109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 109:1–6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ان منکران اسلام سے کہہ دو کہ اے کافرو !

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

جن (بتوں) کو تم پوجتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور جس (خدا) کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور (میں کہتا ہوں) کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو انکی پرستش کرنے والا نہیں ہوں

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم اسکی بندگی کرنے والے (معلوم ہوتے) ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر

1۔ 6۔ طبرانی 3 ؎ اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ اور چند اور مشرکوں نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ محمد ﷺ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو اور اس طرح ہم اور تم مل جل کر مکہ میں رہیں کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کی پوجا کر یا کرو ‘ ہم دوسرے سال تمہارے خدا کی بندگی کرلیا کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اگرچہ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک شخص ابو حنیف عبد اللہ بن عیسیٰ ضعیف ہے لیکن آیت قل افغیر اللہ نامرونی اعبد ایھا الجاھلون کے مضمون سے اس شان نزول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ قریش کی جس فرمائش کا ذکر اس شان نزول کی روایت میں ہے آیت کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے اس قسم کی فرمائش ضرور کی تھی بعض مفسروں نے جہاد کی آیت سے اس آیت کو اور بعضوں نے ساری سورة کو منسوخ لکھا ہے لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے خبر میں ناسخ اور منسوخ نہیں ہوتا کیونکہ ایک بات کی خبر دے کر پھر اس کو پلٹ ڈالنا جھوٹ کی ایک شاخ ہے ہاں ایک بات کا امر یا اس کی نہی کرکے اس امر اور نہی کو پلٹ ڈالنا ممکن ہے۔ علاوہ اس کے اس سورة میں اول سے آخر تک توحید کی تاکید اور شرک کی مذمت ہے۔ اس طرح کا مضمون قیامت تک منسوخ نہیں ہوسکتا ورنہ ساری شریعت منسوخ ہوجائے۔ صحاح 1 ؎ کی کتابوں میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح اور مغرب کی رکعتوں میں آنحضرت ﷺ اکثر قل یایھا الکفرون اور قل ھو اللہ احد پڑھا کرتے تھے کہ قل یایھا الکفرون کے پڑھنے سے پاؤ قرآن کے پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 404 ج 6۔ ) 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 559 و 560 ج 4۔