109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 109:1

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

کہو (ان کفار سے کہ) اے کافرو ؟

1 ۔ منکرین سے اظہار بیزاری کا حکم و ارشاد : سو اس سے اہل کفر و باطل کے ہٹ دھرم لوگوں سے اظہار بیزاری و علیحدگی کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے " قل " (کہو) کے اس خطاب کا اصل تعلق تو آنحضرت ﷺ ہی سے ہے، لیکن آپ کی پیروی اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر مومن کے لیے بھی یہی حکم و ارشاد ہے کہ وہ بھی حسب ضرورت و موقع کفر اور اہل کفر سے اسی طرح اظہار بیزاری کرے جس طرح آنحضرت ﷺ کو اس کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے، روایات کے مطابق کفار قریش نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں صلح صفائی کا یہ فارمولا پیش کیا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی پوجا کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی پوجا کریں گے، تاکہ یہ باہمی اختلاف اور سر پھٹول ختم ہوجائے، تو آپ نے صاف وصریح اور قطعی طور پر اس سے انکار فرمایا تو اس پر یہ سورة کریمہ نازل ہوئی جس میں صراحت و وضاحت سے بتادیا گیا کہ حق و باطل کی آمیزش کسی بھی صورت میں ممکن نہیں، (روح، ابن کثیر، صفوہ وغیرہ) کہ حق بہرحال حق ہے اور باطل باطل، دونوں میں نہ اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے کوئی امتزاج ممکن ہوسکتا ہے، اور نہ مآل و انجام کے اعتبار سے کسی طرح کا کوئی اشتراک دونوں کے راستے الگ ہیں، اور دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے یکسر مختلف، پس جب اہل کفر و باطل حق کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اہل حق کے لیے صاف سیدھی اور آخری راہ یہ ہے کہ وہ ان سے اپنی بیزاری اور علیحدگی کا اعلان کردیں، اہل کفر و باطل کی طرف سے آج بھی " وحدت دیان " وغیرہ جیسے خوشنما اور پرفریب عنوانات کے تحت اسی فتنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں سب مذاہب کے علمبرداروں کو اکٹھا کر کے کوئی ملغوبہ تیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، سو اہل حق کو اگر ایسی کسی کانفرنس میں شریک ہو کر کلمہ حق کہنے کا موقع مل سکتا ہے تو ٹھیک، ورنہ ایسی کسی کانفرنس میں ان کے لیے شریک ہونا جائز نہیں کہ دین حق بہرحال ایک اور صرف ایک ہی ہے، جو حضرت خالق جل مجدہ کی طرف سے تمام بنی نوع انسان کے لیے بھیجا گیا ہے، یعنی دین اسلام ارشاد ہوتا ہے، اور حرف " ان " کی تاکید کے ساتھ ارشاد ہوتا ہے، اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ (آل عمران 19 پ 3) یعنی دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے، اور پس جس نے اس کے سوا جس کسی کی کوئی بھی اور دین اپنایا وہ اس سے کبھی بھی قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں سخت خسارے میں ہوگا ارشاد ہوتا ہے وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ (آل عمران 85 پ 3) والعیاذ باللہ العظیم۔ پس جس نے اسلام کے کسی اور دین کو اپنایا وہ اس سے کبھی قبول نہیں ہوگا، وہ آخرت میں بہرحال سخت خسارے والوں میں سے ہوگا۔ 2 ۔ اصل اعتبار اخلاق و کردار کا ہے نہ کہ ذوات و اشخاص کا : سو اس وصف کے ساتھ خطاب کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اصل اعتبار و اوصاف کا ہے نہ کہ اشخاص و ذوات کا، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اے کافرو، یعنی جنہوں نے حق کا انکار کیا، اور کفر وباطل کو اپنایا، خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں کہ ہمارا جھگڑا کسی کی ذات اور اس کی شخصیت سے نہیں، بلکہ اس کے اس وصف کفر و شرک سے ہے جس کو ان لوگوں نے اپنایا اور اختیار کیا ہوا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اسی لیے ان کو اے کافرو کے الفاظ سے خطاب کیا گیا، سو اعتبار اخلاق و اوصاف کا ہے نہ کہ ذوات و اشخاص کا، پس جو کوئی ایمان و یقین کی دولت سے سرشار ومالا مال ہوگا وہ ہمارا اپنا ہے خواہ وہ کوئی بھی اور کہیں کا بھی ہو، اور جو اس سے محروم ہوگا اس سے ہمارا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں خواہ وہ اپنے ہی قوم قبیلے کا کیوں نہہو۔ کہ اصل رشتہ دین و ایمان ہی کا رشتہ ہے۔
Ayah 109:2

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

میں کسی بھی قیمت پر عبادت (و بندگی) نہیں کرسکتا ان (معبودان باطلہ) کی جن کی عبادت (و بندگی) تم لوگ کرتے ہو

3 ۔ مومن صادق کے لیے غیر اللہ کی پوجا ممکن نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مومن صادق کے لیے اہل کفر باطل کے معبودان باطلہ میں سے کسی کی پوجا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں، خواہ وہ لکڑی وغیرہ کے بےجان بت ہوں یا سورج، چاند، ستارے ہوں، یا کوئی زندہ یا مردہ انسان، یا کوئی دیوی دیوتا یا کوئی آستانہ و سرکار، کیونکہ کلمہ ما کا عموم ان سب کو شامل ہے، اور یہ اعلان قیامت تک کے تمام کفار و مشرکین کے لیے عام ہے، اولیں مخاطب اس کے اگرچہ قریش کے وہی کفار و مشرکین تھے، جنہوں نے اپنا شرکیہ مصالحت نامہ آنحضرت ﷺ کو پیش کیا تھا، مگر مقصود و مدعا عام اور سب کو شامل ہے، پس یہ کہنا کہ یہ حکم و ارشاد صرف اسی دور کے لیے اور انہی لوگوں کے لیے تھا، اور بس، تو یہ محض ایک دھوکہ اور مغالطہ ہے، ورنہ اس سورة کریمہ کو قیامت تک کے لیے قرآن حکیم میں رکھنے کی ضرورت ہی کیا تھی، سو اہل کفر وباطل کے معبودان باطلہ کے آگے جھکنا اور ان کی کسی بھی طرح کی کوئی پوجا پاٹ کرنا اہل حق کے لیے کسی بھی درجے میں ممکن نہیں۔ اسی لیے کفار سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اے کافرو، میں ان باطلہ میں سے کسی کی بھی پوجا کسی بھی صورت میں اور کسی بھی طور پر کبھی نہیں کرسکتا، جن کی پوجا پاٹ تم لوگ کرتے ہو کہ معبود برحق بہرحال صرف ایک ہے، یعنی اللہ وحدہ لاشریک، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayahs 109:3–5

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور نہ ہی تم (بحالت موجودہ) عبادت و بندگی کرنے والے ہو اس (معبود برحق) کی جس کی عبادت میں کرتاہوں

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور نہ ہی (آئندہ) میں عبادت کرسکتا ہوں ان کی جن کی عبادت تم لوگ کرتے ہو

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی عبادت میں کرتا ہوں

4 ۔ کفر و شرک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی تم لوگ اے مشرکو اس معبود برحق کی عبادت و بندگی کرسکتے ہو، جس کی عبادت و بندگی میں کرتا ہوں، یعنی اللہ وحدہ لاشریک کی جو کہ معبود برحق اور ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک اور برتر وبالا ہے، سبحانہ وتعالی، پس ضروری ہے کہ ہر عبادت خالص اسی وحدہ لاشریک کے لیے ہو، چناچہ اس کا صاف وصریح ارشاد ہے، وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ (البینہ 5 پ 30) یعنی ان کو حکم صرف اسی بات کا دیا گیا کہ وہ بندگی صرف اللہ ہی کی کریں عبادت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے بالکل یکسو ہوکر، سو جس عبادت میں کسی بھی اور کو شریک کیا گیا ہوگا وہ اس کے یہاں کسی بھی طور قابل قبول نہیں۔ والعیاذ باللہ۔ جب کہ تم لوگوں نے اے کافرو اور مکہ والو اس کے لیے طرح طرح کے شریک گھڑ رکھے ہیں اور قسما قسم کے معبود بنا رکھے ہیں اور فلسفہ اس کا تم لوگ یہ بگھارتے ہو کہ ان کی پوجا ہم اس لیے کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں، ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی ( الایۃ) تو پھر تمہارا اور ہمارا راست ایک کس طرح اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ اور تمہاری ہماری بندگی کے یکجا ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ اگر تم ہماری دعوت حق و صدق پر لبیک نہیں کہتے تو تم اپنے ڈگر پر چلے رہو، ہم اپنے طریقے پر چلتے رہیں گے، عنقریب ہی تمہیں حقیقت اور انجام کا پتہ خود چل جائے گا، فسوف تعلمون۔ سو ان کفر و باطل کا مشرکانہ تصور عبادت یہ ہے کہ اللہ کی بھی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ ان کے خود ساختہ و فرضی معبودوں کی بھی جبکہ اہل ایمان اس بات کے قائل و علمبردار ہیں کہ عبادت اللہ ہی کی جائے اس میں کسی کو بھی کسی بےدرجے شریک وسہیم نہ ٹھہرایا جائے، جیسا کہ قرآن و سنت کی دوسری مختلف نصوص سے اس حقیقت کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورة کہف میں ارشاد ہوتا ہے قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰـــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا (الکہف 110 پ 16) یعنی ان سے کہ دو کہ سوائے اس کے نہیں کہ میں بھی تم لوگوں جیسا ایک بشر (اور انسان) ہوں، پس ( فرق صرف یہ ہے کہ) میری طرف اس امر کی وحی کی جاتی ہے کہ معبود برحق تم سب کا بہرحال ایک ہی ہے ( یعنی اللہ وحدہ لا شریک) پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات ( اور اس کے حضور پیشی) کی امید رکھتا ہو وہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائے، اور یہاں پر اور اس اعلان و برات میں شدت اور سختی کے اعلان و اظہار کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اور نہ ہی میں عبادت و بندگی کرسکتا ہوں ان کی جن کی پوجا تم لوگ کرتے ہو۔ یعنی یہ نفی و انکار مستقبل کے اعتبار سے ہے۔ ( جامع البیان، صفوۃ البیان وغیرہ) کیونکہ معبود برحق ایک اور صرف ایک اللہ ہے یعنی وحدہ لاشریک سبحانہ و تعالی، سو ہم پہلے بھی اسی کی عبادت و بندگی کرتے رہے، اور آئندہ بھی اسی کی اور صرف اسی کی بندگی کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو بھی کسی بھی درجہ میں شریک کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لا الہ الا اللہ ولا معبود بحق سواء فلا نعبد الا ایاہ جل وعلا تبارک و تعالی۔ اور " ولا انا عابد " چونکہ جملہ اسمیہ ہے جو کہ دوام و اسمترار کے لیے ہوتا ہے، اس لیے اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ماضی حال اور مستقبل تینوں زمانوں کو عام اور شامل ہے، یہاں چونکہ یہ " عبدتم " کے مقابلے میں آیا ہے، اس لیے اس کو مستقبل کے معنی میں لیا جاسکتا ہے، جس سے معنی کے اندر اور بھی قوت و تاکید پیدا ہوگئی، یعنی میں نے جب ان کی پوجا اس وقت بھی نہیں کی جبکہ میرے پاس نور وحی نہیں آیا تھا تو اب اس کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ پس مومن صادق کے لیے اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور کی عبادت و بندگی کسی بھی طرح اور کسی بھی شکل میں کبھی بھی ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد۔
Ayah 109:6

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین

6 ۔ ابنائے کفر و باطل سے اظہار برات و بیزاری کا درس : سو ابنائے کفر وباطل سے اعلان و اظہار برات و بیزاری کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین " کہ میرے لیے تمہارے معبودان باطلہ کی پرستش ممکن نہیں، اور تم میرے معبود برحق کی خالص عبادت کے لیے تیار نہیں، پس تمہارا راستہ الگ اور میرا الگ، تمہیں اپنے کیے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور ہمیں اپنے کیے کرائے کا جواب دینا ہے، البتہ ہمیں اس کے فضل و کرم کی امید ہے کہ ہم اس پر صحیح ایمان رکھتے اور اسی وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کرتے ہیں اور صرف اسی کو معبود مانتے ہیں، سو اس ارشاد ربانی میں معروف رواداری اور کفر و باطل کے ساتھ مصالحت و چشم پوشی کا درس نہیں دیا گیا جیسا کہ عام طور پر سمجھا اور کہا جاتا ہے، بلکہ اس کے برعکس اس میں دراصل کفر و باطل سے اظہار بیزاری اور اس کی ہر شکل و صورت سے برات و لاتعلقی کے اعلان و اظہار کا درس ہے، اسی لیے یہ سورة کریمہ خاص اہمیت کی حامل اور ایک عظیم الشان سورة کریمہ ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا " اذا اخذت مضجعک فاقرء قل یایھا الکفرون " ( یعنی جب تم اپنے بستر پر آؤ تو قل یا ایھا الکفرون پڑھ لیا کرو) سو اس میں اعلان و اظہار بیزاری کا درس ہے، ہر قسم کے کفر اور جملہ کفار سے اور سوتے وقت اس کو پڑھنے میں یہ بھی درس ہے کہ جب زندگی کی شام ہوجائے تو اسی عہد و اقرار پر اور سی اعلان و اظہار و بیزاری کے ساتھ رخصت ہونے کی توفیق وسعادت مل جائے، اور آپ کا اپنا معمول بھی یہی تھا کہ جب آپ ﷺ بستر پر تشریف لاتے تو یہ سورة کریمہ تلاوت فرماتے۔ ( فتح القدیر، ابن کثیر وغیرہ) اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی دو سورتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اس پر کوئی حساب نہیں، یعنی قل یا ایھا الکفرون، اور قل ھو اللہ احد ( المرجع) سو کفر و باطل کے ساتھ مصالحت اور رواداری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شاعر نے کیا خوب کہا باطل دوئی پسند ہے اور حق لاشریک، شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، اللھم انا نعوذبک من ان نشرک بک شیئا نعلمہ ونستغفرک لما لا نعلمہ انک انت الحنان المنان انت المستعان وعلیک التکلان یا عزیز یا رحمن بک نستعین وعلیک نتوکل فی کل حین و ان، فخذنا بنواصینا الی ما تحب وترضی من القول والعمل۔