘ یا دکھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ وانحر . اور اونٹوں کی قربانی کرو۔ عرب میں اونٹ ہی سب سے اعلیٰ مال شمار کیا جاتا تھا اور قربانی کے بعد گوشت ‘ پوست وغیرہ غریبوں اور یتیموں کو دیدو۔ ان لوگوں کی طرح نہ کرو جو یتیموں اور مسکینوں کو دھکے دیتے اور ماعون کو روک رکھتے ہیں۔ اس تشریح کی بناء پر یہ سورة گویا سورة ماعون کی مقابل ہوگئی (وہاں مذمت آمیز ممانعت تھی یہاں ان مذموم چیزوں کے خلاف کرنے کا حکم ہے) ۔ عکرمہ ‘ عطاء اور قتادہ نے فصل لربک وانحر کی تفسیر میں کہا : نحر کے دن عید کی نماز پڑھو اور اپنی قربانی ذبح کرو۔ اس تفسیر پر عیدالاضحی کی نماز اور قربانی واجب ہوگی۔ سعید بن جبیر نے اس طرح تشریح آیت کی کہ مزدلفہ میں فرض نماز پڑھو اور منیٰ میں قربانی کرو۔ ایک روایت میں ابن جوزاء کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نماز پڑھو اور نحر (ہنسلی کی ہڈی سے نیچے) کے پاس نماز کے اندر بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھو (یعنی انحر کا مطلب ہے) نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھو اور بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھو۔ یہ روایت ضعیف ترین ہے۔ اسی بناء پر حضرت مؤلف نے راوی کا نام نہیں بتایا) ۔
Ayah 108:3

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا

ان شانئک ھو الابتر . یعنی تمہارا دشمن ہی ابتر ہے۔ اسی کے پیچھے کوئی نہیں رہے گا۔ مراد یہ ہے کہ اس کے بعد اس کا اچھا نام نہیں رہے گا بلکہ اللہ ‘ ملائکہ اور تمام آدمیوں کی لعنت اس پر پڑتی رہے گی۔ ایک شبہ کیا جاسکتا تھا کہ عاص بن وائل کی نسل تو اس کے بعد بھی باقی رہی ‘ اس کے دونوں بیٹے عمرو اور ہشام مسلمان ہوئے اور اس کے بعد رہے ‘ پھر وہ منقطع النسل کس طرح ہوا ؟ لیکن ہماری تفسیر سے یہ شبہ دفع ہوگیا کیونکہ عاص کے دونوں بیٹے جب مسلمان ہوگئے تو ان کا رشتہ اپنے باپ سے کٹ گیا ‘ یہاں تک کہ اس کے وارث بھی نہیں ہوئے وہ تو رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں سے ہوگئے اور حضور ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہوگئیں۔ ھُوَ ضمیر فصل ہے اور الابترُ اِنَّ کی خبر ہے۔ خبر پر الف لام اور مبتداء خبر کے درمیان ضمیر فصل کا لانا حصر پر دلالت کرتا ہے یعنی تمہارا دشمن ہی ابتر ہے ‘ تم ابتر نہیں ہو۔ تمہارا ذکر اللہ کے ذکر کے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور قیامت تک تمہاری اچھی شہرت اور بزرگی کے نشانات باقی رہیں گے اور آخرت تمہارے لیے دنیا سے بہتر ہوگی اور تمہاری امت کے مؤمنوں کا ذکر ملائکہ اور مؤمنوں کی زبانوں پر رہے گا اور وہ اللّٰھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات کہتے رہیں گے ‘ واللہ اعلم۔ الحمد اللہ سورت الکوثر ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ