Explained with ayahs 108–109
نافرمان کا اپنا نقصان ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں کو آپ خبردار کریں کہ جو میں لایا ہوں، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بلا شک و شبہ وہ نرا حق ہے جو اس کی اتباع کرے گا وہ اپنے نفع کو جمع کرے گا۔ اور جو اس سے بھٹک جائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ میں تم پر وکیل نہیں ہوں کہ تمہیں ایمان پر مجبور کروں۔ میں تو کہنے سننے والا ہوں۔ ہادی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اے نبی ﷺ تو خود بھی میرے احکام اور وحی کا تابعدار رہ اور اسی پر مضبوطی سے جما رہ۔ لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کر۔ ان کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لے یہاں تک کہ خود اللہ تجھ میں اور ان میں فیصلہ کر دے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
سورة یُوْنُس 108
اس مطالبے کی شدت قابل غور ہے۔ بات ان الفاظ میں بھی ادا ہوسکتی تھی کہ تو " اس دین کو اختیار کرلے " یا اس دین پر چل " یا اس دین کا پیرو بن جا۔ " مگر اللہ تعالیٰ کو بیان کے یہ سب پیرایے ڈھیلے ڈھالے نظر آئے۔ اس دین کی جیسی سخت اور ٹھیک اور کسی ہوئی پیروی مطلوب ہے اس کا اظہار ان کمزور الفاظ سے نہ ہوسکتا تھا۔ لہذا اپنا مطالبہ ان الفاظ میں پیش فرمایا کہ " اَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا " اقم وجہک کے لفظی معنی ہیں " اپنا چہرہ جما دے۔ " اس کا مفہوم یہ ہے کہ تیرا رخ ایک ہی طرف قائم ہو۔ ڈگمگاتا اور ہلتا ڈلتا نہ ہو۔ کبھی پیچھے اور کبھی آگے اور کبھی دائیں اور کبھی بائیں نہ مڑتا رہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
خلاصہ تفسیر
آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! تمہارے پاس (دین) حق تمہارے رب کی طرف سے (بدلیل) پہنچ چکا ہے سو (اس کے پہنچ جانے کے بعد) جو شخص راہ راست پر آجاوے گا سو وہ اپنے (نفع کے) واسطے راہ راست پر آوے گا، اور جو شخص (اب بھی) بےراہ رہے گا تو اس کا بےراہ ہونا (یعنی اس کا وبال بھی) اسی پر پڑے گا اور میں تم پر (کچھ بطور ذمہ داری کے) مسلط نہیں کیا گیا (کہ تمہاری بےراہی کی باز پرس مجھ سے ہونے لگے تو میرا کیا نفصان ہے) اور آپ اس کا اتباع کرتے رہئے جو کچھ آپ کے پاس وحی بھیجی جاتی ہے (اس میں سب اعمال کے ساتھ تبلیغ بھی آگئی) اور (ان کے کفر و ایذاء پر) صبر کیجئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (ان کا) فیصلہ…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۭ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ۔
آخری تنبیہ : خطاب ہرچند باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے جن سے اوپر سے خطاب چلا آرہا ہے۔ یہ گویا اس سلسلہ کی آخری تنبیہ ہے کہ یہ جو کچھ تمہارے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے ہے اور بالکل حق ہے۔ جو تعلیم تمہیں دی جا رہی ہے یہ بھی حق ہے اور دنیا اور آخرت میں اس کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب کی خبر دی جارہی ہے وہ بھی شدنی ہے تو اچھی طرح کان کھول کے سن لو کہ جو اس حق…
Read the full tafseer →18۔ 1 حق سے مراد قرآن اور دین اسلام ہے، جس میں توحید الٰہی اور رسالت محمدیہ پر ایمان نہایت ضروری ہے۔
18۔ 2 یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہوگا کہ قیامت والے دن اللہ کے عذاب سے بچ جائے گا۔
18۔ 3 یعنی اس کا نقصان اور وبال اسی پر پڑے گا کہ قیامت کو جہنم کی آگ میں جلے گا۔ گویا کوئی ہدایت کا راستہ اپنائے گا تو، تو اس سے کوئی اللہ کی طاقت میں اضافہ نہیں ہوجائے گا اور اگر کوئی کفر اور ضلالت کو اختیار کرے گا تو اس سے اللہ کی حکومت و طاقت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوجائے گا۔ گویا ایمان و ہدایت کی ترغیب اور کفر و ضلالت سے بچنے کی تاکید و ترتیب، دونوں سے مقصد انسانوں ہی کی بھلائی اور خیر خواہی ہے۔ اللہ کی اپنی…
Read the full tafseer →43: یعنی میرا کام دعوت اور تبلیغ ہے، ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے، اور تمہارے کفر اور بداعمالیوں کی مجھ سے پوچھ نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →قل یایھا الناس قد جاء کم الحق من ربکم (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے : لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے صحیح واقعہ علم آگیا۔ الحقّ سے مراد ہے صحیح علم ‘ یعنی اللہ کی توحید وصفات اور مبدء و معاد کے احوال قرآن میں اور رسول اللہ (ﷺ) کی زبانی بتا دئیے ‘ اب کسی کیلئے جہالت کا عذر باقی نہیں رہا۔ یا حق سے مراد ہے وہ (قرآن مجید یا رسول اللہ (ﷺ) کی رسالت) جس کا اثبات اعجاز کے ذریعہ سے کردیا گیا اور کسی کو کوئی عذر باقی نہیں رہا۔
فمن اھتدی اب جو بھی ہدایت یاب ہو ‘ یعنی اس علم پر ایمان رکھے اور اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلے۔
فانما یھتدی لنفسہ خود اپنے فائدہ کیلئے ہدایت یاب ہوگا (یعنی خود اس کا فائدہ…
Read the full tafseer →1 یعنی حق واضح طور پر دلائل وبراہین کے ساتھ پہنچ چکا، جس کے قبول نہ کرنے کا کوئی معقول عذر کسی کے پاس نہیں خدا کی آخری حجت بندوں پر تمام ہوگئی۔ اب ہر ایک اپنا نفع نقصان سوچ لے جو خدا کی بتلائی ہوئی راہ پر چلے گا دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگا۔ جو اسے چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹکتا پھرے گا خود پریشان اور ذلیل و خوار رہے گا اپنے بھلے برے کو خوب سمجھ کر ہر شخص اپنے مستقبل کا انتظام کرلے اور جو راستہ پسند ہو اختیار کرے پیغمبر کوئی مختار بنا کر نہیں بھیجے گئے جو تمہارے افعال کے ذمہ دار اور جواب دہ ہوں۔ ان کا کام صرف آگاہ کردینے اور راستہ بتلا دینے کا ہے۔ اس پر چلنا، چلنے والے کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →آیت 108 قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ
اس ہدایت کا فائدہ اسی کو ہوگا عاقبت اسی کی سنورے گی اور اللہ کی رحمت اس کے شامل حال ہوگی۔
وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۭ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ
مجھے تمہارے اوپر کوئی داروغہ مقرر نہیں کیا گیا۔ میں تمہارے بارے میں مسؤل نہیں ہوں۔ اللہ کے ہاں تمہارے بارے میں مجھ سے باز پرس نہیں ہوگی کہ یہ ایمان کیوں نہیں لائے تھے ؟ وَلاَ تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ البقرۃ اور آپ سے نہیں پوچھا جائے گا جہنمیوں کے بارے میں !“
Read the full tafseer →116 ہدایت کے تین اصول ہدایت قبول کرنے کے فوائد :۔ گویا مندرجہ بالا تین آیات میں مجملاً ہدایت کا مفہوم بیان کردیا گیا ہے جو درج ذیل اصولوں پر مشتمل ہے ہر طرح کے شرک سے مکمل اجتناب، خالصتاً اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھنا اور اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا اور منزل من اللہ شریعت پر ادھر ادھر دیکھے بغیر پوری یکسوئی کے ساتھ گامزن ہوجانا اور ایسی ہدایت اختیار کرنے والے کو دنیا میں تو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ کے لیے اسے مکمل رہنمائی حاصل ہوجاتی ہے اور اسے بیرونی نظریات اور فلسفوں کی ضرورت نہیں رہتی اور زندگی ذمہ دارانہ اور پرسکون طور پر گزرتی ہے اور آخرت میں یقیناً فلاح نصیب ہوگی…
Read the full tafseer →162۔ (دلائل و شواہد کے ساتھ) (آیت) ” الحق من ربکم “۔ یعنی یہی پیام قرآنی اور وحی الہی (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب ایک بار پھر عام نسل انسانی سے ہے۔ پیام قرآنی کی عالمگیری پر ایک مزید دلیل۔
163۔ شخصی ذمہ داری اور انفرادی جواب دہی کی ایک اور تاکید۔ کفارہ، توسل وغیرہ جو دوسرے مذاہب کی عین جان ہیں، ان پر ایک اور ضرب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
آیت نمبر 104 تا 109
ترجمہ : (اے محمد) کہہ دو کہ اے مکہ کے لوگو اگر تم میرے دین کے حق ہونے کے بارے میں شک (و تردد) میں ہو تو (تم کو معلوم
ہونا چاہیے) کہ میں تمہارے دین میں شک کرنے کی وجہ سے ان معبودوں کی بندگی نہیں کرتا جن کی تم خدا کو چھوڑ کر بندگی کرتے ہو اور وہ بت ہیں، لیکن میں تو اس خدا کی بندگی کرتا ہوں جو تمہاری روح قبض کرتا ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ مومنوں میں رہوں، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رخ دین کی طرف مائل رکھنا اور ہرگز شرک کرنے والوں میں نہ ہونا (اور یہ حکم ہوا ہے) کہ اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی چیز کی بندگی نہ کرنا کہ اگر تم اس کی بندگی کرو تو تم کو کچھ فائدہ نہ…
Read the full tafseer →قل یایھا الناس قد جاء کم الحق من ربکم (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے : لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے صحیح واقعہ علم آگیا۔ الحقّ سے مراد ہے صحیح علم ‘ یعنی اللہ کی توحید وصفات اور مبدء و معاد کے احوال قرآن میں اور رسول اللہ ﷺ کی زبانی بتا دئیے ‘ اب کسی کیلئے جہالت کا عذر باقی نہیں رہا۔ یا حق سے مراد ہے وہ (قرآن مجید یا رسول اللہ ﷺ کی رسالت) جس کا اثبات اعجاز کے ذریعہ سے کردیا گیا اور کسی کو کوئی عذر باقی نہیں رہا۔
فمن اھتدی اب جو بھی ہدایت یاب ہو ‘ یعنی اس علم پر ایمان رکھے اور اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلے۔
فانما یھتدی لنفسہ خود اپنے فائدہ کیلئے ہدایت یاب ہوگا (یعنی خود اس کا فائدہ…
Read the full tafseer →(108) آپ یہ بھی فرمادیجیے کہ اے اہل مکہ کتاب الہی اور رسول تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس پہنچ چکا ہے سو جو کتاب اور رسول کے ذریعے راہ راست پر آجائے گا اس کا ثواب اسی کو ملے گا اور جو شخص کتاب اور رسول کا انکار کرے گا تو اس کی سزا اسی منکر کو ملے گی اور میں تمہارا ذمہ دار مقرر نہیں کیا گیا، یہ آیت، آیت قتال سے منسوخ ہوگئی۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ : یعنی میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں کہ اگر تم سیدھی راہ پر نہ آؤ تو مجھ سے باز پرس ہو۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 108۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) قل یایھا الناس قد جاء کم الحق اس میں حق سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ (آیت) من ربکم فمن اھتدی یعنی جس نے حضور ﷺ کی تصدیق کی اور اس (دین) کے ساتھ ایمان لایا جو آپ لے کر آئے۔ (آیت) فانما یھتدی لنفسہ وہ اپنے نفس کی نجات اور خلاصی کے لیے ہدایت قبول کرتا ہے۔
(آیت) ومن ضل جس نے رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کو چھوڑدیا اور بتوں کی پیروی اور اتباع کی۔ (آیت) فانما یضل علیھا تو بلاشبہ اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ (آیت) وما انا علیکم بوکیل یعنی میں تم پر محافظ ونگران نہیں ہوں کہ تمہارے اعمال کی نگرانی کروں بلاشبہ میں تو رسول اور پیغامبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
1:۔ ابو الشیخ رحمۃ اللہ علیہنے مجاہد (رح) سے روایت کیا انہوں نے (آیت) ” قد جآء کم الحق من ربکم “ اور (آیت) ” وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو، وان یردک بخیر فلار آدلفضلہ۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہی حق ہے۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” واصبر حتی یحکم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ (حکم) منسوخ ہے اور (اب) آپ کو حکم فرمایا انکے ساتھ جہاد کرنے کا اور ان پر سختی کرنے کا۔
الحمد للہ سورة یونس مکمل ہوئی ؛
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ [ اے لوگو ] قَدْ جَاۗءَكُمُ [ آچکا ہے تمہارے پا س ] الْحَقُّ [ حق ] مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ [تمہارے رب (کے پاس) سے ] فَمَنِ [ پس جس نے ] اهْتَدٰى [ ہدایت پائی ] فَاِنَّمَا [ تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَهْتَدِيْ [ وہ ہدایت پاتا ہے ] لِنَفْسِهٖ ۚ [ اپنے آپ کے لئے ] وَمَنْ ضَلَّ [ اور جو گمراہ ہوا ] فَاِنَّمَا [ تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَضِلُّ [ وہ گمراہ ہوتا ہے ] عَلَيْهَا ۭ [ اس پر (یعنی اپنی جان پر )] وَمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] بِوَكِيْلٍ [ کوئی اختیار والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
ہدایت کا نفع اور گمراہی کا نقصان انسان کو ذاتی طور پر خود پہنچتا ہے
یہ سورة یونس کی آخری دو آیات ہیں اس سے چار آیات پہلے تمام انسانوں کو خطاب تھا۔ اور اب سورت کے ختم پر آنحضرت سرور عالم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ تمام انسانوں سے فرما دیں کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آپہنچا ہے اسے قبول کرو ‘ اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا ہوں کہ تم سے قبول کروا کے چھوڑوں ‘ جو شخص قبول کرے گا ہدایت کی طرف آئے گا اس کا نفع اس کی جان ہی کو ہوگا اور جو شخص گمراہی پر جما رہے اور حق کا ابتاع نہ کرے اس کا وبال اسی کی جان پر ہوگا۔ ہدایت پر آنا اور گمراہی پرجما رہنا یہ ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے ہدایت کا نفع ہدایت والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
خاتمہ سورت بر اتمام حجت اور تبلیغ دعوت
قال اللہ تعالی۔ قل یا ایہا الناس قد جاء کم الحق۔۔۔ الی۔۔۔ وھو خیر الحکمین
(ربط): جب دین اسلام اور اس کے اصول کی حقانیت ظاہر ہوگئی تو بطور اتمام حجت کافروں سے خطاب ہوتا ہے کہ دیکھو تمہارے پاس دین حق آگیا اور نبی کے ذریعہ سے تم تک پہنچ گیا اور اللہ کی حجت تم پر پوری ہوگئی اب تم حق تعالیٰ کے سامنے اپنی گمراہی کا کوئی عذر اور حیلہ پیش نہیں کرسکتے۔ اب اگر اس سے ہدایت حاصل کرلو تو تمہارا ہی فائدہ ہے ورنہ تمہارا ہی نقصان ہے رسول کا کام خبر دے دینا ہے وہ کسی کا ذمہ دار نہیں اور اس کے بعد آپ کو صبر کرنے اور وحی کی پیروی کرنے کا حکم دیا جس سے مقصود آپ کی تسلی ہے…
Read the full tafseer →116: یہ مسئلہ توحید مان لینے کی ترغیب ہے۔ لوگو ! اللہ کی طرف سے حق تمہارے پاس آچکا ہے اور دلائل سے واضح ہوچکا ہے اس لیے اسے قبول کرلو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے جو شخص توحید اور دین حق کو قبول کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کا کام کرتا ہے اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ انکار وجحود کا نتیجہ اور اس کا ضرر بھی خود ہی پائے گا۔ “ وَ مَا اَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ” میرا کام تبلیغ حق ہے۔ میں نے اپنا فریضہ تبلیغ ادا کردیا باقی رہا تم سے منوانا تو وہ میرا کام نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
حق کی آمد
سورۃ یونس میں اللہ تعالیٰ نے چار اہم مضامین توحید ، رسالت ، قیامت اور قرآن پاک کی صداقت وحقانیت بیان فرمائے ہیں۔ سورة کی ابتداء میں بھی یہی مضامین بیان ہوئے تھے اور اب آخر میں بھی انہیں مضامین کا خلاصہ بیان ہورہا ہے۔ درمیان میں یہی حقائق مختلف مثالوں کے ذریعے طریقوں سے سمجھائے گئے ہیں۔ ان چاروں مضامین میں سے قرآن پاک کے وحی الٰہی ہونے ، اس کے اتباع اور اس کی صداقت وحقانیت کا حصہ زیاد ہے چناچہ اب آخر سورة میں قرآن پاک ہی سے متعلق ارشاد ہے (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے (آیت) ” یایھا الناس “ اے لوگو ! (آیت) ” قد جاء کم الحق من ربکم “ تحقیق آچکا ہے تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ 0 ۚ فَمَنِ اہْتَدٰى فَاِنَّمَا يَہْتَدِيْ لِنَفْسِہٖ 0 ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْہَا 0 ۭ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ 108 ۭ
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
ترکیب : ان کنتم شرط فلا اعبد جواب۔ وان اقم معطوف ہے ان اکون پر مالا ینفعک لاتدع کا مفعول من دون اللّٰہ حال یا صفت بخیر یرد کا مفعول ثانی۔
تفسیر : توحید اور مسائلِ معاد پر ہر قسم کے دلائل قائم کرکے اب خاتمہ سورة میں حجت تمام کرتا ہے کہ قل یا ایہا الناس الخ کہ اے نبی لوگوں سے کہہ دو اگر اب بھی تمہیں میرے دین میں شک باقی ہے تو اس کی طمع نہ رکھنا کہ میں تمہارے دین کو اختیار کرلوں گا بلکہ مجھے توحید پر مستقیم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر دین کے اصل الاصول اور اس کی پرستش کرنا خدا تعالیٰ کی صفات کمال کے ضمن میں بیان فرماتا ہے اور تبعاً ان کی بت پرستی پر بھی تعریض کرتا ہے کہ یہ چیزیں قابل پرستش نہیں…
Read the full tafseer →قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْج فَمَنِ اہْتَدٰی فَاِنَّمَا یَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَاج وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ۔ (یونس : 108)
(کہہ دیجیے ! اے لوگو آگیا تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے تو جو ہدایت قبول کرتا ہے وہ اپنے ہی لیے کرتا ہے اور جو بھٹکتا ہے اس کا وبال اسی پر آئے گا اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ )
آخری تنبیہہ
اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ پوری نوع انسانی کو ہے لیکن روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے۔ کیونکہ سابقہ آیات میں بھی انہی سے خطاب تھا اور یہی لوگ چونکہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اولین مخاطب ہیں اور انہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
فہم القرآن
ربط کلام : اس آیت سے چار آیات قبل حکم تھا کہ اے رسول ﷺ لوگوں کو فرمائیں اگر تمہیں میرے عقیدہ اور دین کے بارے میں شک ہے تو میرے راستے میں رکاوٹ بننے کی بجائے مجھے اپنے طریقہ پر اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرنے دیجیے۔
اب ارشاد ہوتا ہے یہی حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے تم تک پہنچ چکا ہے۔ جو حق کی پیروی کرے گا اس کا فائدہ اسے ہی پہنچے گا اور جس نے توحید کا عقیدہ چھوڑ دیا۔ اس کا وبال اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔ اور مجھے تم پر وکیل بنا کر نہیں بھیجا گیا وکیل کا معنی ہے دوسرے کے کام کا ذمہ دارہونا۔ نبی کا کام حق پہنچانا ہوتا ہے منوانا نہیں۔ لہٰذا اے نبی ﷺ ! آپ اسی کی اتباع کریں جو آپ کی طرف وحی…
Read the full tafseer →تم مانو نہ مانو میں نے تو وحی کی اتباع کردی :
108: قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ (کہہ دیں اے لوگو) اے اہل مکہ قَدْجَآ ئَ کُمُ الْحَقُّ (تحقیق تمہارے پاس حق آچکا) یعنی قرآن یارسول مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنِ اھْتَدٰی (تمہارے رب کی طرف سے پس جس نے ہدایت کو اختیار کیا) ہدایت کو چنا اور حق کی اتباع کی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ (بیشک اس نے ہدایت کو اپنے فائدے کیلئے اختیار کیا) اس چنائو سے اس نے اپنے نفس کو فائدہ پہنچایا۔ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا (اور جو شخص گمراہ ہوا پس اسکی گمراہی کا وبال اس پر ہے) گمراہی کے آثار سے نقصان اسی کی ذات کو ہوگا اس میں علیٰ ، ضرر اور لام انتفاع کا معنی…
Read the full tafseer →108۔” قل یایھا الناس قد جاء کم الحق من ربکم “ یعنی قرآن اور اسلام ” فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا “ اس کا وبال اس کی جان پر ہوگا ۔ ” وما انا علیکم بوکیل “ کفیل کہ تمہارے اعمال کی نگرانی کروں ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قتال کی آیت نے اس کو منسوخ کردیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
108۔ 109۔ آنحضرت ﷺ کو اس آیت میں حکم ہوا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ جو دین اور کتاب میں لے کر آیا ہوں وہ بالکل حق ہے اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے جو اس سے ہدایت پائے گا وہ اپنی ہی جان کے لئے پائے گا اور اپنا آپ فائدہ اٹھائے گا۔ دوسروں کا اس میں کچھ حصہ نہیں اور جو اس کو نہ مانے گا اور گمراہ کا گمراہ ہی رہے گا اس کا وبال اسی کی گردن پر ہوگا اوروں کو اس سے کوئی علاقہ نہیں اور میں تم لوگوں کا کوئی وکیل و مختار نہیں ہوں کہ سب ہی کو ایماندار بنادوں مجھے تو خدا نے راستہ بتانے کو بھیجا ہے جو خدا کا پیغام ہے وہ تمہیں پہنچا دیتا ہوں اب آگے تم جانو اور خدا جانے۔ اور پھر خاص حضرت کو خدا نے یہ حکم کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
آیت : (108-109)
بنا بریں ‘ جب اللہ تعالیٰ نے واضح دلیل بیان کردی ‘ تو اس کے بعد فرمایا : (قل) چونکہ دلیل وبرہان واضح ہوگئی اس لئے اے رسول فرما دیجئے ! (یایھا الناس قد جاء کم الحق من ربکم) ” اے لوگو ! تمہارے رب کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے “ یعنی تمہارے پاس سچی خبر آگئی ہے جس کی تائید دلائل وبراہین سے ہوتی ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی کوئی شک نہیں اور یہ خبر تمہارے پاس تمہارے تب کی طرف سے پہنچی ہے ‘ جس کی تمہارے لئے سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے تم پر قرآن نازل کیا ‘ جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے یہ قرآن مختلف انواع کے احکام ‘ مطالب الہیہ اور اخلاق حسنہ پر مشتمل ہے جن میں تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–109
قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔
Read the full tafseer →183 ۔ لوگوں کے لیے ایک پرزور تنبیہ و تذکیر : کہ بیشک آچکا تمہارے پاس اے لوگوں حق تمہارے رب کی جانب سے۔ یعنی یہ قرآن حکیم جو کہ اس وحدہ لاشریک نے اپنی رحمت سے، حضرت رحمۃ اللعالمین ﷺ کے ذریعے ساری دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور ہوسکیں۔ سو یہ سراسر حق و صدق اور عین رحمت و عنایت ہے تمہارے رب کی جانب سے۔ اور اسی سے وابستگی میں تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ اس کے ذریعے جو تعلیم تمہیں دی جارہی ہے وہ سراسر حق و صدق ہے اور اس سے اعراض و انکار پر دنیا و آخرت میں جس عذاب کی خبر دی جارہی ہے وہ بھی قطعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–109
رسول کا کام صرف سمجھانا ہے
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی یہ خواہش کہ سب لوگ ہی ایمان لے آئیں یہ پوری نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتے تو یہ کر بھی سکتے تھے مگر یہ بات اللہ کی مشیت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ اللہ کے سچے، اتنہائی مخلص اور فرمانبردار بندے تھے مگر تھے تو انسان ہی۔ انہوں نے اپنے کام کو جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا، یعنی نبوت اور تبلیغ کا تو اس کام میں انہوں نے اتنی مصیبتیں، دکھ، پریشانیاں اور مشقتیں برداشت کیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے مگر آپ ﷺ کو اپنے رب سے اور اس کے دیے ہوئے کام (نبوت) سے اس قدر پیار اور محبت تھی کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
آیات 104 تا 109
اسرار و معارف
آپ عالم انسانیت کو مطلع فرمادیجئے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں کوئی شک ہو تو غور سے سنو کہ اللہ کے علاوہ تم جس قدر معبود مقررکررکھے ہیں میرے دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور میں انھیں پرکاہ وقعت نہیں دیتانہ میں ان کی اطاعت کرتا ہوں میراسرنیاز صرف اور صرف اس ذات واحد کے سامنے جھکتا ہے جو تمہارا بھی رب ہے جو تمہیں موت دیتا ہے اور تم بھی اسی کے دربار کی طرف کھنچے چلے جاتے ہو تمہارے مفروضہ معبود تمہیں ہرگز نہیں بچاسکتے اور اسی نے مجھے ایسا ایمان رکھنے کا حکم دیا میرادین میرے رب کا ارشاد کردہ ہے عقل انسانی کی ایجاد نہیں جیسے تمہارے مذاہب ہیں ۔ اس نے اپنے ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
ف 1 ۔ یعنی تمہارا نگران اور ذمہ دار نہیں ہوں کہ اگر تم سیدھی راہ پر نہ آئو تو مجھ سے باز پرس ہو۔
Read the full tafseer →(10:108) وکیل ۔ ذمہ دار۔ ضامن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
لغات القرآن آیت نمبر 108 تا 109
اھتدیٰ (جس نے ہدایت حاصل کی) ضل (بھٹک گیا) وکیل (کام بنانے والا) اتبع (اتباع کیجیے ، پیچھے چلئے) یوحی (وحی کی گئی ہے) یحکم (وہ فیصلہ کرے گا) خیر الحکمین (بہترین فیصلہ کرنے والا )
تشریح : آیت نمبر 108 تا 109
سورئہ یونس میں اللہ تعالیٰ نے خیر اور شرق حق اور باطل کی تمام حقیقتوں کو کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایک طرف فرعون، اس کے تکبر اور برے انجام کو بیان فرمایا ہے دوسری طرف حضرت نوح ، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس کے واقعات کو مختصر انداز میں بیان کر کے اس بات کی وضاحت فرما دی ہے کہ انسان کے لئے نجات کا راستہ صرف ایک ہی ہے کہ ہر انسان اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کو اس آیت میں حکم ہوا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ جو دین اور کتاب میں لے کر آیا ہوں اس میں کوئی شک وشبہ نہٰیں ہے۔ جو اس سے ہدایت پائے گا وہ اپنی ہی جان کے لئے پائے گا اور اپنا فائدہ اٹھائے گا۔ دوسروں کا اس میں کچھ حصہ نہیں اور جو اس کو نہ مانے گا وہ گمراہ کا گمراہ ہی رہے گا۔ اس کا وبال اسی کی گردن پر ہوگا اوروں کو اس سے کوئی علاقہ نہیں ۔ اور میں تم لوگوں پر نگہبان نہیں ہوں کہ سب ہی کو ایماندار بنادوں۔ مجھے تو خدا نے راستہ بتانے کو بھیجا ہے جو خدا کا پیغام ہے وہ تمہیں پہنچا دیتا ہوں، اور پھر خاص حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم کیا کہ آپ تو وحی کی اتباع کرتے رہیں اور جب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–109
[42] مفسرین نے عذاب ٹل جانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یونس (علیہ السلام) اپنی نافرمان قوم کو عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ کی اجازت کے بغیر بستی سے چلے گئے تھے۔ اس لئے جب آثار عذاب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پوری قوم نے اللہ تعالیٰ کے روبرو گریہ زاری شروع کی اور ایمان لے آئی لہذا عذاب ہٹا لیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
(ف 1) غرض یہ ہے کہ اسلام ایک صداقت ہے اللہ کی نعمت ہے ، اب جو اسے قبول کرتا ہے اپنی عاقبت سنوارتا ہے ، اللہ اور اس کے رسول پر کوئی احسان نہیں کرتا ، اور جو گمراہ ہے ، منکر ہے اس کا نتیجہ بد ، اور نقصان بھی وہی اٹھائے گا نبی یا پیغمبر اس کا ذمہ دار نہیں ۔
Read the full tafseer →108 اے پیغمبر آپ افراد انسانی سے کہہ دیجئے اے لوگو یقینا ًتمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس دین حق پہونچ چکا اور سچی بات آ پہونچی سو اب جو شخص صحیح اور سیدھی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے اور اپنے ہی نفع کے واسطے اختیار کرتا ہے اور جو شخص اب بھی بےراہ رہتا ہے اور گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی برے کو بھٹکا پھرے گا وہ اپنے ہی نقصان کو گمراہ اور بےراہ رہے گا اور میں تم پر کوئی مختار کار نہیں مقرر ہوا ہوں یعنی حق بات کو قبول کرنیوالا کا بھلا اور بےراہی میں گمراہوں پر ہی وبال پڑتا ہے مجھے کوئی ذمہ دارانہ تسلط تم پر حاصل نہیں ہے کہ میں تمہیں جبرو اکراہ کے ساتھ غلط راہ سے باز رکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
ف 2۔ اوپر دین اسلام کی حقیقت ظاہر کی گئی ہے اب اس اظہار کا موجب اتمام حجت ہونا مذکور ہے۔
Read the full tafseer →اے لوگو ! سچائی تمہارے پاس آگئی ہے بھلائی پانے والا فائدہ میں اور بھٹکنے والانقصان میں ہوگا
145 ؎ ” الحق “ کیا ہے ؟ اس کے متعلق اس سورت کی آیت 76 میں وضاحت کردی گئی ہے۔ قرآن کریم میں تم جا بجا اس طرح کا اعلان پائو گے جیسا کہ زیر نظر آیت میں کیا گیا ۔ قرآن کریم نے گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو مواعظ نقل کئے ہیں ان میں ہر جگہ ایسی ہی بات پائی جاتی ہے یعنی مذہبی صداقت کی دعوت کا معاملہ سر تا سر سمجھنے بوجھنے اور سمجھ بوجھ کر اختیار کرلینے کا معاملہ ہے۔ اس میں نہ تو کسی قسم کی زبردستی ہے ، نہ کسی طرح کا لڑائی جھگڑا ۔ تمہاری بھلائی کیلئے ایک بات کہی گئی ہے اگر سمجھ میں آجائے تو مان لو ، نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–109
In the seventh verse (98), the heedless deniers of truth have been admonished for their failure to make the optimum use of the time of life allowed to them. There was still time for them to leave denial and contumacy. Otherwise, an ominous time was due to come when they will make Taubah but their Taubah will not be accepted. They will say that they believed but their belief will not be welcome. And that time will be the time when the punishment of the Hereafter will appear right before their eyes at the time of death. It was in this connection that an event relating to Sayyidna Yunus (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
108. The emphatic form in which people have been urged to adhere to true faith is noteworthy. Here people are not simply being asked to 'embrace the faith', or to 'follow the faith', or to 'become adherents of the faith'. Apparently such expressions were too weak and feeble to convey the idea of a total, firm, and steady adherence to faith as required of man. The actual words of the verse, suggest that one should focus one's attention on the true faith, that one ought not to waver and let one's attention wander, that one ought to refrain from, occasionally moving a step forward and another…
Read the full tafseer →