Ayah 109:11 : قُلْ یٰٓـاَ یُّھَا الْکٰفِرُوْنَ (آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو) اس کے مخاطب مخصوص کفار ہیں۔ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔
کفر سے بیزاری :
روایت میں ہے کہ قریش کی ایک پارٹی نے کہا اے محمد آئو تم ہمارے دین کی اتباع کرلو اور ہم تمہارے دین کی اتباع کرتے ہیں۔ ایک سال ہم تمہارے معبود کی عبادت کرتے ہیں ایک سال تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو۔ آپ نے فرمایا معاذ اللہ ! اَنْ اُشْرِکَ بِاللّٰہِ غَیْرَہٗ میں اللہ تعالیٰ کی اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک کروں۔ پھر کہنے لگے ہمارے بعض معبودوں کو ہاتھ لگا کر بوسہ دو ۔ ہم تیری بات مان جائیں گے۔ اور تیرے معبود کی پوجا کرنے لگیں گے پس یہ آیت اتری۔ پھر آپ صبح کے وقت مسجد حرام میں تشریف لے گئے۔ جہاں قریش کا ایک گروہ بیٹھا تھا۔ آپ نے ان پر یہ سورت پڑھی تو وہ آپ کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ ] ہذا ذکرہ الزمخشری فی الکشاف 4/808[
Ayah 109:22 : لَآ اَعْبُدُ مَاتَعْبُدُوْنَ (نہ میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں) یعنی میں اپنی موجودہ حالت میں تمہارے معبودوں کی عبادت کرنے والا نہیں ہوں۔
Ayah 109:33 : وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ (اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرتے ہو) عابدونؔ اس وقت عبادت کرنے والے ہو۔ ما اعبدؔ جس کی میں عبادت کرتا ہوں یعنی اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 109:44 : وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ (اور نہ میں تمہارے معبودوں کی پرستش کروں گا) یعنی نہ میں مستقبل میں ان کی عبادت کرو نگا۔ جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
Ayah 109:55 : وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ (اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرو گے) ولاانتم اور نہ تم مستقبل میں عابدون ما اعبد۔ اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں یہاں ما ؔ کا لفظ ذکر کیا گیا کیونکہ اس سے مراد صفت ہے۔ یعنی میں باطل کی عبادت نہ کرونگا اور نہ تم حق کی عبادت کروگے۔ نمبر 2۔ لفظ ماؔ لائے تاکہ دونوں لفظ متقابل ہوجائیں۔ اور اول میں منؔ درست نہیں دوسرے میں ما کو بمعنی الذی لینا درست ہے۔
Ayah 109:66 : لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ (تم کو تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھکو میرا بدلہ ملے گا) تمہارے لئے تمہارا شرک اور میرے لئے میری توحید مبارک ہو۔
قراءت : نافع اور حفص نے وَلِیَ فتحہ یاء سے پڑھا اور ابو عمر و ابن عامر نے وَلِیْ ، سکون یاء سے پڑھا ہے۔
ایک روایت ہے ابن مسعود ؓ مسجد نبوی میں داخل ہوئے جبکہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا نابذبابن مسعود۔ علیحدگی کا اعلان کر اے ابن مسعود۔ تو ابن مسعود ؓ نے قل یایھا الکافرون پڑھی پھر دوسری رکعت میں فرمایا۔ اخلص تو خالص کر تو عبد اللہ بن مسعود نے قل ھو اللہ احد پڑھی۔ جب سلام پھیرا تو آپ نے فرمایا اے ابن مسعود مانگو۔ تمہاری دعاء قبول کی جائے گی۔