سبرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم عسفان میں پہنچے تو آپ سے سراقہ بن مالک مدلجی نے کہا: اللہ کے رسول! آج ایسا بیان فرمائیے جیسے ان لوگوں کو سمجھاتے ہیں جو ابھی پیدا ہوئے ہوں (بالکل واضح) تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے عمرہ کو تمہارے حج میں داخل کردیا ہے لہٰذا جب تم مکہ آجاؤ تو جو بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرلے تو وہ حلال ہوگیا سوائے اس کے جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو ۔
Narrated Saburah (RA) : Ar-Rabi ibn Saburah said on the authority of his father (Saburah): We went out along with the Messenger of Allah ﷺ till we reached Usfan, Suraqah ibn Malik al-Mudlaji said to him: Messenger of Allah, explain to us like the people as if they were born today. He said: Allah, the Exalted, has included this Umrah in your hajj. When you come (to Makkah), and he who goes round the House (the Kabah), and runs between as-Safa and al-Marwah, is allowed to take off ihram except he who has brought the sacrificial animals with him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٨١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٤)، سنن الدارمی/المناسک ٣٨ (١٨٩٩)، (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے انہیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے مروہ پر نبی اکرم ﷺ کے بال تیر کی دھار سے کاٹے، (یا یوں ہے) میں نے آپ کو دیکھا کہ مروہ پر تیر کے پیکان سے آپ کے بال کترے جا رہے ہیں ١ ؎۔
Ibn Abbas said that Muawiyah reported to him I clipped some hair of the Prophet’s head with a broad iron arrowhead at Al Marwah; or (he said) I saw him that the hair of his head was clipped with a broad iron arrowhead at Al Marwah. The narrator Ibn Khallad said in his version “Muawiyah said” and not the word “reported”.
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری میں صرف اتنا ہے کہ ” میں نے آپ ﷺ کے بال تیر کی دھار سے کاٹے “، اس جملے سے کوئی اشکال نہیں پیدا ہوتا، مگر صحیح مسلم و دیگر کے الفاظ ” مروہ پر “ سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ قارن تھے تو عمرہ کے بعد مروہ پر بال کاٹنے کا کیا مطلب؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ عمرہ جعرانہ کا ہے نہ کہ حجۃ الوداع کا، جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ نے ان سے کہا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ ﷺ کے بال ایک اعرابی کے تیر کی پیکان سے کترے۔ حسن کی روایت میں لحجته (آپ کے حج میں) ہے۔
Ibn Abbas said that Muawiyah told him: do you not know that I clipped the hair of the head of the Messenger of Allah ﷺ with a broad iron arrowhead at al-Marwah? Al-Hasan added in his version: during his hajj.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١١٤٢٣) (صحیح) ( لحجته کا لفظ صحیح نہیں بلکہ منکر ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا تو آپ نے ہدی کے جانور تیار کئے، اور ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ لے کر گئے تو پہلے رسول اللہ ﷺ نے عمرے کا تلبیہ پکارا پھر حج کا (یعنی پہلے لبيك بعمرة کہا پھر لبيك بحجة کہا) ١ ؎ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی عمرے کو حج میں ملا کر تمتع کیا، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے ہدی تیار کیا اور اسے لے گئے، اور بعض نے ہدی نہیں بھیجا، جب رسول اللہ ﷺ مکہ پہنچے تو لوگوں سے فرمایا: تم میں سے جو ہدی لے کر آیا ہو تو اس کے لیے (احرام کی وجہ سے) حرام ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز حلال نہیں جب تک کہ وہ اپنا حج مکمل نہ کرلے، اور تم لوگوں میں سے جو ہدی لے کر نہ آیا ہو تو اسے چاہیئے کہ بیت اللہ کا طواف کرے، صفا ومروہ کی سعی کرے، بال کتروائے اور حلال ہوجائے، پھر حج کا احرام باندھے اور ہدی دے جسے ہدی نہ مل سکے تو ایام حج میں تین روزے رکھے اور سات روزے اس وقت جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آجائے ، اور رسول اللہ ﷺ جب مکہ آئے تو آپ نے طواف کیا، سب سے پہلے آپ ﷺ نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر پہلے تین پھیروں میں تیز چلے اور آخری چار پھیروں میں عام چال، بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے مقام ابراہیم پر دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا اور پلٹے تو صفا پر آئے اور صفا ومروہ میں سات بار سعی کی، پھر (آپ کے لیے محرم ہونے کی وجہ سے) جو چیز حرام تھی وہ حلال نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنا حج پورا کرلیا اور یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنا ہدی نحر کردیا، پھر لوٹے اور بیت اللہ کا طواف (افاضہ) کیا پھر ہر حرام چیز آپ کے لیے حلال ہوگئی اور لوگوں میں سے جنہوں نے ہدی دی اور اسے ساتھ لے کر آئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
Abdullah bin Umar (RA) said At the Farewell Pilgrimage the Messenger of Allah ﷺ put on ihram first for ‘Umrah and afterwards for Hajj and drove the sacrificial animals along with him from Dhu Al Hulaifah. The Messenger of Allah ﷺ first raised his voice in talbiyah for ‘Umrah and afterwards he did so for Hajj; and the people along with the Messenger of Allah ﷺ did it first for ‘Umrah and afterwards for Hajj. Some of the people had brought sacrificial animals and others had not, so when the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah, he said to the people. Those of you who have brought sacrificial animals must not treat as lawful anything which has become unlawful for you till you complete your Hajj; but those of you who have not brought sacrificial animals should go round the House (Kaabah) and run between Al Safa’ and Al Marwah, clip their hair, put off ihram, and afterwards raise their voice in talbiyah for Hajj and bring sacrificial animals. Those who cannot get sacrificial animals should fast three days during Hajj and seven days when they return to their families. The Messenger of Allah ﷺ then performed circumambulation when he came to Makkah first touching the corner then running during three circuits out of seven and walking during four and when he had finished his circumambulation of the House (Kaabah) he prayed two rak’ahs at Maqam Ibrahim, then giving the salutation and departing he went to Al Safa’ and ran seven times between Al Safa’ and Al Marwah. After that he did not treat anything as lawful which had become unlawful for him till he had completed his Hajj, sacrificed his animals on the day of sacrifice, went quickly and performed the circumambulation of the House (the Kaabah), after which all that had been unlawful became lawful for him. Those people who had brought sacrificial animals did as the Messenger of Allah ﷺ did.
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ کے حج کے بارے میں صحابہ کرام ؓ کے متعدد بیانات ہیں، ان کے درمیان تطبیق کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے شروع میں صرف حج کا احرام باندھا، پھر وحی آگئی تو عمرہ کو بھی شامل کرلیا، اگر آپ ﷺ ہدی ساتھ لے کر نہیں گئے ہوتے تو پہلے عمرہ کرتے پھر حلال ہو کر حج کرتے (یعنی حج تمتع کرتے) جیسا کہ صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا تھا، خلاصہ یہ کہ آپ ﷺ نے حج قران کیا تھا جیسا کہ دسیوں صحابہ کا بیان ہے، اس تفصیل کے مطابق ابن عمر ؓ کا یہ کہنا کہ ” آپ ﷺ نے پہلے عمرہ کا احرام پھر حج کا احرام باندھا “ خلاف واقعہ ہے جو ان کے اپنے علم کے مطابق ہے (ابتدائے امر کے مطابق ہے)، یا پھر ان کے بیان کی وہی تاویل ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے یعنی: یہاں تمتع سے مراد لغوی تمتع ہے نہ کہ اصطلاحی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٤ (١٦٩١)، صحیح مسلم/الحج ٢٤ (١٢٢٧)، سنن النسائی/الحج ٥٠ (٢٧٣٣)، (تحفة الأشراف: ٦٨٧٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ١٢(٨٢٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٤ (٢٩١٦)، مسند احمد (٢/١٣٩)، سنن الدارمی/المناسک ٨٤ (١٩٧٢) (صحیح) (وبدأ رسول الله ﷺ فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج) یہ جملہ ابن قیم، ابن حجر، اور البانی کے یہاں شاذ ہے، (ملاحظہ ہو: فتح الباری، وزاد المعاد، و صحیح ابی داود ٦ ؍ ٦٨ )
ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کرلوں ۔
Hafsah, wife of the Prophet ﷺ said Messenger of Allah ﷺ , how is it that the people have put off their ihram and you did not put off your ihram after your ‘Umrah. He said I have matted my hair and garlanded my sacrificial animal, so I shall not put off my ihram till I sacrifice my sacrificial animals.
سلیم بن اسود سے روایت ہے کہ ابوذر ؓ ایسے شخص کے بارے میں جو حج کی نیت کرے پھر اسے عمرے سے فسخ کر دے کہا کرتے تھے: یہ صرف اسی قافلہ کے لیے (مخصوص) تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ١ ؎۔
Abu Dharr used to say about a person who makes the intention of Hajj but he repeal it for the ‘Umrah (that will not be valid). This cancellation of hajj for ‘Umrah was specially meant for the people who accompanied the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ابوذر ؓ کا اپنا خیال تھا نہ کہ واقعہ، جیسا کہ پچھلی حدیثوں سے واضح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٩٢٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٤)، سنن النسائی/الحج ٧٧ (٢٨١٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٢ (٢٩٨٥) (صحیح )
بلال بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کا (عمرے کے ذریعے) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے ۔
Narrated Bilal ibn al-Harith al-Muzani (RA) : I asked: Messenger of Allah, is the (command of) cancelling hajj meant exclusively for us, or for others too? He replied: No, this is meant exclusively for you.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٧٧ (٢٨١٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٢ (٢٩٨٤)، ( تحفة الأشراف: ٢٠٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٩)، سنن الدارمی/المناسک ٣٧ (١٨٩٧) (ضعیف) (اس کے راوی حارث لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لئے منکر ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ فضل بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیچھے سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پاس فتویٰ پوچھنے آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی تو رسول اللہ ﷺ فضل کا منہ اس عورت کی طرف سے دوسری طرف پھیرنے لگے ١ ؎، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر (عائد کردہ) فریضہ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بوڑھے ہوچکے ہیں، اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا۔
Abdullah bin Abbas said Al Fadl bin Abbas was riding the Camel behind the Messenger of Allah ﷺ . A woman of the tribe of Khath’am came seeking his (the Prophet’s) decision (about a problem relating to Hajj). Al Fadl began to look at her and she too began to look at him. The Messenger of Allah ﷺ would turn the face of Fadl to the other side. She said Messenger of Allah ﷺ Allaah’s commandment that His servants should perform Hajj has come when my father is an old man and is unable to sit firmly on a Camel. May I perform Hajj on his behalf? He said yes, That was at the Farewell Pilgrimage.
Notes · وضاحت
١ ؎: فضل بن عباس ؓ خوبصورت اور جوان تھے اور وہ عورت بھی حسین تھی، اسی وجہ سے آپ ﷺ نے ان کا رخ دوسری طرف پھیر دیا۔
ابورزین ؓ بنی عامر کے ایک فرد کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی اور نہ سواری پر سوار ہونے کی، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج اور عمرہ کرو ۔
Narrated Abu Razin: A man of Banu Amir said: Messenger of Allah, my father is very old, he cannot perform hajj and Umrah himself nor can be ride on a mount. He said: Perform hajj and Umrah on behalf of your father.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٨٧ (٩٣٠)، سنن النسائی/الحج ٢ (٢٦٢٢)، ١٠ (٢٦٣٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠ (٢٩٠٦)، ( تحفة الأشراف: ١١١٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠، ١١، ١٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو کہتے سنا: لبيك عن شبرمة حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے آپ ﷺ نے دریافت کیا: شبرمہ کون ہے؟ ، اس نے کہا: میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: تم نے اپنا حج کرلیا ہے؟ ، اس نے جواب دیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے اپنا حج کرو پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ heard a man say: Labbayk (always ready to obey) on behalf of Shubrumah. He asked: Who is Shubrumah? He replied: A brother or relative of mine. He asked: Have you performed hajj on your own behalf? He said: No. He said: perform hajj on your own behalf, then perform it on behalf of Shubrumah.
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض علماء کے نزدیک حج بدل (دوسرے کی طرف سے حج کرنا) درست ہے، خواہ اپنی طرف سے حج نہ کرسکا ہو، بعض ائمہ کے نزدیک اگر وہ اپنی طرف سے حج نہیں کرسکا ہے تو دوسرے کی طرف سے حج بدل درست نہ ہوگا، اور یہی صحیح مذہب ہے، اس لئے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس شخص کو جو لبيك عن شبرمة کہہ رہا تھا حکم دیا: حج عن نفسک ثم حج عن شبرمة: ” پہلے اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو “۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا: لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لک لبيك، إن الحمد والنعمة لک والملک، لا شريك لك حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ستائش، نعمتیں اور فرماروائی تیری ہی ہے تیرا ان میں کوئی شریک نہیں ۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر تلبیہ میں اتنا مزید کہتے لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير بيديك والرغباء إليك والعمل حاضر ہوں تیری خدمت میں، حاضر ہوں، حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف رغبت اور عمل ہے ۔
Ibn Umar said Talbiyah uttered by the Messenger of Allah ﷺ was Labbaik (always ready to obey), O Allaah labbaik, labbaik; Thou hast no partner, praise and grace are Thine, and the Dominion, Thou hast no partner. The narrator said Abd Allaah bin Umar used to add to his talbiyah Labbaik, labbaik, labbaik wa Saadaik (give me blessing after blessing) and good is Thy hands, desire and actions are directed towards Thee.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا، پھر انہوں نے تلبیہ کا اسی طرح ذکر کیا جیسے ابن عمر کی حدیث میں ہے اور کہا: لوگ (اپنی طرف سے اللہ کی تعریف میں) ذا المعارج اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم ﷺ سنتے تھے لیکن آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ raised his voice in talbiyah; he then mentioned the wordings of talbiyah like the tradition narrated by Ibn Umar. The people used to add the words dhal-maarij (the Possessor of ladders) and similar other words (to talbiyah) while the Prophet ﷺ heard them utter these words, but he did not say anything to them.
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی یہ خاموشی اور سکوت تلبیہ کے مخصوص الفاظ پر اضافہ کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ افضل وہی ہے جو آپ ﷺ سے مرفوعاً ثابت ہے اور جس پر آپ ﷺ نے مداومت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ١٥ (٢٩١٩) (کلاھما بدون قولہ: ” والناس یزیدون الخ)، ( تحفة الأشراف: ٢٦٠٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ١٩(١٥٤٠) (في سیاق حجة النبي ﷺ الطویل) (صحیح )
سائب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ١ ؎ اور ساتھ والوں کو الإهلال یا فرمایا التلبية میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں ٢ ؎۔
Narrated as-Saib al-Ansari (RA) : Khalid ibn as-Saib al-Ansari on his fathers authority reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Gabriel came to me and commanded me to order my Companions to raise their voices in talbiyah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پتہ چلا کہ مردوں کے لئے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مستحب ہے، أصحابي کی قید سے اس حکم سے عورتیں خارج ہوگئی ہیں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ بلند آواز سے تلبیہ نہ پکاریں۔ ٢ ؎: اہلال اور تلبیہ دونوں ایک ہی معنی میں ہے، راوی کو شک ہے کہ آپ ﷺ نے اہلال کہا یا تلبیہ، مراد یہ ہے کہ دونوں میں سے آپ ﷺ نے کوئی ایک ہی لفظ کہا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٥ (٨٢٩)، سنن النسائی/الحج ٥٥ (٢٧٥٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٦ (٢٩٢٢)، ( تحفة الأشراف: ٣٧٨٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ١٠ (٣٤)، مسند احمد (٤/٥٥، ٥٦)، سنن الدارمی/المناسک ١٤ (١٨٥٠) (صحیح )
فضل بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تلبیہ پکارا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی ١ ؎۔
Al Fadl bin Abbas said The Messenger of Allah ﷺ uttered talbiyah till he threw pebbles at Jamrat Al ‘Aqbah.
Notes · وضاحت
١ ؎: حتى رمى جمرة العقبة سے احمد اور اسحاق نے استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنا جمرہ عقبہ کی رمی پوری کرلینے کے بعد موقوف کیا جائے گا، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں لم يزل يلبي حتى بلغ الجمرة کے الفاظ آئے ہیں جس سے جمہور علماء نے استدلال کیا ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی پہلی کنکری کے ساتھ ہی تلبیہ بند کردیا جائے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم صبح کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ الله أكبر کہہ رہے تھے۔
Abdullah bin Umar (RA) said We proceeded along with the Messenger of Allah ﷺ from Mina to ‘Arafat, some of us were uttering talbiyah and the others were shouting “Allaah is most great. ”
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے، عطاء نے ابن عباس ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: A person who performs Umrah should shout talbiyah till he touches the Black Stone. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Abd al-Malik bin Abi Sulaiman and Hammam from Ata on the authority of Ibn Abbas as his own statement (i. e. the tradition was not attributed to the Prophet)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث سندا ضعیف ہے، مگر بہت سارے علماء کا یہی قول ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: مکہ کے مکانات پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ خانہ کعبہ پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، اور یہ دعا پڑھے: اللهم أنت السلام ومنک السلام الخ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٧٩ (٩١٩)، ( تحفة الأشراف: ٥٩١٢) موقوفًا، و (٥٩٥٨) (ضعیف) (اس کے راوی ” محمد بن أبی لیلی “ ضعیف ہیں )
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کو نکلے، جب ہم مقام عرج میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ اترے، ہم بھی اترے، ام المؤمنین عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں، اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھی۔ اس سفر میں ابوبکر ؓ اور رسول اللہ ﷺ دونوں کے سامان اٹھانے کا اونٹ ایک ہی تھا جو ابوبکر ؓ کے غلام کے پاس تھا، ابوبکر ؓ اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ غلام آئے جب وہ آیا تو اس کے ساتھ اونٹ نہ تھا، انہوں نے پوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا کل رات وہ گم ہوگیا، ابوبکر ؓ بولے: ایک ہی اونٹ تھا اور وہ بھی تو نے گم کردیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے؟ (ابن ابی رزمہ نے کہا) رسول اللہ ﷺ اس سے زیادہ کچھ نہیں فرما رہے تھے کہ دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے اور آپ مسکرا رہے تھے۔
Narrated Asma bint Abu Bakr (RA) : We came out for performing hajj along with the Messenger of Allah ﷺ . When we reached al-Araj, the Messenger of Allah ﷺ alighted and we also alighted. Aisha (RA) sat beside the Messenger of Allah ﷺ and I sat beside my father (Abu Bakr). The equipment and personal effects of Abu Bakr and of the Messenger of Allah ﷺ were placed with Abu Bakrs slave on a camel. Abu Bakr was sitting and waiting for his arrival. He arrived but he had no camel with him. He asked: Where is your camel? He replied: I lost it last night. Abu Bakr said: There was only one camel, even that you have lost. He then began to beat him while the Messenger of Allah ﷺ was smiling and saying: Look at this man who is in the sacred state (putting on ihram), what is he doing? Ibn Abu Rizmah said: The Messenger of Allah ﷺ spoke nothing except the words: Look at this man who is in the sacred state (wearing ihram), what is he doing? He was smiling (when he uttered these words).
یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، اس کے بدن پر خوشبو یا زردی کا نشان تھا اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، پوچھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کس طرح عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل کی، جب وحی اتر چکی تو آپ نے فرمایا: عمرے کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ فرمایا: خلوق کا نشان، یا زردی کا نشان دھو ڈالو، جبہ اتار دو، اور عمرے میں وہ سب کرو جو حج میں کرتے ہو ۔
Narrated Yala ibn Umayyah (RA) : A man came to the Prophet ﷺ when he was at al-Jiranah. He was wearing perfume or the mark of saffron was on him and he was wearing a tunic. He said: Messenger of Allah, what do you command me to do while performing my Umrah. In the meantime, Allah, the Exalted, sent a revelation to the Prophet ﷺ . When he (the Prophet) came to himself gradually, he asked: Where is the man who asking about Umrah? (When the man came) he (the Prophet) said: Wash the perfume which is on you, or he said: (Wash) the mark of saffron (the narrator is doubtful), take off the tunic, then do in your Umrah as you do in your hajj.
اس سند سے بھی یعلیٰ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اس سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنا جبہ اتار دو ، چناچہ اس نے اپنے سر کی طرف سے اسے اتار دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
This tradition has also been narrated by Yala bin Umayyah through a different chain of narrators. This version adds The Prophet ﷺ said to him “Take off your tunic”. He then took it off from his head. The narrator then narrated the rest of the tradition.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، سنن الترمذی/الحج ٢٠ (٨٣٥) سنن النسائی/الکبری/ فضائل القرآن (٧٩٨١)، (من ١٨٢٠ حتی ١٨٢٢)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٣٦، ١١٨٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٤) (صحیح) (حدیث میں واقع یہ لفظ من رأسه منکر ہے) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٦ ؍ ٨٤ )