Explained with ayahs 86–89
توبہ اور قبولیت
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلعم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہوگیا (ابن جریر) نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
سورة اٰلِ عِمْرٰن 74
یعنی صرف انکار ہی پر بس نہ کی بلکہ عملاً مخالفت و مزاحمت بھی کی، لوگوں کو خدا کے راستہ سے روکنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی تک کا زور لگایا، شبہات پیدا کیے، بدگمانیاں پھیلائیں، دلوں میں وسوسے ڈالے، اور بدترین سازشیں اور ریشہ دوانیاں کیں تاکہ نبی کا مشن کسی طرح کامیاب نہ ہونے پائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–91
خلاصہ تفسیر
(اول ان مرتدین کا بیان ہے جو کفر پر قائم رہ کر اس کو ہدایت سمجھتے رہے، چونکہ ان کا اعتقاد یا دعوی یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اب ہدایت فرمائی، لہذا ان کی مذمت میں اس کی نفی بھی فرماتے ہیں کہ بھلا) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت کریں گے جو کافر ہوگئے بعد ایمان لانے کے (دل سے) اور بعد اپنے اس اقرار کے (زبان سے) کہ رسول ﷺ دعوی رسالت میں) سچے ہیں، اور بعد اس کے کہ ان کو واضح دلیل (حقانیت اسلام کے) پہنچ چکے تھے، اور اللہ تعالیٰ ایسے بےڈھنگے لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتے (یہ مطلب نہیں کہ ایسوں کو کبھی توفیق اسلام کی نہیں دیتے، بلکہ مقصود ان کے اسی دعوی مذکورہ بالا کی نفی کرنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
تفسیر آیت 86 تا 89: لفظ ”ہدایت“ کا خاص مفہوم : لفظ ’ ہدایت ‘ پر ہم بقرہ میں بحث کرچکے ہیں کہ اس کے تین مرحلے ہیں۔ آخری مرحلہ اس کا ہدایت آخرت کا ہے۔ اس مرحلہ میں غایت و مقصود کی طرف ہدایت ہوتی ہے اور بندہ اپنی مساعی کے ثمرہ سے بہرہ مند اور اپنی جدو جہد زندگی کے حاصل سے با مراد ہوتا ہے۔ ہدایت کا لفظ اس معنی میں بھی قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ مجھے بار بار خیال ہوتا ہے کہ ’ یہدی ‘ اس آیت میں اسی معنی میں ہے۔ استاذ مرحوم اس سے ہدایت کا عام مفہوم ہی مراد لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہاں بنی اسرائیل کے لیے جس ہدایت کی نفی ہے وہ من حیث القوم ہے، من حیث الافراد نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو قوم ایسے شدید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
89۔ 1 انصار میں سے ایک مسلمان مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جا ملا لیکن جلدی ہی اسے ندامت ہوئی اور اس نے لوگوں کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ تک پیغام بھجوایا کہ میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں ان آیات سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا اگرچہ بہت سخت ہے کیونکہ اس نے حق پہچاننے کے بعد بغض اور عناد اور سرکشی سے حق سے انکار کیا تاہم اگر کوئی خلوص دل سے توبہ اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اس کی توبہ قابل قبول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
31: یعنی جب تک وہ کفر سے توبہ کر کے ایمان نہیں لائیں گے، دوسرے گناہوں سے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
یہ خوفناک دہمکی دیکھ کر ‘ ہر وہ دل جس میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کانپ اٹھتا ہے اور جن کے دل میں دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں ذمہ داری کا احساس ہو اور یہی مناسب سزا ہے اس شخص کی جسے نجات کا خوبصورت موقعہ ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ اس سے اعراض برتے ۔
لیکن اس کفر واعراض کے باوجود اسلام تو بہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے ۔ اسلام کسی گمراہ کے لئے واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا ‘ لیکن اسے ہدایت کی طرف آنے پر مجبور بھی کر تاکہ وہ دروازہ ہدایت پر خود دستک دے ۔ بلکہ اسلام اس کے قریب ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہونے دیتا ۔ اور یہاں تک کہ وہ اس پرامن محفوظ مقام تک آجائے اور عمل…
Read the full tafseer →6 یعنی اس لعنت کا اثر ہمیشہ رہے گا۔ دنیا میں پھٹکار اور آخرت میں خدا کی مار۔
7 یعنی انہیں نہ کسی وقت عذاب کی شدت میں کمی محسوس ہوگی اور نہ ذرا سی دیر کے لئے عذاب ملتوی کر کے آرام دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 88 خٰلِدِیْنَ فِیْہَا ج لاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلاَ ہُمْ یُنْظَرُوْنَ
یہ الفاظ بھی سورة البقرۃ آیات 161۔ 162 میں آ چکے ہیں۔
Read the full tafseer →77 یعنی عذاب جہنم اپنی حدت و شدت کے لحاظ سے ایسا مسلسل اور متواتر ہوگا کہ نہ تو اس کی حدت و شدت میں کبھی کمی واقع ہوگی اور نہ ہی عذاب کے درمیان کبھی کوئی وقفہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →193 ۔ (جہنم میں پڑنے سے قبل) (آیت) ” لا یخفف عنھم العذاب “۔ جہنم میں پڑنے کے بعد بھی کوئی تخفیف عذاب میں نہ ہوگی۔ (آیت) ” فیھا۔ یعنی اس حالت ملعونیت ومغضوبیت میں۔ ای خالدین فی اللعنۃ (کبیر) دوسرے معنی جہنم میں پڑے رہنے کے بھی ہیں۔ قال ابن عباس ؓ ای فی جہنم (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ (الآیۃ) لیکن جو مرتد ہونے کے بعد شرمندہ ہوئے اور توبہ کی اور اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح بھی کرلی تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمانے والا اور انہیں دنیا میں عمل خیر کی طرف اور آخرت میں جنت کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے۔
مرتد کی بھی تو قبول ہے : کوئی بھی گناہ کیوں نہ ہو، توبہ کرنے سے معاد ہوجاتا ہے، توبہ میں شرط یہ ہے کہ جس قسم کا گناہ ہو ویسی ہی توبہ کرے ظلم سے توبہ یہ ہے کہ مظلوم سے معاف کرائے سود خوری سے توبہ یہ ہے کہ پچھلا لیا ہوا واپس کرے اور اگر ایسا نہ کیا مگر توبہ سچی بکمال ندامت کی تو حقوق اللہ معاف اور حقوق العباد باقی رہیں گے۔…
Read the full tafseer →خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : اس لعنت میں ہمیشہ رہیں گے یا آگ میں ہمیشہ رہیں گے آگ کا ذکر گو صراحۃ نہیں ہے مگر کلام اس پر دلالت کر رہا ہے (کیونکہ لعنت کے بعد دوزخ لازم ہے )
لَا يُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ : ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی۔
وَلَا ھُمْ يُنْظَرُوْنَ : اور نہ ان کو مہلت دی جائیگی (کہ ٹھہر ٹھہر کر عذاب دیا جائے گا کچھ موقع دم لینے کا دیدیا جائیگا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
(87۔ 88) ایسے لوگوں کی سزا یہی ہے کہ ان پر عذاب الہی اور فرشتوں اور تمام مسلمانوں کی لعنت نازل ہوئی ہے۔ اس لعنت میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کسی قسم کی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
یعنی جو لوگ حق کے پوری طرح واضح ہوجانے اور رسول اللہ ﷺ کے سچا نبی ہونے کے روشن دلائل دیکھنے کے باوجود محض کبر و حسد اور مال و جاہ کی محبت کی بنا پر کفر کی روش پر قائم رہے، یا ایک مرتبہ اسلام قبول کرلینے کے بعد پھر مرتد ہوگئے تو وہ سراسر ظالم و بدبخت ہیں، ایسے لوگوں کو راہ ہدایت دکھانا اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرتد شخص کافر سے زیادہ مجرم ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی)
حسن بصری ؓ نے ایک اور آیت کے ساتھ اس کی بہترین تفسیر فرمائی کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، وہ اپنی کتابوں میں محمد ﷺ کو موجود پاتے تھے، ان کی آمد پر ان کے ذریعے سے فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے (گویا آپ پر ایمان رکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
آیت نمبر : 87
یعنی اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہیں اور لعنۃ اللہ والناس کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
(آیت) ” ولا ھم ینظرون یعنی نہ انہیں موخر کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی پھر اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے والوں کی استثناء فرمائی اور ارشاد فرمایا : (آیت) ” الا الذین تابوا “ مراد حارث بن سوید ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے معنوی طور پر آیت میں ہر وہ داخل ہے جس نے اسلام کی طرف رجوع کیا اور اس کے لئے مخلص ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
(1) البزار نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ قوم اسلام لائی پھر مرتد ہوئی پھر اسلام لائی پھر مرتد ہوئی انہوں نے اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا تاکہ ان کے لیے (رسول اللہ ﷺ سے سوال کریں۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان الذین کفروا بعد ایمانہم ثم ازدادو کفرا “۔
(2) ابن جریر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں موت کے وقت ہرگز ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
(3) عبد بن حمید وابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے یہودی مراد ہے جنہوں نے انکار کیا انجیل…
Read the full tafseer →[خٰلِدِیْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ] [فِیْہَا : اس (لعنت ) میں ] [لاَ یُخَفَّفُ : ہلکا نہیں کیا جائے گا ] [عَنْہُمُ : ان سے ] [الْعَذَابُ : عذاب ] [وَلاَ ہُمْ : اور نہ ہی ان کو ] [یُنْظَرُوْنَ : مہلت دی جائے گی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–90
مرتدوں اور کافروں کی سزا
تفسیر درمنثور صفحہ 19: ج 2 میں نقل کیا ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر کافر ہو کر اپنی قوم کی طرف چلا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (کَیْفَ یَھْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا۔۔ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) تک نازل فرمائی۔ اس کی قوم میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا اور اسے پوری آیت سنائی۔ آیت سن کر حارث بن سوید نے کہا میں جہاں تک جانتا ہوں تو سچا ہے اور رسول اللہ ﷺ تجھ سے بڑھ کر سچے ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم دونوں سے بڑھ کر سچا ہے۔ اس کے بعد اس نے (دو بارہ) اسلام قبول کرلیا اور اچھی طرح اسلام کے کاموں میں لگا رہا۔ چونکہ آیت میں (اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا) بھی ہے اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
خلاصۂ حقیقت اسلام وعدم قبول غیر دین اسلام
قال تعالیٰ افغیر دین اللہ یبغون۔۔ الی۔۔ وما لھم من نصرین
توحید اور رسالت کے بعد دین اسلام کی حقیقت کا خلاصہ بیان فرماتے ہیں کہ اسلام اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین ہے اور اسلام ہی تمام کائنات کا دین ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی دین کی دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے چلے آئے آخرت کی نجات کا دارومدار یہی دین اسلام ہے اس کے سوا اللہ کے یہاں کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ کیا یہ لوگ آنے والے رسول پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کا پختہ عہد اور پیمان کرنے کے بعد بھی اللہ کے…
Read the full tafseer →127 فِیْھَا میں ضمیر لغت کی طرف راجع ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں لگا تار ان پر لعنت کا نزول ہوتا رہے گا۔ اور آخرت میں ان کے عذاب میں نہ کمی کی جائے گی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–91
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حنیفیت کی تشریح بیان فرمائی تھی۔ اور اسلام کی حقانیت کا تذکرہ کیا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ اللہ کے ہاں اسلام کے سوا کوئی دین قابل قبول نہیں ہے۔ جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کا طالب ہوگا ، اس سے وہ چیز قبول نہیں کی جائے گی اور ایسا شخص ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ خاص طور پر آخرت میں تو وہ جہنم کا مستحق ہو کر سراسر نقصان اٹھائے گا۔ اب آج کے درس میں اسلام کے بعد کفر کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اور واضح کیا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دے گا۔ اور نہ ہی ان کی توبہ قبول کی جائیگی وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
آخرت کا مدار…
Read the full tafseer →خٰلِدِيْنَ فِيْہَا 0 ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْظَرُوْنَ 88 ۙ
خلد
الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ،
( خ ل د ) الخلودُ ( ن )
کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم
رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–91
ترکیب : کیف حال ہے اور عامل اس میں یہدی ہے شہدوا حال ہے ضمیر کفروا سے اولئک مبتداء جزاء ھم مبتدا ان اور اس کا اسم و خبر مجموعہ خبر پھر یہ تمام جملہ مبتداء اول کی خبر ہوا خلدین حال ہے ضمیر علیہم سے اور عامل اس میں جاریا اس کا متعلق ہے ذھبًا تمیز ہے ملْ سے اور بہ کی ضمیر اسی طرف پھرتی ہے۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ منکروں کے لئے ہر قسم کے بیان شافی ذکر فرما چکا اور پھر بھی وہ ہدایت پر نہ آئے تو جس طرح طبیب علاج کرکے جب صحت نہیں دیکھتا تو یہی کہتا ہے کہ تم کو کس طرح تندرستی ہو تم ایسی ایسی بدپرہیزی کرتے اور کرچکے ہو اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے تیرہ باطن اور سیاہ قلب لوگوں کو کیونکر ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمْ اَنَّ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ لا خٰلِدِیْنَ فِیْہَا لاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلَا ہُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ لا اِلَّاالَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا قف فاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔
(ان لوگوں کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور اس کے فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہوتی ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گانہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلی تو بیشک اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے )
(87 تا 89)
یعنی جن لوگوں نے دل کے یقین اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے لیے توبہ کی گنجائش اور توبہ کرنے پر مہربانی کا وعدہ۔
توبہ کا معنٰی پلٹنا ہے جس سے مراد آدمی کا اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے کیونکہ یہ شخص اپنے گناہوں اور جرائم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے الگ اور اس کی رحمت سے دور ہوگیا تھا۔ اب یہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا ہے اور اس نے توبہ کی ایسے شخص کو تائب کہتے ہیں۔ جب لفظ توبہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو معنٰی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر توجہ فرمائی۔
توبہ کی تکمیل کے لیے دو شرطیں ازحد ضروری ہوا کرتی ہیں 1 سابقہ گناہوں کی معافی طلب کرنا جسے قرآن و حدیث میں استغفار کہا گیا۔ 2 دوسری شرط یہ ہے کہ آدمی اخلاص نیت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
توبہ کا فائدہ :
88، 89: خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَا یُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (ان سے عذاب کو نہ ہلکا کیا جائے گا اور نہ مہلت دی جائے گی مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اس کفر کے بعد) ذٰلِکَ کا مشار ٌ الیہ کفر و ارتداد ہے۔ وَاَصْلَحُوْا (اور اصلاح نفس کرلی) یعنی جو بگاڑ پیدا کیا تھا اسکی ایمان کے بعد درستگی کرلی۔ یا بھلائی میں داخل ہوگئے (یعنی ایمان قبول کرلیا) فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ ( پس اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں) ان کے کفر کو رَّحِیْمٌ (ان پر رحم کرنے والے ہیں) یہ آیت یہود…
Read the full tafseer →88۔: خالدین فیھا “۔
(شان نزول)
حارث بن سوید جب مرتد ہو کر کافروں سے ملے تو ندامت ہوئی تو انہوں نے آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی کو بھیجا تا کہ ان سے پوچھیں کہ میرے لیے توبہ قبول ہوسکتی ہے ، اور اگر ایسا کروں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–91
(86 ۔ 91) ۔ نسائی اور صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے۔ حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ حارث بن سوید انصاری اور طعمہ بن ابریق وغیرہ سب بارہ شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے اور مدینہ سے مکہ کو چلے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا ٹکڑا ولا ھم ینظرون تک نازل فرمایا پھر حارث بن سوید کو اپنے مرتد ہونے پر بڑا افسوس ہوا تو انہوں نے انصار سے جو ان کی قوم کے مدینہ میں تھے یہ پیغام کہلا بھیجا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کریں کہ ہم لوگ کی توبہ قبول ہوسکتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے دوسرا ٹکڑا آیت کا الا الذین تابوا نازل فرمایا۔ اس پر حارث بن سوید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
کیسے ہدایت دے گا اللہ ان کو جو کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے اور (بعد اسکے کہ) گواہی دی انہوں نے اس بات کی کہ بلاشبہ رسول برحق ہیں ‘ اور آئیں ان کے پاس واضح نشانیاں ‘ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو۔ یہ لوگ ‘ سزا ان کی (یہ ہے کہ) بیشک ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس لعنت میں ‘ نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دئیے جائیں گے۔
یہ استفہام استبعاد کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے ‘ جنہوں نے ایمان لاکر اور رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کے بعد کفر اور زماہی کو اختیار کرلیا۔
” اور اللہ ظالموں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–92
راہ خدا میں محبوب چیز قربان کرنا
قول باری ہے (لن تنالوالبرحتی تنفقوامما تحبون، تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیزرکھتے ہو) البر کے معنی دواقوال ہیں اول جنت عمروبن میمون اور سدی سے یہی منقول ہے۔ دوم نیکی کا کام جس کی بناپربندے اجر کے مستحق قرارپاتے ہیں نفقہ سے مراد اللہ کی راہ میں صدقہ وغیرہ کی صورت میں پسند یدہ چیزیں دے دینا ہے۔ یزیدبن ہارون نے حمید سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب درج بالاآیت نازل ہوئی نیزیہ آیت (من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے) تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا…
Read the full tafseer →182 کافروں کیلئے ہمیشہ کا عذاب : کیونکہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوا اور کفر کی سزا یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ لعنت و پھٹکار ہی ان کیلئے دوزخ کا دائمی عذاب بن جائے گی جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے سچی توبہ سے حق کی طرف رجوع کرلیا۔ " فیہا " کی ضمیر مجرور کا مرجع دوزخ ہے۔ اور دوزخ کا ذکر اگرچہ الفاظ میں موجود نہیں لیکن اوپر جس لعنت کا ذکر آیا ہے اس نے ایسا واضح قرینہ بہم پہنچا دیا ہے کہ لفظوں میں اس کے ذکر کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ یہ لعنت گویا خود ہی دوزخ کے قائمقام بن گئی۔ اس اسلوب کی مختلف مثالیں قرآن حکیم میں کئی جگہ موجود ہیں۔ سو کفر و انکار محرومیوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
جان بوجھ کر حق کو قبول نہ کرنا
تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو سب کچھ جان لینے کے بعد بھی نبی کریم ﷺ پر ایمان نہ لائے اور یہ اشارہ یقیناً یہود و نصاریٰ کی طرف ہی ہے۔ ان کی کتابوں میں محمد ﷺ کی نبوت، آخری کتاب قرآن اور دین اسلام کے بارے میں سب کچھ بڑی تفصیل سے بتا دیا گیا تھا۔ وہ انہوں نے مان بھی لیا تھا مگر صرف اپنی ضد، حسد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے محمد ﷺ پر ایمان لانے کو تیار نہ تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ انتہائی ظالم لوگ ہیں۔ یہ کبھی بھی ہدایت کی راہ اختیار نہیں کریں گے اس لئے اللہ بھی ان کو ہدایت نہیں دینا چاہتا۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
آیات 81- 91
اسرارومعارف
واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔
اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔
یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ف 4 اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرتد صدق دل سے توبہ کرلے اور دوبارہ اسلام لے آئے تو اللہ تعالیٰ اس کی پچھلی غلطی کو معاف فرمادیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک آدمی (حارث بن سوید) اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جا ملا۔ پھر وہ نادم ہوا اور اس نے اپنے قبلے کے لوگوں سے کہلا بھیجا کہ تم رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرو کہ آیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس کے بعد اس کے بھائی نے اس کے پاس یہ آیت بھیج دی اور وہ دوبارہ مسلمان ہوگیا اور سچا مسلمان رہا۔ (ابن کثیر۔ ابن جریر) البتہ جو شخص ارتداد پر اصرا کرے اس کی سزا قتل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–90
(3:85) یبتغ۔ اصل میں ینتغی تھا۔ من عامل کی وجہ سے غ جو آخری متحرک حرف تھا ساکن ہوگیا۔ ی بوجہ ساکنین کے گرگئی۔ ی کی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لئے غ مکسور کردی گئی مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ابتغاء مصدر۔ چاہے۔ ڈھونڈھے۔ طلب کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–91
لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91
لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 81 تا 91
پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے
نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
اسلام کے سوا کوئی راستہ خدا تک پینچنے کے لئے نہیں
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت یہود ونصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی کہ آنحضرت ﷺ نے نبی ہونے سے پہلے یہود لوگ آنحضرت ﷺ کو نبی برحق مانتے تھے اور آپ کا نام لے کر فتح کی دعا مانگتے تھے۔ جب آحضرت ﷺ نبی ہوئے تو مرتدوں کی طرح آپ سے پھرگئے اور کافر ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو کیسے توفیق ایمان دے جو جان بوجھ کر منکر ہوگئے، حضور ﷺ کے معجزات دیکھ چکے تھے۔ حارث بن سوید انصاری اور طعمہ بن ابریق وغیرہ کو کفار کے ساتھ جاملنے کے بعد ندامت ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو جو مدینہ میں تھے یہ پیام کہلا بھیجا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کریں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–92
[33] یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ ﷺ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء (علیہ السلام) لاتے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی حق کی اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آ رہے تھے۔ اس کا اندازہ اس سلسلے کے ایک دلچسپ واقعہ سے ہوسکتا ہے۔ سیدہ صفیہ (زوجہ رسول اللہ ﷺ یہ روداد بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے اور قبا میں قیام فرمایا تو میرے والد اور چچا منہ اندھیرے ملاقات کے لئے گئے تو غروب آفتاب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–90
مرتد :
(ف 1) وہ لوگ جو اسلام کو قبول کرکے چھوڑ دیتے ہیں ، قرآن کی اصطلاح میں مرتد ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ نوع کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں ، ان پر اللہ کا غضب ہوتا ہے ، یہ فرشتوں اور تمام نیک لوگوں کی ناراضگی خریدتے ہیں ، یہ لوگ جہنم کا کندہ ہیں ، ان کے عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی اور نہ یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر التفات کرے ، البتہ وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور پھر سے اسلام میں داخل ہو کر اصلاح اعمال میں مصروف ہوجائیں ‘ ان کے لئے اللہ کی بخشیش عام ووسیع ہیں اور وہ جو معاند ہوں اور کفر کے بعد ان کا بغض وعناد زیادہ ترقی کرجائے ، ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں ۔
آخرت میں مرتدین کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
ف 4۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت کی توفیق بخشے جو ایمان لانے کے بعد اور زبان سے اس بات کی شہادت دینے کے بعد کہ یہ رسول اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور اس کے بعد کہ ان کو اسلام کی صداقت کے واضح دلائل پہنچ چکے ۔ ان تمام انعامات کے بعد پھر وہ لوگ کافر ہوگئے اور انہوں نے کفر اختیار کرلیا اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ستم شعار لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا ۔ ( تیسیر)
آیت کا تعلق یا تو ان بارہ آدمیوں سے ہے جو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور مدینہ سے مکہ چلے گئے تھے۔ جیسے حارث بن سوید اور طمعہ بن ابیرق اور حجوج بن اسلت وغیرہ اور یا اس آیت کا تعلق معصب اور معاند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
ف 3۔ یعنی منافقانہ طور پر صرف زبان سے توبہ کافی نہیں۔
Read the full tafseer →ان کا عذاب ان سے کبھی ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ہی ان کو مہلت ملے گی :
174: جس طرح وہ اسلام سے نکلے اور کفر میں داخل ہوئے اور پھر کفر ہی پر ان کو موت آگئی یعنی ان کا خاتمہ کفر پر ہی ہوا اسی طرح ان کے لیے عذاب بھی اب ہمیشہ ہمیشہ ہی کے لیے رہے گا اور وہ کبھی ہلکا نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ اس سے نکل سکیں گے کیونکہ ان کے عذاب میں تخففہ بھی نہیں ہوگی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی یعنی نہ ایسا ہوگا کہ کچھ دیر کے لیے عذاب سے چھوٹ جائے اور پھر گرفتار ہوگئے بلکہ یہاں سے چھوٹنے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے کیونکہ دنیا کی زندگی کے بعد موت یقینی تھی لیکن اس زندگی میں موت کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ گویا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–91
Commentary
The removal of a doubt:
On a superficial view of the verse كَيْفَ يَهْدِي اللَّـهُ : 'How shall Allah give guidance...' (86), there emerges a doubt that whoever turns an apostate receives no guidance afterwards, although, the fact is contrary to this. There are many who, after having become apostates, re-embrace the faith and become recipients of guidance.
The answer is that the withholding of guidance mentioned here is in accordance with common usage. For instance, some criminal when punished by a certain ruler may say, 'I have been given a special treatment by the ruler with his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
74. They were not content with just rejecting the call to the Truth but stood in vehement opposition and hostility to it and spared no efforts in obstructing people from following the way of God. They created doubts, spread misgivings, sowed the seeds of distrust and engaged in the worst conspiracies and machinations in order to frustrate the mission of the Prophet (peace be on him).
Read the full tafseer →