اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ١ ؎ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا یعنی رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
This tradition has also been transmitted by Yala bin Umayyah through a different chain of narrators. This version adds The Messenger of Allah ﷺ commanded him to take it off (the tunic) and to take a bath twice or thrice. The narrator then transmitted the rest of the tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎: منیہ یعلیٰ کی والدہ ہیں ان کے والد کا نام امیّہ ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٨١٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٣٦) (صحیح )
یعلیٰ بن امیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جعرانہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اس نے عمرہ کا احرام اور جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اس کی داڑھی و سر کے بال زرد تھے، اور راوی نے یہی حدیث بیان کی۔
It is narrated by Yala bin Umayyah that a man came to Prophet ﷺ at Ji’ranah, putting on ihram for ‘Umrah. He had a cloak on him and his beard and head had been dyed.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٨١٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٣٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: نہ کرتا پہنے، نہ ٹوپی، نہ پائجامہ، نہ عمامہ (پگڑی) ، نہ کوئی ایسا کپڑا جس میں ورس ١ ؎ یا زعفران لگا ہو، اور نہ ہی موزے، سوائے اس شخص کے جسے جوتے میسر نہ ہوں، تو جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے، انہیں کاٹ ڈالے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہوجائیں ٢ ؎۔
Abd Allaah bin Umar said A man asked the Messenger of Allah ﷺ What clothing one should put on if one intend to put on ihram? He said He should not wear shirts, turbans, trousers, garments with head coverings and clothing which has any dye of waras or saffron; one should not put on shoes unless one cannot get sandals. If one cannot get sandals, one should wear the shoes, in which case one must cut them to come below the ankles.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قسم کی خوشبو دار گھاس ہے جس سے کپڑے وغیرہ رنگے جاتے ہیں۔ ٢ ؎: امام احمد کے نزدیک خف (چمڑے کا موزہ) کاٹنا ضروری نہیں، دیگر ائمہ کے نزدیک کاٹنا ضروری ہے، دلیل ان کی یہی حدیث ہے، اور امام احمد کی دلیل ابن عباس ؓ کی وہ حدیث ہے جس میں کاٹنے کا ذکر نہیں ہے، جب کہ وہ میدان عرفات کے موقع کی حدیث ہے، یعنی ابن عمر ؓ کی اس حدیث کی ناسخ ہے، اور ورس اور زعفران سے منع اس لئے کیا گیا کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے، یہی حکم ہر اس رنگ کا ہے جس میں خوشبو ہو۔
اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے، راوی نے البتہ اتنا اضافہ کیا ہے کہ محرم عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن اسماعیل اور یحییٰ بن ایوب نے اس حدیث کو موسیٰ بن عقبہ سے، اور موسیٰ نے نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے لیث نے کہا ہے، اور اسے موسیٰ بن طارق نے موسیٰ بن عقبہ سے ابن عمر پر موقوفاً روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عمر اور مالک اور ایوب نے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، اور ابراہیم بن سعید المدینی نے نافع سے نافع نے ابن عمر ؓ سے اور ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم بن سعید المدینی ایک شیخ ہیں جن کا تعلق اہل مدینہ سے ہے ان سے زیادہ احادیث مروی نہیں، یعنی وہ قلیل الحدیث ہیں۔
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Ibn Umar to the same effect. This version adds “A woman in the sacred state (while wearing ihram) should not be veiled or wear gloves. Abu Dawud said This tradition has also been transmitted by Hatim bin Ismail and Yahya bin Ayyub from Musa bin Uqbah from Nafi as reported by al Laith. This has also been narrated by Musa bin Tariq from Musa bin Uqbah as a statement of Ibn Umar (not of the Prophet). Similarly, this tradition has also been transmitted by Ubaid Allah bin Umar, Malik and Ayyub as a statement of Ibn Umar (not of the Prophet). Ibrahim bin Saeed al Madini narrated this tradition from Nafi on the authority of Ibn Umar from the Prophet ﷺ A woman in the sacred state (wearing ihram) must not be veiled or wear gloves. Abu Dawud said Ibrahim bin Saeed al Madini is a traditionist of Madina. Not many traditions have been narrated by him.
Notes · وضاحت
١ ؎: احرام کی حالت میں عورتوں کو اپنے چہرے پر ’ ’ نقاب “ لگانا منع ہے، مگر حدیث میں جس نقاب کا ذکر ہے وہ چہرے پر باندھا جاتا تھا، برصغیر ہند و پاک کے موجودہ برقعوں کا ” نقاب “ چادر کے پلو کی طرح ہے جس کو ازواج مطہرات مردوں کے گزرنے کے وقت چہرے پر لٹکا لیا کرتی تھیں (دیکھئے حدیث نمبر: ١٨٣٣)، اس لئے اس نقاب کو بوقت ضرورت عورتیں چہرے پر لٹکا سکتی ہیں، اور چوں کہ اس وقت حج میں ہر وقت اجنبی (غیر محرم) مردوں کا سامنا پڑتا ہے، اس لئے ہر وقت اس نقاب کو چہرے پر لٹکائے رکھ سکتی ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے، نقاب اوڑھنے، اور ایسے کپڑے پہننے سے جن میں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرمایا، البتہ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہنے جیسے زرد رنگ والے کپڑے، یا ریشمی کپڑے، یا زیور، یا پائجامہ، یا قمیص، یا کرتا، یا موزہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے ابن اسحاق نے نافع سے حدیث وما مس الورس والزعفران من الثياب تک روایت کیا ہے اور اس کے بعد کا ذکر ان دونوں نے نہیں کیا ہے۔
Abd Allaah bin Umar said that he heard the Messenger of Allah ﷺ prohibiting women in the sacred state (wearing ihram) to wear gloves, veil (their faces) and to wear clothes with dye of waras or saffron on them. But afterwards they can wear any kind of clothing they like dyed yellow or silk or jewelry or trousers or shirts or shoes. Abu Dawud said Abdah and Muhammad bin Ishaq narrated this tradition from Muhammad bin Ishaq up to the words “And to wear clothes with dye of waras or saffron on them”. They did not mention the words after them.
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا: نافع! میرے اوپر کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر برنس ڈال دی، تو انہوں نے کہا: تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
Nafi said Ibn Umar felt cold and said Throw a garment over me, Nafi. I threw a hooded cloak over him. Thereupon he said Are you throwing this over me when the Messenger of Allah ﷺ has forbidden those who are in sacred state to wear it?
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٧٥٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤١، ١٤٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: پاجامہ وہ پہنے جسے ازار نہ ملے اور موزے وہ پہنے جسے جوتے نہ مل سکیں ۔ (ابوداؤد کہتے ہیں یہ اہل مکہ کی حدیث ہے ١ ؎ اس کا مرجع بصرہ میں جابر بن زید ہیں ٢ ؎ اور جس چیز کے ساتھ وہ منفرد ہیں وہ سراویل کا ذکر ہے اور اس میں موزے کے سلسلہ میں کاٹنے کا ذکر نہیں) ۔
Ibn Abbas said I heard the Messenger of Allah ﷺ say When one who is wearing ihram cannot get a lower garment (loin cloth) he may ear trousers and when he cannot get sandals he may wear shoes. Abu Dawud said This is the tradition narrated by the narrators of Makkah. Its narrator from Basrah is Jabir bin Zaid. He mentioned only trousers and omitted the mention of cutting of the shoes.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ سلیمان بن حرب مکی ہیں اور مصنف نے انہیں سے روایت کی ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ اس سند کا محور جن پر یہ سند گھومتی ہے جابر بن زید ہیں اور وہ بصری ہیں۔
عائشہ بنت طلحہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتے تو ہم اپنی پیشانی پر خوشبو کا لیپ لگاتے تھے جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو ہم میں سے کسی کے منہ پر بہہ کر آجاتی رسول اللہ ﷺ اس کو دیکھتے لیکن منع نہ کرتے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : We were proceeding to Makkah along with the Prophet ﷺ . We pasted on our foreheads the perfume known as sakk at the time of wearing ihram. When one of us perspired, it (the perfume) came down on her face. The Prophet ﷺ saw, but did not forbid it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ خوشبو احرام سے پہلے کی ہوتی تھی اس لئے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٧٨٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٩) (صحیح )
محمد بن اسحاق کہتے ہیں میں نے ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ ایسا ہی کرتے تھے یعنی محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے ١ ؎، پھر ان سے صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں کے سلسلے میں عورتوں کو رخصت دی ہے تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Salim ibn Abdullah said: Abdullah ibn Umar used to do so, that is to say, he would cut the shoes of a woman who put on ihram; then Safiyyah, daughter of Abu Ubayd, reported to him that Aisha (RA) (may Allah be pleased with her) narrated to her that the Messenger of Allah ﷺ gave licence to women in respect of the shoes (i. e. women are not required to cut the shoes). He, therefore, abandoned it.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی پہلی روایت کے عموم سے ابن عمر ؓ نے یہ سمجھا تھا کہ یہ حکم مرد اور عورت دونوں کو شامل ہے اسی لئے وہ محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے تھے، بعد میں جب انہوں نے عائشہ ؓ والی روایت سنی تو اپنے اس فتویٰ سے رجوع کرلیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٧٨٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩، ٣٥، ٦/٣٥) (حسن) (محمد بن اسحاق کی یہ روایت معنعن نہیں ہے بلکہ اسے انہوں نے زہری سے بالمشافہہ اخذ کیا ہے، اس لئے حسن ہے )
براء ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ١ ؎ تو میں نے ان سے پوچھا: جلبان السلاح کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جلبان السلاح میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔
Al Bara (bin Azib) said When the Messenger of Allah ﷺ concluded the treaty with the people of Al Hudaibiyyah, they stipulated that they (the Muslims) would not enter (Makkah) except with the bag of armament (julban al-silah). I asked what is julban al-silah? He replied: The bag with its contents.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سوار ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام باندھے ہوتے، جب سوار ہمارے سامنے آجاتے تو ہم اپنے نقاب اپنے سر سے چہرے پر ڈال لیتے اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اسے کھول لیتے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Riders would pass us when we accompanied the Messenger of Allah ﷺ while we were in the sacred state (wearing ihram). When they came by us, one of us would let down her outer garment from her head over her face, and when they had passed on, we would uncover our faces.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٣ (٢٩٣٥)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠) (حسن) (اس کے راوی یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں، لیکن اس باب میں اسماء کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی ٤٣٣ )
ام حصین ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کیا تو میں نے اسامہ اور بلال ؓ کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے، اور دوسرے اپنا کپڑا اٹھائے تھے تاکہ وہ آپ پر دھوپ سے سایہ کرسکیں ١ ؎ یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
Umm al Hussain said We performed the Farewell Pilgrimage along with the Prophet ﷺ . I saw Usamah and Bilal one of them holding the halter of the she-Camel of the Prophet ﷺ , while the other raising his garment and sheltering from the heat till he had thrown pebbles at the jamrah of the ‘Aqabah.
Notes · وضاحت
١ ؎: محرم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا سر کھولے رکھے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سخت دھوپ میں چھتری یا خیمہ سے فائدہ نہ اٹھائے، گاڑیوں میں سفر نہ کرے، یہ چیزیں اس کے سر سے چپکی اور متصل نہیں رہتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٥١ (١٢٩٨)، سنن النسائی/الحج ٢٢٠ (٣٠٦٢)، ( تحفة الأشراف: ١٨٣١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بیماری کی وجہ سے جو آپ کو تھی اپنے سر میں پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ had himself cupped in his head when he was in the sacred state (wearing ihram due to a disease from which he was suffering.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ١٥ (٥٧٠٠)، سنن النسائی/ الکبری/ الطب (٧٥٩٩)، ( تحفة الأشراف: ٦٢٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٦، ٢٤٩، ٢٥٩، ٢٧٢) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے۔
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ had himself cupped on the surface of his foot because of a pain in it while he was in the sacred state (wearing ihram). Abu Dawud said: I heard Ahmad say: Ibn Abi Arubah narrated it in Mursal form. Meaning from Qatadah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر پچھنے (سینگی) لگانے میں بال اتروانا پڑے تو فدیہ لازم ہوگا، اسی لئے بعض علماء نے سرے سے محرم کے لئے پچھنا لگوانے کو مکروہ جانا ہے، ورنہ حقیقت میں حالت احرام میں پچھنا لگوانا مکروہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الشمائل ٤٩ (٣٤٨)، سنن النسائی/الحج ٩٤ (٢٨٥٢)، ( تحفة الأشراف: ١٣٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٤، ٢٦٧) (صحیح )
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی دونوں آنکھیں دکھنے لگیں تو انہوں نے ابان بن عثمان کے پاس (پوچھنے کے لیے اپنا آدمی) بھیجا کہ وہ اپنی آنکھوں کا کیا علاج کریں؟ (سفیان کہتے ہیں: ابان ان دونوں حج کے امیر تھے) تو انہوں نے کہا: ان دونوں پر ایلوا کا لیپ لگا لو، کیونکہ میں نے عثمان سے سنا ہے وہ اسے رسول اللہ ﷺ سے نقل کر رہے تھے۔
Nubaih bin Wahb said Umar bin Ubaid Allah bin Mamar had a complaint in his eyes. He sent (someone) to Aban bin Uthman - the narrator Sufyan said that he was the chief of pilgrims during the season of Hajj – asking him what he should do with them. He said Apply aloes to them, for I heard ‘Uthaman narrating this on the authority of the Messenger of Allah ﷺ .
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس ؓ اور مسور بن مخرمہ ؓ کے مابین مقام ابواء میں اختلاف ہوگیا، ابن عباس ؓ نے کہا: محرم سر دھو سکتا ہے، مسور نے کہا: محرم سر نہیں دھو سکتا، تو عبداللہ بن عباس ؓ نے انہیں (ابن حنین کو) ابوایوب انصاری ؓ کے پاس بھیجا تو آپ نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، ابن حنین کہتے ہیں: میں نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے آپ کے پاس عبداللہ بن عباس ؓ نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے معلوم کروں کہ رسول اللہ ﷺ حالت احرام میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے؟ ابوایوب ؓ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے اس قدر جھکایا کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھر ایک آدمی سے جو ان پر پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر ایوب نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور بولے ایسا ہی میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔
Abdullah bin Hunain said Abdullah bin Abbas and Miswar bin Makhramah differed amongst themselves (on the question of washing the head in the sacred state) at al Abwa. ‘Ibn Abbas said A pilgrim in the sacred state (while wearing ihram) can wash his head. Al Miswar said A pilgrim in the sacred state (wearing ihram) cannot wash his head. Abdullah bin Abbas then sent him (Abdullah bin Hunain) to Abu Ayyub Al Ansari. He found him taking a bath between two woods erected at the edge of the well and he was hiding himself with a cloth (curtain). He (the narrator) said I saluted him. He asked Who is this? I said I am Abdullah bin Hunain. Abdullah bin Abbas has sent me to you asking you how the Messenger of Allah ﷺ used to wash his head while he was wearing ihram. Abu Ayyub then put his hand on the cloth and removed it till his head appeared to me. He then said to a person who was pouring water on him: Pour water. He poured water on his head and Abu Ayyub moved his head with his hands. He carried his hands forward and backward. He then said I saw him doing similarly.
Notes · وضاحت
١ ؎: حالت احرام میں صرف پانی سے سر کا دھونا جائز ہے کسی بھی ایسی چیز سے اجتناب ضروری ہے جس سے جؤوں کے مرنے کا خوف ہو اسی طرح سر دھلتے وقت بالوں کو اتنا زور سے نہ ملے کہ وہ گرنے لگیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٤ (١٨٤٠)، صحیح مسلم/الحج ١٣ (١٢٠٥)، سنن النسائی/الحج ٢٧ (٢٦٦٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٢ (٢٩٣٤)، موطا امام مالک/الحج ٢ (٤)، ( تحفة الأشراف: ٣٤٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٦، ٤١٨، ٤٢١)، سنن الدارمی/المناسک ٦ (١٨٣٤)، (صحیح )