109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : دین اسلام امن و سلامتی، ہر ایک سے حسن سلوک، اعلیٰ اخلاق، رواداری اور صلح مندی کو بہترین صفت قرار دے کر اسی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس دین کی تبلیغ میں تشدد، انتہا پسندی اور اپنے خیالات کو دوسروں پر زبردستی تھونپنے اور ٹھونسے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلام صرف چند عبادتوں کا نام نہیں ہے بلکہ مکمل نظام زندگی ہے جس کی بنیادیں عبادتوں پر رکھی گئی ہیں لیکن زنگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں دین اسلام اس کی رہنمائی نہ کرتا ہو۔ چونکہ دین اسلام ایکاصولی اور نظریاتی تحریک کا نام ہے جو حسن کردار سے تو پھیلایا جاسکتا ہے لیکن تلوار اور قوت کے زور سے نہیں پھیلا جاسکتا۔ دیکھا گیا ہے کہ طاقت و قوت اور حکومت و اقتدار کے ظلم و ستم کے آگے وقت طور پر لوگوں کے سر تو جھک جات ہیں مگر دل نہیں جھکتے کیونک دل تو اچھے اخلاق و کردار کی بلندی کے سامنے جھکتے ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اسلام نے سروں کو نہیں جھکایا بلکہ دلوں کو فتح کیا ہے۔ اسی میں اس کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ کفار قریش جو صرف چند بتوں کے سامنے جھکنے کو عبادت سمجھتے تھے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے دنیا و آخرت میں کامیابی کا پیغام پہنچایا تو وہ بوکھلا اٹھے۔ ابتداء میں انہوں نے اس بلند ہونے والی آواز کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ آ پکے پیغام کی طرف ہر شخص متوجہ ہوچکا ہے اور قبیلوں اور خاندانوں میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا ہے اور وہ تقسیم ہونا شروع ہگئے ہیں تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس تجویز کو رکھ دیا کہ ہم کوئی ایسا راستہ نکال لیتے ہیں کہ جس سے ہماری قوم بھی تقسیم ہیں ہوگی اور ہر ایک اپنے معبودوں کی عبادت بھی کرتا رہے گا۔ اس مسئلہ میں قریشی سردار ولید ابن مغیرہ، عاص ابن وائل، اسود ابن عبد المطلب اور امیہ ابن خلف وغیرہ سب سے آگے تھے۔ چناچہ حضرت عبد اللہ ابن عباس (رض) نے بیان فرمایا ہے کہ قریش کے سرداروں نے آپ کے سامنے چند باتیں پیش کیں (١) کہنے لگے کہ ہم آپ کو اتنا مال دے دیتے ہیں کہ آپ مکہ کے سب سے زیادہ رئیس اور مال دار شخص بن جائیں گے۔ (٢) آپ جس عورت کو پسند کریں گے ہم اس سے آپ کی شادی کرا دیں گے۔ (٣) ہم آپ کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہیں مگر ہماری صرف اتنی سی شرط ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ہم سب کی بھلائی اسی میں ہے کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں الات اور عزتی کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت و بندگی ریں گے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اگر تم ہمارے معبودوں کو چوم لو تو ہم تمہارے معبود کی عبادت کرنے کو تیار ہیں۔ کفار قریش کی باتوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورة الکافرون کو نازل فرمایا جس میں دو ٹوک انداز میں فرما دیا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ میرا دین اور تمہارا دین الگ الگ ہے۔ میں تمہارے معبودوں کی عبادت و بندگی نہیں کرسکتا اور نہ تم میرے معبود کی بندگی کرتے ہو لہٰذا میرا اور تمہارا راستہ الگ الگ ہے۔

Ayahs 109:1–6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو !

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور نہ تم اس کی عبات کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور میں تمہارے ان معبودوں کی عبادت کرنے والا نہیں ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم میرے معبود کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تمہارے لئے تمہارا راستہ ہے اور میرے لئے میرا راستہ ہے۔

لغات القرآن۔ لا اعبد۔ میں عبادت نہ کروں گا۔ تعبدون۔ تم (جن چیزوں کی) عبادت کرتے ہو۔ انتم۔ تم۔ دینکم۔ تمہارا دین۔ لی۔ میرے لئے۔ تشریح : اتحادو اتفاق، رواداری، ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا، صلح اور امن وسلامتی یہ وہ عادتیں اور صفتیں ہیں جنہیں اسلام میں بہت اہمیت دی گئی ہے لیکن بےبنیاد اتحاد و اتفاق کی باتیں، دنیا دکھاوے کے لئے زبانی رواداری کے نعرے، آپس میں مل جل کر رہنے اور ایک ہوجانے کی منافقانہ باتیں کسی طرح پسندیدہ نہیں ہیں۔ تمام مذاہب میں دین اسلام ہی وہ طریقہ زندگی ہے جس نے باہمی محبت، رواداری، حسن سلوک ہر انسان سے بحیثیت ہمدردی، امن و سلامتی اور صلح صفائی کی اعلیٰ ترین تعلیم دی ہے لیکن جہاں بھی اسلام کے ابدی اصولوں بدل جانے اور اس کی بنیادوں کے اکھڑ جانے کا اندیشہ ہو ” اتحاد و اتفاق “ کے نام پر ایسی کسی منافقانہ کاروائی کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ اصل میں دین اسلام کے اصولوں میں تشدد، ظلم و جبر، انتہا پسندی، دہشت گردی، اپنے خیالات کو زبردستی دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کرنا اور اپنی بات کو اونچا رکھنے اور زور زبردتی کے ساتھ منوانا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ دین اسلام ایک اصولی اور نظریاتی دین ہے اور اس بات سے ہر شخص اچھی طرح واقف ہے کہ نظریات کو مختلف طریقوں سے سمجھا یا جاتا تاکہ انسان کا ذہن و فکر اس کے قبول کرنے پر آمادہ ہوسکے۔ طاقت کے استعمال سے وقتی طور پر سروں کو جھکایا جاسکتا ہے لیکن ظلم و جبر اور طاقت کے ذریعہ دلوں کو جھکانا ممکن نہیں ہے کیونکہ دلوں کو تو حسن کردار، اعلیٰ اخلاق، محبت اور خلوص کے ساتھ ہی جھکایا جاسکتا ہے۔ چناچہ جب نبی کریم ﷺ نے قریش مکہ کو قرآن کریم کی آیتوں کے ذریعہ اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ تم تمام انسانوں کی کامیابی ایک اللہ کو ماننے، فکر آخرت اور بہترین اصولوں کو اپنانے میں ہے تو سارا عرب چونک اٹھا۔ اللہ کے گھر میں تین سوساٹھ بتوں کے سامنے اپنا ماتھا رگڑنے والے، اپنی تمناؤں کے لئے ان بتوں کو اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھنے والے، رسموں کی پابندیوں اور قبیلوں کے رسم و رواج میں جکڑے ہوئے لوگوں کے لئے یہ ایک اجنبی سی آواز تھی۔ ابتداء میں تو کفار قریش نے نبی کریم ﷺ کی باتوں کو ایک جذباتی اور وقتی جذبہ سمجھ کر نظر انداز کردیا لیکن جب کفار قریش نے اس بات کو محسوس کیا کہ تحریک کی سنجیدی اور نبی کریم ﷺ کی مقناطیسی شخصیت سے ہر قبیلے کے لوگ بڑی تیری سے متاثر ہو رہے ہیں اور ذہنی اور فکری اعتبار سے آپ کے قریب ہوتے جا رہے ہیں تب قریشی سرداروں کو تشویش ہوئی۔ سب نے آپس میں مشورہ کیا اور یہ طے کیا کہ اس سلسلہ میں آپ سے بات چیت کی جائے۔ کفار قریش نے یہ سمجھ کر کہ اگر یہ تحریک اسی طرح چلتی رہی تو خاندانوں اور قبیلوں کے رسم و رواج بھی برباد ہوجائیں گے اور لوگ آپس میں تقسیم ہوجائیں گے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قریش کے بڑے سردار ولید ابن مغیرہ، عاص ابن وائل، اسودا بن عبد المطلب، امیہ ابن خلف اور دوسرے بہت سے لوگ چند تجاویز لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تاکہ ان تجاویز پر بات چیت کی جاسکے۔ کفار قریش نے یہ تجویز پیش کی کہ اے محمد ﷺ ! ہم آپ کو انتا مال دے دیتے ہیں جس سے آپ مال دار ہوجائیں۔ اگر آپ کسی قبیلے کی لڑکی کو پسند کرتے ہیں تو اس سے آپ کی شادی کردی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سب مل کر آپ کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں اور ہم سب آپ کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں مگر ہماری شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا بھلانہ کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرلیتے ہیں کہ آپ ایک سال ہمارے معبودوں لات اور عزی کی عبادت کرلیں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت و بندگی کرلیتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کی روایت یہ ہے کہ قریشی سرداروں کی اس تجویز پر آپ خاموش رہے یعنی اللہ کے حکم کے منتظر رہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر سورة الکافرون نازل فرمائی جس میں فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ صاف صاف اعلان فرما دیجئے کہ دین اسلام اور کفر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ میرا دین اور تمہارا دین ایک نہیں ہوسکتا۔ میں تمہارے معبودون کی عبادت و بندگی نہیں کرتا اور نہ تم ایک اللہ کی پرستش کرتے ہو۔ میں تمہارے معبودو کے سامنے نہیں جھک سکتا اور تم میرے معبود کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہو۔ لہٰذا تمہارا اور میرا راستہ الگ الگ ہے۔ روایت کے تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی تجاویز متعدد ومواقع پر کفا رکی طرف سے پیش کی گئیں مگر ہر مرتبہ کفار پر اس بات کو واضح کردیا گیا کہ اتحادو اتفاق اصولوں پر ہوا کرتا ہے اپنی بنیادوں کو چھوڑ کر ہر طرح کا اتحادو اتفاق اور رواداری ایک سیاسی نعرے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ چناچہ قرآن کریم میں کئی مقامات پر اسی بات کو ارشاد فرمایا گیا ہے جس میں نبی کریم ﷺ اور پوری امت کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت و بندگی کرنا جائز نہیں ہے۔ ارشاد ہے لوگوں کو اس کے سوا کسی بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ یکسو ہو کر اپنے اللہ کے لئے خالص کرکے اسی کی عبادت و بندگی کریں۔ (سورۃ البینہ۔ آیت نمبر 5) اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم مجھ سے اس بات کی توقع رکھتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت و بندگی کروں اے جاہلو ! تم یہ کیسی باتیں کرتے ہو۔ ( سورة زمر۔ آیت نمبر 64) کفار قریش کی طرف سے یہ بھی تجویز پیش کی گئی کہ اے محمد ﷺ ! اگر تم ہمارے معبودوں کو چوم لو تو ہم تمہارے معبود کی عبادت کرنے کو تیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کو جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کفار یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ بتوں کے معاملے میں کچھ نرمی برتیں تو وہ بھی آپ کے بارے میں نرم پڑجائیں گے۔ (سورۃ القلم) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ کفار قریش نے اتحاد و اتفاق اور رواداری کے نا پر جو تجاویز پیش کی تھیں قیامت تک آنے والی نسلوں کو بتایا جا رہا ہے کہ اسلام کا اپنا ایک مزاج ہے جس میں پیوندکاری نہیں کی جاسکتی کیونکہ اللہ کی عبادت میں کسی کو کسی طرح شریک نہیں کیا جاسکتا۔