109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 109:1–6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

تو کہہ اے منکرو !

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

جن بتوں کو تم پوجتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا۔

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور جس اللہ کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور میں نہ اسے پوجتا ہوں جسے تمنے پوجا

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین

دین کے بارے میں اللہ کا محکم فیصلہ تشریح : اس سورة مبارکہ میں حق و باطل اور دین کی مضبوط حدود کا فیصلہ کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے حق و باطل یعنی روشنی اور اندھیرا ' یعنی ایک ہی وقت میں دن بھی ہو اور رات بھی ' یہ تو قانون قدرت کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے یہ تو کسی صورت ممکن ہی نہیں کہ سرداران قریش کی یہ تجویز مان لی جائے کہ کچھ مدت اللہ کے رسول ﷺ ان کے بتوں کی پرستش کریں اور کچھ مدت وہ کفار توحید کا اقرار کر کے اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں۔ کفر و اسلام کا تو اکٹھا ہونا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے سچ اور جھوٹ ایک ہوجائیں یا روشنی اور اندھیرے کو یکجا کردیا جائے۔ اس ناممکن عمل کو یعنی شرک اور توحید کو یکجا کردینا کسی صورت بھی ممکن نہیں یہ دونوں عقیدے دونوں عمل ایک دوسرے کے انتہائی مخالف ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے پیارے رسول ان کو اچھی طرح سمجھا دو فرمایا '' کہہ دو ان سے تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے۔ (آیت 6) دین کوئی چیز نہیں کہ جس کا لین دین کرلیا جائے یہ تو عقیدہ ہے۔ اور عقیدے کی اہمیت اور ضرورت یوں ہے کہ اس سے انسان کی بیشمار پریشانیوں ' تکلیفوں اور گمراہیوں کا علاج خودبخود ہوجاتا ہے۔ تفکر و تدبر کرنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے مگر عقیدہ سے ہٹے بغیر۔ جب ہم نے یعنی انسان نے علم و عرفان حاصل کیا تو تفکر و تدبر سے اس نے اللہ کو پہچان لیا۔ علم نے یہ گتھی سلجھا دی کہ انسان کیسے پیدا ہوا۔ تو یوں ڈارون اور بیشمار مفکرین کی الٹی سیدھی الجھی ہوئی تھیوریوں سے نجات مل گئی۔ یہ تھیوری کفر کی بنیاد پر بنائی گئی لہٰذا قرآن کی خبر انسان کی پیدائش کے بارے میں بہت سی قباحتوں سے بچا لیتی ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ '' اللہ کا انکار کرنا اور گندگی کے کیڑے کی طرح زندگی گزارنا ' اس نظریہ کی جڑ بنیاد اور اس کا اصل مقصد ہے ''۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بتا دیا کہ یہ نیکی ہے یہ بدی ہے۔ تم نائب اللہ ہو۔ اشرف المخلوقات ہو۔ تمہیں علم ' زبان ' عقل اور ارادہ دیا گیا ہے۔ یہ دنیا بڑی آزمائشوں ' ترغیبات اور طرح طرح کے اونچے نیچے راستوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس زندگی کو اگر قرآن و سنت کے قوانین ' اصول اور رہبری کے مطابق گزارو گے تو خوش رہوگے ' زندگی آسان اور خوش گوار گزرے گی۔ پھر بار بار یہ خبر یہ عقیدہ اور حکم سنایا گیا کہ یاد رکھو زندگی صرف کھیل تماشہ نہیں بلکہ پکی بات ہے کہ تم نے مرنے کے بعد قیامت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اپنی اس زندگی کے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے اور اجر پانا ہے۔ جس کا یہ عقیدہ مضبوط ہوگا وہ یقینا دنیا میں چاروں طرف پھیلی ہوئی آزمائشوں سے خود کو زیادہ سے زیادہ بچانے کی کوشش کرے گا تو یوں انسانی زندگی بیشمار برائیوں سے پاک صاف ہوجاتی ہے۔ تو یہ عقیدہ اللہ کی وحدانیت سے یوم الدین پر ایمان تک ایک مکمل عقیدہ کے اندر سمٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس عیسائی ' یہودی مجوسی ' بدھ اور ہندو دھرم وغیرہ وغیرہ یہ سب اس عقیدہ اسلام سے ہٹ کر ہیں۔ سب میں اللہ کو مانا جاتا ہے مگر شرک کے ساتھ تو جب بنیاد ہی کمزور اور بےمعنی ہے تو اس پر عمارت کیسے مضبوط ہوسکتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کفر وشرک کو ایک مدت کے لیے مان لینا اس شرط پر کہ کفار اتنا عرصہ اللہ پر ایمان لے آئیں گے ' یہ کیسے عملی صورت میں قابل قبول ہوسکتا ہے۔ اسی لیے رب العزت نے فیصلہ کن انداز میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا ہے۔ '' کہ کہہ دو تمہارا دین تمہارے لیے ہے اور میرا دین میرے لیے ہے۔ (آیت 6) ہمارا دین ہمارا دستور حیات اور ہمارا عقیدہ وحی الٰہی سے ترتیب دیا گیا ہے۔ بھلا اس کا مقابلہ انسان کا بنایا ہوا دین کہاں اللہ خالق ومالک اور کہاں '' انسان مخلوق و مجبور ؟ اللہ کا یہ فرمان ہر وقت یاد رکھنا چاہیے۔ (القرآن) اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھیں گے ' تو کسی شخص کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی۔ (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو حاضر کردیں گے اور ہم حساب لینے میں تنہاکافی ہیں۔ (الانبیاء : 47) اللہ ہمیں دین اسلام پر قائم و دائم رکھے اور ہماری نجات کر دے آمین ثم آمین۔ الحمد للہ کہ سورة الکٰفِرون مکمل ہوئی۔