Explained with ayahs 104–107
دین حنیف کی وضاحت
یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہوجاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت وقدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بےبس ہیں، بےنفع و نقصان ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
سورة یُوْنُس 108
اس مطالبے کی شدت قابل غور ہے۔ بات ان الفاظ میں بھی ادا ہوسکتی تھی کہ تو " اس دین کو اختیار کرلے " یا اس دین پر چل " یا اس دین کا پیرو بن جا۔ " مگر اللہ تعالیٰ کو بیان کے یہ سب پیرایے ڈھیلے ڈھالے نظر آئے۔ اس دین کی جیسی سخت اور ٹھیک اور کسی ہوئی پیروی مطلوب ہے اس کا اظہار ان کمزور الفاظ سے نہ ہوسکتا تھا۔ لہذا اپنا مطالبہ ان الفاظ میں پیش فرمایا کہ " اَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا " اقم وجہک کے لفظی معنی ہیں " اپنا چہرہ جما دے۔ " اس کا مفہوم یہ ہے کہ تیرا رخ ایک ہی طرف قائم ہو۔ ڈگمگاتا اور ہلتا ڈلتا نہ ہو۔ کبھی پیچھے اور کبھی آگے اور کبھی دائیں اور کبھی بائیں نہ مڑتا رہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
خلاصہ تفسیر
آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! اگر تم میرے دین کی طرف سے شک (اور تردد) میں ہو تو (میں تم کو اس کی حقیقت بتلاتا ہوں وہ یہ ہے کہ) میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، لیکن ہاں اس معبود کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے اور مجھ کو (منجانب اللہ) یہ حکم ہوا ہے کہ میں (ایسے معبود پر) ایمان لانے والوں میں سے ہوں اور (مجھ کو) یہ (حکم ہوا ہے) کہ اپنے آپ کو اس دین (مذکورہ توحید خالص) کی طرف اس طرح متوجہ رکھنا کہ اور سب طریقوں سے علیحدہ ہوجاؤ اور کبھی مشرک مت بننا اور (یہ حکم ہوا ہے کہ) خدا (کی توحید) کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
104 تا 107:۔ قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ ښ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ وَاَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۚ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔ وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ۔ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا ھُوَ ۚ وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَاۗدَّ لِفَضْلِهٖ ۭ يُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ…
Read the full tafseer →15۔ 1 حَنِیْف کے معنی ہیں۔ یک سو، یعنی ہر دین کو چھوڑ کر صرف دین اسلام کو اپنانا اور ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف ایک اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہونا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–107
42: اس کائنات کی ہر چیز کو اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا شاہکار ہے، اس سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ محیر العقول کارخانہ خود بخود وجود میں نہیں آگیا، اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جو ذات اتنی عظیم کائنات پیدا کرنے پر قادر ہے، اسے اپنی خدائی کے لیے کسی شریک یا مددگار کی حاجت نہیں ہے، لہذا وہ ہے، اور ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
اس آئنہ خانے میں سبھی عکس ہیں تیرے
اس آئنہ خانے میں تو یکتا ہی رہے گا
Read the full tafseer →وان اقم وجھک للذین حنیفا ولا تکونن من المشرکین۔ اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس دین (توحید خالص) کی طرف اپنا رخ رکھنا ہر دین سے کٹ کر اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہوجانا۔ یعنی مجھے ایمان پر رہنے ‘ دینی استقامت رکھنے اور تن دہی کے ساتھ فرائض ادا کرنے اور برائیوں سے باز رہنے کا بھی حکم دیا گیا ہے (گویا اقامت لِلَّذِیْنَ سے مراد ہے تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے پرہیز) یا اقامت وجہ سے مراد ہے نماز کو قبلہ رخ ہو کر ادا کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
3 یعنی اگر میرا طریقہ اور مسلک دینی تمہاری سمجھ میں نہیں آیا۔ اس لیے اس کی نسبت شکوک و شبہات میں پھنسے ہوئے ہو، تو میں تمہیں اپنے دین کا اصل اصول (جو توحید خالص ہے) سمجھائے دیتا ہوں۔ خلاصہ یہ ہے کہ میں تمہارے ان فرضی معبودوں کی عبادت سے سخت نفور اور بیزار ہوں جس کے اختیار کرنے کا امکان بھی کبھی میری طرف سے دل میں نہ لانا۔ میری عبادت خالص اس خداوند قدوس کے لیے ہے جس کے قبضہ میں تمہاری سب کی جانیں ہیں کہ جب تک چاہے انھیں جسموں میں چھوڑے رکھے اور جب چاہے ایک دم میں کھینچ لے گویا موت وحیات کا رشتہ جس کے ہاتھ میں ہے بندگی اسی کی ہوسکتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ جوارح سے اس کی بندگی کی جائے، ضروری ہے کہ دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
آیت 105 وَاَنْ اَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا
پورے حنیف یعنی یکسو ہو کر دین کی طرف متوجہ ہوں۔
Read the full tafseer →113 ہدایت کے حصول کے لئے تین ہدایات :۔ اس آیت اور اس سے اگلی دو آیات میں بھی خطاب بظاہر رسول اللہ کو ہے جبکہ یہ ارشادات عام لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے ہیں اس لیے کہ نبی کی دعوت کا تو آغاز ہی شرک کی تردید سے ہوتا ہے اور اس کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی شرک سے مبرا ہوتی ہے اور قرآن کریم میں یہ انداز تاکید مزید کے لیے اختیار کیا گیا ہے اور ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ دین اسلام کا جو راستہ اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور دکھلایا ہے بالکل ناک کی سیدھ اسی پر چلتے جائیے دائیں بائیں یا آگے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کی سیدھی راہ کے علاوہ ادھر ادھر جتنے راستے ہیں سب شیطانی راہیں ہیں۔…
Read the full tafseer →159۔ (آیت) ” ان اکون “ سے لے کر (آیت) ” من المشرکین “۔ تک برابر اسی مضمون کا بیان رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ہے کہ میری حیثیت واضع قانون کی نہیں صرف حامل قانون کی ہے، جو قانون حیات لیکر میں آیا ہوں خود بھی اس کے دائرہ نفاذ سے مستثنی اور مافوق نہیں ہوں۔ بلکہ سب سے پہلے تو خود ہی اس کے آگے سرجھکانے والا ہوں، (آیت) ” ان اکون من ال مومنین “۔ سے بہ قاعدۂ اشارۃ النص علماء نے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا ہے کہ ایمان وہی متعبر ہے، جو معیت مومنین میں اتباع نبی سے حاصل ہو، نہ وہ جو محض استدلال نظری وفلسفی سے حاصل ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
آیت نمبر 104 تا 109
ترجمہ : (اے محمد) کہہ دو کہ اے مکہ کے لوگو اگر تم میرے دین کے حق ہونے کے بارے میں شک (و تردد) میں ہو تو (تم کو معلوم
ہونا چاہیے) کہ میں تمہارے دین میں شک کرنے کی وجہ سے ان معبودوں کی بندگی نہیں کرتا جن کی تم خدا کو چھوڑ کر بندگی کرتے ہو اور وہ بت ہیں، لیکن میں تو اس خدا کی بندگی کرتا ہوں جو تمہاری روح قبض کرتا ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ مومنوں میں رہوں، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رخ دین کی طرف مائل رکھنا اور ہرگز شرک کرنے والوں میں نہ ہونا (اور یہ حکم ہوا ہے) کہ اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی چیز کی بندگی نہ کرنا کہ اگر تم اس کی بندگی کرو تو تم کو کچھ فائدہ نہ…
Read the full tafseer →وان اقم وجھک للذین حنیفا ولا تکونن من المشرکین۔ اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس دین (توحید خالص) کی طرف اپنا رخ رکھنا ہر دین سے کٹ کر اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہوجانا۔ یعنی مجھے ایمان پر رہنے ‘ دینی استقامت رکھنے اور تن دہی کے ساتھ فرائض ادا کرنے اور برائیوں سے باز رہنے کا بھی حکم دیا گیا ہے (گویا اقامت لِلَّذِیْنَ سے مراد ہے تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے پرہیز) یا اقامت وجہ سے مراد ہے نماز کو قبلہ رخ ہو کر ادا کرنا۔
Read the full tafseer →(105) اور مجھے اس چیز کا حکم ہوا ہے کہ مسلمان ہونے کی حالت میں اپنے دین اور ملت کو خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے کروں اور یہ حکم صادر ہوا ہے کہ کبھی مشرکین کے ساتھ انکے دین کو اختیار نہ کروں۔
Read the full tafseer →وَاَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا۔۔ : ”حَنِیْفاً“ ”یکسو، ایک طرف ہوجانے والا“ یعنی تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ ہی کا ہوجانے والا۔ حنیف بن کر مشرکین میں سے ہرگز نہ ہونے کی تاکید کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے مشرک دین ابراہیم کے پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھنے کی وجہ سے اپنے آپ کو حنیف کہتے، پھر شرک بھی کیے جاتے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، حنیف بن مگر مشرکین میں سے ہرگز نہ ہو اور ایک معنی یہ ہے کہ کسی طرح بھی مشرکین کے ساتھ شامل نہ ہو، نہ شرک جلی میں اور نہ شرک خفی میں۔ ریا کو شرک خفی کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
آیت نمبر 105 اور 106۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) وان اقم وجھک، ان کا عطف ان اکون پر ہے یعنی مجھے کہا گیا ہے کہ مومنین سے ہوجا اور اپنا رخ سیدھا کرلے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : اور اپنا عمل سیدھا کرلے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنا آپ سیدھا کرلے، یعنی اپنی توجہ اس پر مرکوز کرلے دین میں سے جس کے بارے آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ (آیت) حنیفا یعنی ہر دین سے بچتے ہوئے سیدھا اس کی طرف کرلے (جس کا حکم دیا گیا ہے) حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؓ نے کہا ہے :
حمدت اللہ حین ھدی فوادی من الاشراک الدین الحنیف
میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی جس وقت اس نے میرے دل کو شرک سے خالص دین کی طرف ہدایت عطا فرمائی۔
اس کے مادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–106
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ ویجعل الرجس “ میں جس سے مراد ہے غصہ۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ویجعل الرجس “ میں ” الرجس “ سے مراد ہے شیطان یا رجس سے مراد ہے عذاب۔
3:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغنی الایت ولنذر عن قوم “ میں قوم کی بجائے ” عن قوم لا یومنون “ سے مگر (اس حکم کو) اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر “ (5) ۔ نے منسوخ کردیا (یہ حک ہے کہ ان کو ڈرانا فائدہ نہیں دیتا جو (اللہ کے علم میں) ایمان نہیں لائیں گے۔
4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے…
Read the full tafseer →وَاَنْ [ اور یہ کہ ] اَقِمْ [ تو سیدھا رکھ ] وَجْهَكَ [ اپنے چہرے کو ] لِلدِّيْنِ [ دین کے لئے ] حَنِيْفًا ۚ [ یکسوہوتے ہوئے ] وَلَا تَكُوْنَنَّ [ اور تو ہرگز مت ہونا ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →(وَاَنْ اَقِمْ وَجْھَکَ للدِّیْنَ حَنِیْفًا) اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اپنی ذات کو اس دین (یعنی دین توحید) کی طرف اس طرح متوجہ رکھوں کہ دوسرے سب طریقوں سے علیحدہ رہوں۔ لہٰذا میں تمہاری طرف نہ مائل ہوسکتا ہوں اور نہ تم سے کوئی اونچ نیچ کر کے مصالحت اور مسامحت ہوسکتی ہے۔ (وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (اور میرے رب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہرگز مشرکین میں سے مت ہوجانا) لہٰذا میں تو ہمیشہ موحد ہی رہوں گا۔ وھذا کما فی سورة الانعام (قُلْ اِنِّیْ نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُلْ لَّا اَتَّبِعُ اَھْوَآءَکُمْ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَآ اَنَا مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
اثنات توحید وحقانیت دین اسلام
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل یا ایھا الناس ان کنتم فی شک من دینی۔۔ الی۔۔ وھو الغفور الرحیم
(ربط): ابتداء سورت سے یہاں تک اصول دین۔ توحید و رسالت اور حشر نشر اور قیامت اور دین اسلام کی حقانیت کو روشن دلیلوں سے واضح کیا گیا اور یہ ثابت کردیا گیا کہ کفار کا دین اٹکل کے تابع ہے۔ اور حق سے دور ہے۔ اور اس کی ہر بات مشکوک اور مشتبہ ہے۔ اب آں حضرت ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان منکرین اور مرتابین سے علی الاعلان یہ کہہ دیں کہ اگر اب بھی تم کو میرے اس روشن دین کے بارے میں شک اور تردد ہے تو خیر ہو مگر تم اس خیال خام میں نہ رہنا کہ میں تمہارے مہمل اور باطل دین کو قبول کرلوں گا۔ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
114: یہ “ اَنْ اَکُوْنَ ” پر معطوف ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ خالصۃً دین حنیف یعنی وہ دین جو ہر قسم کے شرک سے پاک ہے اس کی طرف اپنا رخ سیدھا رکھوں اور شرک کی جانب ادنیٰ میلان بھی نہ کروں۔ “ وَ لَا تَدْعُ الخ ”۔ پہلے “ فَلَا اَعْبُدُ ” میں عبادت غیر اللہ کی نفی کی گئی۔ عبادت کا جزو اعظم چونکہ دعاء اور پکار ہے اس لیے یہاں بالاستقلال غیر اللہ کی پکار سے ممانعت فرمائی۔ یعنی تیرا نفع اور نقصان جن کے قبضہ و اختیار میں نہیں۔ انہیں حاجات میں ہرگز نہ پکار، پکار کے لائق صرف اللہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر چیز جس کے اختیار و تصرف میں ہے۔ “ فلا حکم الا لله ولا رجوع فی الدارین اِلَّا اللّٰه ” (کبیر ج 17 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
ربط آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کا رد کیا اور اس سلسلے میں قوم نوح قوم فرعون اور قوم یونس کی مثال بیان فرمائی۔ اللہ نے یہ بات بھی سمجھا دی کہ جو لوگ تعصب عناد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں ان پر کفروشرک کی گندگی پڑتی رہتی ہے کیونکہ وہ انصاف سے کام نہیں لیتے اور نہ خدا تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں غور وفکر کرتے ہیں ایسے لوگ نہ تو انبیاء (علیہم السلام) کی بات سنتے ہیں ، نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ عقل کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر کفر وشرک کی گندگی پڑتی رہتی ہے۔
اس سورة کی ابتداء میں بھی یہ بات بیان کی گئی تھی کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ…
Read the full tafseer →وَاَنْ اَقِمْ وَجْہَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا 0 ۚ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 105
اقامت
والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43]
الاقامتہ
( افعال ) فی المکان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
ترکیب : ان کنتم شرط فلا اعبد جواب۔ وان اقم معطوف ہے ان اکون پر مالا ینفعک لاتدع کا مفعول من دون اللّٰہ حال یا صفت بخیر یرد کا مفعول ثانی۔
تفسیر : توحید اور مسائلِ معاد پر ہر قسم کے دلائل قائم کرکے اب خاتمہ سورة میں حجت تمام کرتا ہے کہ قل یا ایہا الناس الخ کہ اے نبی لوگوں سے کہہ دو اگر اب بھی تمہیں میرے دین میں شک باقی ہے تو اس کی طمع نہ رکھنا کہ میں تمہارے دین کو اختیار کرلوں گا بلکہ مجھے توحید پر مستقیم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر دین کے اصل الاصول اور اس کی پرستش کرنا خدا تعالیٰ کی صفات کمال کے ضمن میں بیان فرماتا ہے اور تبعاً ان کی بت پرستی پر بھی تعریض کرتا ہے کہ یہ چیزیں قابل پرستش نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلاَ ٓ اَ عْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ اَعْبُدُ اللّٰہَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْجصلے وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَاَنْ اَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنَ حَنِیْفاً ج وَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ وَلاَ تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَنْفَعُکَ وَلاَ یَضُرُّکَج فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہٗ اِلاَّ ہُوَج وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِہٖط یُصِیْبُ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
فہم القرآن
ربط کلام : ( آپ کھل کر اعلان کردیں کہ) ” اللہ “ کی مدد انبیاء (علیہ السلام) اور مومنوں کے ساتھ ہوتی ہے۔
نبی معظم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو نصرت و حمایت کی خوشخبری دینے کے بعد حکم ہوا۔ کہ اے رسول ﷺ آپ سرعام اعلان فرمائیں کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین کے بارے میں شک ہے اور تم کسی طرح بھی مطمئن ہونے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تو یاد رکھو میں اللہ کے سوا تمہارے معبودان باطل کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں صرف اسی ایک اللہ کی عبادت کرتارہوں گا۔ جو تمہیں اور سب کو فوت کرنے والا ہے۔ کیونکہ میں ماننے والوں میں ہوں اس لیے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے آپ کو کلی طور پر اس دین کے تابع کروں…
Read the full tafseer →105: وَاَنْ اَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ (اور یہ کہ تو سیدھا کر اپنا چہرہ دین کیلئے) یعنی مجھے یہ بھی وحی کی کہ تو سیدھا کر اپنا چہرہ (الایۃ) امرت کے ہم شکل کرنے کیلئے ان اقم فرمایا نمبر 1۔ مطلب یہ ہے تو پورے طور پر اس پر متوجہ ہو کر جو اللہ تعالیٰ نے تجھے حکم دیا تو استقامت اختیار کر۔ نمبر 2۔ اسکی طرف سیدھا رخ کر دائیں بائیں مت رخ پھیر۔ حَنِیْفًا (یکسو ہو کر) ۔ یہ للدینؔ سے حال ہے یا الوجہ سے حال ہے۔ وَلَاتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (اور ہرگز تم مشرکین میں سے مت بنو)
Read the full tafseer →105۔ ” وان اقم و جھک للذین حنیفا ً “ انب عباس ؓ فرماتے ہیں اپنے عمل کو اور بعض دین پر قائم ہو یکسو ہو کر ۔ ” ولا تکونن من المشرکین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
104۔ 105۔ ان آیتوں میں یہ حکم ہے کہ اے رسول تم اپنے دین اور ان مشرکوں کے دین میں فرق بتلا دو کہ جو دین میں لے کر آیا ہوں اگر تم اس کو صحیح نہیں جانتے اور اس میں شک کرتے ہو تو سن لو کہ تم خدا کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو ہم ان کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے ہم تو اس خدا کی عبادت کرتے ہیں جو بالکل اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی کے قبضہ میں تمہاری جان ہے اس نے پیدا کیا ہے اور وہی تمہیں موت کا بھی مزا چکھائے گا اور پھر یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہاری جان پر جس کا پورا پورا اختیار ہے وہ آسانی سے تم پر عذاب کرسکتا ہے اور یہ تمہارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو یہ کسی کو کوئی نفع اور نقصان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
آیت : ( 104-106)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول سید المرسلین ‘ امام المتقین ‘ خیر الموقنین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (قل یایھا الناس ان کنتم فی شک من دینی) ” کہہ دیجئے اے لوگو ! اگر تم میرے لائق ہوئے دین کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو “ تو میں اس بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں ‘ بلکہ میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور تم اللہ کے سوا جن ہستیں کو پکارتے ہو ‘ وہ سب باطل ہیں۔ میں اپنے اس موقف پر واضح دلائل اور روشن براہین رکھتا ہوں۔ بنا بریں فرمایا : (فلا اعبد الذین تعبدون من دون اللہ) ” پس جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ “ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–109
قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
179 ۔ رب کی عبادت و بندگی کے لیے یکسوئی کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ کہ سیدھا رکھو تم اپنا رخ دین حق کے لیے یکسو ہو کر اور کسی طور پر مشرکوں میں سے نہیں ہوجانا۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کو خطاب کرکے حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم سیدھا رکھو اپنا رخ اس دین حق کے لیے یکسو ہوکر۔ اس طرح کہ دل کی توجہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی طرف، کسی بھی قسم کی عبادت میں نہ ہونے پائے۔ خاص کر اس عبادت میں جو کہ سب عبادات کا مغز اور نچوڑ ہے۔ یعنی دعا و پکار۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ (فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا) مگر افسوس کہ اس قدر تاکیدی حکم اور مکرر تعلیم کے باوجود آج کا کلمہ گو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–109
رسول کا کام صرف سمجھانا ہے
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی یہ خواہش کہ سب لوگ ہی ایمان لے آئیں یہ پوری نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتے تو یہ کر بھی سکتے تھے مگر یہ بات اللہ کی مشیت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ اللہ کے سچے، اتنہائی مخلص اور فرمانبردار بندے تھے مگر تھے تو انسان ہی۔ انہوں نے اپنے کام کو جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا، یعنی نبوت اور تبلیغ کا تو اس کام میں انہوں نے اتنی مصیبتیں، دکھ، پریشانیاں اور مشقتیں برداشت کیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے مگر آپ ﷺ کو اپنے رب سے اور اس کے دیے ہوئے کام (نبوت) سے اس قدر پیار اور محبت تھی کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
آیات 104 تا 109
اسرار و معارف
آپ عالم انسانیت کو مطلع فرمادیجئے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں کوئی شک ہو تو غور سے سنو کہ اللہ کے علاوہ تم جس قدر معبود مقررکررکھے ہیں میرے دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور میں انھیں پرکاہ وقعت نہیں دیتانہ میں ان کی اطاعت کرتا ہوں میراسرنیاز صرف اور صرف اس ذات واحد کے سامنے جھکتا ہے جو تمہارا بھی رب ہے جو تمہیں موت دیتا ہے اور تم بھی اسی کے دربار کی طرف کھنچے چلے جاتے ہو تمہارے مفروضہ معبود تمہیں ہرگز نہیں بچاسکتے اور اسی نے مجھے ایسا ایمان رکھنے کا حکم دیا میرادین میرے رب کا ارشاد کردہ ہے عقل انسانی کی ایجاد نہیں جیسے تمہارے مذاہب ہیں ۔ اس نے اپنے ماننے…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ حنیف نام ہے (دین ابرہاہیم ( علیہ السلام) والوں کا۔ اور عرب شرک کرتے اور اپنے آپ کو حنیف کہے جاتے۔ (احسن الفوائد) ” اور ہرگز مشرکوں میں مت شامل) ہو “۔ یعنی ماسوی اللہ کی طرف التفات بھی شرک ہے۔ جسے اہل دل شرک خفی کہتے ہیں۔ (کبیر) ۔
Read the full tafseer →(10:105) حنیفا بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جو کوئی ایک راہ پکڑے اور سب باطل راہیں چھوڑ دے۔ حنیف کہلاتا ہے۔
حنیفا۔ الذین۔ کا حال بھی ہوسکتا ہے اور الوجہ کا بھی۔ پہلی صورت میں بمعنی۔ دوسرے ادیان سے بچ کر اس دین کو اختیار کروں۔ دوسری صورت میں بمعنی تمام ادیان باطلہ سے منہ موڑ کر پوری استقامت کے ساتھ دین اختیار کروں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
لغات القرآن آیت نمبر 104 تا 107
لا اعبد (میں عبادت نہ کروں گا) یتوفی (وہ موت دیتا ہے) امرث (مجھے حکم دیا گیا ہے ) ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) اقم (قائم کیجیے) وجھک (اپنا چہرہ) حنیف (یکسو، سب سے کٹ کر محض اللہ کی عبادت کرنے والا) لاتدع (تونہ پکار) ان یمسک (اگر تجھے پہنچائے) بضر (کوئی نقصان (کاشف کھولنے والا) یردک (تجھے چاہے) بخیر (بھلائی) راد (لوٹانے والا ، ٹالنے والا) یصیب (وہ پہنچاتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 104 تا 107
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے انسانوں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے کہ اگر وہ ان کو گننا چاہے تو شمار نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جسم اور رو ح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
مشرکین کو ہدایت
ان آیتوں میں یہ حکم ہے کہ اے رسول تم اپنے دین اور ان مشرکوں کے دین میں فرق بتلادو، کہ جو دین میں لے کر آیا ہوں اگر تم اس کو صحیح نہیں جانتے اور اس میں شک کرتے ہو تو سن لو کہ تم خدا کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو ہم ان کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے۔ ہم تو اس خدا کی عبادت کرتے ہیں جو بلکل اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کے قبضہ میں تمہاری جان ہے۔ اس نے پیدا کیا، اور وہی تمہیں موت کا بھی مزا چکھائے گا، اور پھر یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہاری جان پر جس کا پورا پورا اختیار ہے، وہ آسانی سے تم پر عذاب کرسکتا ہے۔ اور یہ تمہارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو یہ کسی کو کچھ نفع نقصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–109
[42] مفسرین نے عذاب ٹل جانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یونس (علیہ السلام) اپنی نافرمان قوم کو عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ کی اجازت کے بغیر بستی سے چلے گئے تھے۔ اس لئے جب آثار عذاب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پوری قوم نے اللہ تعالیٰ کے روبرو گریہ زاری شروع کی اور ایمان لے آئی لہذا عذاب ہٹا لیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–105
(ف 2) مشیت واذن الہی کے دو معنے ہیں ایک کا تعلق تکوین سے ہے ایک کا تشریع سے ، اللہ کے نزدیک پسندیدہ تو یہی ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں ، مگر تکوین میں اس نے اختلاف رائے کو باقی رکھا ہے تاکہ حق و باطل میں امتیاز قائم رہے ۔
اسی طرح اگر ” الا باذن اللہ “ سے مقصود یہ ہے کہ ایمان کے لئے جہاں تک آسانیوں اور توفیق وتسہیل کا تعلق ہے وہ اللہ کی تکوین کا نتیجہ ہے ، اس لئے وہ شخص جو ان وسائل ہدایت سے محروم ہے ، ہدایت قبول نہیں کرسکتا ، غرض یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی گمراہی پر غم نہ کریں اختلاف رائے مشیت ایزدی ہے ، یہ باقی رہے گا البتہ تلقین و دعوت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ۔
حل لغات :
کشفنا : کھول دیا یعنی…
Read the full tafseer →105 اور نیز مجھ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ سب طریقوں سے یکسو ہوکر اپنے آپ کو اس دین اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھو اور اپنے آپ کو اس دین کی طرف اس طرح متوجہ رکھو کہ اور سب طریقوں سے علیحدہ ہوجائو اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ تم مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا یعنی شرک کبھی نہ کرنا
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حنیف نام ہے ابراہیم (علیہ السلام) کے دین والوں کا اور عرب شرک کرتے اور آپ کو حنیف کہتے جاتے 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
ف 2۔ اوپر دین اسلام کی حقیقت ظاہر کی گئی ہے اب اس اظہار کا موجب اتمام حجت ہونا مذکور ہے۔
Read the full tafseer →مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ہر طرف سے کٹ کر صرف اللہ کا ہوجائوں ، سو میں اس کا ہوگیا
142 ؎ نبی کریم ﷺ سے جو اعلان کرایا گیا ہے اس کی دوسری شق یہ قرار پائی کہ آپ یہ بھی اعلان کریں گے کہ لوگو ! میری حیثیت واضح قانون کی نہیں کہ غلط فہمی میں نہ مبتلا ہونا بلکہ میں تو عامل قانون ہوں ، جو قانون حیات لے کر آیا ہوں خود بھی اس کے دا ائرہ نفاذ سے مستثنیٰ ہوں اور مافوق نہیں ہوں ۔ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس دین بر حق کی طرف اپنا رخ سیدھا کرلو اور قاعدہ ہے کہ جب کسی چیز کی طرف رخ کیا جاتا ہے تو اس کے علاوہ تمام دوسری چیزوں سے منہ مڑ جاتا ہے۔ اگرچہ ” اقم وجھک “ کے حکم میں جو جلال ہے وہ کسی مزید توضیح کا محتاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–109
In the seventh verse (98), the heedless deniers of truth have been admonished for their failure to make the optimum use of the time of life allowed to them. There was still time for them to leave denial and contumacy. Otherwise, an ominous time was due to come when they will make Taubah but their Taubah will not be accepted. They will say that they believed but their belief will not be welcome. And that time will be the time when the punishment of the Hereafter will appear right before their eyes at the time of death. It was in this connection that an event relating to Sayyidna Yunus (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
108. The emphatic form in which people have been urged to adhere to true faith is noteworthy. Here people are not simply being asked to 'embrace the faith', or to 'follow the faith', or to 'become adherents of the faith'. Apparently such expressions were too weak and feeble to convey the idea of a total, firm, and steady adherence to faith as required of man. The actual words of the verse, suggest that one should focus one's attention on the true faith, that one ought not to waver and let one's attention wander, that one ought to refrain from, occasionally moving a step forward and another…
Read the full tafseer →