Sunan Abu Dawood 1823

مناسک حج کا بیان

1823Sunan Abu Dawood

احرام کے کپڑوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ: لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا لِمَنْ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: نہ کرتا پہنے، نہ ٹوپی، نہ پائجامہ، نہ عمامہ (پگڑی) ، نہ کوئی ایسا کپڑا جس میں ورس ١ ؎ یا زعفران لگا ہو، اور نہ ہی موزے، سوائے اس شخص کے جسے جوتے میسر نہ ہوں، تو جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے، انہیں کاٹ ڈالے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہوجائیں ٢ ؎۔

Abd Allaah bin Umar said A man asked the Messenger of Allah ﷺ What clothing one should put on if one intend to put on ihram? He said He should not wear shirts, turbans, trousers, garments with head coverings and clothing which has any dye of waras or saffron; one should not put on shoes unless one cannot get sandals. If one cannot get sandals, one should wear the shoes, in which case one must cut them to come below the ankles.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قسم کی خوشبو دار گھاس ہے جس سے کپڑے وغیرہ رنگے جاتے ہیں۔ ٢ ؎: امام احمد کے نزدیک خف (چمڑے کا موزہ) کاٹنا ضروری نہیں، دیگر ائمہ کے نزدیک کاٹنا ضروری ہے، دلیل ان کی یہی حدیث ہے، اور امام احمد کی دلیل ابن عباس ؓ کی وہ حدیث ہے جس میں کاٹنے کا ذکر نہیں ہے، جب کہ وہ میدان عرفات کے موقع کی حدیث ہے، یعنی ابن عمر ؓ کی اس حدیث کی ناسخ ہے، اور ورس اور زعفران سے منع اس لئے کیا گیا کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے، یہی حکم ہر اس رنگ کا ہے جس میں خوشبو ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٣ (١٣٤)، والصلاة ٩ (٣٦٦)، والحج ٢١ (١٥٤٢)، وجزاء الصید ١٣ (١٨٣٨)، ١٥(١٨٤٢)، واللباس ٨ (٥٧٩٤)، ١٣ (٥٨٠٣)، ١٥ (٥٨٠٦)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٧٧)، سنن النسائی/الحج ٢٨ (٢٦٦٨)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٧، ٨٣٢٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ١٨ (٨٣٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٩ (٢٩٢٩)، موطا امام مالک/الحج ٣(٨)، ٤ (٩)، مسند احمد (٢/٤، ٨، ٢٢، ٢٩، ٣٢، ٣٤، ٤١، ٥٤، ٥٦، ٥٩، ٦٣، ٦٥، ٧٧، ١١٩)، سنن الدارمی/المناسک ٩ (١٨٣٩) (صحیح )