صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے عمار ؓ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک (بھنی ہوئی) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی (کھانے سے احتراز کرتے ہوئے) الگ ہٹ گیا اس پر عمار ؓ نے کہا: جس نے ایسے (شک والے) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔
Narrated Ammar (RA) : Abu Ishaq reported on the authority of Silah: We were with Ammar on the day when the appearance of the moon was doubtful. (The meat of) goat was brought to him. Some people kept aloof from (eating) it. Ammar said: He who keeps fast on this day disobeys Abul Qasim (i. e. the Prophet) ﷺ .
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہے تو وہ ان دنوں کا روزہ رکھے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not fast one day or two days just before Ramadan, except in the case of a man who has been in the habit of observing the particular fast, for he may fast on that day.
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور (جا کر) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے: اے اللہ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نصف شعبان ہوجائے تو روزے نہ رکھو ، علاء نے کہا: اے اللہ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز ابوداؤد نے کہا: عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن ابن مہدی) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، میں نے احمد سے کہا: ایسا کیوں ہے؟ وہ بولے: کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ شعبان کو (روزہ رکھ کر) رمضان سے ملا دیتے تھے، نیز انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ سے اس کے برخلاف مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے ١ ؎ اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Abdul Aziz ibn Muhammad said: Abbad ibn Kathir came to Madina and went to the assembly of al-Ala. He caught hold of his hand and made him stand and said: O Allah, he narrates a tradition from his father on the authority of Abu Hurairah who reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When the middle of Shaban comes, do not fast. Al-Ala said: O Allah, my father narrated this tradition on the authority of Abu Hurairah from the Prophet ﷺ
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ وہ بات آپ ﷺ کے لئے خاص تھی، اور یہ بات عام امت کے لئے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٣٨ (٧٣٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥ (١٦٥١)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥١)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ٣٤ (١٧٨١) (صحیح )
ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم سے حسین بن حارث جدلی نے (جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے؟ کہا کہ میں نہیں جانتا، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے: وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا: تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے؟ کہنے لگے: یہ عبداللہ بن عمر ؓ ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ کو ان سے زیادہ جانتے ہیں، اس پر انہوں نے (ابن عمر ؓ نے) کہا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اسی کا حکم فرمایا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Husayn ibn al-Harith al-Jadli from the tribe of Jadilah Qays said: The governor of Makkah delivered a speech and said: The Messenger of Allah ﷺ took a pledge from us that we should perform the rites of hajj after sighting the moon. If we do not sight it and two reliable persons bear witness, we should perform the rites of hajj on the basis of their witness. I then asked al-Husayn ibn al-Harith (RA) : Who was the governor of Makkah? He replied: I do not know. He then met me later on and told me: He was al-Harith ibn Hatib, brother of Muhammad ibn Hatib. The governor then said: There is among you a man who is more acquainted with Allah and His Messenger than I. He witnessed this from the Messenger of Allah ﷺ . He then pointed with his hand to a man. Al-Husayn said: I asked an old man beside me: Who is that man to whom the governor has alluded? He said: This is Abdullah ibn Umar, and he spoke the truth. He was more acquainted with Allah than he. He (Abdullah ibn Umar) said: For this is what the Messenger of Allah ﷺ commanded us (to do).
نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں (چاند کی رویت پر) اختلاف ہوگیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دایا۔
Narrated Ribi bin Hirash (RA) : On the authority of a man from the Companions of the Prophet ﷺ : People differed among themselves on the last day of Ramadan (about the appearance of the moon of Shawwal). Then two bedouins came and witnessed before the Prophet ﷺ swearing by Allah that they had sighted moon the previous evening. So the Messenger of Allah ﷺ commanded the people to break the fast. The narrator Khalaf has added in his version: and that they should proceed to the place of prayer (forEid).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٤، ٥/٣٦٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے، (راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا) تو آپ ﷺ نے اس اعرابی سے پوچھا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ ﷺ نے پوچھا: کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A bedouin came to the Prophet ﷺ and said: I have sighted the moon. Al-Hasan added in his version: that is, of Ramadan. He asked: Do you testify that there is no god but Allah? He replied: Yes. He again asked: Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah? He replied: Yes. and he testified that he had sighted the moon. He said: Bilal, announce to the people that they must fast tomorrow.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٧ (٦٩١)، سنن النسائی/الصوم ٦ (٢١١٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٤، ١٩١١٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٤) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذ نے اسے عن عکرمہ عن النبی ﷺ … مرسلاً روایت کیا ہے )
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند (کی روئیت) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آگیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چناچہ اسے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لے جایا گیا، آپ نے اس سے سوال کیا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چناچہ آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کردیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Ikrimah (RA) : Once the people doubted the appearance of the moon of Ramadan, and intended neither to offer the tarawih prayer nor to keep fast. A bedouin came from al-Harrah and testified that he had sighted the moon. He was brought to the Prophet ﷺ . He asked: Do you testify that there is no god but Allah, and that I am the Messenger of Allah? He said: Yes; and he testified that he had sighted the moon. He commanded Bilal who announced to the people to offer the tarawih prayer and to keep fast.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن انہیں نظر نہ آیا) اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چناچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The people looked for the moon, so I informed the Messenger of Allah ﷺ that I had sighted it. He fasted and commanded the people to fast.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٥٤٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٣) (صحیح )
عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے ۔
Narrated Amr bin al-As: The Messenger of Allah ﷺ as saying: The difference between our fasting and that of the people of the Book is eating shortly before dawn.
عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا: بابرکت غداء پر آؤ ۔
Narrated Al-Irbad ibn Sariyyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ invited me to a meal shortly before dawn in Ramadan saying: Come to the blessed morning meal.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ١٣ (٢١٦٥)،(تحفة الأشراف: ٩٨٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٦، ١٢٧) (حسن لغیرہ) (ابو رہم مجہول ہیں، حدیث کے شواہد سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحيحة للألباني: 3408، وتراجع الألباني: 192 )
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب ؓ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی (صبح کاذب) ہی باز رکھے، جو اس طرح (لمبائی میں) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے ۔
Addressing (the people) Samurah bin Jundub reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The adhan (call to prayer) of Bilal should not prevent you from taking a meal shortly before dawn, not does the whiteness of horizon (before dawn) in this way (vertically) until it spreads out horizontally.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے (تہجد پڑھنے) والا تہجد پڑھنا بند کر دے، اور سونے والا جاگ جائے، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے ۔ مسدد کہتے ہیں: راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہوجائے (یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے) ۔
Narrated Abdullah bin Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: The summons (adhan) of Bilal should not restrain one of you from taking a meal shortly before dawn, for he utters adhan or calls (for prayer) so that the man at prayer may return, and the man asleep may get up. Dawn is not (the whiteness) which indicates thus (in perpendicular) - the narrator Musaddad said: Yahya joined his palms (indicating the spread of whiteness vertically - until it indicates thus - and Yahya spread out two ring-fingers of his (demonstrating the spread of whiteness horizontally)l
طلق ؓ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہوجائے ۔
Narrated Talq ibn Ali al-Yamami (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Eat and drink; let not the white and ascending light prevent you from (eating and drinking); so eat and drink until the red light spreads horizontally.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ١٥ (٧٠٥)، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣) (حسن صحیح )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ حتى يتبين لکم الخيط الأبيض من الخيط الأسود یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے (سورۃ البقرہ: ١٨٧) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے (صبح صادق جاننے کی غرض سے) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے ۔ عثمان کی روایت میں ہے: اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔
Narrated Adi bin Hatim: When the verse Until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread was revealed, I took a white rope and a black rope, and placed them beneath my pillow ; and then I looked at them, byt they were not clear to me. So I mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ . He laughed and said: Your pillow is so broad and lengthy ; that is (i. e. means) night and day. The version of the narrator Uthman has: That is the blackness of night and whiteness of day.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When any of you hears the summons to prayer while he has a vessel in his hand, he should not lay it down till he fulfils his need.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٣، ٥١٠) (حسن صحیح )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب ادھر سے رات آجائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہوگیا ۔
Narrated Umar (RA) : The Prophet ﷺ as saying: When the night approaches from this side and the day retreats on that side, and the sun sets - according to the version of Musaddad - he who fasts has reached the time to break it.
سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کو کہتے سنا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلال! (سواری سے) اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر اور شام ہوجانے دیں تو بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال ؓ نے پھر کہا: اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، چناچہ وہ اترے اور ستو گھولا، آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا: جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آگئی تو روزے کے افطار کا وقت ہوگیا ، اور آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔
Narrated Abdullah bin Abi Awfa (RA) : We went along with the Messenger of Allah ﷺ while he was fasting. When the sun set, he said to Bilal (RA) : Bilal, come down and prepare barley beverage for us. He said: Messenger of Allah, would that you waited for the evening. He said: Come down and prepare barley beverage for us. He said: Messenger of Allah, the say still remains on you (i. e. there remains the brightness of the day). He said: Come down and prepare barley drink for us. So he came down and prepared barley drink. The Messenger of Allah ﷺ drank it and said: When you see that the night approaches from this side, he who fasts has reached the time to break it ; and he pointed to the east with his finger.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Religion will continue to prevail as long as people hasten to break the fast, because the Jews and the Christians delay doing so.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٤ (١٦٩٨)، حم (٢/٤٥٠) (حسن )