111. Surah Al-Masad
المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتیسیر القرآن
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader
ابولہب 1 کے دونوں ہاتھ تباہ ہوں اور وہ (خود بھی) ہلاک ہو
1 ابو لہب کا تعارف :۔ ابو لہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا اور رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا حقیقی چچا تھا۔ نہایت ہی حسین و جمیل تھا۔ رنگ سیب کی طرح دمکتا تھا۔ اسی وجہ سے اس کی کنیت ابو لہب ہوئی۔ مالدار تھا مگر طبعاً بخیل تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی خبر اسے اس کی لونڈی ثویبہ نے دی تو اس خوشی میں اس نے ثویبہ کو آزاد کردیا۔ (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب امھاتکم الٰتی ارضعنکم) آپ ﷺ کے والد تو آپ ﷺ کی ولادت سے پیشتر ہی وفات پاچکے تھے۔ بڑا چچا ہونے کی حیثیت سے اپنے آپ کو باپ کا قائم مقام سمجھ کر اس نے اپنی طبیعت کے خلاف اس خوشی کا اظہار کیا تھا یا اسے کرنا پڑا تھا۔ یہ اس کے بخل ہی کا نتیجہ تھا کہ جب آپ کے دادا عبدالمطلب فوت ہونے لگے تو انہوں نے آپ کی کفالت (اس وقت آپ ﷺ کی عمر آٹھ برس تھی) ابو لہب کے بجائے ابو طالب کے سپرد کی جو مالی لحاظ سے ابو لہب کی نسبت بہت کمزور تھے۔ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد تین سال تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کام نہایت خفیہ طور پر ہوتا رہا۔ پھر جب یہ حکم نازل ہوا۔ ( وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ 214ۙ ) 26 ۔ الشعراء :214) اپنے قریبی کنبہ والوں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراؤ تو آپ ﷺ نے اس حکم کی تعمیل میں بنوہاشم اور بنو عبدالمطلب کو اپنے ہاں کھانے پر بلایا۔ کل 45 آدمی جمع ہوئے۔
ابولہب کی مخالفت :۔ آپ ﷺ نے ان کے سامنے لا الٰہ الا اللّٰہ کی دعوت پیش کی تو ابو لہب جھٹ سے بول اٹھا : دیکھو ! یہ سب حضرات تمہارے چچا یا چچازاد بھائی ہیں۔ نادانی چھوڑ دو اور یہ سمجھ لو کہ تمہارا خاندان سارے عرب کے مقابلہ کی تاب نہیں رکھتا۔ اور میں سب سے زیادہ حقدار ہوں کہ تمہیں پکڑ لوں۔ بس تمہارے لیے تمہارے باپ کا خانوادہ ہی کافی ہے۔ اور اگر تم اپنی بات پر اڑے رہے اور عرب کے سارے قبائل تم پر ٹوٹ پڑے تو ایسی صورت میں تم سے زیادہ اور کون شخص اپنے خاندان کے لیے شر اور تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ ابو لہب کی یہ تلخ اور ترش باتیں سننے کے بعد آپ ﷺ نے خاموشی اختیار کرلی اور دوسرے لوگ بھی اٹھ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
ابوطالب کی حمایت :۔ چند دن بعد آپ ﷺ نے دوبارہ اپنے قرابتداروں کو مدعو کرکے اپنی دعوت ذرا کھل کر پیش کی۔ جس کے نتیجہ میں آپ کے چھوٹے چچا ابوطالب نے کھل کر آپ ﷺ کی حمایت کا اعلان کردیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ میں ذاتی طور پر عبدالمطلب کا دین چھوڑنے کو تیار نہیں۔ ابو طالب کی اس حمیت کے جواب میں ابو لہب کہنے لگا :: خدا کی قسم ! یہ (یعنی دعوت توحید) برائی ہے۔ لہذا محمد ﷺ کے ہاتھ دوسروں سے پہلے تم خود ہی پکڑ لو اس کے جواب میں ابو طالب نے کہا : اللہ کی قسم ! جب تک جان میں جان ہے ہم اس کی حفاظت کرتے رہیں گے اس دوسری دعوت کا اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ آپ ﷺ کو یقین ہوگیا کہ معززین بنوہاشم میں کم از کم ایک آدمی (یعنی ابو طالب) ایسا ہے جس کی حمایت پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔
کوہ صفا پر دشمنوں کا اعتراف :۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک تیسرا جرأت مندانہ قدم اٹھایا۔ ایک دن آپ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور ایک فریادی کی طرح وا صباحاہ کی آواز لگائی اور قریش کے ایک ایک قبیلے کا نام لے کر پکارا اور کہا اے بنی فہر، اے بنی عدی، اے بنی کعب وغیرہ وغیرہ۔ حتیٰ کہ سب قبائل کے قابل ذکر اشخاص آپ ﷺ کے پاس اکٹھے ہوگئے اور جو نہ پہنچ سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا۔ آپ ﷺ ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور لوگوں سے پوچھا : اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑی کے اس پار ایک لشکر جمع ہو رہا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے ؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا : ہاں ! اس لیے کہ آپ ﷺ کے متعلق ہمارا ہمیشہ سچ ہی کا تجربہ رہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا تو سن لو کہ میں تمہیں ایک سخت عذاب سے خبردار کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں لہذا تم اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔ میں تمہیں اللہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔
ابولہب کی برہمی :۔ آپ ﷺ ابھی اتنا ہی کہہ : پائے تھے کہ ابو لہب یکدم بھڑک اٹھا اور کہنے لگا تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْیَوْمِ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا (سارا دن تم پر ہلاکت ہو کیا اس بات کے لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا) (بخاری۔ کتاب التفسیر)
اگرچہ ابو لہب کی اس بدتمیزی کی وجہ سے یہ اجتماع کچھ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا تاہم اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ آپ ﷺ نے حسب ِ ارشاد باری اپنے پورے قبیلے کو اپنی دعوت سے آگاہ کردیا اور آپ ﷺ کی یہ پکار مکہ کے ایک ایک فرد تک پہنچ گئی اور ابو لہب کی بدخلقی اور گستاخی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔
ابولہب کا ہی قرآن نے کیوں نام لیا ؟ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے دشمن تو اور بھی بہت تھے، بلکہ ابو لہب سے بھی زیادہ تھے۔ تو ان تمام دشمنوں میں صرف ابو لہب کا ہی قرآن میں کیوں نام لے کر ذکر کیا گیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ درج ذیل دو وجوہ کی بنا پر ابو لہب کا جرم واقعی اتنا شدید جرم تھا کہ قرآن میں اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ عرب میں کوئی باقاعدہ حکومت تو تھی نہیں، جہاں فریاد کی جاسکے۔ لے دے کر ایک قبائلی حمیت ہی وہ چیز تھی جو ایسے اوقات میں کام آتی تھی۔ مظلوم شخص فوراً اپنے قبیلے کو دادرسی کے لیے پکارتا اور پورا قبیلہ اس کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوتا۔ اس لیے ان کو اضطراراً بھی صلہ رحمی کا لحاظ رکھنا پڑتا تھا۔ ابو لہب ہی وہ واحد بدبخت شخص ہے جس نے اس دور کے واجب الاحترام قانون کو توڑ کر اپنے قبیلہ کے علی الرغم ڈٹ کر آپ کی مخالفت کی۔ علاوہ ازیں جب بنوہاشم اور بنو مطلب کو معاشرتی بائیکاٹ کی وجہ سے شعب ابی طالب میں محصور ہونا پڑا تھا تو اس وقت بھی ابو لہب نے اپنے قبیلے کا ساتھ نہیں دیا تھا اور یہ تو واضح ہے کہ شعب ابی طالب کے محصورین میں بہت سے ایسے لوگ بھی شامل تھے جو آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائے تھے تاہم قبائلی حمیت کی بنا پر انہوں نے سب کچھ گوارا کیا تھا اور اس قانون کے احترام کا حق ادا کیا۔ حد یہ ہے کہ آپ کے چھوٹے چچا ابو طالب نے آپ کی حفاظت کے لیے زندگی بھر قریش مکہ کی مخالفت مول لی۔ حالانکہ آخری دم تک وہ ایمان نہیں لائے تھے۔ (بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت ( اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56) 28 ۔ القصص :56) اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اس قبائلی معاشرہ میں چچا کو بھی باپ کا درجہ حاصل تھا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ حقیقی والد فوت ہوچکا ہو۔ اس لحاظ سے بھی ابو لہب کو آپ ﷺ کی حفاظت کا فریضہ بطریق احسن بجا لانا چاہئے تھا خواہ وہ ایمان لاتا یا نہ لاتا۔ مگر وہ آپ کی حفاظت کی بجائے بغض وعناد میں اتنا آگے نکل گیا کہ اس کا شمار آپ ﷺ کے صف اول کے دشمنوں میں ہوتا ہے۔ اس نے کوہ صفا پر جس بدخلقی اور گستاخی کا مظاہرہ کیا اس پر آپ کے خاموش رہنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ معاشرتی سطح پر ابو لہب آپ ﷺ کے باپ کے مقام پر تھا اور باپ ہونے کے ادب کا تقاضا یہی تھا کہ آپ خاموش رہتے۔ لہذا اس کی اس بدتمیزی کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے اس کا نام لے کر دے دیا۔
واضح رہے کہ (تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھبٍ ) سے یہ مراد نہیں کہ جسمانی لحاظ سے ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں بلکہ یہ بددعا کی قسم کے کلمات ہیں جو ناراضگی اور خفگی کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔ اور ایسے الفاظ صرف عربی میں نہیں۔ ہر زبان میں پائے جاتے ہیں۔
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader
نہ اس کا مال اس کے کسی کام آیا اور نہ وہ جو اس 2 نے کمایا
2 ابو لہب کا جنگ بدر میں شامل نہ ہونے کا منصوبہ :۔ مال کی ہوس اور بخل مل کر ایک تیسری صفت پیدا کرتے ہیں اور وہ ہے بزدلی۔ جب جنگ بدر کے لیے بھرتی کا اعلان عام ہوا تو ابو لہب اس سے فرار کی راہیں سوچنے لگا۔ ایک شخص سے اس نے چار ہزار درہم قرضہ لینا تھا جس کے ملنے کی اسے کوئی توقع نہ تھی۔ کیونکہ وہ شخص مفلس تھا۔ ابو لہب نے اس سے سودابازی کی کہ اگر وہ اس کی جگہ جنگ بدر میں شریک ہوجائے تو وہ اس سے اپنے قرض کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ اس طرح ابو لہب نے ایک تیر سے دو شکار کیے۔ ڈوبے ہوئے قرضہ کی وصولی بھی ہوگئی اور جنگ سے بچاؤ کا مقصد بھی حاصل ہوگیا۔ جنگ بدر میں قریشیوں کی شکست فاش کی خبر سن کر اسے اتنا صدمہ ہوا کہ بیمار پڑگیا۔
ذلت کی موت :۔ ساتویں دن یہ بیماری چیچک کی شکل اختیار کرگئی تو اسے اپنی ساری عمر کی کمائی برباد ہوتی نظر آنے لگی کیونکہ اب اسے اپنی موت کا یقین ہوچکا تھا۔ چھوت کی وجہ سے اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ کھانا پینا بھی چھوڑ دیا۔ بالآخر وہ نہایت بےکسی کی موت مرا۔ مرنے کے بعد بھی اس کا کوئی بیٹا اس کے قریب نہ گیا۔ تین دن تک اس کی لاش بےگوروکفن گلتی سڑتی رہی۔ پھر جب لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دینے شروع کیے تو انہوں نے ایک حبشی کو کچھ معاوضہ دیا کہ وہ ایک گڑھا کھود کر اس میں لاش کو دھکیل دے اور اوپر سے مٹی ڈال دے۔ یا پتھر وغیرہ دور سے پھینک کر لاش کو چھپا دے۔
واضح رہے کہ اس آیت میں ماکَسَبَ سے مراد اس کی اولاد ہے جیسا کہ احادیث صریحہ سے ثابت ہے۔ اس طرح اللہ کا یہ قول پورا ہوا کہ نہ اس کا مال کام آیا نہ اولاد۔
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader
جلد ہی 3 وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا
3 ابو لہب کنیت ہونے کی دنیا میں مناسبت یہ تھی کہ اس کا رنگ سیب کی طرح لال تھا اور آخرت میں مناسبت یہ ہوگی کہ شعلوں والی آگ میں پھینکا جائے گا۔
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader
اور اس کی بیوی جو ایندھن 4 اٹھائے پھرتی ہے
4 ابو لہب کی بیوی کا تعارف :۔ ابو لہب کی بیوی کا نام آرویٰ اور کنیت ام جمیل تھی۔ ابو سفیان بن حرب بن امیہ کی بہن تھی۔ جو ابو جہل کی موت کے بعد رئیس قریش اور سپہ سالار افواج بنا تھا۔ رسول دشمنی میں یہ عورت بھی اپنے خاوند سے کسی صورت کم نہ تھی۔ جنگل سے خار دار جھاڑ جھنکار اٹھا لاتی اور رات کے اندھیرے میں آپ ﷺ کے گھر کے آگے ڈال دیتی تاکہ جب آپ صبح بیت اللہ کو جائیں تو آپ ﷺ کے پاؤں میں کانٹے چبھ جائیں۔ نیز آپ کے بال بچے بھی زخمی ہوں۔ خاصی بدزبان اور مفسدہ پرداز عورت تھی۔ جب سورة لہب نازل ہوئی تو یہ مٹھی بھر کنکریاں لے کر بیت اللہ کو چل کھڑی ہوئی۔ تاکہ آپ ﷺ کو ہجو کی صورت میں سورة لہب کا جواب دے اور کنکریاں مار کر اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرے۔ اتفاق کی بات کہ اسے اللہ کے رسول ﷺ نظر ہی نہ آئے۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ سے کہنے لگی : تمہارا ساتھی کدھر ہے ؟ سنا ہے وہ میری ہجو کرتا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے جواب دیا کہ اس نے تو کوئی ہجو نہیں کی۔ (یعنی اگر ہجو کی ہے تو وہ اللہ نے کی ہے آپ ﷺ نے نہیں کی) یہ جواب سن کر وہ واپس چلی آئی۔
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader
اس کی گردن میں مضبوط 5 بٹی ہوئی رسی ہوگی
5 ابو لہب کی بیوی کی موت :۔ جِیْد بمعنی لمبی اور خوبصورت گردن، ہرن کی طرح پتلی اور لمبی گردن۔ اس گردن میں وہ ایک سونے کا ہار پہنا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ میں یہ ہار بیچ کر محمد ﷺ کی مخالفت کے کاموں میں لگاؤں گی۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ جس مونج کی چبھنے والی موٹی رسی سے وہ جھاڑ جھنکار باندھا کرتی وہی اس کی گردن میں اٹک گئی اور ایسی پھنسی کہ بالآخر اس کی موت کا سبب بن گئی۔