Explained with ayahs 33–42
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
سورة عَبَس 23
احادیث میں مختلف طریقوں اور سندوں سے یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " قیامت کے روز سب لوگ ننگے بچے اٹھیں گے "۔ آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے (بروایت بعض حضرت عائشہ نے، اور برویت بعض حضرت سودہ نے اور بروایت بعض ایک خاتون نے) گھبرا کر پوچھا، یا رسول اللہ کیا ہمارے ستر اس روز سب کے سامنے کھلے ہوں گے ؟ حضور نے یہی آیت تلاوت فرما کر بتایا کہ اس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا (نسائی، ترمذی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، طبرانی، ابن مردویہ، بہیقی، حاکم)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ ، یہ محشر میں سب کے جمع ہونے کے وقت کا بیان ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے فکر میں اور نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا، دنیا میں جو رشتے ناتے ایسے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے پر اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں اس عالم میں ہر شخص اپنی اپنی ایسی فکر میں مبتلا ہوگا کہ کوئی کسی کی خبر نہ لے سکے گا بلکہ سامنے دیکھے گا تو بھی گریز کریگا۔ انسان اپنے بھائی سے ماں باپ سے بیوی اور اولاد سے منہ چھپاتا بھاگتا پھریگا، دنیا میں تعاون و تناصر اور امداد باہمی بھائیوں میں ہوتی ہے اس سے زیادہ ماں باپ کی امداد واعانت کی فکر ہوتی ہے طبعی طور پر ان سے بھی زیادہ بیوی اور اولاد سے تعلق ہوجاتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
یہ تفصیل ہے اس دن کی ہولناکی کی:
’یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ‘ ’اِذَا‘ کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو عربیت کے قاعدے سے اسلوب بیان اور ہوتا۔ جواب تو، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیت ’یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی‘ (النازعات ۷۹: ۳۵) کے تحت گزر چکا ہے، محذوف ہے البتہ اس سے محذوف جواب پر روشنی ضرور پڑتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج پیغمبرؐ کے انذار سے انھوں نے اپنے کان جو بند کر رکھے ہیں تو اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کو اپنی خاندانی اور قبائلی قوت و عصبیت پر بڑا ناز ہے۔ اس زعم نے ان کو اندھا کر رکھا ہے کہ بھلا ان کو ان کے مقام سے کون ہلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
37۔ 1 یا اپنے اقربا اور احباب سے بےنیاز اور بےپروا کر دے گا حدیث میں آتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن ننگے پیر، پیدل اور بغیر ختنے کئے ہوئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
9: اس سے مراد قیامت ہے جس کا آغاز صور کی آواز سے ہوگا۔
Read the full tafseer →لکل .................... یغنیہ (37:80) ” ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا “۔
ان عبارات وکلمات کی تہہ میں غم واندوہ کے گہرے سائے ہیں۔ پریشانیوں کی اس سے زیادہ بہتر تعبیر ممکن ہی نہیں ہے۔ احساس وضمیر دونوں کے بوجھ کو یہ عبارت کیا خوب ظاہر کرتی ہے۔
لکل ........................ یغنیہ (37:80) ” ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا “۔ (اقتباسات ازماھی القیامتہ)
یہ ہوگی حالت اس دن تمام لوگوں کی جب یہ آواز برپا ہوگی اور یہ ایسی سخت اور کرخت آواز ہوگی کہ کان بہرے ہوجائیں گے ۔ اس روزمومنین کا کیا حال ہوگا اور کافروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
1 یعنی اس وقت ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہوگی احباب و اقارب ایک دوسرے کو نہ پوچھیں گے بلکہ اس خیال سے کہ کوئی میری نیکیوں میں سے نہ مانگنے لگے یا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگے ایک دوسرے سے بھاگے گا۔
Read the full tafseer →آیت 37{ لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔ } ”اس دن ان میں سے ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے ہر ایک سے بےپروا کر دے گی۔“
اس دن ہر انسان نفسا نفسی کی کیفیت میں ہوگا۔ ہر انسان کو اپنی پریشانی کی وجہ سے اپنے عزیز ترین رشتوں سمیت کسی دوسرے کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
21 ننگے بدن حشر :۔ اس آیت کی بہترین تفسیر درج ذیل حدیث پیش کرتی ہے۔
ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : لوگ میدان حشر میں ننگے سر، ننگے بدن اور بےختنہ اکٹھے کیے جائیں گے۔ ایک عورت (سیدہ عائشہ ؓ نے پوچھا : کیا پھر وہ ایک دوسرے کے ستر نہ دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : اے فلاں (عورت) اس دن ہر شخص کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جو اسے (دوسروں سے) غافل کر دے گی۔ (ترمذی۔ کتاب التفسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
13۔ یہ وقت وہ ہوگا، جب قریب ساقریب عزیز اور عزیز ساعزیز دوست و رشتہ دار، نہ کسی کے کام آئے گا، اور نہ اس سے ہمدردی تک کرسکے گا) (آیت) ” المرء “۔ انسان سے ایسے سارے موقعوں پر مراد کافر ہی انسان سے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مردہ انسان کو دفن کرنا واجب ہے۔
لکل امریء منھم یومئذ شان یغنیہ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن، ننگے پیر اور غیر مختون ہوں گے، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے آپ ﷺ سے معلوم کیا اس طرح شرمگاہوں پر نظریں نہیں پڑیں گی ؟ آپ ﷺ نے اس کے جواب میں یہاں یہ تلاوت فرمائی اور فرمایا اس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا۔ (نسائی، ترمذی وغیرہ)
Read the full tafseer →لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ . لوگوں میں سے ہر شخص کا حال اس روز ایسا ہوگا کہ دوسرے کے
حال سے اس کو لاپرواہ بنا دے گا۔ امّ المؤمنین حضرت سودہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ لوگوں کو برہنہ پا ‘ ننگے بدن ‘ بےختنہ اٹھائے گا۔ لوگوں کے منہ پر پسینہ کی لگام ہوگی اور کانوں کی لَو تک پسینہ پہنچا ہوگا (یعنی قدم سے لے کر منہ اور کانوں کی جڑوں تک آدمی پسینہ میں غرق ہوگا) حضرت سودہ کہتی ہیں ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ پردہ کے اعضاء ایک دوسرے کے دیکھے گا ؟ فرمایا : لوگوں کو اس کا ہوش ہی نہیں ہوگا۔ ہر شخص کا حال اس روز ایسا ہوگا کہ اس کو دو سروں سے لاپروا کر دے گا۔ اس حدیث کو طبرانی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
(37۔ 42) قیامت کے دن ان میں ہر ایک شخص کو اپنا ہی فکر ہوگا جو اس کو اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا، سچے مومنین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی وجہ سے روشن اور شاداں ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کی صورتوں پر قیامت کے دن ظلمت ہوگی اور ان پر کدورت اور پسماندگی چھائی ہوگی۔ یہی لوگ کافر و فاجر ہیں۔
Read the full tafseer →(لکل امری منھم یومئذ…: عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(تحشرون حفاۃ عراۃ غرلاً ، قالت عائشۃ فقلت یا رسول اللہ ! الرجال والنساء ینظر بعضھم الی بعض ؟ فقال الامر اشد من ان یھمھم ذاک) (بخاری، الرقاق، باب کیف الحشر : 6528)”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بغیر ختنہ کی حالت میں اٹھائے جاؤ گے۔“ عائشہ ؓ فرماتی ہیں، میں نے کہا :”اے اللہ کے رسول ! پھر تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”معاملہ اس سے سخت ہوگا کہ یہ بات ان کی سوچ میں بھی آئے۔“ ترمذی میں عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی اس حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس موقع پر یہ آیت پڑھی :(لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ) (عباس : 38)”اس…
Read the full tafseer →لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، قیامت کے روز لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر اٹھائے جائیں گے میں نے عرض کی یارسول اللہ مرد اور عورت ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے، فرمایا اے عائشہ، معاملہ اس سے بڑا سخت ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھیں۔ امام ترمذی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بےختنہ اٹھایاجائے گا، ایک عورت نے عرض کی، کیا ہم میں سے بعض ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھتے ہوں گے ؟ فرمایا اے فلانہ، ہر کسی کو اپنی اس روز پڑی ہوگی۔ کہا یہ حدیث حسن صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
3۔ الطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے سودہ بنت زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمای سب لوگ اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنہ کیے ہوئے ہوں گے۔ ان کو پسینے نے لگا میں دے رکھی ہوں گی اور کانوں کی لو تک پہنچے گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہائے شرم گاہ کہ ہمارا بعض بعض کی طرف دیکھے گا۔ آپ نے فرمایا : لوگ اس سے غافل ہوں گے اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یوم یفر المر من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ لکل امء منہم یومئذ شان یغنیہ جس دن آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے…
Read the full tafseer →[لِكُلِ امْرِۍ مِّنْهُمْ : ہر مرد کے لیے ان میں سے ][ يَوْمَىِٕذٍ شَان : اس دن ایک ایسی مصروفیت (فکر) ہوگی جو ][ يُّغْنِيْهِ : کافی ہوگی اس کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر بیان فرمائے ہیں۔ الصاخہ سخت آواز سے بولنے والی چیز کو کہتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ ایسی سخت آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرا کر دے اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جب یہ سخت آؤاز آئے گی تو انسان اپنی مصیبت میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ ہوگی جو خاص اپنے لوگ تھے ان سے بھی بھاگے گا ہر شخص کا اپنا حال جدا ہوگا۔
ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے نیک بندوں کے چہرے روشن ہوں گے ان کی صورتوں سے بشاشت اور خوشی ظاہر ہو رہی ہوگی اور جن نالائقوں نے دنیا میں خدا کو فراموش کیا ایمان اور اعمال صالحہ کے نور سے علیحدہ رہے اور کفر و فجور کی سیاہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
9:۔ ” فاذا جاءت “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں سورت کا دعوی مذکور ہے علی سبیل الترقی۔ یہاں قیامت کی شدت اور ہولناکی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ہر شخص کو صرف اپنی جان کی فکر ہوگی یہاں تک آدمی اپنے بھائی، اپنے باپ اور اپنے بیوی بچوں سے بھی دور بھاگے گا اور کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ ہر شخص کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے اور وہ اپنے انجام کی فکر میں دوسروں سے بالکل بیخبر اور غافل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة مبارکہ میں پہلے ایک نابینا شخص کا حال بیان کر کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کی توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی ۔ کہ کمزروں اور ناداروں کا خیال رکھنا مقدم ہے ۔ کیونکہ وہ ہدایت کے طالب ہیں اور کمال شوق سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ برخلاف اس کے سرمایہ دارحضرات ناشکرگذرای کرتے ہیں ۔ ہدایت کے طالب نہیں ۔ لہذا ان کی طرف زیادہ توجہ نہ دیجائے ۔ یہی لوگ ہیں جو بےپروا اور متکبر ہیں ۔ انہیں تزکیہ حاصل کرنے کا بھی شوق نہیں ہے ۔ پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا ” ھل لک الی ان تزکی “ کیا تیرے اندر اس بات کی رغبت ہے کہ تو پاک ہوجائے ۔ اور تاکہ…
Read the full tafseer →لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْہِ 37 ۭ
يَوْمَئِذٍ
ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ .
اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ترکیب ¦ فاذا حرف الشرط جاءت فعل الصاخۃ فاعلہ والجملۃ شرطیۃ والجواب محذوف یدل علیہ الکلام الاتی وھو لکل امری منہم الخ الصاخۃ الصیحۃ وسمیت بھا لشدۃ صو تھا کانھا تصخ الاذان ای تصمھا فلا تسمع واصل الکلمۃ من الصخ وھو الطعن والصک بقال صخ راسہ بحجرای شدخہ والغراب یصخ بمنقارہ فی وبرالبعیر ای یطعن وھی النفخۃ الاخیرۃ والفاء للدلالۃ علی ترتیب مابعدھا علی ما قبلھا یوم منصوب بمقدر ای اعنی ویکون تفسیراً للصاخۃ اوبدل من اذا جاءت لکل امری منہم خبر شان یغنیہ مبتدء یومئذ ظرف لہ والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لبیان سبب الفرار۔ وجوہ مبتداء والنکرۃ لوقوعھا فی مقام التفصیل والتوزیع صلحت للابتداء یومئذ متعلق بہ مسفرۃ خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ ۔ یَوْمَ یَفِرُّالْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ ۔ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ ۔ لِکُلِّ امْرِیًٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ۔ (عبس : 33 تا 37)
(پس جب وہ کان بہرے کردینے والی آواز آئے گی۔ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے۔ ہر آدمی کے لیے اس دن ایسا حال ہوگا جو اس کے لیے کافی ہوگا (یعنی اس روز ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی) ۔ )
قیامت کی ہولناکی
الصَّآخَّۃُکا معنی ہے بہری کردینے والی کڑک یا چیخ۔ مراد اس سے آخری نفخ صور کی قیامت خیز آواز ہے جس کے بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان جی اٹھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور اس کی خوراک کا حوالہ دے کر اس کا قیامت کے دن زندہ ہونا ثابت کیا اور اب محشر کے دن دوسرے نفخہ کے بعد لوگوں کی حالت بیان کی جاتی ہے۔
سورت النّازعات کی آیت 34 میں قیامت کو ایک بڑی آفت قرار دیا گیا ہے قیامت کے بنیادی طور پر دو مرحلے ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں ہر چیز تباہ کردی جائے گی اور اس کے بعد نامعلوم کتنے عرصے کے بعد قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ دوسرے مرحلہ کی ابتدا بھی اسرافیل کے صور پھونکنے پر ہوگی جس سے ایک مرتبہ پھر پوری زمین ہل جائے گی اور لوگ اپنے اپنے مدفن سے نکل کر محشر کے میدان میں اکٹھے ہوجائیں گے جس کی تفصیل قرآن مجید اور…
Read the full tafseer →37 : لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ یَوْمَپذٍ شَاْنٌ یُّغنِیْہِ (ان میں سے ہر شخص کو ایسا مشغلہ ہوگا جو اس کو اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا) شانؔ ایسی حالت جو اس کی اپنی ذات سے متعلق ہوگی۔ یغنیہؔ جو اس کو غیر سے مشغول کر کے اپنے اہتمام میں مگن کردے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
35 ۔” لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ “ جو اس کو غیر کی حالت سے بےنیاز کردے گی۔
نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت سودہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ ننگے پائوں ننگے بدن غیر مختون اٹھائے جائیں گے۔ تحقیق ان کا پسینہ منہ اور کانوں کی لو تک پہنچا ہوا ہوگا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ( ﷺ ) اور ان کی شرمگاہیں وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوں گے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا لوگ اس دن مشغول ہوں ہر ایک کی اس دن ایسی حالت ہوگی جو اس کو بےنیاز کردے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–42
32۔ 41۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی زیست بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی زیست بھر کے انتظام اسی انجام کے لئے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہو کر ہر ایک کی جزا و سزا کا فیصلہ اخیر صادر ہوجائے۔ حاصل یہ کہ دنیا فیصلہ اخیر کی روداد جمع ہوجانے کے لئے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ اخیر صادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کے مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ اخیر ایک ہی وقت ہوگا اس لئے دنیا کے ختم کے بعد کی یہ وسیع تاریخ پیشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
( يَفِرُّ الْمَرْءُ ) انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے۔ (مِنْ اَخِيْهِ ۔ وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ ، وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ ) اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے۔ اور اپنے بیٹوں سے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ (لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ ) اسے خود اپنی پڑی ہوگی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکرمند ہوگا اور وہ کسی دوسرے کی طرف التفات نہیں کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(30) اس روز ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ہر کسی پر ایسی حالت طاری ہوگی کہ اس کو اور کسی کا ہوش تک نہ رہے گا "۔ والعیاذ باللہ۔ سنن ترمذی وغیرہ میں حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے مروی و منقول ہے کہ اس روز لوگ ننگے جسم محشور ہوں گے، عرض کیا گیا کہ پھر تو وہ ایک دوسرے کے ننگیز کو دیکھیں گے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ موقع ایسا ہولناک اور اس قدر ہوشربا ہوگا کہ اس طرح ننگے ہونے کے باوجود کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہیں ہوگا۔ اور پھر آپ ﷺ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی ( روح، ابن کثیر، قرطبی اور خازن وغیرہ) فصلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق
تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔
1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔
2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔
3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔
اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔
آیات 1 تا 42۔
اسرار ومعارف۔
چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔
نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔
اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 16 حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن تم ننگے پائوں اور ننگے بدن جمع کئے جائیں گے حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا :” تو کیا ہم میں سے ہر شخص دوسرے کا ستر دیکھے گا ؟ “ فرمایا : ”(ں ہیں) اس روز ہر آدمی کو ایسی فکر پڑی ہوگی جو اسے دوسرے کی طرف دیکھنے ہی نہ دے گی “ (ابن کثیر) بحوالہ ترمذی، نسائی وغیرہ )
Read the full tafseer →(80:37) لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ : یہ جملہ سبب ہے قیامت کے روز انسان کے اپنے عزیزو اقارب سے دور بھاگنے کا
لکل امری منھم۔ خبر۔ شان یغنیہ مبتدا۔ یومئذ اس کا ظرف۔ (تفسیر حقانی)
ہر شخص کی اس روز ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے بےپرواہ کر دے گی ۔ (ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی)
لکل امری میں لام حرف جر ہے علت کے لئے آیا ہے۔ کل امری مضاف مضاف الیہ۔ امرء بمعنی مرد۔ انسان ، شخص۔
امرئ۔ کی ہمزہ بحالت رفع واؤ کی شکل میں اور بحالت نصب الف کی شکل میں اور بحالت جری کی شکل میں آتی ہے۔ امری چونکہ بحالت جر ہے اس لئے ہمزہ کو ی کی شکل میں لایا گیا ہے۔
منھم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب جملہ مذکورین کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن
الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
نفسانفسی کا ذکر۔
(ف 3) اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی عمر بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا، ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی عمر بھر کے انتطام اسی انجام کے لیے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک وبد کا حساب وکتاب ہوکرہر ایک کی جزا وسزا کا فیصلہ آخر صادر ہوجائے حاصل یہ ہے کہ دنیا فیصلہ آخر کی روداد جمع ہوجانے کے لیے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ آخرصادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کی مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ آخر ایک ہی وقت ہوگا، اس لیے دنیا کے ختم ہونے کے بعد کی یہ وسیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
[10] یعنی اس دن ہر شخص کو اپنی نجات کی فکر پڑی ہوگی اور عزیز سا عزیز کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس سے ہمدردی کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
آپا دھاپی اور نفسا نفسی
1: غرض یہ ہے کہ آج تو یہ مادیت میں پھنسے ہوئے لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بوقلموں نعمتوں سے استفادہ کررہے ہیں اور ان چیزوں کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کانوں کو بہرہ کردینے والی آواز کا دھماکہ ہوگا اور یہ محسوس کریں گے کہ اب احتساب کی گھڑی قریب تر ہورہی ہے ۔ اس وقت یہ تعلقات جو یہاں گناہ اور معصیت کا سبب بن جاتے ہیں ، منقطع ہوجائیں گے اور ہر شخص آپا دھاپی اور نفسانفسی میں کچھ ایسا منہمک ہوگا کہ دوسروں کی ہمدردی کا خیال بھی اس کے دل میں پیدا نہیں ہوگا ۔ جس بھائی پر وہ جان دیتا تھا اور جن کی وجہ سے کئی ہنگامے اور لڑائیاں اس نے مول لی تھیں ۔ آج…
Read the full tafseer →(37) اہل قیامت میں سے ہر شخص اس دن ایک ایسے حال اور ایک ایسے فکر میں مبتلا، اور گرفتار ہوگا جو اس کی طرف سے بےپروا کردے گا - یعنی ہر شخص ان اہل قیامت میں سے ایک ایسی حالت میں ہوگا جو اس کو اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گی اور سب سے اس کو بیخبر کردے گی۔
پھر اس خیال سے شاید احباب و اقارب میں سے کوئی مجھ سے نیکی مانگنے لگے یا شفاعت کا طلب گار ہو ہر ایک سے بھاگے گا یا یہ کہ گھبراہٹ میں بھاگتا پھرے گا اور کسی کو کسی کی خبر نہ ہوگی۔
ایک عارف فرماتے ہیں ۔ ؎
در قیامت نیز ایں غوغا بود
یعنی آنجانے تو ومانے بود
آگے نافرمانوں اور فرمانبرداروں کی ایک اور کیفیت کا اظہار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت 33 تا 42:
طامہ حاقہ خاصہ جیسے اسم فاعل کے وزن پر صاخہ بھی مصدر ہے جس کا معنی ایک چیخ اور پکار ہے اور مرد اس سے قیامت ہے۔ جب وہ بپا ہوگی تو اس وقت ماں باپ بھائی بہن بیوی بچے شوہر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جب ماں باپ جیسے قریبی رشتے کام نہیں دیں گے تو دوستوں یاروں کا قصہ ہی کیا ہے کہ کوئی کسی کے کام آسکے جس طرح دوست یار و رشتہ دار کام نہیں دیں گے اسی طرح پر مال و دولت بھی کام نہیں دیں گے۔ جس پر بھی کوئی سنگین مقدمہ کھڑا ہوا اور جرم ثابت ہوا تو وہ اپنے ماں باپ بیوی یچوں شوہر بہن بھائی اور رشتہ داروں سے بھاگتا پھرے گا کہ کہیں مجھے چھوڑا جائے مجھے کسی سے کیا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ (the Day when one will flee from his brother...80:34). This depicts the scene when all the people will have gathered in the Plain of Gathering. Each person will be worried about himself, and the situation will be so horrifying and tense that it will make people heedless of anything around them. In the world, there are relationships between people that make one willing to lay down his life for the other, but on the Day of Resurrection there will be such horror and chaos that they will be unable to take care of anyone. In fact, even if one sees the other…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
23 A tradition has been reported in the. Hadith by different methods and through different channels, saying that the Holy Prophet (upon whom be peace) said: "On the Day of Resurrection all men will rise up naked." One of his wives (according to some reporters, Hadrat `A'ishah, according to others, Hadrat Saudah, or a woman) asked in bewilderment: "O Messenger of Allah, shall we (women) appear naked on that Day before the people ?° The Holy prophet recited this very verse and explained that on that Day each one will have enough of his own troubles to occupy him, and will be wholly unmindful of…
Read the full tafseer →