Sunan Abu Dawood 2334

روزوں کا بیان

2334Sunan Abu Dawood

یوم الشک کو روزہ رکھنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَأَتَى بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے عمار ؓ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک (بھنی ہوئی) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی (کھانے سے احتراز کرتے ہوئے) الگ ہٹ گیا اس پر عمار ؓ نے کہا: جس نے ایسے (شک والے) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

Narrated Ammar (RA) : Abu Ishaq reported on the authority of Silah: We were with Ammar on the day when the appearance of the moon was doubtful. (The meat of) goat was brought to him. Some people kept aloof from (eating) it. Ammar said: He who keeps fast on this day disobeys Abul Qasim (i. e. the Prophet) ﷺ .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١١(١٩٠٦ تعلیقاً )، سنن الترمذی/الصوم ٣ (٦٨٦)، سنن النسائی/الصیام ٢٠ (٢١٩٠)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣ (١٦٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٤)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم ١(١٧٢٤) (صحیح )