Sunan Abu Dawood 1806

مناسک حج کا بیان

1806Sunan Abu Dawood

قران کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا وَلَمْ تُحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ الْهَدْيَ.

ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کرلوں ۔

Hafsah, wife of the Prophet ﷺ said Messenger of Allah ﷺ , how is it that the people have put off their ihram and you did not put off your ihram after your ‘Umrah. He said I have matted my hair and garlanded my sacrificial animal, so I shall not put off my ihram till I sacrifice my sacrificial animals.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٦)، والمغازي ٧٧ (٤٣٩٨)، واللباس ٦٩ (٥٩١٦)، صحیح مسلم/الحج ٢٥ (١٢٢٩)، سنن النسائی/الحج ٤٠ (٢٦٨١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٢ (٣٠٤٦)، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٠٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٥٨ (١٨٠)، مسند احمد (٦/٢٨٣، ٢٨٤، ٢٧٥) (صحیح )