Yunus 10:42

Yunus · from ayah 42

10:42

وَمِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ ؕ— اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ ۟وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ‌ؕ اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ وَلَوۡ كَانُوۡا لَا يَعۡقِلُوۡنَ‏

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سنتے) سمجھتے نہ ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And among them are those who listen to you. But can you cause the deaf to hear, although they will not use reason?

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 5 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:42

ان میں بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سنتے ہیں، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سنتے) سمجھتے نہ ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگائے بیٹھے ہیں۔ کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو تمہاری باتوں کو (بظاہر) کان لگا کر سنتے ہیں (مگر دل میں حق کی طلب نہیں رکھتے، اس لیے درحقیقت بہرے ہیں) تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے، چاہے وہ سمجھتے نہ ہوں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے اگرچہ انہیں عقل نہ ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو (ظاہراً) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں، تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے خواہ وہ کچھ عقل بھی نہ رکھتے ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں، تو کیا تو بہروں کو سنائے گا، اگرچہ وہ نہ سمجھتے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان میں کچھ ایسے ہیں جو آپ کی باتیں سنتے تو ہیں مگر کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں خواہ وہ کچھ بھی سمجھ نہ سکتے ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان میں وہ بھی ہیں جو تمہاری بات پر کان دھرتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگر وہ کچھ سمجھتے بوجھتے نہ ہوں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو سنتے ہیں آپ کی طرف کان لگا کر، (مگر اپنی بدنیتی کی بناء پر وہ بہرے ہیں) تو کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اگرچہ وہ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے جبکہ وہ سمجھ سے بھی کام نہ لے رہے ہوں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑی توجہ سے سنتے ہیں آپ (کی باتوں) کو۔ تو کیا آپ ﷺ بہروں کو سنا سکتے ہیں چاہے وہ عقل سے کام نہ لیتے ہوں !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سنائو گے اگرچہ کچھ بھی سنتے نہ ہوں ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Of them some seem to give heed to you; will you, then, make the deaf hear even though they understand nothing?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among them there are those who listen to you. Would you, then, make the deaf hear, even though they lack understanding?

— Muhammad Taqi Usmani

And among them there are those who listen to you. Would you, then, make the deaf hear, even though they lack understanding?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among them are some who listen to you, but can you make the deaf to hear -- even though they apprehend not

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of them are some who listen unto thee. But canst thou make the deaf to hear even though they apprehend not?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And among them are those who listen to you. But can you cause the deaf to hear, although they will not use reason?

— Saheeh International

Some of them will listen to you, but are you supposed to make the deaf hear even if they have no understanding?

— Muhammad Sarwar

And there are those of them who hear you, but can you make the deaf to hear though they will not understand?

— Muhammad Habib Shakir

And of them are some who hearken unto thee, so canst thou make the deaf hear, even though they apprehend not?

— Abdul Majid Daryabadi

Among them are some who (pretend to) listen to thee: But canst thou make the deaf to hear,- even though they are without understanding?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے فرمان ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بےزاری کا اعلان کردے۔ اور کہہ دے کہ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ۔ جیسے کہ وہ سورة (آیت قل یا ایھالکافرون) میں بیان ہوا ہے۔ اور جیسے کہ حضرت خلیل اللہ اور آپ کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں۔ جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند وبالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 50 ایک سننا تو اس طرح کا ہوتا ہے جیسے جانور بھی آواز سن لیتے ہیں۔ دوسرا سننا وہ ہوتا ہے جس میں معنی کی طرف توجہ ہو اور یہ آمادگی پائی جاتی ہو کہ بات اگر معقول ہوگی تو اسے مان لیا جائے گا۔ جو لوگ کسی تعصب میں مبتلا ہوں، اور جنہوں نے پہلے سے فیصلہ کرلیا ہو کہ اپنے موروثی عقیدوں اور طریقوں کے خلاف اور اپنے نفس کی رغبتوں اور دلچسپیوں کے خلاف کوئی بات، خواہ وہ کیسی ہی معقول ہو، مان کر نہ دیں گے، وہ سب کچھ سن کر بھی نہیں سنتے۔ اسی طرح وہ لوگ بھی کچھ سن کر نہیں دیتے جو دنیا میں جانوروں کی طرح غفلت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور چرنے چگنے کے سوا کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، یا نفس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

خلاصہ تفسیر اور اگر (ان دلائل کے بعد بھی) آپ کو جھٹلاتے رہیں تو (بس اخیر بات) یہ کہہ دیجئے کہ (اچھا صاحب) میرا کیا ہوا مجھ کو ملے گا اور تمہارا کیا ہوا تم کو ملے گا تم میرے عمل کے جواب دہ نہیں ہو، اور میں تمہارے عمل کا جوابدہ نہیں ہوں (جس طریقہ پر چاہو رہو آپ معلوم ہوجاوے گا) اور (آپ ان کے ایمان کی توقع چھوڑ دیجیئے کیونکہ) ان میں (گو) بعض ایسے (بھی) ہیں جو (ظاہر میں) آپ کی طرف کان لگا لگا کر بیٹھتے ہیں (لیکن دل میں ارادہ ایمان اور حق طلبی کا ہیں ہے پس اس اعتبار سے ان کا سننا نہ سننا برابر ہے پس ان کی حالت بہروں کی سی ہوئی تو) پھر کیا آپ بہروں کو سنا (کر ان سے ماننے کا انتظار کر) تے ہیں گو ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 40–44

40۔۔ 44: وَمِنْھُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهٖ ۭ وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَ۔ وَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۚ اَنْتُمْ بَرِيْۗـــــُٔوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ ۭاَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوْا لَا يَعْقِلُوْنَ۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّنْظُرُ اِلَيْكَ ۭ اَفَاَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـــًٔـا وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یعنی ظاہری طور پر وہ قرآن سنتے ہیں، لیکن سننے کا مقصد طلب ہدایت نہیں، اس لئے انہیں، اسی طرح کوئی فائدہ نہیں ہوتا، جس طرح ایک بہرے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بالخصوص جب بہرا غیر عاقل بھی ہو، کیونکہ عقلمند بہرہ پھر بھی اشاروں سے کچھ سمجھ لیتا ہے۔ لیکن ان کی مثال تو غیر عاقل بہرے کی طرح ہے بالکل ہی بےبہرہ رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–42

22: یعنی ان کے جھٹلانے کا انجام جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظاہر ہونے والا۔ ابھی تک ان کے سامنے نہیں آیا، لیکن پچھلی قوموں کے انجام سے ان کو عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ومنھم من یستمعون الیک اور ان میں سے کچھ لوگ آپ کی طرف (بظاہر) کان لگاتے ہیں۔ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں اور حکمت و شریعت کی باتیں کرتے ہیں تو بظاہر کان لگا کر سنتے ہیں لیکن دل کے کانوں سے نہیں سنتے ‘ دلوں سے توجہ نہیں کرتے۔ حکمت و شریعت کی حقیقت کو اپنی استعداد کی خرابی کی وجہ سے نہیں سمجھتے ‘ گویا وہ ایسے پیٹ بھرے ہیں جو کان لگاتے ہیں اور شنوائی کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے سن نہیں پاتے۔ افانت تسمع الصم ولو کانوا لا یعقلون۔ تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے جبکہ وہ بےسمجھ بھی ہوں۔ اگر بہرے کے پاس سمجھ ہو تو قرائن کی وجہ سے وہ کچھ سمجھ بھی لیتا ہے اور بےسمجھ بہرا ہو تو وہ کچھ نہیں سمجھ سکتا۔ پس جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 42–43

5 بعض لوگ بظاہر قرآن شریف اور آپ کا کلام مبارک سنتے ہیں اور آپ کے معجزات و کمالات دیکھتے ہیں مگر دیکھنا سننا وہ نافع ہے جو دل کے کانوں اور دل کی آنکھوں سے ہو۔ یہ آپ کے اختیار میں نہیں کہ آپ دل کے بہروں کو اپنی بات سنا دیں۔ بحالیکہ وہ سخت بہرہ پن کی وجہ سے قطعاً کسی کلام کو نہ سمجھ سکتے ہوں یا دل کے اندھوں کو راہ حق دکھلا دیں جبکہ انہیں کچھ بھی نہ سوجھتا ہو۔ " موضح القرآن " میں ہے۔ " یعنی کان رکھتے ہیں یا نگاہ کرتے ہیں اس توقع پر کہ آپ ہمارے دل پر تصرف کردیں جیسا بعضوں پر ہوگیا، سو یہ بات اللہ کے ہاتھ ہے۔ " بعض مفسرین نے لایَعْقِلُوْنَ سے مطلق عقل کی اور لایبصرون سے بصیرت کی نفی مراد لی ہے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ کَانُوْا لاَ یَعْقِلُوْنَ یہ لوگ تو پہلے سے ہی نہ سننے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ‘ اس لیے ان کے کان حق کی طرف سے بہرے ہوچکے ہیں۔ ان کا آپ ﷺ کی باتوں کو سننا صرف دکھاوے کا سننا ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو بتاسکیں کہ ہاں جی ہم تو محمد کی محفل میں بھی جاتے ہیں ‘ ساری باتیں بھی سنتے ہیں مگر ان میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جسے ماناجائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 40–42

57 ایمان نہ لانے والے مفسد اس لحاظ سے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے کسی حکم کی پروا نہیں کرتے اور یہی بات فساد کی سب سے بڑی جڑ ہے علاوہ ازیں وہ اسلام لانے والوں کو تکلیفیں بھی پہنچاتے ہیں اور اسلام کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ (یعنی ان کے دل ارادۂ ایمان وطلب حق سے بالکل خالی ہوں) (آیت) ” ومنھم من یستمعون الیک “۔ یعنی بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کی بات سنیں گے اور سوچ سمجھ کر مان بھی لیں گے۔ آج یہ تصویر بہت سے ” مستشرقین “ یورپ پر، سیرت نبوی ﷺ اور شریعت اسلامی پر قلم اٹھانے والوں پر صادق آتی ہے۔ ان کی کتاب کی تمہیدوں، مقدموں، دیباچوں کو پڑھیے تو اپنے کو ظاہر کریں گے کہ یہ کسیے بےتعصب، انصاف پسند، تحقیق دوست ہیں، اور جوں جوں آگے بڑھتے جائیے، زہر ہلاہل کے انبار درانبار انہی اوراق میں ملتے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–53

آیت نمبر 41 تا 53 ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومنھم من یستمعون الیک اور ان میں سے کچھ لوگ آپ کی طرف (بظاہر) کان لگاتے ہیں۔ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں اور حکمت و شریعت کی باتیں کرتے ہیں تو بظاہر کان لگا کر سنتے ہیں لیکن دل کے کانوں سے نہیں سنتے ‘ دلوں سے توجہ نہیں کرتے۔ حکمت و شریعت کی حقیقت کو اپنی استعداد کی خرابی کی وجہ سے نہیں سمجھتے ‘ گویا وہ ایسے پیٹ بھرے ہیں جو کان لگاتے ہیں اور شنوائی کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے سن نہیں پاتے۔ افانت تسمع الصم ولو کانوا لا یعقلون۔ تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے جبکہ وہ بےسمجھ بھی ہوں۔ اگر بہرے کے پاس سمجھ ہو تو قرائن کی وجہ سے وہ کچھ سمجھ بھی لیتا ہے اور بےسمجھ بہرا ہو تو وہ کچھ نہیں سمجھ سکتا۔ پس جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(42) اور ان یہود میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہرا آپ کے کلام اور گفتگو سنتے ہیں یا یہ کہ ان مشرکین عرب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہرا آپ کے کلام اور گفتگو کو سنتے ہیں، اے محمد ﷺ کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں جو سمجھنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 42–43

وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ۔۔ : پچھلی آیت (40) کی ایک تفسیر کے مطابق کفار کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو قرآن کے حق ہونے پر یقین رکھتے ہیں، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے جھٹلا رہے ہیں اور ایک وہ جو عقل کے اندھے ہیں، جنھیں قرآن کے حق ہونے کا یقین ہی نہیں۔ دوسری تفسیر کے مطابق کچھ وہ کفار ہیں جو آئندہ ایمان لے آئیں گے، کچھ وہ جن کی قسمت میں یہ نعمت نہیں ہے۔ اس آیت میں کفار کی اس دوسری قسم کا ذکر ہے جن کی قسمت میں ایمان نہیں اور جنھوں نے ہر حال میں کفر پر اڑے رہنا ہے۔ فرمایا کہ ان میں سے کچھ لوگ آپ کی بات اور قرآن کی قراءت پر کان لگاتے ہیں مگر فائدہ نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ حق سننے سے ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–43

آیت نمبر : 42 تا 43۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومنھم من یستمعون الیک “۔ مراد ان کے ظواہر ہیں۔ اور ان کے دل تو اس میں سے کسی چیز کو محفوظ نہیں کرتے جو آپ انہیں حق میں سے کہتے ہیں اور جو قرآن کریم میں سے ان پر تلاوت کرتے ہیں، اسی لیے فرمایا ہے : (آیت) ” افانت تسمع الصم ولو کانوا لا یعقلون “۔ ای لا تسمع (یعنی آپ نہیں سناتے) کلام میں بظاہر استفہام ہے لیکن اس کا معنی نفی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے دلوں پر مہر لگ جانے کی وجہ سے بہروں کی مانند بنا دیا، یعنی آپ اسے ہدایت دینے پر قدرت نہیں رکھتے جسے ہدایت کی بات سننے سے اللہ تعالیٰ نے بہرہ کردیا ہو، اور اسی طرح معنی اس میں بھی ہے : (آیت) ” ومنھم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–43

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کذبوک فقل لی عملی “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا حکم فرمایا پھر اس کو منسوخ کردیا اور ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم فرمایا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْھُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّسْتَمِعُوْنَ [ کان لگاتے ہیں ] اِلَيْكَ ۭ [ آپ کی طرف ] اَفَاَنْتَ [ تو کیا آپ ] تُسْمِعُ [ سنائیں گے ] الصُّمَّ [ بہروں کو ] وَ [ اس حال میں کہ ] لَوْ [ اگر ] كَانُوْا لَا يَعْقِلُوْنَ [ وہ لوگ عقل استعمال نہیں کرتے ہیں ] نوٹ ۔ 1: زیر مطالعہ آیات 42 ۔ 43 کے مخاطب اول رسول اللہ ﷺ تھے اور آپ کے توسط سے قیامت تک پیدا ہونے والے تمام مسلمان اس کے مخاطب ہیں، اس میں کہا گیا ہے کہ بہروں اور اندھوں کی رہنمائی نہیں کی جاسکتی ، حالانکہ ایسے لوگوں کے نہ تو کان بہرے ہوتے ہیں اور نہ آنکھیں اندھی ہوتی ہیں ۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے گزشتہ اسباق میں آیت 2:7 کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–43

تکذیب کرنے والوں کی بےحسی ‘ قیامت کا منظر ‘ دنیا میں عذاب آنے کی وعید گزشتہ آیات میں مکذبین اور معاندین کا ذکر تھا ‘ ان آیات میں ان کے مزید عناد اور تکذیب کا تذکرہ فرمایا۔ اَوَّلًا تو یہ فرمایا کہ ان میں بعض ایسے لوگ ہیں جو بظاہر آپ کی طرف کان لگا کر بیٹھتے ہیں لیکن ان میں نہ حق طلبی ہے نہ ایمان لانے کا ارادہ ہے۔ ان کا سننا اور نہ سننا برابر ہے۔ لہٰذا ان کی حالت بہرے انسانوں کی طرح ہوگئی۔ جیسے بہروں کو سنانا فائدہ مند نہیں ہوسکتا اسی طرح ان کو سنانا اور نہ سنانا برابر ہے۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ بہروں کی مانند ہیں بلکہ سمجھ سے بھی محروم ہیں۔ انہیں کان لگانے والوں کی طرح وہ لوگ ہیں جو آپ کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

تسلیۂ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم و حکم اعراض از معاندین ومجادلین قال اللہ تعالی۔ وان کذبوک فقل لی عملی ولکم عملکم۔۔۔ الی۔۔۔ انفسہم یظلمون (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی تکذیب کا ذکر تھا جس کا مناظرانہ جواب دیا جاتا ہے کما قال اللہ تعالیٰ واعرض عن الجھلین۔ اور آنحضر ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کیونکہ جب طبیب مشفق کسی بیمار کو دیکھتا ہے کہ وہ قابل علاج نہیں رہا تو اس سے نامید ہوجاتا ہے اور اس ناامیدی اور اعراض سے اس طبیب مشفق کو راحت ملتی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اگر حجت قائم ہوجانے کے بعد بھی یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں یعنی اپنی تکذیب پر اڑے رہے اور آپ ان کے قبول سے ناامید ہوجائیں تو آخری بات آپ ﷺ ان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

59: یہ بھی زجر ہے۔ منکرین میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ظاہری کانوں سے تو آپ کی باتیں اور آپ کی تلاوت سنتے ہیں۔ مگر ان کے دلوں میں انابت نہیں اور یہ باتیں ان کے دلوں میں نہیں اترتیں۔ “ اَ فَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الخ ” یہ استفہام انکاری ہے اور “ الصُّمَّ ” (بہروں) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دلوں مہر جباریت کی بنا پر ماننے کی استعداد سلب کرلی گئی ہو اور اس کے ساتھ وہ عقل و فکر سے بھی محروم ہوں یعنی جن لوگوں کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے ان کو راہ راست پر لانا آپ کے اختیار میں نہیں۔ “ و جعلھم کالصم للختم علی قلوبھم والطبع علیھا اي لا تقدر علی ھدایة من اصمه اللہ عن سماع الھدي ” قرطبی)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–45

ربط آیات ابتداء میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، پھر درمیان میں توحید کا مسئلہ بیان ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل دیے اور شرک کا رد فرمایا۔ اس کے بعد پھر قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، پھر درمیان میں توحید کا مسئلہ بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل دیے اور شرک کا رد فرمایا۔ اس کے بعد پھر قرآن کی حقانیت کا تذکرہ آیا ، اس کا منزل من اللہ ہونا اور غلطی سے مبرا ہونا بیان کیا گیا۔ پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت ہوئی۔ اب آج کے درس میں اور اگلی آیات میں مسئلہ رسالت اور قیامت کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مکی سورتوں میں بنیادی عقائد ، ایمانیات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ۝ 0 ۭ اَفَاَنْتَ تُسْمِـــعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوْا لَا يَعْقِلُوْنَ۝ 42 اسْتِمَاعُ : الإصغاء نحو : نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] ، وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] ، وقوله : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، أي : من الموجد لِأَسْمَاعِهِمْ ، وأبصارهم، والمتولّي لحفظها ؟ والْمِسْمَعُ والْمَسْمَعُ : خرق الأذن، وبه شبّه حلقة مسمع الغرب «1» . اسمامع اس کے معنی غور سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–46

ترکیب : کان مخففۃ من المثقلۃ واسمہا محذوف ای کانہم لم یلبثوا خبر ‘ ساعۃ ظرف لہ ‘ من النہار صفۃ لساعۃ واما فیہ ادغام نون ان الشرطیۃ فی ما الزائدۃ و جواب الشرط محذوف قداک۔ تفسیر : باوجود ایسے دلائلِ قاہرہ وبراہین باہرہ کے ان کے منکرین میں سے کچھ تو دل میں ایمان لاتے ہیں اور کچھ نہیں۔ یہ حالت بھی ان کی اللہ سے مخفی نہیں کہ دل میں قائل مگر عناد یا کسی غرض دنیا سے اظہار نہیں کرتے۔ پھر جب عناد اور ضد کی یہ نوبت ہے تو اے نبی ! ان سے کہہ دو اگر میں ناحق پر ہوں تو تمہیں میرے اعمال سے کیا ٗ پھر کس لئے ایذا دیتے ہو یعنی جاہلوں سے اعراض کرنا چاہیے اور اس بات کا اے نبی ! کچھ ملال نہ کیجئے گا کہ وہ کیوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–43

وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ ط اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْکَانُوْا لاَ یَعْقِلُوْن۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّنْظُرُاِلَیْکَ ط اَفَاَنْتَ تَھْدِی الْعُمْیَ وَلَوْکَانُوْا لاَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (یونس : 42۔ 43) (ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ ﷺ کی بات کان لگا کر سنتے ہیں تو کیا آپ ﷺ بہروں کو سنائیں گے، خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں۔ اور ان میں ایسے بھی ہیں جو آپ ﷺ کی طرف دیکھتے ہیں تو کیا آپ ﷺ اندھوں کو راہ دکھائیں گے، خواہ وہ کچھ نہ دیکھتے ہوں۔ ) دو مفہوم ان دونوں آیتوں کے مفسرین کرام نے دو مختلف مفہوم بیان کیے ہیں اور آیات کے الفاظ میں دونوں کے لیے گنجائش ہے۔ پہلا مفہوم یہ ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–44

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کا انکار کرنے والے حقیقت میں بہرے اور اندھے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑنا ہی بہتر ہے۔ منکرین قرآن کو باربار چیلنج دیا گیا کہ اگر تم یہ الزام لگانے میں سچے ہو کہ رسول ﷺ نے قرآن مجید اپنی طرف سے بنالیا ہے تو پھر تم اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔ لیکن اس چیلنج کا جواب دینے کی بجائے وہ یہی ہرزہ سرائی کرتے رہے۔ جس پر مزید بحث کرنے اور چیلنج دینے کی بجائے نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم ہوا کہ آپ ان سے یہ کہہ کر بےمقصد بحث سے دامن بچائیں کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ قیامت کے روز ہر کوئی اپنے عمل اور کردار کا انجام دیکھ لے گا۔ لہٰذا تمہیں ہمارے عمل کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار اندھے بہرے ہیں : 42: وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ (اور ان میں بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگا لگا بیٹھتے ہیں) بعض لوگ ان میں آپ کی قراءت پر کان دھرتے ہیں اور احکام شرائع کے وقت بھی متوجہ ہوتے ہیں۔ لیکن وہ ان باتوں کو یاد نہیں رکھتے اور نہ قبول کرتے ہیں اسلئے وہ بہروں کی طرح ہیں اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْکَانُوْا لَایَعْقِلُوْنَ (کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو) کیا تم یہ طمع رکھتے ہو کہ بہرے کو سنانے پر تمہیں قدرت ہے جبکہ بہرہ بےعقل بھی ہو ؟ کیونکہ عقلمند بہرہ تو فراست سے یا کان میں گونج کے پڑجانے سے استدلال کر کے بات سمجھ سکتا ہے مگر کیا کیجئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(42)” ومنھم من یستمعون الیک “ اپنے ظاہری کانوں کے ساتھ تو وہ ان کو نفع نہیں دیتا ۔ ” افانت تسمع الصم “ مراد دل کا بہرا ہے۔ ” ولو کانوا لا یعقلون “ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

42۔ 41۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ایک اور حال بیان فرمایا کہ جب قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو یہ لوگ سنتے ہیں مگر اس سننے سے ان کا یہ مقصود نہیں ہوتا کہ اس پر ایمان بھی لاویں فقط سننا ہی سننا ہے اسی طرح اے رسول اللہ ﷺ کے ان لوگوں میں سے بعضے تمہاری طرف دیکھتے ہیں کہ ظاہر ظاہر معجزے اللہ تعالیٰ نے تم کو دئیے ہیں مگر یہ دیکھنا ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اس دیکھنے سے وہ ایمان لانے کا ارادہ نہیں کرتے ہیں اگر آپ چاہیں کہ یہ سب راہ راست پر آجائیں تو یہ غیر ممکن ہے کیونکہ جس طرح بہروں اور اندھوں کو نہ تم کچھ سنا سکتے نہ دکھا سکتے ہو اسی طرح ان کے دلوں کو قابو کر کے ان کو ہدایت بھی نہیں کرسکتے کیوں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 42–44

آیت : (42-44) اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے رسول ﷺ کی اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کیت کذیب کی ‘ چناچہ فرمایا : (ومنھم من یستمعون) ” اور انمیں سے بعض کان لگاتے ہیں آپ کی طرف “ یعنی وحی کی قراءت کے وقت نبی کریم ﷺ کو غور سے سنتے ہیں ‘ رشد و ہدایت کے حصول کی خاطر نہیں ‘ بلکہ تکذٰب اور کمزوریاں تلاش کرنے کے لئے سنتے ہیں اور اس طرح کا سننا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور سننے والے کو کوئی بھلائی عطا نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پس توفیق کا دروازہ بند ہوگیا اور وہ سننے کے فائدے سے محروم ہوگئے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (افانت شمع الصم ولو کانو الا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

79 ۔ حضور ﷺ کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اگرچہ وہ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں۔ اور استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی نہیں ایسے نہیں ہوسکتا۔ تو پھر ان کے لیے افسوس کرنے کی کیا ضرورت ؟ سو اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی کا سامان ہے۔ کیونکہ آپ کو اپنی اس عظیم الشان رحمت و شفقت کی بناء پر جو کہ آپ کے قلب مبارک میں خلق خدا کے لیے موجود و موجزن تھی اور آپ کو ان لوگوں کے اس کفر وعناد پر جس سے وہ دعوت حق کے جواب میں کام لے رہے تھے سخت صدمہ اور افسوس ہوتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی اسی کتاب حکیم میں جابجا اور طرح طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ آپ اس طرح ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–44

ہر کوئی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے تشریح : ان آیات میں رب اعلیٰ اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے تسلی دیتے ہیں کہ آپ تو بیشک بہت محنت کر رہے ہیں تو ان کی ہٹ دھرمی اور نافرمانی سے آپ بالکل پریشان نہ ہوں آپ ان کو بتا دیں کہ وہ جو کریں گے اس کا اجر پالیں گے کیونکہ اللہ سے کوئی بات اور کسی کا بھی کوئی عمل چھپا ہوا نہیں وہ بڑے انصاف سے سب کو اجر میں سزا اور جزا ضرور دے گا اور وہ ظلم نہیں کرتا جس کو سزا ملے گی اس کو صرف اپنے کیے گئے اعمال کی ہی سزا ملے گی۔ حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” لوگ قیامت کے دن صرف اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔ “ (الترغیب للمنذری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–53

آیات 41 تا 53 اسرار و معارف ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ اوپر بتایا کہ کفار دو قسم کے ہیں جو باطن میں یقین رکھتے ہیں اور جو یقین نہیں رکھتے۔ اور جو یقین نہیں رکھتے ان میں بعض تو ایسے ہیں جو بظاہر کان لگا کر ہمارا کلام سنتے ہیں مگر درحقیقت یہ بہرے ہیں کیونکہ ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:42) یستمعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استماع (افتعال) سے وہ سنتے ہیں۔ وہ کان لگا کر سنتے ہیں۔ تسمع۔ اسماع (افعال) سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو سناتا ہے۔ تو سنائے گا۔ الصم۔ جمع ۔ اس کا واحد اصم ہے۔ اس کی مؤنث واحد صماء ہے۔ دونوں کی جمع صم و صمان ہے دم یصم صمما وصما اونچا سننا۔ بالکل نہ سننا۔ بہرہ ہونا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–44

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44 بریتون (وہ بری ہیں، ذمہ دار ہیں) یستمعون (وہ غور سے سنتے ہیں) تسمع (تو سنوائے گا) الصم (بہرے) العمی (ادھے) لایبصرون (وہ نہیں دیکھتے ہیں) لایظلم (وہ ظلم و زیادتی نہیں کرتا) تشریح :- آیت نمبر 41 تا 44 کفار و مشرکین ہر طرح کے حقائق اور سچائیوں کو جاننے کے باوجود جس طرح اپنے کفر و شرک پر ہٹ دھرمی، ضد اور تعصب پر جمے ہوئے تھے اور حق کی کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ بشریٰ تقاضا تھا کہ نبی مکرم ﷺ اس سے بد دل اور تنگ ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صاف صا کہہ دیجیے کہ میں جو کچھ کر ہا ہوں اس کا میں ذمہ دار ہوں لیکن عمل کی جس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 42–43

مشرکین کا ذکر ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ایک اور حال بیان فرمایا ہے کہ جب قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو یہ لوگ سنتے ہیں۔ مگر اس سننے سے ان کا مقصود یہ نہیں ہوتا کہ اس پر ایمان بھی لاویں، فقط سننا ہی سننا ہے۔ اسی طرح اے رسول اللہ کے، ان لوگوں میں بعضے تمہاری طرف دیکھتے ہیں کہ ظاہر ظاہر معجزے اللہ تعالیٰ نے تم کو دیئے ہیں مگر یہ دیکھنا ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اس دیکھنے سے وہ ایمان لانے کا ارادہ نہیں کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں کہ یہ سب راہ راست پر آجائیں تو یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ جس طرح بہروں اور اندھوں کو نہ تم کچھ سنا سکتے ہو ، نہ دکھا سکتے ہو، اسی طرح ان کے دلوں کو قابو میں کر کے ان کی ہدایت بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–45

[23] یعنی بغیر کسی علمی تحقیق و جستجو کے محض وہم و گمان کی بنیاد پر انہوں نے قرآن کی تکذیب کی۔ قرآن کریم کا ایسے علوم پر مشتمل ہونا جن کا مدعیان علم احاطہ نہ کرسکیں کتاب کی عظمت و جلالت کو ظاہر کرتا ہے، تو ایسے اعلیٰ علوم والی کتاب کو نہ ماننا کمال جہل ہے۔ [24] یعنی قرآن میں جو خبریں دی گئی ہیں جیسے قیامت، جزا سزا وغیرہ جو ابھی پیش نہیں آئیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–44

کفر سے بیزاری : (ف 2) اس نوع کی آیات سے غرض کفر سے اظہار بیزاری ہے یہ سنانا مقصود ہے کہ اسلام کو کفر کے ساتھ کوئی تعلق خاطر نہیں اور اسلام کے نزدیک کفر کے اعمال و عقائد ہمیشہ نفرت انگیز ہیں ، بعض لوگوں نے جو اس قسم کی آیات کو رواداری اور مسالمت سے تعبیر کیا ہے ، اور کہا ہے کہ یہ آیات جہاد کے بعد منسوخ ہوچکی ہیں غلط ہے ۔ (آیت) ” انا بری مما تعملون “۔ کے الفاظ صاف صاف کہہ رہے کہ تم سے کامل بیزاری اور نفرت ہے ۔ (ف 1) تعارف سے مقصود ہے کہ یہ لوگ جب آپس میں ملیں گے تو ایک دوسرے کو ملامت کریں گے یہ ذلت وتحقیر کا تعارف ہوگا ، مرید شیخ سے کہے گا کہ آپ نے ہمیں کیوں گمراہ کیا اور شیخ اپنے مرشدوں برے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

42 اور اس میں سے بعض وہ ہیں جو بظاہر آپ کی جانب خوب کان لگا کر بیٹھے ہیں اور آپ کا کلام خوب کان لگا کر سنتے ہیں تو کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اگرچہ وہ سمجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں یعنی حق کے قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو ان کا سننا ایسا ہی ہے جیسے کسی بہرے کو آپ سنا رہے ہیں مزید برآں یہ کہ بہرہ بھی بےعقل ہو اگر عقل ہوتی تو قرینے اور قیاس سے ہی کچھ سمجھ لیتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–44

ف 3۔ یعنی خود ہی قابلیت موہوبہ کو ضائع کردیتے ہیں اور اس سے کام نہی لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا آپ ایسوں کو سمجھا لو گے جنہوں نے نہ سمجھنے کا دل سے عہد کیا ہے ؟ ۔ 65 جیسا کہ قبل ازیں کئی بار عرض کر کیا جا چکا ہے کہ سامعین میں کئی طرح کے سننے والے ہوتے ہیں اور وہ کان لگا کر سننے کی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن ان کا سارا سننا محض اس لئے ہوتا ہے کہ اس کی بات اچھی طرح سن سمجھ کر اس کی ادھیڑ بن جائے اور باتوں ہی باتوں میں اس کو سب کچھ باور کرا دیا جائے تاکہ عمل کا وقت آئے تو اس کی کمی ہوئی باتیں اس کے نام آئیں۔ وہ اس سن کو اس طرح ان سنی بنائیں کہ کوئی سمجھ بھی نہ سکے اور بعض اس لئے سنتے ہیں کہ اس کی باتیں سن کر ان کا کوئی توڑ تلاش کیا جائے اور بعض کی نیت میں صرف یہ ہوتا ہے کہ وہاں سے لے کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–44

In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَ‌بُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

50. In its most elementary sense even animals are possessed of the faculty of hearing. But 'hearing' in its true sense is applicable only when the act of hearing is accompanied with the attention required to grasp the meaning of what one hears, and with the readiness to accept it if it is found reasonable. Those who have fallen prey to prejudices, who have made up their minds that they will not hear, let alone accept anything, howsoever reasonable it might be, if it goes against their inherited beliefs and behaviour-patterns, or is opposed to living a life of heedlessness, as the animals do,…

Read the full tafseer →