Sunan Abu Dawood 1814

مناسک حج کا بیان

1814Sunan Abu Dawood

تلبیہ کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي وَمَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ، أَوْ قَالَ: بِالتَّلْبِيَةِ يُرِيدُ أَحَدَهُمَا.

سائب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ١ ؎ اور ساتھ والوں کو الإهلال یا فرمایا التلبية میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں ٢ ؎۔

Narrated as-Saib al-Ansari (RA) : Khalid ibn as-Saib al-Ansari on his fathers authority reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Gabriel came to me and commanded me to order my Companions to raise their voices in talbiyah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پتہ چلا کہ مردوں کے لئے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مستحب ہے، أصحابي کی قید سے اس حکم سے عورتیں خارج ہوگئی ہیں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ بلند آواز سے تلبیہ نہ پکاریں۔ ٢ ؎: اہلال اور تلبیہ دونوں ایک ہی معنی میں ہے، راوی کو شک ہے کہ آپ ﷺ نے اہلال کہا یا تلبیہ، مراد یہ ہے کہ دونوں میں سے آپ ﷺ نے کوئی ایک ہی لفظ کہا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٥ (٨٢٩)، سنن النسائی/الحج ٥٥ (٢٧٥٤)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٦ (٢٩٢٢)، ( تحفة الأشراف: ٣٧٨٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ١٠ (٣٤)، مسند احمد (٤/٥٥، ٥٦)، سنن الدارمی/المناسک ١٤ (١٨٥٠) (صحیح )