110. Surah An-Nasr
النصرDivine Support · 3 ayahsمدارک التنزیل
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader
جب اللہ کی مدد آپہنچی اور فتح (حاصل ہوگئی)
1 : اِذَاجَآ ئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفتْحُ (جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آپہنچے)
نحو : اذاؔ یہ فسبح کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور یہ مستقبل میں پیش آئندہ واقعہ کی اطلاع وقوع سے قبل دے دی گئی ہے۔ یہ علامات نبوت میں سے ہے۔ روایت میں ہے یہ حجۃ الوداع میں ایام تشریق کے دنوں میں نازل ہوئی۔
علاماتِ نبوت سے فتح کی پیشگوئی :
جَآ ئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفتْحُ النصر اعانت اور دشمنوں کی مغلوبیت۔ الفتح علاقوں کا مفتوح ہونا۔ معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کی عرب کے خلاف مدد فرمائیں گے یا قریش کے خلاف مدد فرمائیں گے۔ اور مکہ فتح ہوجائے گا یا ایمان والوں کی نصرت فرمائیں گے اور مشرکین کے علاقوں پر ان کو فتح دیں گے اس صورت میں نصر سے جنس نصرت مراد لی گئی ہے۔
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader
اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
2 : وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا ( اور آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین میں جوق درجوق داخل ہوتا دیکھ لیں گے)
نحو : رایت کو ابصرت یاعرفت کے معنی میں مانیں تو یدخلون یہ الناس سے حال ہے۔ نمبر 2۔ علمت کے معنی میں مانیں تو پھر یہ اس کا دوسرا مفعول ہے۔ اَفْوَاجًا یہ یدخلون کے فاعل سے حال ہے۔ اور اذا کا جواب فسبح ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : اذا جاء نصر اللہ ایاک علی من ناواک وفتح البلاد ورأیت اہل الیمن یدخلون فی ملۃ الاسلام جماعات کثیرۃ بعد ماکانوا یدخلون فیہ واحدًا واحدًا واثنین اثنین۔ جب اللہ تعالیٰ کی مدد آئے تو بچا اپنے کو ان لوگوں سے جو دشمنی کرنے والے ہیں اور شہروں کو اللہ تعالیٰ فتح کر دے تو تم اہل یمن کو ملت اسلام میں بڑی بڑی جماعتوں میں داخل ہوتا دیکھو گے جبکہ وہ اس سے پہلے ایک ایک دو دو کرکے داخل ہوتے تھے۔
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader
تو اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرو اور اس سے مغفرت مانگو بیشک وہ معاف کرنے والا ہے
3 : فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ (تو اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیجئے) فسبحؔ یعنی سبحان اللہ حامداً لہ کہیں یا اللہ تعالیٰ کیلئے نماز پڑھیں۔ وَاسْتَغْفِرْہُ (اور اس سے مغفرت کی درخواست کیجئے) تواضع اور نفس کو مٹانے کیلئے یا ہمیشہ استغفار کرتے رہیں۔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا (وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ) انہ کان بیشک وہ ہمیشہ سے ہے توبہ قبول کرنے والا۔
روایت میں ہے حضرت عمرؓ اس کو سن کر رو دیئے اور کہا کہ کمال زوال کی دلیل ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد دو سال تک زندہ رہے۔ (حج کے بعد آپ ﷺ صرف 87‘ 88 روز دنیا میں رہے)