Explained with ayahs 15–29
ستارے، نیل گائے اور ہرن
حضرت عمرو بن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی ؓ ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد…
Read the full tafseer →سورة التَّكْوِیْر 19
سورة نجم آیات 7 تا 9 میں رسول اللہ ﷺ کے اس مشاہدے کو زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ (تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، النجم، حواشی 7۔ 8)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۙذِيْ قُوَّةٍ الخ، ستاروں کی قسم کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن قول ہے کہ ایک رسول کریم کا، آگے اس رسول کریم کی صفت ایک تو یہ بیان فرمائی کہ وہ ذی قوت ہے، دوسری یہ کہ رب العرش کے پاس وہ مطاع ہے کہ اسکے احکام عرش والے مانتے ہیں، تیسری یہ کہ وہ اللہ کے نزدیک امین ہے اس سے پیغام لانے اور پہنچانے میں کسی خیانت اور کمی نیشن کا امکان نہیں۔ اس جگہ رسول کریم سے مراد بظاہر جبریل امین ہیں کیونکہ لفظ رسول کا جیسے انبیاء پر اطلاق ہوتا ہے ایسے ہی فرشتوں کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور آگے جتنی صفات رسول کی بیان کی گئی ہیں وہ سب جبریل امین پر بغیر کسی تکلف و تاویل کے…
Read the full tafseer →یعنی اگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے اس فرشتہ کو دیکھا ہے جو ان پر وحی لے کر آتا ہے تو یہ بھی کوئی جھوٹ یا فریب نفس نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت ہے۔ انھوں نے فی الواقع اس فرشتے کو بالکل کھلے ہوئے اور صاف افق میں دیکھا ہے۔ ’افق مبین‘ سے مراد فضائے آسمانی کا وہ حصہ ہے جو نظر کے سامنے ہے۔ جس کا مشاہدہ بغیر کسی شائبہ اشتباہ کے ہوتا ہے۔ سورۂ نجم میں اسی کو ’افق اعلیٰ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوٰی ۵ ذُوْ مِرَّۃٍ فَاسْتَوٰی ۵ وَہُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلٰی ۵ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَٰی ۵ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنٰی ۵ فَأَوْحٰی إِلٰی عَبْدِہٖ مَا أَوْحٰی ۵ مَا کَذَبَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 1 یہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ کو دو مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقع ہے، اس وقت حضرت جبرائیل ؑ کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا، دوسری مرتبہ معراج کے موقعہ پر دیکھا جیسا کہ سورة نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →11: حضرت جبرئیل ؑ عام طور پر تو آنحضرت ﷺ کے پاس کسی انسان کی صورت میں آیا کرتے تھے، لیکن حضور اقدس ﷺ نے ایک مرتبہ انہیں اپنی اصلی صورت میں دیکھنے کی فرمائش کی تھی، اس موقع پر وہ افق پر اپنی اصل صورت میں بھی آپ کے سامنے ظاہر ہوئے، اس آیت میں اس کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، اس کی کچھ تفصیل سورة نجم میں پیچھے گزرچکی ہے، اس موقع پر اس سورت کے حواشی نمبر : 2، 3، 4 ضرور دیکھ لئے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
وما صاحبکم ................................ رب العلمین (22:81 تا 29) ” اور (اے اہل مکہ) تمہارا رفیق مجنون نہیں ہے ، اس نے اس پیغمبر کو روشن افق پر دیکھا ہے۔ اور وہ غیب (کے اس علم کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے۔ اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔ پھر تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟ یہ تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے ، تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے “۔ یہ لوگ نبی کریم کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے ، یہ بھی جانتے تھے کہ آپ انتہائی عقلمند آدمی ہیں ، سچے اور امین ہیں اور ثابت قدم اور…
Read the full tafseer →6 یعنی مشرقی کنارہ کے پاس اس کی اصلی صورت میں صاف صاف دیکھا۔ اس لئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ شاید دیکھنے یا پہچاننے میں کچھ اشتباہ و التباس ہوگیا ہوگا جس کو فرشتہ سمجھ لیا وہ واقع میں فرشتہ نہ ہوگا۔ سورة " نجم " میں پہلے آچکا (فَاسْتَوٰى ۙ وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ) 53 ۔ النجم :6-7)
Read the full tafseer →آیت 23{ وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ۔ } ”اور انہوں نے دیکھا ہے اس کو کھلے افق پر۔“
یعنی ہمارے نبی ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو کھلے اور روشن افق پر دیکھا ہے ‘ اس میں کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْن کے لیے سورة النجم میں ’ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی ‘ آیت 7 کی ترکیب آئی ہے۔
Read the full tafseer →18 آپ کا جبرئیل کو پہلی بار دیکھنا :۔ اور دوسری چیز جس پر یہ تین قسمیں کھائی گئیں یہ ہے کہ اے کفار مکہ ! تمہارے یہ ساتھی (یعنی محمد) دیوانے نہیں ہیں بلکہ دیوانے تم ہو رہے ہو جو یہ اقرار کرنے کے بعد کہ ہمیں اپنے اس ساتھی کے بارے میں جھوٹ یا فریب کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اب اس کو حواس باختہ اور دیوانہ کہنے لگے ہو۔ اس نے رسول کریم یعنی جبرئیل امین کو اس وقت دیکھا تھا جب سپیدہ سحر کھل کر نمودار ہوچکا تھا اور ہر چیز صاف صاف نظر آنے لگی تھی۔ تاریکی کی بنا پر کسی شک و شبہ کا امکان باقی نہ رہا تھا۔ اس نے جبریل کو افق مبین، جسے سورة نجم میں افق اعلیٰ کہا گیا ہے، پر دیکھا تھا۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن…
Read the full tafseer →9۔ (جس میں کسی دھوکے یا اشتباہ کا امکان نہیں) منکرین کے جواب میں گویا قرآن کا استدلال یہ ہوا کہ یہ قرآن جو تمہیں پہنچ رہا ہے۔ بجنسہ اور لفظ بلفظ کلام الہی ہے، اللہ سے رسول تک اس کا پہنچانے والا ایک معزز متدین، پر قوت فرشتہ ہے، اس کی پیامبری میں کسی خلط کا امکان نہیں، اور فرشتہ سے تم تک منتقل کرنے میں واسطہ رسول کا ہے۔ یہ واسطہ بجائے خود ہر قسم کے شک و اشتباہ سے ماوراء ہے، عام بندوں تک قرآن پہنچنے کے واسطے یہی دونوں ہیں، فرشتہ اور پیغمبر، اور یہ دونوں اعتماد واستناد کے انتہائی نقطہ پر ہیں۔ (آیت) ” الافق المبین “۔ سے مراد آسمان کا بلند کنارہ ہے۔ ملاحظہ ہوں سورة والنجم “ کی آیات متعلقہ کے حاشیے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–29
واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی…
Read the full tafseer →ولقد راہ بالافق المبین . باتفاق علماء راٰی کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے ہی دیکھا تھا۔ ہٗ کی ضمیر یا ذی العرش کی طرف راجع ہے یا رسول کریم یعنی جبرئیل کی طرف۔ اوّل صورت میں بالافق المبین ‘ راٰی کی ضمیر فاعلی سے حال ہوگا۔ یعنی جب رسول اللہ ﷺ ساتوں آسمانوں کے آخر میں عالم کے افق پر تھے اس وقت آپ ﷺ نے اللہ کو دیکھا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ہم نے قصہ معراج میں باسناد شریک بن عبداللہ حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ ربّ العزت قریب ہوا ‘ نیچے کو آیا ‘ یہاں تک کہ بقدر فاصلۂ قوسین یا اس سے بھی زیادہ قریب ہوگیا۔ ابو سلمہ کی بھی یہی روایت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ قول مروی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(22۔ 25) اے قریش کی جماعت رسول اکرم مجنون نہیں ہیں اور رسول اکرم نے جبریل امین کو آسمان کے بلند کنارہ پر دیکھا بھی ہے اور پیغمبر وحی کے بارے میں بخیل بھی نہیں ہیں اور یہ قرآن کریم کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے۔
Read the full tafseer →ولقد راہ بالافق المبین : روشن کنارے سے مراد آسمان کا مشرقی کنارا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل ؑ کو ان کی اصل صورت میں دو متربہ دیکھا ہے، ایک دفعہ زمین پر اور دوسری دفعہ آسمان پر۔ (دیکھیے نجم : 1 تا 18) یہاں پہلی مرتبہ کا ذکر ہوا ہے، آپ ﷺ نے جبریل ؑ کو ان کی اصل صورت میں دیکھا ، ان کے چھ سو پر تھے اور پورا افق ان سے بھرا ہوا تھا۔ (دیکھیے بخاری، بدء الخلق، باب اذا قال احدکم امین …: 3232 تا 3235)
Read the full tafseer →ولقد راہ بالافق المبین۔۔۔ تا۔۔۔ رب العالمین۔
ولقد راہ بالافق المبین۔ رسول اللہ نے جبرائیل امین کو ان کی اصلی حالت میں دیکھا جن کے چھ سو پر ہیں یعنی مشرق کی جانب سورج کے ہونے کی جگہ۔ کیونکہ یہ افق جب سورج اس سے طلوع ہوتا ہے تو وہ افق پر روشن ہوجاتا ہے یعنی اس جہت میں اشیاء کو دیکھاجاسکتا ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے افق مبین سے مراد آسمان کی اطراف ہیں۔ شاعر نے کہا : اخذنا بافاق السماء علیکم، لنا قمراھا والنجوم الطوالع۔ ہم نے تمہارے خلاف آسمان کی اطراف کو اپنی گرفت میں لے لیا ہمارے لیے اس کے دو چاند اور روشن ستارے ہیں۔ ماوردی نے کہا، اس تاویل کی بنا پر اس میں تین قول ہیں، رسول اللہ نے جبرائیل امین…
Read the full tafseer →72۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے آیت ولقد راٰہ بالافق المبین کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے اور انہوں نے سارے افق کو گھیر رکھا ہے۔
73۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد راٰہ بالافق المبین سے میری مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں کہ محمد ﷺ نے ان کو اپنی اصلی صورت میں سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا۔
74۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے آیت ولقد راٰہ بالافق المبین کے بارے روایت کیا کہ آیت میں دیکھنے والے رسول اللہ ﷺ ہیں اور انہوں نے جبریل (علیہ السلام) کو افق میں دیکھا اور افق سے صبح مراد ہے۔
75…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ رَاٰهُ : اور وہ ﷺ یقینا دیکھ چکے ہیں ان (جبریل (علیہ السلام) ) کو ][ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ : کھلے آسمان کے کنارے پر ]
(آیت۔ 23) لَقَدْ رَاٰہُ میں فعل رَاٰ میں شامل ضمیر فاعلی ھُوَ رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے، جبکہ اس کی ضمیر مفعولی حضرت جبریل (علیہ السلام) کے لیے ہے۔ جبکہ آیت۔ 25 ۔ میں ھُو کی ضمیر قرآن مجید کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →﴿ وَ لَقَدْ رَاٰهُ بالْاُفُقِ الْمُبِيْنِۚ0023﴾ (اور اس فرشتہ کو رسول اللہ ﷺ نے افق مبین یعنی آسمان پہ صاف کنارے پر دیکھا ہے) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جب وحی لاتے تھے تو حضرت دحیہ کلبی صحابی ؓ کی صورت میں آیا کرتے تھے۔ سرور عالم ﷺ نے انہیں دو مرتبہ ان کی اصل صورت میں دیکھا، ایک مرتبہ شب معراج میں سدرۃ المنتہی کے قریب اور ایک مرتبہ محلہ جیاد میں (جو مکہ معظمہ کا ایک محلہ ہے) دیکھا آپ نے دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں اور پورے افق کو گھیر رکھا ہے۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة النجم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔
(ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
6:۔ ” وما صاحبکم “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے جو آنحضرت ﷺ کو مجنون کہتے تھے فرمایا آپ مجنون نہیں ہیں۔ قرآن ایسا فصیح وبلیغ اور حکمت و معرفت سے لبریز کلام کسی مجنون کی زبان پر جاری نہیں ہوسکتا۔ آپ وحی لانے والے فرشتے کو بھی افق پر اس کی اصلی شکل میں دیکھ چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
(جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی صورت میں)
جیسے کہ پہلے بیان ہوا جبرائیل (علیہ السلام) کا تعلق قرآن پاک کے واسطہ سے نظام بالا کے ساتھ ہے۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے۔ ولقد راہ بالا فق المبین یعنی نبی (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو کھلے کنارے پر دیکھا ہے۔ حدیث (ب 1 بخاری ص 3 ج 1 ومسلم ص 10 ج 1) شریف میں آتا ہے کہ ابتدائے نبوت کے زمانہ میں حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا جبرائیل (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھے تھے اور آسمانی فضا بھی بھری ہوئی آپ نے مشاہدہ کیا تو دہشت طاری ہوگئی تشریف لائے اور فرمایا مجھ پر کمبل ڈال دو پھر آپ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ 23 ۚ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
ترکیب ¦ فلما الفاء للتفریع اوالتعقیب ولا زائدۃ کما مر تحقیقھا فی سورة القیامۃ بالخنس المقسم بہ وھی جمع خانس و خانستہ من خنس اذا تاخروفی الصحاح الخنس الکواکب کلھا انھا تخنس فی المغیب اولانھا تخفی نھاراً وقیلھی الکواکب الخمس زحل والمشتری والمریخ والزھرۃ و عطارد و فی الکبیر الخنس 1 ؎ جمع خانس والخنوس الانقباض والاستخفاء تقول خنس من بین القوم وتخنس و فی الحدیث الشیطان یوسوس ای العبد فاذا ذکر اللہ خنس ولذاسمی الخناس۔ الجوار جمع جاریۃ وھی السیارات لانھا تجری۔ وھی صفۃ الخنس۔ الکنس جمع کانس وکانستہ یقال کنس اذا دخل الکناس وھو مقرالوحش کنس کناس بالکسر خواب جائے آہو و پنہان شدن اودر آنجا (عع1 ک 2) کنس…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ ۔ (التکویر : 23)
(اور اس نے اس کو کھلے افق پر دیکھا ہے۔ )
گزشتہ آیت کے مضمون کا حاصل یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ تمہارے صاحب یعنی محمد ﷺ کس اخلاق و دانش کے پیکر ہیں۔ اس لیے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کھلے افق پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا ہے تو یقینا اس میں کوئی جھوٹ یا فریبِ نفس نہیں، بلکہ بیان حقیقت ہے۔ افقِ مبین سے مراد فضائے آسمانی کا وہ حصہ ہے جو نظر کے بالکل سامنے ہوتا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس فضاء میں اپنی اصلی شکل میں ظاہر ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے انھیں دیکھا۔ اور سورة نجم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی…
Read the full tafseer →23 : وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ (اور انہوں نے اس فرشتہ کو آسمان کے صاف کنارہ پر دیکھا بھی ہے) راٰہٗؔ سے حضرت محمد ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دیکھا ہے۔ الافق المبین سے آسمان کا مشرقی کنارہ مراد ہے۔
Read the full tafseer →22 ۔” وما صاحبکم بمجنون “ اہل مکہ کو کہا ہے۔ ” وما صاحبکم “ یعنی محمد ﷺ ” بمجنون “ اور یہ بھی جواب قسم ہے اس پر قسم کھائی ہے کہ قرآن کو جبرئیل (علیہ السلام) لے کر آئے ہیں اور بیشک محمد ﷺ ویسے نہیں ہیں جیسے اہل مکہ کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے کہا کہ یہ مجنون ہیں اور جو یہ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی طرف سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
15۔ 29۔ خنس کے معنی پچھے ہٹ جانے اور کنس کے معنی نکلنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تارے جو دن کو سورج کی روشنی میں چھپ جاتے ہیں اور رات کو نکل آتے ہیں ان کی اور اول شب کی تاریکی اور طلوع صبح کی تاکید کے طور پر قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ انہ لقول رسول کریم میں رسول سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ہے لیکن صحیح قول وہی ہے جو امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ رسول سے مراد اس آیت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے تھے انما یعلمہ بشر۔ کبھی کہتے تھے افتری علی اللہ کذبا ام بہ…
Read the full tafseer →(وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ ) یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ نے جبرائیل کو دیکھا جبوہ آسمان کے کھلے افق پر تھے جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔
Read the full tafseer →(18) فرشتے کو دیکھنے کی حقیقت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ انہوں نے دیکھا اس رسول کریم کو روشن افق پر "۔ جو کہ مشرقی جانب تھا، جدھر سے سورج طلوع کرتا ہے، حضرات علماء و مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ اس رویت یعنی دیکھنے سے مراد غار حرا کے واقعے کے بعد کا دیکھنا ہے، جبکہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل امین کو ان کی اصل شکل میں دیکھا تھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر براجمان ہیں اور مشرق و مغرب کے فراغ کو بھر رکھا ہے، جس کا ذکر سورة نجم میں فرمایا گیا ہے ( ابن کثیر، صفوہ، مدارک، قرطبی، مراغی وغیرہ) سو منکرین کے قلب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
قرآن جس میں کوئی شک نہیں۔ تقدیر کیا ہے ؟
تشریح : یہاں 15 اور 16 آیات میں آسمانی فزکس Astrophysics کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ '' خنس '' یعنی چھپنے والے تارے۔ اور '' کنس ''۔ یعنی ایک مخصوص راستہ کا محور کسی چلتی ہوئی چیز میں دبک جانے والا۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ '' اللہ قسم کھاتا ہے ان تمام طبیعاتی قوانین کی جو ساری کائنات کی وسعتوں میں کار فرما ہیں۔ جس کی طرف اشارہ ان دو آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ ہر مخلوق ایک خنس اور ایک کنس کی حالت میں ہے۔ ایک خوش اسلوب اور ہم آہنگ روانی یا بہنا ہے جب کہ دوسرا ہٹتے ہوئے پردہ کرنے کی طرح ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
سورة التکویر۔
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
ف 13 یعنی آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو آسمان کے کھلے کنارے پر ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ یہ واقعہ مقام بطحا کا ہے جب آنحضرت ﷺ نے جبریل ( علیہ السلام) کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ سورة النجم آیت : وعلمہ شدید القوی، میں یہ بحث گزرچکی ہے۔
Read the full tafseer →(81:23) ولقد راہ بالافق المبین۔ اللام جواب قسم محذوف ای وت اللہ لقد رای محمد ﷺ جبریل بالافق المبین (تفسیر حقانی) لام جواب قسم محذوف کے لئے ہے یعنی خدا کی قسم محمد ﷺ نے جبریل کو مطلع صاف میں دیکھا۔
راہ میں ضمیر فاعل باتفاق علماء رسول کریم کی طرف راجع ہے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب یا تو ذی العرش (خدا) کی طرف راجع ہے یا رسول کریم (جبریل) کی طرف راجع ہے۔ ذی العرش کا مرجع ہونے کے متعلق متعدد اقوال ہیں۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہ کی ضمیر جبریل کی طرف راجع ہے۔ روح المعانی میں ہے :۔
ای وباللہ تعالیٰ لقد رای صاحبکم رسول اللہ ﷺ الرسول الکریم جبریل (علیہ السلام) علی کرسی بین السماء والارض بالصورۃ التی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
لغات القرآن۔
کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…
Read the full tafseer →(ف 2) بعض کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اصلی صورت میں صاف صاف افق مبین میں یعنی مطلع الشمس میں دیکھا تھا کہ بلندی میں کھڑے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
[13] یعنی وہ فرشتوں کا افسر ہے اور تمام فرشتے بےچون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 2: حضور ﷺ نے جب جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اور کسب فیض کیا تو منکرین نے کہا کہ یہ محض جنون ہے ۔ اس کی تردید میں فرمایا کہ وہ شخص جو تمہارے ساتھ برسوں سے ہے اور جس کی عقل مندی اور دوستی پر تمہیں ناز رہا ہے ۔ آج یکایک مجنوں کیونکر ہوگیا ۔ کیا محض اس لئے کہ وہ الہام کا مدعی ہے یقین مانو کہ اس نے جبرائیل کو اس کی اصل شکل میں صاف آسمان کے کنارہ پر دیکھا ہے ۔
حل لغات :۔ کشطت ۔ کشط سے ہے ۔ جس کے معنی کھال اتارنے اور برہنہ کرنے کے ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ نظام آسمائی کو درہم برہم کردیا جائے گا ۔ عسعس ۔ ذوات الاضداد میں سے ہے ۔ اس کے معنی آنے اور جانے دونوں کے ہیں ۔ مگر یہاں مراد یہ ہے کہ جب رات جانے…
Read the full tafseer →(23) اور بیشک انہوں نے یعنی نبی کریم ﷺ نے اس فرشتے یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کو آسمان کے صاف کنارے پر دیکھا بھی ہے - یعنی اس فرشتے کو اصل صورت میں حضور ﷺ نے دیکھا ہے جیسا کہ ہم سورة والنجم میں تفصیل عرض کرچکے ہیں صاف کنارہ یعنی بلند کنارہ جو صاف نظر آتا تھا۔ وھو بالافق الاعلے۔ اس قسم کے اوصاف سورة والنجم میں بھی گزر چکے ہیں آسمان کے کنارے سے مراد مشرقی کنارہ ہے مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتہ ہمارے پیغمبر کا دیکھا بھالا ہے کوئی نیا فرشتہ نہیں ہے کہ بلاوجہ شبہ کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 4۔ صاف کنارہ سے بلند کنارہ مراد ہے کہ صاف نظر آتا ہے، اس کا مفصل بیان سورة نجم میں گزرا۔
Read the full tafseer →بلا شبہ اس نے اس کو افق پر دیکھا ہے
23 ؎ ہاں ! لوگو سن لو اور کان کھول کر سن لو کہ اس کے پاس ایک آنے والا آتا ہے لیکن وہ آنے والا جبریل ہے جو اللہ کا پیغام لے کر محمد رسول اللہ ﷺ پر اترتا ہے اور آپ ﷺ کے دل میں اس کلام کو اتارتا ہے اور آپ ﷺ اپنی زبان مبارک سے اس کو لوگوں کے سامنے من و عن پیش کرتے ہیں اور وہ جو کہتا ہے وہی کہتا ہے جو اس کو سنایا جاتا ہے یا اس کے دل پر ڈالا جاتا ہے اور وہ فرشتہ جو آپ ﷺ کے پاس پیغام لے کر آتا ہے وہ ان کو دوبارہ دکھائی بھی دے چکا ہے اور انہوں نے اس کے آنے کا ذکر تمہارے سامنے کیا ہے اور تم نے نہایت بد بختی سے ان کو جن کہہ کر ٹال دیا ہے ، حالانکہ انہوں نے جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ (it [ the Qur'an ] is surely the word of a noble messenger [ Jibra'il ], the one possessing power and a high status with the Lord of the Throne...81:19-20). This is the subject of oath that affirms that Qur'an is the word brought by a noble messenger. Then three qualities are attributed to this noble messenger. The first quality is that he possesses power. The second quality is that he has high status and lofty rank with Allah, and he is obeyed in the upper realm. The third quality is that he is trusted, and there is…
Read the full tafseer →19 In An-Najm: 7-9, this observation of the Holy Prophet (upon whom be peace) has been described in greater detail, (For explanation, see E.N.'s 7. 8 of An-Najm) .
Read the full tafseer →