وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِیْهِ ۟ؕوَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And his wife and his children,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِیْهِ ۟ؕوَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And his wife and his children,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے
اور اپنی بیوی اور اپنی اوﻻد سے بھاگے گا
اور اپنے بیوی بچوں سے بھی۔
اور جُورو اور بیٹوں سے
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے (بھی)،
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (بھی بھاگے گا)
اور اپنی بیوی اور بیٹوں سے
اور اپنی بیوی اور بیٹوں سے
اور اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے
اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے
and his consort and his children;
and from his wife and sons,
and from his wife and sons,
And from his wife and his children.
And his wife and his children,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And his wife and his children,
wife and sons,
And his spouse and his son--
And his wife and his sons;
And from his wife and his children.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 33–42
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
سورة عَبَس 22 اس سے ملتا جلتا مضمون سورة معارج آیات 10 تا 14 میں گزر چکا ہے۔ بھاگنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ان عزیزوں کو، جو دنیا میں اسے سب سے زیادہ پیارے تھے، مصیبت میں مبتلا دیکھ کر بجائے اس کے ان کی مدد کو دوڑے، الٹا ان سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اسے مدد کے لیے پکار نہ بیٹھیں۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں خدا سے بےخوف اور آخرت سے غافل ہو کر جس طرح یہ سب ایک دوسرے کی خاطر گناہ اور ایک دوسرے کو گمراہ کرتے رہے، اس کے برے نتائج سامنے آتے دیکھ کر ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اپنی گمراہیوں اور گناہ گاریوں کی ذمہ داری اس پر نہ ڈالنے لگے۔ بھائی کو بھائی سے، اولاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ ، یہ محشر میں سب کے جمع ہونے کے وقت کا بیان ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے فکر میں اور نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا، دنیا میں جو رشتے ناتے ایسے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے پر اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں اس عالم میں ہر شخص اپنی اپنی ایسی فکر میں مبتلا ہوگا کہ کوئی کسی کی خبر نہ لے سکے گا بلکہ سامنے دیکھے گا تو بھی گریز کریگا۔ انسان اپنے بھائی سے ماں باپ سے بیوی اور اولاد سے منہ چھپاتا بھاگتا پھریگا، دنیا میں تعاون و تناصر اور امداد باہمی بھائیوں میں ہوتی ہے اس سے زیادہ ماں باپ کی امداد واعانت کی فکر ہوتی ہے طبعی طور پر ان سے بھی زیادہ بیوی اور اولاد سے تعلق ہوجاتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
یہ تفصیل ہے اس دن کی ہولناکی کی: ’یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ‘ ’اِذَا‘ کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو عربیت کے قاعدے سے اسلوب بیان اور ہوتا۔ جواب تو، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیت ’یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی‘ (النازعات ۷۹: ۳۵) کے تحت گزر چکا ہے، محذوف ہے البتہ اس سے محذوف جواب پر روشنی ضرور پڑتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج پیغمبرؐ کے انذار سے انھوں نے اپنے کان جو بند کر رکھے ہیں تو اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کو اپنی خاندانی اور قبائلی قوت و عصبیت پر بڑا ناز ہے۔ اس زعم نے ان کو اندھا کر رکھا ہے کہ بھلا ان کو ان کے مقام سے کون ہلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
37۔ 1 یا اپنے اقربا اور احباب سے بےنیاز اور بےپروا کر دے گا حدیث میں آتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن ننگے پیر، پیدل اور بغیر ختنے کئے ہوئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
9: اس سے مراد قیامت ہے جس کا آغاز صور کی آواز سے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
یوم یفر ........................ وبنیہ (34:80 تا 36) اس روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا “۔ یہی لوگ تھے کہ دنیا میں ان کے یہ روابط کسی حال میں بھی نہ ٹوٹتے تھے لیکن پس ایک سخت وکرخت چیخ ہوگی اور یہ تمام روابط ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور یہ تمام تعلقات کٹ جائیں گے۔ اس منظر میں خوف محض نفسیاتی خوف ہے۔ نفس انسانی پر جزع فزع کی حالت طاری ہوگی اور یہ انسان اپنے مقام اور ماحول سے جدا ہوجائے گا۔ بس وہ اپنی ہی سوچے گا۔ اس کے سامنے پریشانیوں اور خود اپنے مسائل کا انبار ہوگا۔ وہ اپنے سوا کسی کے لئے کچھ کرنے کے اہل نہ ہوگا نہ وقت اور قوت ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
1 یعنی اس وقت ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہوگی احباب و اقارب ایک دوسرے کو نہ پوچھیں گے بلکہ اس خیال سے کہ کوئی میری نیکیوں میں سے نہ مانگنے لگے یا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگے ایک دوسرے سے بھاگے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
آیت 33{ فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ۔ } ”تو جب وہ آجائے گی کان پھوڑنے والی آواز۔“ یعنی جب قیامت برپا کرنے کے لیے صور میں پھونکا جائے گا تو اس کی آواز سے کان پھٹ جائیں گے۔ اس آیت کی مشابہت سورة النازعات کی اس آیت سے ہے : { فَاِذَا جَآئَ تِ الطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی۔ } ”پھر جب وہ آجائے گا بڑا ہنگامہ۔“
Read the full tafseer →20 انسان کا اپنے عزیز واقارب سے بھاگنا :۔ اس دن انسان کے اپنے عزیزو اقارب سے بھاگنے کی دو وجوہ ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر انسان سخت مصیبت میں مبتلا ہوگا وہ چاہے گا کہ اپنی امداد کے لیے اپنے عزیز و اقارب کو پکارے لیکن وہ بھی اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار ہوں گے۔ انہیں یہ خطرہ ہوگا کہ ہم تو خود مصیبت میں پڑے ہیں کہیں یہ بھی ہمیں مدد کے لیے بلا نہ لے اس لیے ہر ایک دوسرے سے دور بھاگنے کی کوشش کرے گا اور دوسری وجہ بالخصوص مجرموں سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ اپنے عزیز و اقارب سے اس لیے دور بھاگیں گے کہ دنیا میں تو وہ گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار بنے ہوئے تھے۔ آج ایک مجرم دوسرے کو یہ الزام نہ دینے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
13۔ یہ وقت وہ ہوگا، جب قریب ساقریب عزیز اور عزیز ساعزیز دوست و رشتہ دار، نہ کسی کے کام آئے گا، اور نہ اس سے ہمدردی تک کرسکے گا) (آیت) ” المرء “۔ انسان سے ایسے سارے موقعوں پر مراد کافر ہی انسان سے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…
Read the full tafseer →بیوی اور لڑکوں سے بھاگے گا ‘
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
(33۔ 36) پھر جس وقت قیامت قائم ہوگی اور اس کا شور برپا ہوگا جس کا ہر ایک چیز جواب دے گی اور جان لیں گے کہ یقینا قیام قائم ہورہی ہے، اب وہ کب قائم ہوگی تو جس دن مومن اپنے کافر بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ یا یہ کہ ہابیل قابیل سے اور محمد حضرت آمنہ سے اور ابراہیم اپنے باپ سے اور لوط اپنی بیوی سے اور نوح اپنے بیٹے کنعان سے بھاگیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
(1) یوم یفر المرء من اخیہ…: اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن آدمی کے ان لوگوں سے بھگانے کا ذدکر فرمایا جن سے محبت ہوتی ہے اور ترتیب میں محبت کے درجات کو محلوظ رکھا، پہلے اس کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ کم محبت ہوتی ہے، بڑھتے بڑھتے آخر میں بیٹوں کا ذکر فرمایا جن کے ساتھ مقدم الذکر تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ (التسہیل) جب اپنے پیاروں سے بھاگے گا تو دوسروں کا کیا ذکر ؟ (2) سورة معارج میں اس کے برعکس بیٹوں سے شروع کیا اور فرمایا کہ مجرم کی دلی خواہش ہوگی کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو اور اپنے پناہ دینے والے قبیلے بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو فدیہ میں دے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
یوم یفرالمرء من اخیہ۔ وامہ وابیہ، صاحبتہ وبنیہ۔ اس دن صاخہ آئے گی تو آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا یعنی بھائی کے ساتھ دوستی کرنے اور گفتگو کرنے سے دور بھاگے گا کیونکہ اس کے لیے وہ فارغ نہیں ہوگا کیونکہ وہ اپنے بارے میں مصروف ہوگا جس طرح بعد میں فرمایا، اس دن ہر آدمی کو ایسا کام ہوگا جو اسے دوسری چیزوں سے غافل کردے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اس سے جو مطالبہ کرسکتے تھے اور باہم جو حقوق موجود تھے اس وجہ سے ان سے دور بھاگے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس لیے دور بھاگے گا تاکہ جس شدت سے وہ اب ہے وہ اسے دیکھ نہ لیں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ان سے اس لیے بھاگے گا کیونکہ وہ جانتا ہوگا کہ وہ انہیں کچھ نفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
3۔ الطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے سودہ بنت زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمای سب لوگ اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنہ کیے ہوئے ہوں گے۔ ان کو پسینے نے لگا میں دے رکھی ہوں گی اور کانوں کی لو تک پہنچے گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہائے شرم گاہ کہ ہمارا بعض بعض کی طرف دیکھے گا۔ آپ نے فرمایا : لوگ اس سے غافل ہوں گے اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یوم یفر المر من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ لکل امء منہم یومئذ شان یغنیہ جس دن آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے…
Read the full tafseer →[وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ : اور اپنی ساتھ والی (بیوی) سے اور اپنے بیٹوں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر بیان فرمائے ہیں۔ الصاخہ سخت آواز سے بولنے والی چیز کو کہتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ ایسی سخت آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرا کر دے اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جب یہ سخت آؤاز آئے گی تو انسان اپنی مصیبت میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ ہوگی جو خاص اپنے لوگ تھے ان سے بھی بھاگے گا ہر شخص کا اپنا حال جدا ہوگا۔ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے نیک بندوں کے چہرے روشن ہوں گے ان کی صورتوں سے بشاشت اور خوشی ظاہر ہو رہی ہوگی اور جن نالائقوں نے دنیا میں خدا کو فراموش کیا ایمان اور اعمال صالحہ کے نور سے علیحدہ رہے اور کفر و فجور کی سیاہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
9:۔ ” فاذا جاءت “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں سورت کا دعوی مذکور ہے علی سبیل الترقی۔ یہاں قیامت کی شدت اور ہولناکی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ہر شخص کو صرف اپنی جان کی فکر ہوگی یہاں تک آدمی اپنے بھائی، اپنے باپ اور اپنے بیوی بچوں سے بھی دور بھاگے گا اور کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ ہر شخص کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے اور وہ اپنے انجام کی فکر میں دوسروں سے بالکل بیخبر اور غافل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں پہلے ایک نابینا شخص کا حال بیان کر کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کی توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی ۔ کہ کمزروں اور ناداروں کا خیال رکھنا مقدم ہے ۔ کیونکہ وہ ہدایت کے طالب ہیں اور کمال شوق سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ برخلاف اس کے سرمایہ دارحضرات ناشکرگذرای کرتے ہیں ۔ ہدایت کے طالب نہیں ۔ لہذا ان کی طرف زیادہ توجہ نہ دیجائے ۔ یہی لوگ ہیں جو بےپروا اور متکبر ہیں ۔ انہیں تزکیہ حاصل کرنے کا بھی شوق نہیں ہے ۔ پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا ” ھل لک الی ان تزکی “ کیا تیرے اندر اس بات کی رغبت ہے کہ تو پاک ہوجائے ۔ اور تاکہ…
Read the full tafseer →وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِيْہِ 36 ۭ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ [ الكهف/ 34] ، أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ [ الكهف/ 9] ، وَأَصْحابِ مَدْيَنَ [ الحج/ 44] ، أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 217] ، مِنْ أَصْحابِ السَّعِيرِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ترکیب ¦ فاذا حرف الشرط جاءت فعل الصاخۃ فاعلہ والجملۃ شرطیۃ والجواب محذوف یدل علیہ الکلام الاتی وھو لکل امری منہم الخ الصاخۃ الصیحۃ وسمیت بھا لشدۃ صو تھا کانھا تصخ الاذان ای تصمھا فلا تسمع واصل الکلمۃ من الصخ وھو الطعن والصک بقال صخ راسہ بحجرای شدخہ والغراب یصخ بمنقارہ فی وبرالبعیر ای یطعن وھی النفخۃ الاخیرۃ والفاء للدلالۃ علی ترتیب مابعدھا علی ما قبلھا یوم منصوب بمقدر ای اعنی ویکون تفسیراً للصاخۃ اوبدل من اذا جاءت لکل امری منہم خبر شان یغنیہ مبتدء یومئذ ظرف لہ والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لبیان سبب الفرار۔ وجوہ مبتداء والنکرۃ لوقوعھا فی مقام التفصیل والتوزیع صلحت للابتداء یومئذ متعلق بہ مسفرۃ خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ ۔ یَوْمَ یَفِرُّالْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ ۔ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ ۔ لِکُلِّ امْرِیًٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ۔ (عبس : 33 تا 37) (پس جب وہ کان بہرے کردینے والی آواز آئے گی۔ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے۔ ہر آدمی کے لیے اس دن ایسا حال ہوگا جو اس کے لیے کافی ہوگا (یعنی اس روز ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی) ۔ ) قیامت کی ہولناکی الصَّآخَّۃُکا معنی ہے بہری کردینے والی کڑک یا چیخ۔ مراد اس سے آخری نفخ صور کی قیامت خیز آواز ہے جس کے بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان جی اٹھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور اس کی خوراک کا حوالہ دے کر اس کا قیامت کے دن زندہ ہونا ثابت کیا اور اب محشر کے دن دوسرے نفخہ کے بعد لوگوں کی حالت بیان کی جاتی ہے۔ سورت النّازعات کی آیت 34 میں قیامت کو ایک بڑی آفت قرار دیا گیا ہے قیامت کے بنیادی طور پر دو مرحلے ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں ہر چیز تباہ کردی جائے گی اور اس کے بعد نامعلوم کتنے عرصے کے بعد قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ دوسرے مرحلہ کی ابتدا بھی اسرافیل کے صور پھونکنے پر ہوگی جس سے ایک مرتبہ پھر پوری زمین ہل جائے گی اور لوگ اپنے اپنے مدفن سے نکل کر محشر کے میدان میں اکٹھے ہوجائیں گے جس کی تفصیل قرآن مجید اور…
Read the full tafseer →36 : وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ (اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا) صاحبہؔ بیوی۔ بنیہؔ اور قرآن مجید نے بھائی سے ابتداء کی اور پھر والدین کا ذکر کیا۔ کیونکہ وہ دونوں قریب تر ہیں۔ پھر بیوی اور اولاد کو لایا گیا کیونکہ وہ اس کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ایک قول : یہ ہے سب سے پہلا شخص جو اپنے بھائی سے بھاگے گا وہ ہابیل ہوگا اور سب سے پہلے والدین سے بھاگنے والے ابراہیم (علیہ السلام) اور بیوی سے بھاگنے والے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) ہونگے۔ اور بیٹے سے بھاگنے والے نوح (علیہ السلام) ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
35 ۔” لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ “ جو اس کو غیر کی حالت سے بےنیاز کردے گی۔ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت سودہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ ننگے پائوں ننگے بدن غیر مختون اٹھائے جائیں گے۔ تحقیق ان کا پسینہ منہ اور کانوں کی لو تک پہنچا ہوا ہوگا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ( ﷺ ) اور ان کی شرمگاہیں وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوں گے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا لوگ اس دن مشغول ہوں ہر ایک کی اس دن ایسی حالت ہوگی جو اس کو بےنیاز کردے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–42
32۔ 41۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی زیست بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی زیست بھر کے انتظام اسی انجام کے لئے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہو کر ہر ایک کی جزا و سزا کا فیصلہ اخیر صادر ہوجائے۔ حاصل یہ کہ دنیا فیصلہ اخیر کی روداد جمع ہوجانے کے لئے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ اخیر صادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کے مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ اخیر ایک ہی وقت ہوگا اس لئے دنیا کے ختم کے بعد کی یہ وسیع تاریخ پیشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
( يَفِرُّ الْمَرْءُ ) انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے۔ (مِنْ اَخِيْهِ ۔ وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ ، وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ ) اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے۔ اور اپنے بیٹوں سے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ (لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ ) اسے خود اپنی پڑی ہوگی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکرمند ہوگا اور وہ کسی دوسرے کی طرف التفات نہیں کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
(27) سب چیزیں انسان کے بھلے اور فائدہ کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب کچھ ہم نے تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے کیا "۔ سو ان تمام چیزوں سے تم لوگ طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل کرتے ہو، اور دن رات حاصل رکتے، اور ان سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو، مگر اس کے باوجود تم اپنے منعم سے غافل ہو، سو کیسی بےانصافی اور کتنی بڑی ناشکری ہے یہ جس کا ارتکاب تم لوگ کرتے ہو ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس قدر مطلق رب رحمن سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ اور عنایت شاملہ سے تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے جانوروں کی خوراک کا بھی ایسا حکمتوں بھرا انتظام فرمایا ہے، سو یہ بھی اس کا ایک عظیم الشان کرم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 16 حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن تم ننگے پائوں اور ننگے بدن جمع کئے جائیں گے حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا :” تو کیا ہم میں سے ہر شخص دوسرے کا ستر دیکھے گا ؟ “ فرمایا : ”(ں ہیں) اس روز ہر آدمی کو ایسی فکر پڑی ہوگی جو اسے دوسرے کی طرف دیکھنے ہی نہ دے گی “ (ابن کثیر) بحوالہ ترمذی، نسائی وغیرہ )
Read the full tafseer →(80:36) وصاحبتہ وبنیہ اس کا عطف بھی اخیہ پر ہے۔ صاحبتہ مضاف مضاف الیہ۔ صاحبۃ، صحبۃ (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ ساتھ رہنے والی، بیوی، جورو۔ بنیہ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کے بیٹے۔ ترجمہ :۔ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں (یعنی اولاد) سے بھی دور بھاگے گا۔ بھاگنے کی یا تو یہ وجہ ہوگی کہ اس کو اپنا خوف پڑا ہوگا یا ان کے کفر یا ان کی بدحالی کی وجہ سے ہر شخص کو اپنے اقرباء سے نفرت اور عداوت ہوجائے گی۔ حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ :۔ حضرت خدیجہ ؓ نے اپنے دو بچوں کی کیفیت جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے۔ حضرت خدیجہ ؓ کو یہ سن کر ناگواری ہوئی۔ حضور ﷺ نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
نفسانفسی کا ذکر۔ (ف 3) اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی عمر بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا، ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی عمر بھر کے انتطام اسی انجام کے لیے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک وبد کا حساب وکتاب ہوکرہر ایک کی جزا وسزا کا فیصلہ آخر صادر ہوجائے حاصل یہ ہے کہ دنیا فیصلہ آخر کی روداد جمع ہوجانے کے لیے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ آخرصادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کی مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ آخر ایک ہی وقت ہوگا، اس لیے دنیا کے ختم ہونے کے بعد کی یہ وسیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
[9] مراد ہے صور کی ہولناک آواز جس کے بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان جی اٹھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(36) اور اپنی رفیقہ حیات بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا - یعنی وہ دن ایسا ہولناک ہوگا اور ایسی افراتفری ہوگی کہ ہر شخص اپنے عزیزواقارت سے بھاگے گا اسی کو فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت 33 تا 42: طامہ حاقہ خاصہ جیسے اسم فاعل کے وزن پر صاخہ بھی مصدر ہے جس کا معنی ایک چیخ اور پکار ہے اور مرد اس سے قیامت ہے۔ جب وہ بپا ہوگی تو اس وقت ماں باپ بھائی بہن بیوی بچے شوہر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جب ماں باپ جیسے قریبی رشتے کام نہیں دیں گے تو دوستوں یاروں کا قصہ ہی کیا ہے کہ کوئی کسی کے کام آسکے جس طرح دوست یار و رشتہ دار کام نہیں دیں گے اسی طرح پر مال و دولت بھی کام نہیں دیں گے۔ جس پر بھی کوئی سنگین مقدمہ کھڑا ہوا اور جرم ثابت ہوا تو وہ اپنے ماں باپ بیوی یچوں شوہر بہن بھائی اور رشتہ داروں سے بھاگتا پھرے گا کہ کہیں مجھے چھوڑا جائے مجھے کسی سے کیا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ (the Day when one will flee from his brother...80:34). This depicts the scene when all the people will have gathered in the Plain of Gathering. Each person will be worried about himself, and the situation will be so horrifying and tense that it will make people heedless of anything around them. In the world, there are relationships between people that make one willing to lay down his life for the other, but on the Day of Resurrection there will be such horror and chaos that they will be unable to take care of anyone. In fact, even if one sees the other…
Read the full tafseer →22 A theme closeay resembling this has already occurred in AI-Ma'arij: 10-14 above. "Fleeing" may also mean that when he sees those nearest and dearest to him in the .world, involved in distress, instead of rushing forth to help them, he will run away from them lest they should call out to him for help; and it may also mean that when they see the evil consequences of committing sin for the sake of one another and misleading one another, fearless of God and heedless of the Hereafter, in the world, each one would flee from the other lest the other should hold him responsible for his deviation…
Read the full tafseer →