109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 109:1–3

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اے کافروں

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

نہ تو میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں ،

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور نہ تم میرے معبودوں کی پرستش کرتے ہو،1۔

1۔ یعنی دین اسلام اور ملت شرک کے درمیان کی کوئی صورت ممکن نہیں، دونوں راہیں بالکل الگ الگ ہیں۔ (آیت) ” یایھا الکفرون “۔ اے وہ لوگو جو ملت کفر پر قائم ہو۔ یہ خطاب ان کافروں سے ہے، جو کفر و ایمان، جاہلیت واسلام کے طریقوں کو ملاجلا کر کوئی نیادین اپنی تجویز سے قائم کرنا چاہتے تھے۔ مثلا یہ کہ ایک سال تعلیم وتبلیغ خالص توحید کی ہو اور دوسرے سال مورتی پوجا کی۔ یہ کوشش عرب اور اس دور کے عرب کے ساتھ محدود ومخصوص نہ تھیں۔ بارہایہ کوششیں ہوچکی ہیں، اور اب بھی جاری ہیں کہ کفر واسلام، شرک و توحید کو ملا کر ایک کردیا جائے، اکبر کا ” دین الہی “ اسی کوشش کا ایک نمونہ تھا، اور عین اس وقت تو یہ کوششیں کہیں زیادہ زور وقوت واثر کے ساتھ جاری ہیں۔ (آیت) ” ولا ...... اعبد “۔ تمہارا یہ دعوی ہی غلط وبے بنیاد ہے کہ تم میرے خدا کی پرستش کرتے ہو، خدائے اسلام مشرکین کے معبود اعظم سے بالکل مختلف ہے۔
Ayahs 109:4–5

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور نہ میں (آیندہ) تمہارے معبودوں کی پرستش کرنے والا ہوں ،

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم ہی (آیندہ) میرے معبود کی پرستش کرنے والے ہو،2۔

2۔ یعنی جب تک تم اپنے دین وآئین پر قائم ہو، تمہارا شماراہل توحید میں نہیں ہوسکتا، اور میں جب تک اپنے مسلک پر مستقیم ہوں، ظاہر ہے کہ میں مشرک نہیں سمجھا جاسکتا۔ کفر واسلام کے درمیان شرک و توحید کے مابین کوئی نقطہ اشتراک ہے ہی نہیں۔ وھذا غایۃ فی التبرؤ (بحر) وفائدۃ ھذا التوکید قطع اطماع الکفار (بحر) قرآن، یہ ہمیشہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ زبان عربی میں اور محاورۂ قریش پر ہے۔ اس کی مصاحت وبلاغت کے سمجھنے کے لئے ہمیشہ عرب ہی کے اسلوب بیان کو پیش نظر رکھنا ہوگا نہ کہ اردو یا فارسی یا انگریزی یا کسی اور زبان کے معیار کو ...... عربی میں تکرار کلام تاکید کے لئے ہوتی ہے، اور عبارت کی عین خوبی وزینت سمجھی جاتی ہے۔ قال الفراء ان القران نزل بلغۃ العرب ومن عادتھم تکرار الکلام للتاکید والافھام (روح) التوکیدفی لسان العرب کثیر جدا وحکوا من ذلک نظما ونثرا مالا یکاد یحصر (بحر)
Ayah 109:6

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تمہیں تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھے میرا بدلہ،3۔

3۔ یعنی توحید پر انعام اور شرک پر عذاب۔ بعض لوگوں نے عجب ” خوش فہمی “ سے کام لے کر اس آیت کو اسلام کی ” رواداری “ اور ” مرنجان مرنج پالیسی “۔ کے ثبوت میں پیش کیا ہے کہ اسلام نے ہر مذہب والے کو اپنی اپنی جگہ قائم اور باقی رہنے کی اجازت دے دی ہے۔ حالانکہ واقعہ اس کے برعکس ہے۔ آیت تو اکبر (فرمانروائے ہند) کے نکالے ہوئے مخلوطی دین اور اسی قبیل کی ساری کوششوں کی لاحاصلی اور ناکامی کا اعلان کررہی ہے۔ (آیت) ” دین “۔ اردو میں بیشک مذہب ہی کا مرادف ہے، لیکن عربی میں اس کے یہ معنی صرف ثانوی اور مجازی ہیں، اصلی اور اولی معنی جزا یا بدلہ ہی کے ہیں۔ الدین ھوالحساب اے لکم حسابکم ولی حسابی (کبیر) جائز ہے کہ یہاں بھی دینکم سے مراد شرک اور دینی سے مراد توحید لی جائے۔ اے لکم شرککم ولی توحیدی (کشاف) آیت کی ترکیب حصر کے معنی دے رہی ہے۔ یعنی تمہاری جزاء تمہیں کو ملے گی نہ کہ کسی اور کو، اور میری جزاء مجھی کو ملے گی نہ کہ کسی اور کو، یفید الحصر ومعناہ لم دینکم ولا لغیر کم ولی دینی لالغیری (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سورت میں اہل ضلال سے تبری ومفارقت کی تصریح ہے، اور اسی کا دوسرا نام بغض فی اللہ ہے۔