Sunan Abu Dawood 1832

مناسک حج کا بیان

1832Sunan Abu Dawood

محرم ہتھیار رکھ سکتا ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ، صَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلْبَانِ السِّلَاحِ، فَسَأَلْتُهُ: مَا جُلْبَانُ السِّلَاحِ ؟، قَالَ: الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ١ ؎ تو میں نے ان سے پوچھا: جلبان السلاح کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جلبان السلاح میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔

Al Bara (bin Azib) said When the Messenger of Allah ﷺ concluded the treaty with the people of Al Hudaibiyyah, they stipulated that they (the Muslims) would not enter (Makkah) except with the bag of armament (julban al-silah). I asked what is julban al-silah? He replied: The bag with its contents.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی تلواریں میان کے اندر ہی رہیں گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٧ (١٨٤٤)، والصلح ٦ (٢٦٩٨)، والجزیة ١٩ (٣١٨٤)، والمغازي ٤٣ (٤٢٥١)، صحیح مسلم/الجہاد ٣٤ (١٧٨٣)، ( تحفة الأشراف: ١٨٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩، ٤/٢٨٩، ٢٩١)، سنن الدارمی/السیر ٦٤ (٢٥٤٩) (صحیح )