قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ ۟ۙقُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ
(اے پیغمبر ان منکران اسلام سے) کہہ دو کہ اے کافرو!
— Fateh Muhammad Jalandhari
Say, "O disbelievers,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 34 of juz
The Disbelievers · Meccan · 6 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ ۟ۙقُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ
(اے پیغمبر ان منکران اسلام سے) کہہ دو کہ اے کافرو!
— Fateh Muhammad Jalandhari
Say, "O disbelievers,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 34 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Kaafiroon
کہہ دو کہ اے کافرو
(اے پیغمبر ان منکران اسلام سے) کہہ دو کہ اے کافرو!
آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو!
تم کہہ دو کہ : اے حق کا انکار کرنے والو۔
تم فرماؤ اے کافرو،
آپ فرما دیجئے: اے کافرو!،
کہہ دے اے کافرو !
آپ کہہ دیجیے : اے کافرو !
کہہ دو ، اے کافرو !
کہو (ان کفار سے کہ) اے کافرو ؟
آپ کہہ دیجئے کہ اے کافروں
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو !
تو کہہ اے منکرو !
Say: “O unbelievers!”
Say, :O disbelievers,
Say, :O disbelievers,
Say: "O disbelievers!"
Say: O disbelievers!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Say, "O disbelievers,
(Muhammad), tell the disbelievers,
Say: O unbelievers!
Say thou: O ye infidels!
Say: O ye that reject Faith!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–6
مشرکین الگ اور موحدین الگ : اس سورة مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے حضور ﷺ سے سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق ﷺ کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک لہ کو نہ…
Read the full tafseer →سورة الکافرون 1 اس آیت میں چند باتیں خاص طور پر توجہ طلب ہیں (1) حکم اگرچہ نبی ﷺ کو دیا گیا ہے کہ آپ کافروں سے یہ بات صاف صاف کہہ دیں، لیکن آگے کا مضمون یہ بتارہا ہے کہ ہر مومن کو وہی بات کافروں سے کہہ دینی چاہیے جو بعد کی آیات میں بیان ہوئی ہے کہ حتی کہ جو شخص کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آیا ہو اس کے لیے بھی لازم ہے کہ دین کفر اور اس کی عبادات اور معبودوں سے اسی طرح اپنی براءت کا اظہار کردے۔ پس لفظ قل (کہہ دو) کے اولین مخاطب تو رسول اللہ ﷺ ہی ہیں، مگر حکم حضور کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ آپ کے واسطے سے ہر مومن کو پہنچتا ہے۔ (2) " کافر " کا لفظ کوئی گالی نہیں ہے جو اس آیت کے مخاطبوں کو دی گئی ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
خلاصہ تفسیر آپ (ان کافروں سے) کہہ دیجئے کہ اے کافرو (میرا تمہارا طریقہ ایک نہیں ہوسکتا اور) نہ (قوفی الحال) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرتے ہو اور نہ (آئندہ استقبال میں) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کروں گا اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرو گے (مطلب احقر کے نزدیک یہ ہے کہ میں موجد ہو کر شرک نہیں کرسکتا نہ اب نہ آئندہ، اور تم مشرک ہو کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہو سکتے۔) تم کو تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھ کو میرا بدلہ ملے گا (اس میں ان کے شرک پر وعید بھی سنا دی گئی۔) معارف مسائل سورت کے فضائل اور خواص۔ حضرت صدیقہ…
Read the full tafseer →’قُلْ‘ اعلان کے مفہوم میں: ’قُلْ‘ یہاں اعلان کر دینے کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ اس سورہ کا مضمون اعلان کا مقتضی تھا تاکہ جو مفسدین کفر اور اسلام کے درمیان سمجھوتے کے خبط میں مبتلا تھے وہ بھی اپنی سعئ نامراد سے مایوس ہو جائیں اور جو سادہ لوح اس طرح کی تجویزیں پیش کرنے والوں کو امن پسند اور صلح جُو گمان کر رہے تھے ان پر بھی اصل حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ صلح و امن کی راہ نہیں بلکہ فساد کی مستقل پرورش کی راہ ہے۔ ائمۂ کفر سے خطاب: ’یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ کا خطاب ظاہر ہے کہ قریش کے ان ائمۂ کفر سے ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخاطب اول تھے لیکن آپ کی برسوں کی جدوجہد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 1 الکفرون میں الف لام جنس کے لیے ہے لیکن بطور خاص صرف ان کافروں سے خطاب ہے جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ کفر و شرک پر ہوگا۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے بعد کئی مشرک مسلمان ہوئے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے جن میں ولیدبن مغیرہ، عاص بن وائل وغیرہ شامل تھے حضور اقدس ﷺ سے صلح کی یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرلیا کریں تو دوسرے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیں گے، کچھ اور لوگوں نے اسی قسم کی کچھ اور تجویز بھی پیش کیں جن کا خلاصہ یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ کسی نہ کسی طرح ان کافروں کے طریقے پر عبادت کے لئے آمادہ ہوجائیں تو آپس میں صلح ہوسکتی ہے، اس سورت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرمادیا کہ کفر اور ایمان کے درمیان اس قسم کی کوئی مصالحت قابل قبول نہیں ہے جس سے حق اور باطل کا امتیاز ختم ہوجائے اور دین برحق میں کفر کی ملاوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔ قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی…
Read the full tafseer →1 چند رؤسائے قریش نے کہا کہ اے محمد ! ﷺ آؤ ! ہم تم صلح کرلیں کہ ایک سال تک آپ ﷺ ہمارے معبودوں کی پرستش کیا کریں، پھر دوسرے سال ہم آپ کے معبود کو پوجیں۔ اس طرح دونوں فریق کو ہر ایک کے دین سے کچھ نہ کچھ حصہ مل جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا خدا کی پناہ کہ میں اس کے ساتھ (ایک لمحہ کے لئے بھی) کسی کو شریک ٹھہراؤں۔ کہنے لگے اچھا تم ہمارے بعض معبودوں کو مان لو (ان کی مذمت نہ کرو) ہم تمہاری تصدیق کریں گے اور تمہارے معبود کو پوجیں گے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی، اور آپ ﷺ نے ان کو مجمع میں پڑھ کر سنائی۔ جس کا خلاصہ مشرکین کے طور وطریق سے بکلی بیزاری کا اظہار اور انقطاع تعلقات کا اعلان کرتا ہے۔ بھلا انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1{ قُلْ یٰٓــاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو !“ نوٹ کیجیے ! یہ داعیانہ طرز تخاطب نہیں ہے ‘ بلکہ لاتعلق اور علیحدہ ہونے کا انداز ہے۔ ظاہر ہے ایک داعی تو اپنے مخاطبین کو یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُکہہ کر پکارتا ہے ‘ کہ اے اللہ کے بندو ! میری بات سنو ! گویا کلمہ تخاطب میں ہی مفہوم واضح کردیا گیا کہ اگر میری تمامتر ناصحانہ کوششوں کے باوجود بھی تم لوگوں نے کفر و انکار پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو تمہارا یہ فیصلہ اور طرزعمل تمہیں مبارک ہو۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے بعد اب میری اور تمہاری راہیں جدا ہوچکی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 کفار مکہ کی ایک خطرناک چال حق وباطل میں سمجھوتہ :۔ اس سورت میں ان کافروں سے خطاب ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ 68) 5 ۔ المآئدہ :68) (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورة الکافرون) جب آپ ﷺ کی دعوت سے مکہ میں کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تو کفار مکہ کو ابتدائ ً اسلام اور کفر میں سمجھوتے کی سوجھی اور اس کے لیے کئی راہیں اختیار کی گئیں۔ کبھی لالچ کا راستہ اور کبھی دھمکی اور دھونس کا راستہ۔ حتیٰ کہ ایک دفعہ کفار نے یہاں تک پیش کش کردی کہ آپ چاہو تو ہم آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی دین اسلام اور ملت شرک کے درمیان کی کوئی صورت ممکن نہیں، دونوں راہیں بالکل الگ الگ ہیں۔ (آیت) ” یایھا الکفرون “۔ اے وہ لوگو جو ملت کفر پر قائم ہو۔ یہ خطاب ان کافروں سے ہے، جو کفر و ایمان، جاہلیت واسلام کے طریقوں کو ملاجلا کر کوئی نیادین اپنی تجویز سے قائم کرنا چاہتے تھے۔ مثلا یہ کہ ایک سال تعلیم وتبلیغ خالص توحید کی ہو اور دوسرے سال مورتی پوجا کی۔ یہ کوشش عرب اور اس دور کے عرب کے ساتھ محدود ومخصوص نہ تھیں۔ بارہایہ کوششیں ہوچکی ہیں، اور اب بھی جاری ہیں کہ کفر واسلام، شرک و توحید کو ملا کر ایک کردیا جائے، اکبر کا ” دین الہی “ اسی کوشش کا ایک نمونہ تھا، اور عین اس وقت تو یہ کوششیں کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کہہ دیجیے، اے کافرو ! نہ میں فی الحال ان بتوں کی بندگی کرتا ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو اور نہ فی الحال تم بندگی کرتے ہو اس کی جس کی میں بندگی کرتا ہوں اور وہ اللہ وحدہ ہے، اور نہ میں آئندہ بندگی کرنے والا ہوں جن کی تم بندگی کرتے اور نہ تم آئندہ بندگی کرنے والے ہو اس کی جس کی میں بندگی کرتا ہوں اللہ کو ان کے بارے میں علم تھا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں، اور ما کا اللہ پر اطلاق بطور مقابلہ ہے، تمہارے لئے تمہارا دین شرک ہے اور میرے لئے میرا دین اسلام ہے اور یہ حکم، جہاد کا حکم دیئے جانے سے پہلے کا ہے، اور قراء سبعۃ نے…
Read the full tafseer →قل یایھا الکافرون . یہ خطاب خاص طور پر کافروں کی اس جماعت کو ہے جو صلح کے خواستگار تھے ‘ مگر اللہ کو معلوم تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ نے حضور سے کہا تھا کہ آپ ہمارے معبودوں کو تسلیم کرلیں تو ہم آپ کے معبود کی عبادت شروع کردیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان استہزاء کرنے والے کافروں سے فرما دیجیے کہ نہ تو فی الحال میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں اور نہ آئندہ کروں گا تمہیں تمہارا دین یعنی کفر و شرک مبارک ہو اور میرے لیے میرا دین یعنی اسلام ہے ؟ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے کیوں کہ حضور نے پھر ان سے قتال فرمایا۔ شان نزول : قل یا ایہا الکفرون الخ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ قریش نے حضور کو بلایا تاکہ آپ کو بہت سا مال دے دیں کہ جس سے آپ مکہ میں سب سے مال دار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(قل یھا الکفرون…: طبرانی اور تفسیر ابن ایب حاتم وغیرہ میں عبداللہ بن عباس ؓ سے جو معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ، اس طرح ہم اور تم مل جل کر مکہ میں رہیں، اگر تم ایسا نہیں کرتے تو ایک سال تم ہمارے بتوں کو پوجا کرلیا کرو، دوسرے سال ہم تمہارے الہ کی بندگی کرلیا کریں گے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ اگرچہ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک شخص ابوخلف عبداللہ ضعیف ہے، لیکن آیت :(قل افغیر اللہ تامرونی اعبدایھا الجھلون) (الزمر : 63) (کہہ دے ! پھر کیا اللہ کے غیر کے بارے میں تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اس کی عبادت کروں اے جاہلو !) کے مضمون سے اس شان نزول کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ قریش کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
قل یا ایھا الکافرون۔ تا۔ ولا انتم عبدون ما اعبد۔ علماء نے کہا : جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اور ظلم و قہر کی زنجیروں سے آزاد ہو کر اپنے رب کی طاعت کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ لذات کو ختم کرنے والی، جماعتوں کو جدا کرنے والی، بیٹوں اور بیٹیوں کو یتیم کرنے والی کا ذکر کثرت سے کرے جو لوگ موت وحیات کی کشمکش میں ہیں ان کی ملاقات پر مواظبت اختیار کرے اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت میں ہمیشگی اختیار کرے۔ یہ تین امور ہیں جس آدمی کا دل سخت ہو، گناہ اس کی اپنی گرفت میں لے چکا ہو تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف اس سے مدد لے اور شیطان اور اس کے دوستوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قل یا ایہا الکفرون مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل یا ایہا الکفرون مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعوت دی کہ وہ لوگ آپ کو اتنا مال دیں گے کہ آپ مکہ مالدار لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ اور عورتوں میں سے جس کے ساتھ آپ پسند کریں گے وہ آپ کی شادی کردیں گے۔ اور کہنے لگے یہ سب کچھ آپ کے لیے ہے اے محمد ﷺ اور آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے رک جائیں اور ہمارے معبودوں کا تذکریں برائی کے ساتھ نہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم آپ پر ایک…
Read the full tafseer →[قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ : آپ ﷺ کہہ دیجئے اے کافرو ] نوٹ 1: مکہ معظمہ میں ایک دور ایسا گزرا ہے جب نبی ﷺ کی دعوت اسلام کے خلاف قریش کے معاشرے میں مخالفت کا طوفان تو برپا ہوچکا تھا، لیکن ابھی قریش کے سردار اس بات سے بالکل مایوس نہیں ہوئے تھے کہ حضور ﷺ کو کسی نہ کسی طرح مصالحت پر آمادہ کیا جاسکے گا۔ اس لیے وقتاً فوقتاً وہ آپ ﷺ کے پاس مصالحت کی مختلف تجویزیں لے لے کر آتے رہتے تھے تاکہ آپ ﷺ ان میں سے کسی کو مان لیں۔ اس سلسلہ میں متعدد روایات احادیث میں منقول ہوئی ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف مواقع پر کفار قریش نے اس قسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة ٴ کافرون کا پورا ترجمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل مکہ مشرک تھے کعبہ معظمہ تک کے اندر بت رکھ چھوڑے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور شرک چھوڑنے کی تبلیغ کی تو ان کو یہ بات بہت کھلی، پہلے تو آپ سے محبت رکھتے تھے اور آپ کو صادق الامین کہتے تھے۔ جب آپ نے بت پرستی چھوڑنے کا حکم فرمایا تو سخت ترین دشمن ہوگئے اور طرح طرح کی باتیں بنانے لگے، ایک دن ایسا ہوا کہ ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور اسود بن المطلب اور امیہ بن خلف آپس میں مل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد آؤ ہم اور تم ساجھا کرلیں اور آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اور ہم آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اعلان استقامت بر اسلام وشعائر اسلام وبیزاری از مراعات اھل باطل : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یایھا الکفرون ......... الی ........... لکم دینکم ولی دین “۔ (ربط) سورة کوثر میں خیر کثیر کی بشارت سنائی گئی تھی اور یہ اعلان بھی کردیا گیا تھا کہ خداوند عالم نے یہ طے کردیا تھا کہ اس کے پیغمبر ﷺ کا ہی دین غالب ہوگا۔ اور پیغمبر خدا ہی کامیاب ہوں گے اور جو بھی کوئی بغض اور دشمنی رکھے وہی ناکام ذلیل اور تباہ ہوگا، اب اس سورت میں دنیا کے تمام گمراہوں اور باطل ملت کی پیروی کرنے والوں کو جو باطل کو فروغ دینے کے لئے بڑی ہی محنت اور جدوجہد کررہے ہیں کھلے عام اعلان کیا جارہا ہے، اب حق پرستوں کی طرف سے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ ” قل یا ایہا الکفرون “۔ ماتعبدون میں ما سے معبودان باطل مراد ہیں۔ جن کی مشرکین اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے۔ ما اعبد میں ما سے معبود حقیقی مراد ہے جس کی پیغمبر خدا ﷺ خالص عبات بجا لاتے تھے فرمایا اگر اس طرح ایضاح و تفصیل اور ایسے دلائل قاطعہ کے باوجود بھی مشرکین مسئلہ توحید کو نہیں مانتے تو آپ اعلان فرما دیں اے کفار، تم اپنی راہ پر چلو، میں اپنی راہ پر چل رہا ہوں۔ تم جن باطل اور خود ساختہ معبودوں کی پوجا کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرسکتا اور نہ تم ہی اپنے ان معبودوں کی عبادت چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کو تیار ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الکفرون ہے۔ اس کی پہلی آیت میں کافروں کا لفظ آیا ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین 1 ؎ نے اس کا نام سورة المقشقشۃ یعنی شفا بخشنے والی سورة بھی بتلایا ہے کہ یہ کفر و شرک کی بیماری سے شفا بخشنے والی سورة ہے تفسیر روحی 2 ؎ المعانی میں اس کا ذکر آتا ہے۔ تاہم زیادہ مشہور سورة الکفرون ہی ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چھ آیتیں چھبیس الفاظ اور ننانوے حروف ہیں۔ گزشتہ سورة کا خلاصہ پچھلی سورة مبارک میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی فلاح اور کامیابی کے پاکیزہ اصول 1 ؎ روح المعانی ص 249/ج 30 ، در منشور ص 404/ج 6 ، 2 ؎ روح المعانی ص 249/ج…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَيُّہَا الْكٰفِرُوْنَ 1 ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ یا ایہا حرف النداء الکافرون النادی لا اعبد الخ نداء والجملۃ مقولۃ قولہ قل وفی تکریر قولہ لا اعبد الخ ولا انا عابد الخ قولان الاول التکریر للتاکید والمقام مقام التاکید لان الکفار یطلبون منہ ﷺ عبادۃ اصنامھم بالاصرار والثانی ان الاول للمستقبل والثانی للحال لان لا لاتدخل الاعلی المضارع بمعنی المستقبل فقولہ لا اعبد الخ معناہ لا اعبد فی المستقبل ماتطلبونہ منی من عبارۃ اصنامکم ولا انتم فاعلون فی المستقبل ما ارید منکم من عبارۃ ربی وقیل علی العکس وفی ما سوال لانھا غیر ذی التقول فکیف یصح قولہ ما اعبد فانہ ﷺ یعبد اللہ تعالیٰ وھواعلم العالمین والجواب منہ علی وجہین الاول ان ما مصدریۃ فی الجملتین…
Read the full tafseer →قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْـکٰفِرُوْنَ ۔ (الکافرون : 1) (اے پیغمبر کہہ دیجئے، اے کافرو !۔ ) قُلْ کا مفہوم اور کٰفِرُوْن کے لفظ سے خطاب کی وجہ یہاں قُلْصاف صاف بات کہنے اور اعلان کرنے کے معنی میں ہے۔ یہ جواب ہے مشرکینِ مکہ کی اس پیشکش کا جو آنحضرت ﷺ سے سمجھوتے کے سلسلے میں انھوں نے کی تھی۔ انھوں نے جب محسوس کیا کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت رفتہ رفتہ دلوں میں اترتی جارہی ہے اور ان کی نام نہاد وحدت میں دراڑیں پڑتی جارہی ہیں تو انھوں نے شروع شروع میں تو آنحضرت ﷺ کی دعوت کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی اور پھر مخالفت کی قوت سے اس کا راستہ روکا۔ لیکن جب انھیں ہر مرحلے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو تب انھوں نے آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة الکوثر میں حوض کوثر اور خیر کثیر کی خوشخبری دی گئی جس کا صاف معنی ہے کہ آپ ﷺ کو کسی قسم کی مداہنت کی ضرورت نہیں اس لیے کفار کو صاف طور پر کہہ دینا چاہیے کہ توحید اور شرک، کفر اور اسلام کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اہل مکہ نے نبوت کے ابتدائی دور میں نبی معظم ﷺ کی دعوت پر خاص توجہ نہ دی لیکن جوں ہی آپ کی دعوت کے اثرات پھیلنے لگے تو مکہ کے سردار چوکس ہوئے اور انہوں نے پوری کوشش کی کہ آپ کی دعوت آگے نہ بڑھ سکے، اس مقصد کے لیے انہوں نے آپ کے خلاف شدید پراپیگنڈہ کیا اور آپ کے ساتھیوں کو زدّ…
Read the full tafseer →1 : قُلْ یٰٓـاَ یُّھَا الْکٰفِرُوْنَ (آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو) اس کے مخاطب مخصوص کفار ہیں۔ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔ کفر سے بیزاری : روایت میں ہے کہ قریش کی ایک پارٹی نے کہا اے محمد آئو تم ہمارے دین کی اتباع کرلو اور ہم تمہارے دین کی اتباع کرتے ہیں۔ ایک سال ہم تمہارے معبود کی عبادت کرتے ہیں ایک سال تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو۔ آپ نے فرمایا معاذ اللہ ! اَنْ اُشْرِکَ بِاللّٰہِ غَیْرَہٗ میں اللہ تعالیٰ کی اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک کروں۔ پھر کہنے لگے ہمارے بعض معبودوں کو ہاتھ لگا کر بوسہ دو ۔ ہم تیری بات مان جائیں گے۔ اور تیرے…
Read the full tafseer →آیات 1-6 1” قل یایھا الکافرون “ سورة کے آخر تک قریش کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان میں سے حارث بن قیس سہمی ، عاص بن وائل، ولید بن مغیرہ، اسود بن عبدیغوث، اسود بن عبدالمطلب بن اسد، امیہ بن خلف ہیں۔ انہوں نے کہا اے محمد ! ( ﷺ ) آپ آئیں۔ ہمارے دین کی اتباع کریں اور ہم آپ کے دین کی اتباع کریں یا ہم اپنے معاملہ میں آپ کو شریک کرلیں گے۔ آپ ہمارے معبودوں کی ایک سال عبادت کریں اور ہم آپ کے معبود کی ایک سال عبادت کریں۔ پس اگر وہ بہتر ہوا جو آپ لائے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ اس میں شریک ہوچکے ہوں گے اور ہم نے اپنا حصہ اس سے لے لیا ہوگا اور اگر وہ بہتر ہوا جو آپ لائے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ 6۔ طبرانی 3 ؎ اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ اور چند اور مشرکوں نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ محمد ﷺ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو اور اس طرح ہم اور تم مل جل کر مکہ میں رہیں کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کی پوجا کر یا کرو ‘ ہم دوسرے سال تمہارے خدا کی بندگی کرلیا کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اگرچہ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک شخص ابو حنیف عبد اللہ بن عیسیٰ ضعیف ہے لیکن آیت قل افغیر اللہ نامرونی اعبد ایھا الجاھلون کے مضمون سے اس شان نزول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ قریش کی جس فرمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یعنی کفار کو نہایت صراحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجئے (لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ ) جن کو تم پوجتے ہو میں ان کو نہیں پوجتا۔ یعنی آپ کفار کے ان خود ساختہ معبودوں سے برات کا اظہار کریں جن کی وہ اللہ کے سوا ظاہر اور باطن میں عبادت کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
الکفرملۃ واحدۃ قول باری ہے (لکم دینکم قرلی دین ۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت اگرچہ بعض کافروں کے بارے میں خاص ہے اور بعض دوسرے اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے کافر اسلام لے آئے تھے اور ارشاد باری ہے (ولا انتم عابدون مااعبد۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں) تاہم یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ کفر سارے کا سارا ایک ملت ہے کیونکہ جو لوگ مسلمان نہیں ہوئے وہ اپنے مذاہب کے اختلاف کے باوجود آیت میں مراد ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مذاہب کو ایک دین قرار دیا اور مذہب اسلام کو ایک دین۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ…
Read the full tafseer →1 ۔ منکرین سے اظہار بیزاری کا حکم و ارشاد : سو اس سے اہل کفر و باطل کے ہٹ دھرم لوگوں سے اظہار بیزاری و علیحدگی کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے " قل " (کہو) کے اس خطاب کا اصل تعلق تو آنحضرت ﷺ ہی سے ہے، لیکن آپ کی پیروی اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر مومن کے لیے بھی یہی حکم و ارشاد ہے کہ وہ بھی حسب ضرورت و موقع کفر اور اہل کفر سے اسی طرح اظہار بیزاری کرے جس طرح آنحضرت ﷺ کو اس کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے، روایات کے مطابق کفار قریش نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں صلح صفائی کا یہ فارمولا پیش کیا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی پوجا کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی پوجا کریں گے، تاکہ یہ باہمی اختلاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
دین کے بارے میں اللہ کا محکم فیصلہ تشریح : اس سورة مبارکہ میں حق و باطل اور دین کی مضبوط حدود کا فیصلہ کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے حق و باطل یعنی روشنی اور اندھیرا ' یعنی ایک ہی وقت میں دن بھی ہو اور رات بھی ' یہ تو قانون قدرت کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے یہ تو کسی صورت ممکن ہی نہیں کہ سرداران قریش کی یہ تجویز مان لی جائے کہ کچھ مدت اللہ کے رسول ﷺ ان کے بتوں کی پرستش کریں اور کچھ مدت وہ کفار توحید کا اقرار کر کے اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں۔ کفر و اسلام کا تو اکٹھا ہونا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے سچ اور جھوٹ ایک ہوجائیں یا روشنی اور اندھیرے کو یکجا کردیا جائے۔ اس ناممکن عمل کو یعنی شرک اور توحید کو یکجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الکافرون۔ آیات 1 تا 6۔ اسرار ومعارف۔ کفار سے فرمادیجئے کہ میں اللہ کا رسول اور موحد ہوں تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا کفار مکہ نے اس بات پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تھی آپ بتوں کو برانہ کہیں تو ارشاد ہوا کہ باطل کو باطل نہ کہناگویا اسے قبول کرنا ہے لہذا مومن کفر کو قبول نہیں کرسکتا ، بہرحال غلط کو غلط ہی کہاجائے گا اور تم جب تک کافر ہو اور اپنے عقیدے اور عمل سے تائب نہیں ہوتے میرے معبود کی عبادت نہیں کرسکتے کہ اسلام سمجھوتے کا نام نہیں کہ کچھ کفر قبول کرلیاجائے اور کچھ باتیں اسلام کی ہوں بلکہ کفر کو مٹا کر اسلام نافذ ہوتا ہے لہذا ایسے سمجھوتے کی آئندہ بھی کوئی امید نہ رکھو میرے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 14 یعنی میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر میرے سمجھانے سے نہیں سمجھتے تو نہ سمجھو آئندہ چل کر آخرت میں اپنا حشر دیکھ لو گے۔ دیکھیے سورة شوریٰ (آیت 15)
Read the full tafseer →(109:1) قل یایھا الکفرون ۔ قل فعل امع، واحد مذکر حاضر، قول (باب نصر) مصدر۔ تو کہہ دے۔ (اے محمد ﷺ ) باقی ساری سورت قل کا مقولہ ہے۔ یایھا حرف نداء ہے الکفرون منادی۔ (اے کافرو) ابن حاتم نے سعید ؓ کی روایت بیان کی کی ہے کہ :۔ ولید بن مغیرہ ؓ عاص بن وائل، اسود بن عبد المطلب، امیہ بن خلف، رسول اللہ ﷺ سے ملے اور کہا کہ تم اس کی پوجا کرو کہ جس کو ہم پوجتے ہیں اور ہم اس کو پوجا کریں جس کو تم پوجتے ہو۔ اس تمام معاملہ میں ہم تم شریک ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اور اس میں خاص طور پر خطاب کافروں کی اس جماعت سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔ لا اعبد۔ میں عبادت نہ کروں گا۔ تعبدون۔ تم (جن چیزوں کی) عبادت کرتے ہو۔ انتم۔ تم۔ دینکم۔ تمہارا دین۔ لی۔ میرے لئے۔ تشریح : اتحادو اتفاق، رواداری، ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا، صلح اور امن وسلامتی یہ وہ عادتیں اور صفتیں ہیں جنہیں اسلام میں بہت اہمیت دی گئی ہے لیکن بےبنیاد اتحاد و اتفاق کی باتیں، دنیا دکھاوے کے لئے زبانی رواداری کے نعرے، آپس میں مل جل کر رہنے اور ایک ہوجانے کی منافقانہ باتیں کسی طرح پسندیدہ نہیں ہیں۔ تمام مذاہب میں دین اسلام ہی وہ طریقہ زندگی ہے جس نے باہمی محبت، رواداری، حسن سلوک ہر انسان سے بحیثیت ہمدردی، امن و سلامتی اور صلح صفائی کی اعلیٰ ترین تعلیم دی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(ف 1) شان نزول : قریش کی ایک جماعت نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ آپ ہمارے دین کا اتباع کیجئے ہم آپ کے دین کا اتباع کریں گے ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبودوں کی عبادت کریں گے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک کروں، کہنے لگے ، تو آپ ہمارے کسی معبود کو ہاتھ ہی لگادیجئے ہم آپ کی تصدیق کردیں گے اور آپ کے معبود کی عبادت کریں گے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی ﷺ مسجد حرام میں تشریف لے گئے وہاں قریش کی وہ جماعت موجود تھی حضور نے یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی تو وہ مایوس ہوگئے اور حضور کے اور حضور کے اصحاب کے درپے آزاد ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] یہ خطاب روسائے قریش سے ہے جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا کہ آؤ ہم سے اس شرط پر صلح کرلو کہ ایک سال تک تم ہمارے معبودوں کی پرستش کیا کرو، پھر دوسرے سال ہم تمہارے معبود کو پوجیں۔ اس طرح دونوں فریقوں کو ہر ایک کے دین میں سے کچھ نہ کچھ حصہ مل جائے گا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الکفرون 1: یعنی میں تمہارے عقائد شرکیہ سے بالکل متنفر ہوں اور کسی شکل اور کسی عنوان بھی تمہارے ساتھ متفق نہیں ہوسکتا ۔ نہ تو یہ ممکن ہے کہ میں ان بتوں کے سامنے جھکوں جن کے سامنے تم جھکتے ہو اور نہ وہ طریق عبادت اختیار کرسکتا ہوں جو تم نے اختیار کررکھا ہے میرا مسلک ہر آئینہ میرے لئے ہے جس میں کوئی تبدیلی اور ترمیم نہیں ہوسکتی اور تمہارا مسلک تم کو مبارک ہو ۔
Read the full tafseer →(1) اے پیغمبر ان کافروں سے فرمادیجئے اے کفر کرنے والو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 5۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ موحد ہو کر بلائے شرک میں گرفتار نہیں ہوسکتا، نہ اب نہ آئندہ، اور تم مشرک رہ کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے، نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہوسکتے یعنی جب تک تم اپنے معبودوں کے عابد اور مشرک رہو گے اس وقت تک میرے معبود کے عابد یعنی موحد نہ سمجھے جاوگے، پس اس کو پیشنگوئی پر محمول کرنے کی اور اس پر جو سوال ہوتا ہے کہ بعضے تو مسلمان ہوگئے، اس کے جواب میں الکافرون کو معہود پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ کہہ دیجئے اے کافرو ! (الکفرون) اسم فاعل جمع مذکر معرفہ حالت رفع ال کافر مفرد۔ شریعت ، نبوت ، توحید ، الوہیت کونہ ماننے والے۔ جان لینا چاہئے کہ کافر کافر نعمت ( ناشکرا) کو بھی کہتے ہیں اور کافر دین کو بھی۔ پھر کافر دین میں کافر التزامی بھی داخل ہے اور کافر لزومی بھی۔ کفر حقیقی کو بھی یہ لفظ حاوی ہے کہ اور کتفر تسیہی کو بھی لیکن ان آیات میں کافر دین حقیقی التزامی مراد ہے یعنی منکر شریعت ونبوت و رسالت۔ اگرچہ وضع لغوی کے اعتبار سے کافر دین ہو یا کافر نعمت دونوں کی جمع کفرۃ ہی آتی ہے اور اسی طرح کفار بھی لیکن قرآن کریم کے استعمال میں بیشتر کفار سے مراد منکر دین اور کفرۃ سے کافران نعمت مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
Virtues and Characteristics of the Surah Sayyidah ` A'shah ؓ reports that the Messenger of Allah ﷺ has said that it is better to recite two surahs in the sunnah prayer of fajr, namely, the Surah Al-Kafirun and Surah Al-Ikhlas. [ Transmitted by Ibn Hisham as quoted by Mazhar ]. Ibn Kathir cites several traditions in which a large number of Companions report that they heard the Messenger of Allah ﷺ often recite Surah Al-Kafiru` n and Al-Ikhlas in the sunnah prayer of fajr and maghrib. Some of the Companions requested the Messenger of Allah ﷺ to teach them some supplications to recite at the…
Read the full tafseer →1 A few points in this verse are particularly noteworthy: (1) Although the Holy Prophet (upon whom be peace) has been commanded to tell this to the disbelievers plainly, the theme that follows makes it explicit that every believer should tell the disbelievers plainly what has been said in the following verses; so much so that the person who has just believed and repented of kufr is also bound to express similarly his disgust with and disapproval of the creed and rites of worship and gods of kufr. Thus, though the first addressee of the word qul (say) is the Holy Prophet (upon whom be peace)…
Read the full tafseer →