108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 108:1

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کی ہے،1۔

1۔ (دنیا وآخرت دونوں میں جو عین دلیل ہے آپ کے کمال مقبولیت کی) رسول اللہ ﷺ کیلئے آخرت میں خیر کثیر تو آپ ﷺ کے مراتب قرب ودرجات عالیہ کے لحاظ سے ظاہر ہی ہے، اور خیر دنیا آپ ﷺ کو اپنی امت کی کثرت تعداد اور ان کی دنیوی واخروی فلاح کے لحاظ سے ہوئی، آیت کا صیغہ ماضی درآنحالیکہ ظہور خیر کثیر کا تعلق مستقبل سے ہے، اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ ایسا ہونا بالکل قطعی اور حتمی ہے، (آیت) ” الکوثر “۔ کوثر کے لفظی معنی خیر کثیر کے ہیں، اور یہ لفظ دنیا وآخرت دونوں کی ساری بھلائیوں کا جامع ہے۔ وھذا اللفظ یتناول خیرات الدنیا و خیرات الاخرۃ (کبیر) لاجرم تناول جمیع خیرات الدنیا والاخرۃ (کبیر) اور اس کے تحت میں دنیا وعقبی کی ساری نعمتیں سارے انعامات الہی آجاتے ہیں، مفسرین نے اس کے ذیل میں کثرت علوم، کثرت معارف، کثرت حسنات، کثرت فتوح، کثرت اتباع کثرت اولاد سب ہی ذکر کئے ہیں، اور سب اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں، (آیت) ” الکوثر “۔ سے مراد جنت کی ایک مشہور نہر بھی ہے۔ (آیت) ” انا اعطینا “۔ کلمہ ” ان “ اور ضمیر تکلم کی تکرار نے اس ترکیب میں حصر اور تاکید دونوں کے معنی پیدا کردیئے، (آیت) ” انا “ جس طرح صیغہ جمع کے لئے آتا ہے، اسی طرح اظہار تعظیم کے لئے بھی آتا ہے، اور خدائے واحد کے لئے چونکہ جمع کا کوئی امکان نہیں، اس لئے لامحالہ یہاں مراد اظہار عظمت ہی ہے۔ کلمۃ تارۃ یرادبھا الجمع وتارۃ یرادبھا التعظیم (کبیر)
Ayah 108:2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے،2۔

2۔ (اور معاندین کے طنز وتعریض کا خیال ہی نہ کیجئے) (آیت) ” فصل “۔ نماز یہاں قائم مقام ہے ساری بدنی عبادات کے، یہ بھی کہا گیا ہے، کہ نماز تمام اقسام شکر کی جامع ہے، اسی لیے بجائے شکر کے اسے لایا گیا، فان الصلوۃ جامعۃ لجییع اقسام الشکر والذا قیل فصل دون فاشکر (روح) (آیت) ” وانحر “۔ قربانی، یہاں قائم مقام ہے ساری مالی عبادات کے اور پھر اونٹ کی قربانی تو عرب میں اعلی ترین اور اس کا اہل حاجت پر تقسیم کرنا مال کا بہترین صرف، وانحر البدن التیھی خیار اموال العرب باسمہ تعالیٰ علی الحاویج (روح) (آیت) ” لربک “۔ یعنی یہ ساری بدنی ومالی عبادتیں وطاعتیں خالصۃ صرف اللہ ہی کے لئے ہوں، نہ کہ خدانخواستہ بتوں کے لئے، یا کسی دنیوی منفعت کے خیال سے۔ مشرک قوموں میں عموما اور ہر جگہ انسان کا لاولد رہ جانا شدید نحوست سمجھا گیا ہے۔ عرب جاہلی بھی اسی عقیدہ میں شدت کے ساتھ مبتلا تھے، چناچہ جب رسول اللہ ﷺ کے کمسن صاحبزادہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا انتقال ہوگیا، تو ان لوگوں کو تعریض کا ایک نیاعنوان ہاتھ آگیا، اور خوش ہو ہو کر کہنے لگے کہ ” ان کا کوئی نام لیوا تو رہا نہیں، ان کی موت کے بعد میدان صاف ہے، انکے دین کا کہیں پتہ نشان بھی نہ رہے گا “۔ اس کے جواب میں آپ ﷺ کو بتایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ کو تو بڑی سے بڑی ممکن نعمتیں عطا ہوچکی ہیں، آپ ﷺ کا دین خوب چمکے گا، خوب پھیلے گا، آپ ان نعمتوں کے شکر میں نماز و عبادت میں مشغول رہیے، اور معاندوں کے طنز وطعن کی طرف اعتناء ہی نہ کیجئے۔
Ayah 108:3

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

یقیناً بےنام ونشان (ہوکر) تو آپ کا دشمن ہی رہے گا،3۔

3۔ چناچہ یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہو کر رہی، ابوجہل اور ابولہب اور عتبہ کا ” ذکر خیر “۔ آج دنیا کے پردہ میں کہیں بھی ہے ؟ اور آپ ﷺ کا ذکر خیر ہے کہ سینوں کے اندر اور زبانوں کے اوپر ہر طرح جاری وساری ہی ہے۔ (آیت) ” الابتر “۔ ابترا اسے کہتے ہیں جس کا ذکر خیر کرنے والا، نام لینے والا کوئی نہ رہ جائے، اے المقطوع الذکر (راغب) قیل رجل ابتر اے انقطع ذکرہ عن الخیر (راغب)