110. Surah An-Nasr
النصرDivine Support · 3 ayahsتیسیر القرآن
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader
جب اللہ کی مدد اور فتح 1 آپہنچی
1 فتح مکہ۔ مکہ پر چڑھائی کا سبب اور کیفیت :۔ فتح سے مراد کسی عام معرکہ کی فتح نہیں بلکہ اس سے مراد مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن قریش کا مرکز شہر مکہ ہے۔ تمام قبائل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ آیا مسلمان مکہ کو فتح کرسکیں گے یا نہیں ؟ اگر کرلیں تو اسلام سچا مذہب ہے ورنہ نہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اسلام لانے کو بھی فتح مکہ سے مشروط اور فتح مکہ تک موخر کر رکھا تھا۔ گویا فتح مکہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک فیصلہ کن فتح تھی۔ اور خالصتاً اللہ کی مدد سے اور معجزانہ انداز سے واقع ہوئی تھی۔ جس میں مسلمانوں کو معمولی سے معرکہ کی بھی ضرورت پیش نہ آئی۔ مکہ پر چڑھائی کا فوری سبب قریش مکہ کی عہد شکنی تھی جو انہوں نے صلح حدیبیہ کی شرائط کو پس پشت ڈال کر اور اپنے حلیف قبیلہ بنو بکر کی علی الاعلان مدد کرکے کی تھی۔ اور جب بنوخزاعہ کی فریاد پر رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے کچھ شرائط پیش کیں تو قریشی نوجوانوں نے انہیں ٹھکرا دیا تھا۔ اسی دوران آپ ﷺ نے انتہائی خفیہ طریق سے مکہ پر چڑھائی کی تیاری شروع کردی اور اپنے حلیف قبائل کو بھی خفیہ طور پر پیغام بھیج دیا تھا۔
ابوسفیان کی گرفتاری :۔ جب آپ ﷺ مدینہ سے روانہ ہوئے تو لشکر کی تعداد چار ہزار تھی۔ راستہ میں حلیف قبائل ملتے گئے اور مکہ پہنچنے تک دس ہزار کا جرار لشکر آپ کے ہمرکاب تھا۔ آپ ﷺ نے مکہ کے قریب مرالظہران میں پڑاؤ ڈالا تو اس لشکر کو میلوں میں پھیلا دیا اور حکم دیا کہ آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کیے جائیں۔ دشمن یہ منظر دیکھ کر اس قدر مرعوب ہوگیا کہ اس میں مقابلہ کی سکت ہی نہ رہی۔ ابو سفیان اپنے دو ساتھیوں سمیت حالات کا جائزہ لینے نکلا ہی تھی کہ گرفتار ہوگیا۔ سیدنا عباس نے اسے اپنے گھوڑے کے پیچھے بٹھایا تاکہ بلاتاخیر اس کے لیے دربار نبوی سے امان کا پروانہ حاصل کرلیا جائے۔ سیدنا عمر کو خبر ہوئی تو وہ بھی فوراً دربار نبوی کو روانہ ہوئے تاکہ ابو سفیان کو دربار نبوی میں پہنچنے سے پہلے اور امان ملنے سے پیشتر ہی قتل کردیا جائے۔ اتفاق کی بات کہ سیدنا عباس پہلے پہنچ گئے اور ابو سفیان کی جان بچ گئی۔ آپ ﷺ نے اسے معاف کردیا اور سیدنا عباس سے کہا کہ اسے اپنے خیمہ میں لے جائیں۔
آپ کا مسلمانوں کو کفار کے سامنے شان وشوکت کا مظاہرہ کرنے کا حکم :۔ دوسرے دن آپ ﷺ نے ابو سفیان کو پہاڑی کے ایک بلند مقام پر کھڑا کیا اور اسلامی لشکر، جو قبائل کے لحاظ سے مختلف فوجی دستوں میں بٹا ہوا تھا، کو حکم دیا کہ ابو سفیان کے سامنے پوری شان و شوکت کے ساتھ گزرتے جائیں۔ اس نظارہ نے صرف ابو سفیان پر ہی نہیں، تمام کفار کے دلوں پر اسلام کی ایسی دھاک بٹھا دی کہ مقابلہ کا کسی کو خیال تک نہ آیا اور اس طرح عرب کا یہ مرکزی شہر بلامقابلہ اور بغیر کسی خون خرابہ کے فتح ہوگیا۔
معافی کا اعلان :۔ فتح کے بعد آپ ﷺ نے اپنے ان جانی دشمنوں کو بڑی فراخدلی کے ساتھ معاف کردیا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ نہ صرف ابو سفیان اور اس کے اہل خانہ مسلمان ہوگئے بلکہ اہل مکہ کی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا۔ کافروں کے دلوں میں اس طرح رعب ڈال دینا اور مکہ کا اس طرح بلامقابلہ فتح ہوجانا بلاشبہ اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا۔
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader
اور آپ نے دیکھ لیا کہ لوگ گروہ در گروہ اللہ کے دین میں داخل ہو رہے 2 ہیں
2 فتح مکہ اور مشرک قبائل کا جوق درجوق اسلام میں داخل ہونا :۔ عرب قبائل تو پہلے ہی اس بات کے انتظار میں تھے کہ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو یہ قبیلے دھڑا دھڑ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ مکہ رمضان 8 ھ میں فتح ہوا تھا۔ 9 ھ میں اس قدر وفود اسلام لانے کے لیے مدینہ حاضر ہوئے کہ اس سال کا نام ہی عام الوفود پڑگیا۔ ہر قبیلے کے چند معتبر لوگ مدینہ جاتے، اسلام کی تعلیم حاصل کرتے پھر واپس آکر اپنے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔ 9 ھ میں حج کے موقع پر اعلان برات کیا گیا جس کا تفصیلی ذکر سورة توبہ کی ابتدا میں گزر چکا ہے۔ اس اعلان کی رو سے اب مشرکین عرب کے لیے دو ہی راستے رہ گئے تھے یا تو وہ اسلام میں داخل ہوجائیں یا پھر جزیرہ عرب سے باہر نکل جائیں۔ چناچہ مشرکین عرب نے بھی پہلی ہی بات قبول کی اور اسلام لے آئے۔ اس طرح 10 ھ میں سر زمین عرب کفر و شرک سے پاک ہوگئی۔
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader
تو آپ اپنے پروردگار 3 کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔ اور اس سے بخشش طلب کیجیے۔ یقینا وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔
3 آپ کی وفات کی طرف اشارہ :۔ یہ سورت سب سے آخری نازل ہونے والی مکمل سورت ہے۔ (مسلم، کتاب التفسیر) اور یہ 10 ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد چند متفرق آیات نازل ہوئیں جیسے (الْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ۔۔ ) (3: 5) وغیرہ مگر مکمل کوئی سورت نازل نہیں ہوئی اور یہ آیت بھی اسی موقع پر نازل ہوئی تھی۔ اس سورت سے آپ ﷺ نے سمجھ لیا کہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد پورا ہوچکا ہے اور آپ ﷺ عنقریب اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔ چناچہ اسی سال حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے جو عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا اس میں یہ کہہ کر کہ : شاید آئندہ سال تم میں موجود نہ ہوں گا اس بات کی طرف واضح اشارہ کردیا تھا، اور سمجھدار صحابہ بھی اس سورت سے یہی کچھ سمجھتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر مجھے (اپنی مجلس مشاورت میں) بزرگ بدری صحابہ کے ساتھ بلالیا کرتے تھے۔ بعض صحابہ کو یہ بات ناگوار گزری اور کہنے لگے : آپ اسے ہمارے ساتھ بلالیتے ہیں جبکہ ہمارے بیٹے اس جیسے ہیں سیدنا عمر نے جواب دیا : اس کی وجہ تم جانتے ہو چناچہ ایک دن سیدنا عمر نے مجھے بھی بزرگ صحابہ کے ساتھ بلا لیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس دن آپ نے مجھے صرف اس لیے بلایا کہ انہیں کچھ دکھائیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ : اللہ تعالیٰ کے قول (اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ ) نصر "1) سے تم کیا سمجھتے ہو ؟ بعض لوگوں نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں فتح حاصل ہو تو ہمیں چاہیے کہ اللہ کی تعریف کریں اور اس سے بخشش چاہیں اور بعض خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ پھر مجھے پوچھا گیا : کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے ؟ میں نے کہا : نہیں کہنے لگے : پھر تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا : اس سورت میں آپ ﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے جس سے اللہ نے اپنے رسول کو آگاہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب اللہ کی مدد آپہنچی اور مکہ فتح ہوگیا اور یہی تمہاری وفات کی علامت ہے۔ سو اب آپ ﷺ اللہ کی تعریف کیجیے، اس سے بخشش مانگیے وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ سیدنا عمر کہنے لگے : میں بھی اس سے وہی کچھ سمجھا ہوں جو تم کہہ رہے ہو (بخاری، کتاب التفسیر)
اس آیت میں آپ ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے پروردگار کے اتنے بڑے احسانات کے شکریہ کے طور پر اب پہلے سے زیادہ اللہ کی تسبیح وتحمید کیا کریں اور آپ ﷺ کی زندگی بھر کی کاوشوں میں جو کوئی لغزش رہ گئی ہو تو اس کے لیے اللہ سے استغفار کریں۔ چناچہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو اس کے بعد آپ ﷺ رکوع اور سجدہ میں اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ (بخاری، کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة النصر)