Sunan Abu Dawood 1802

مناسک حج کا بیان

1802Sunan Abu Dawood

قران کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ، حَدَّثَنَايَحْيَى الْمَعْنَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ،أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَأَخْبَرَهُ، قَالَ: قَصَّرْتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ عَلَى الْمَرْوَةِ، أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصِّرُ عَنْهُ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ. قَالَ ابْنُ خَلَّادٍ: إِنَّ مُعَاوِيَةَ لَمْ يَذْكُرْ أَخْبَرَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے انہیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے مروہ پر نبی اکرم ﷺ کے بال تیر کی دھار سے کاٹے، (یا یوں ہے) میں نے آپ کو دیکھا کہ مروہ پر تیر کے پیکان سے آپ کے بال کترے جا رہے ہیں ١ ؎۔

Ibn Abbas said that Muawiyah reported to him I clipped some hair of the Prophet’s head with a broad iron arrowhead at Al Marwah; or (he said) I saw him that the hair of his head was clipped with a broad iron arrowhead at Al Marwah. The narrator Ibn Khallad said in his version “Muawiyah said” and not the word “reported”.

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری میں صرف اتنا ہے کہ ” میں نے آپ ﷺ کے بال تیر کی دھار سے کاٹے “، اس جملے سے کوئی اشکال نہیں پیدا ہوتا، مگر صحیح مسلم و دیگر کے الفاظ ” مروہ پر “ سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ قارن تھے تو عمرہ کے بعد مروہ پر بال کاٹنے کا کیا مطلب؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ عمرہ جعرانہ کا ہے نہ کہ حجۃ الوداع کا، جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (١٧٣٠) (إلی قولہ: ” بمشقص “ )، صحیح مسلم/الحج ٣٣ (١٢٤٦)، سنن النسائی/الحج ٥٠ (٢٧٣٨)، ١٨٣ (٢٩٩٠)، ( تحفة الأشراف: ١١٤٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٦، ٩٧، ٩٨، ١٠٢) (صحیح )