Ayahs 109:1–21 کفار مکہ کی ایک خطرناک چال حق وباطل میں سمجھوتہ :۔ اس سورت میں ان کافروں سے خطاب ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ 68) 5 ۔ المآئدہ :68) (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورة الکافرون)
جب آپ ﷺ کی دعوت سے مکہ میں کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تو کفار مکہ کو ابتدائ ً اسلام اور کفر میں سمجھوتے کی سوجھی اور اس کے لیے کئی راہیں اختیار کی گئیں۔ کبھی لالچ کا راستہ اور کبھی دھمکی اور دھونس کا راستہ۔ حتیٰ کہ ایک دفعہ کفار نے یہاں تک پیش کش کردی کہ آپ چاہو تو ہم آپ کے قدموں میں مال و دولت کے انبار لگا دیتے ہیں۔ حکومت چاہو تو وہ بھی حاضر ہے۔ کسی مالدار اور حسین لڑکی سے شادی چاہتے ہو تو وہ بھی حاضر ہے مگر ہمارے معبودوں کی توہین نہ کیا کرو۔ منجملہ ایسی تدابیر کے ایک تدبیر یا تجویز یہ بھی تھی کہ کافروں نے آپ سے کہا کہ ایک سال ہم آپ ﷺ کے معبود کی عبادت کیا کریں گے بشرطیکہ اگلے سال تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو۔ کفار کی یہ تدبیر کسی روا داری کی بنا پر نہیں تھی بلکہ ایک انتہائی خطرناک چال تھی۔ جس سے وہ دھوکا دے کر پیغمبر اسلام کو ان کے قدموں سے اکھیڑنا چاہتے تھے۔ اس لیے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی معبود برحق بلکہ سب سے بڑا معبود تسلیم کرتے تھے۔ ان کا جرم تو صرف یہ تھا کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کیا کرتے تھے۔ اس لیے اس شرط سے نہ ان کے عقیدہ میں کچھ فرق آتا تھا اور نہ ہی طرز زندگی میں، جبکہ اللہ کے رسول کو وہ شرک کی نجاست میں مبتلا کرنا چاہتے تھے جسے مٹانے کے لیے ہی آپ کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ باطل کبھی اکیلا چل نہیں سکتا۔ جب تک اس میں کچھ نہ کچھ حق کی آمیزش نہ کی جائے۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ وہ اکیلا چل نہیں سکتا جب تک اس میں سچ کی آمیزش نہ ہو اور یہی ان کافروں کا مذہب تھا۔ جبکہ حق باطل کی ادنیٰ سی آمیزش بھی گوارا نہیں کرتا۔ اس لیے کہ حق میں باطل کی ادنیٰ سی آمیزش سے حق باطل بن جاتا ہے۔ جیسے ایک من دودھ میں اگر ایک پاؤ بھر پیشاب ملا دیا جائے تو سارے کا سارا نجس، پلید اور ناقابل استعمال ہوجاتا ہے۔ اسی مضمون کو کسی شاعر نے ایک شعر میں یوں بیان کیا ہے۔ ؎
باطل دوئی پرست ہے، حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
کافروں کی اسی سمجھوتے کی تجویز کا جواب اس سورت میں دیا گیا ہے۔
Ayah 109:32 قرآن نے کافروں کی اس تجویز کا دو ٹوک فیصلہ کردیا اور اپنے نبی سے فرما دیا کہ سب کافروں کے سامنے یہ اعلان کردو کہ اس شرط پر ہمارے تمہارے درمیان کبھی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ میں کسی قیمت پر تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا۔ جس کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ تم بھی ایک اکیلے اللہ کی عبادت کرنا گوارا نہ کرو گے اور اپنے دوسرے معبودوں کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوگے۔
Ayahs 109:4–53 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت نمبر 4 اور 5 میں آیت 2 اور 3 کے مضمون کا ہی تکرار ہے اور اگر اسے تکرار ہی تسلیم کیا جائے تو بھی یہ تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ تاہم یہ محض تکرار نہیں بلکہ ان میں دو قسم کا فرق ہے۔ ایک یہ کہ پہلی دو آیات میں ما کو موصولہ اور پچھلی دو آیات میں ما کو مصدریہ قرار دیا جائے۔ اس صورت میں پچھلی آیات کا معنی یہ ہوگا کہ جو طریق عبادت میں نے اختیار کیا ہے۔ اسے تم قبول نہیں کرسکتے اور جو تم نے اختیار کر رکھا ہے اسے میں نہیں کرسکتا۔ آپ ﷺ کا طریق عبادت یہ تھا کہ آپ نماز میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے تھے اور اس طریق عبادت سے کافروں کو خاصی چڑ تھی اور اس سے منع بھی کرتے تھے جیسا کہ سورت علق میں ابو جہل اور عتبہ بن ابی معیط سے متعلق کئی واقعات درج کیے جاچکے ہیں۔ اور کافروں کا طریق عبادت یہ تھا کہ گاتے، سیٹیاں اور تالیاں بجاتے، کعبہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے تھے۔ آپ بھلا ان کا یہ طریق عبادت اختیار کرسکتے تھے۔ ؟
اور اگر بعد کی آیات میں بھی ما کو موصولہ ہی سمجھا جائے تو بھی دو فرق واضح ہیں۔ ایک یہ کہ پہلی آیت میں لاَاعْبُدُ آیا ہے اور بعد کی آیات میں لاَاَنَا عَابٍِدٌ اور ظاہر ہے کہ جو تاکید لاَاَنَا عَابِدٌ (یعنی میں کسی قیمت پر عبادت کرنے والا نہیں) میں پائی جاتی ہے وہ لاَاَعْبُدُ میں نہیں پائی جاتی اور دوسرا فرق یہ ہے کہ پہلی آیات میں ماتَعْبُدُوْنَ (یعنی جنہیں تم آج کل پوجتے ہو) ہے۔ اور بعد والی آیات میں ماعَبَدْتُمْ صیغہ ماضی میں ہے یعنی جنہیں تم پہلے پوجتے رہے یا تمہارے آباء واجداد پوجا کرتے تھے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ مشرک اپنی حسب پسند اپنے معبودوں میں تبدیلی کرلیا کرتے تھے۔ جو چیز فائدہ مند نظر آئی یا جو خوبصورت سا پتھر نظر آیا اسے اٹھا کر معبود بنا لیا اور پہلے کو رخصت کیا۔
Ayah 109:64 شرک سے متعلق کسی قسم کی لچک اور رواداری کی کوئی گنجائش نہیں :۔ یہ ہے وہ دوٹوک فیصلہ جو صرف مکہ کے کافروں کو نہیں، دنیا بھر کے کافروں کو بھی نہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی واضح الفاظ میں بتایا گیا کہ مشرکوں کو ان کے معبود مبارک رہیں۔ مگر مسلمان اسے کسی قیمت پر گوارا نہیں کرسکتے۔ شرک کے معاملہ میں اسلام نے کسی قسم کی لچک اور روا داری برداشت نہیں کی۔ خواہ یہ مشرک کافر ہوں یا اپنے آپ کو مسلمان ہی کہلاتے ہوں۔ کیونکہ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود لوگوں کی اکثریت مشرک ہی ہوتی ہے جیسا کہ سورت یوسف کی آیت نمبر 106 میں فرمایا : ( وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ 106۔ ) 12 ۔ یوسف :106)