Aal-i-Imraan 3:25

Aal-i-Imraan · from ayah 25

3:25

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ ۫— وَوُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ۟فَكَيۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰهُمۡ لِيَوۡمٍ لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ

تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So how will it be when We assemble them for a Day about which there is no doubt? And each soul will be compensated [in full for] what it earned, and they will not be wronged.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 3 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:25

مگر کیا بنے گی اُن پر جب ہم انہیں اُس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے؟ اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دے دیا جائیگا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس کیا حال ہوگا جبکہ ہم انہیں اس دن جمع کرینگے؟ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص اپنا اپنا کیا پورا پورا دیاجائے گا اور ان پر ﻇلم نہ کیاجائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم انہیں ایک ایسے دن (کا سامنا کرنے) کے لیے جمع کر لائیں گے جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے اور ہر ہر شخص نے جو کچھ کمائی کی ہوگی وہ اس کو پوری پوری دے دی جائے گی، اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیسی ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لئے جس میں شک نہیں اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر (بالکل پوری) دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو کیا حال ہو گا جب ہم ان کو اس دن جس (کے بپا ہونے) میں کوئی شک نہیں جمع کریں گے، اور جس جان نے جو کچھ بھی (اعمال میں سے) کمایا ہو گا اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا حال ہوگا جب ہم انھیں اس دن کے لیے جمع کریں گے جس میں کوئی شک نہیں اور ہر جان کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم انہیں اس دن جمع کریں گے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ اور جس نے بھی کوئی عمل کیا ہوگا اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس وقت کیا ہوگا جب ہم ان کو ایک ایسے دن کے لیے اکٹھا کریں گے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر جان کو جو اس نے کمائی کی ہوگی پوری کی جائے گی، ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر کیا حال ہوگا ان لوگوں کا اس وقت، جب کہ ہم اکٹھا کر لائیں گے ان سب کو ایک ایسے ہولناک دن میں جس میں کوئی شک (وشبہ) نہیں، اور (اس روز) پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر کسی کو اس کی (زندگی بھر کی) کمائی (اور کئے کرائے) کا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

سو اس روز جس میں ذرا شک نہیں جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے تو کیا حال ہوگا۔ اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کیا ہے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر (ذرا) ظلم نہ کیا جائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا حال ہوگا جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن جس کے بارے میں کوئی شک نہیں ! اور ہر جان کو پورا پورا دے دیا جائے گا جو کچھ اس نے کمائی کی ہوگی اور ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر ان پر کیا گزرے گی جب ہم انہیں اس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دے دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

How, then, will they fare when We shall gather them all together to witness the Day about (the coming of) which there is no doubt, and when every human being shall be repaid in full for what he has done, and none shall be wronged?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, how (will it be) when We will gather them together on a day about which there is no doubt, and everybody will be paid in full for what he has earned, and they shall not be wronged?

— Muhammad Taqi Usmani

Then, how (will it be) when We will gather them together on a day about which there is no doubt, and everybody will be paid in full for what he has earned, and they shall not be wronged?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

How (will it be) when We gather them together on the Day about which there is no doubt (i.e. the Day of Resurrection). And each person will be paid in full what he has earned And they will not be dealt with unjustly.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

How (will it be with them) when We have brought them all together to a Day of which there is no doubt, when every soul will be paid in full what it hath earned, and they will not be wronged.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So how will it be when We assemble them for a Day about which there is no doubt? And each soul will be compensated [in full for] what it earned, and they will not be wronged.

— Saheeh International

What will happen to their belief when We bring them together on the Inevitable Day when every soul will be justly recompensed for its deeds?

— Muhammad Sarwar

Then how will it be when We shall gather them together on a day about which there is no doubt, and every soul shall be fully paid what it has earned, and they shall not be dealt with unjustly?

— Muhammad Habib Shakir

How shall it be then, when we shall gather them on the Day whereof there is no doubt, and every soul shall be repaid in full that which it hath earned, and they shall not be wronged.

— Abdul Majid Daryabadi

But how (will they fare) when we gather them together against a day about which there is no doubt, and each soul will be paid out just what it has earned, without (favour or) injustice?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–25

جھوٹے دعوے یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے، اس مخالفت حق اور بےجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کردیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز، دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن، اس کی پوری تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–27

سورة اٰلِ عِمْرٰن 24 جب انسان ایک طرف کافروں اور نافرمانوں کے کرتوت دیکھتا ہے اور پھر یہ دیکھتا ہے کہ وہ دنیا میں کس طرح پھل پھول رہے ہیں، دوسری طرف اہل ایمان کی اطاعت شعاریاں دیکھتا ہے اور پھر ان کو اس فقر و فاقہ اور ان مصائب و آلام کا شکار دیکھتا ہے، جن میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام سن 3 ہجری اور اس کے لگ بھگ زمانے میں مبتلا تھے، تو قدرتی طور پر اس کے دل میں ایک عجیب حسرت آمیز استفہام گردش کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اس استفہام کا جواب دیا ہے اور ایسے لطیف پیرائے میں دیا ہے کہ اس سے زیادہ لطافت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–25

(اے محمد ﷺ کیا آپ نے ایسے لوگ نہیں دیکھے جن کو کتاب (سماوی یعنی توراۃ) کا ایک (کافی) حصہ دیا گیا (کہ اگر ہدایت کے طالب ہوتے تو وہ حصہ اس غرض کی تکمیل کے لئے کافی تھا) اور اسی کتاب اللہ کی طرف اس غرض سے ان کو بلایا بھی جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان (مذہبی اختلاف کا) فیصلہ کردے پھر (بھی) ان میں سے بعض لوگ انحراف کرتے ہیں بےرخی کرتے ہوئے (اور) یہ (بےاعتنائی) اس سبب سے ہے کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں (اور یہی ان کا اعتقاد ہے) کہ ہم کو صرف گنتی کے تھوڑے دنوں تک دوزخ کی آگ لگے گی (پھر مغفرت ہوجاوے گی) اور ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ان کی تراشی ہوئی باتوں نے (جیسے اسی تراشے ہوئے عقیدہ نے ان کو دھوکہ دیا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی یہ تو یہ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اور آخرت سے متعلق یہ لذیذ خواب دیکھ رہے ہیں لیکن اس وقت کیا بنے گا جب ہم ان کو ایک ایسے یوم الفصل کے احوال و نتائج دیکھنے کے لیے جمع کریں گے جو اس کائنات کی ایک اٹل حقیقت اور جس کے پیش آنے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ؟ ہمارے نزدیک لام یہاں ’ فی ‘ کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے، اس لیے کہ اس کے اندر ظرفیت کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اور عربی زبان کے قواعد کی رو سے اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ یہاں حرف جر کے بعد ایک مضاف محذوف مان لیا جائے۔ ہم نے اسی دوسرے پہلو کو سامنے رکھ کر آیت کی وضاحت کی ہے۔ اس دن کی ایک خصوصیت تو یہ بیان ہوئی کہ اس کے آنے میں کسی شک کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25۔ 1 قیامت والے دن ان کے یہ دعوے اور غلط عقائد کچھ کام نہ آئیں گے اور اللہ تعالیٰ بےلاگ انصاف کے ذریعے سے ہر نفس کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دے گا کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–26

6: جب غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَاهُمْ لِيَوْمٍ لا رَيْبَ فِيهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ ” مگر کیا بنے گی ان پر جب ہم انہیں اس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے ؟ اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دیدیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “……………کیاحال ہوگا ؟ یہ ایک خوفناک دہمکی ہے ۔ دل مومن کانپ اٹھتا ہے ‘ وہ سنتے ہی محسوس کرتا ہے کہ وہ دن نہایت ہی خوفناک اور سنجیدہ ہوگا ‘ اللہ کے سامنے پیشی کا دن ہوگا۔ اس صحیح عدل ہوگا۔ اس دن کا تصور اور اس کا صحیح شعور ان باطل تصورات اور ان کے خود گھڑے ہوئے تصورات سے کوئی میل نہیں کھاتا ۔ اس تہدید اور تخویف کے بعد یہ حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اس وقت پتہ چلے گا کہ کس اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔ جب محشر میں تمام اولین و آخرین اور خود اپنے بزرگوں کے سامنے رسوا ہوں گے اور ہر عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ نہ کفارہ کا مسئلہ یاد آئے گا، نہ نسبی تعلقات اور من گھڑت عقیدے کام دینگے۔ 3 یعنی فرضی جرائم پر سزا نہ ہوگی، ان کاموں پر ہوگی جن کا جرم ہونا خود تسلیم کرینگے اور جس قدر سزا کا استحقاق ہوگا، اس سے زیادہ نہ دی جائے گی نہ کسی کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی ضائع ہو سکے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْبَ فِیْہِ قف اِس وقت تو یہ بڑھ چڑھ کر باتیں بنا رہے ہیں ‘ زبان درازیاں کر رہے ہیں۔ لیکن جب ہم انہیں ایک ایسے دن میں جمع کریں گے جس کے آنے میں ذرا شک نہیں ‘ تو اس دن ان کا کیا حال ہوگا ! وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ اس کے بعد اب پھر ایک بہت عظیم دعا آرہی ہے۔ اس سورة مبارکہ میں بہت سی دعائیں ہیں۔ یہ بھی ایک عظیم دعا ہے ‘ جس کی باقاعدہ تلقین کر کے کہا گیا ہے کہ یوں کہا کرو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بہت سے مقامات پر اپنے قانون جزاء و سزا کی وضاحت فرما دی ہے۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر انسان کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ہو، آباؤ اجداد کی نیکی یا بندگی کسی کے کچھ بھی کام نہ آسکے گی۔ نیز اتنا ہی ملے گا جتنا اس نے عمل کیا ہے، نہ کم نہ زیادہ، کمی تو کسی صورت نہ ہوگی اور اللہ اگر چاہے تو عمل کا زیادہ بدلہ بھی دے سکتا ہے۔ نیز اللہ کے حضور کرے کوئی اور بھرے کوئی والا سلسلہ بھی نہیں چل سکتا۔ کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہوں کا بار اٹھانے کو تیار نہ ہوگا خواہ وہ اس کا کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ البتہ جو شخص کوئی ایسا نیکی کا کام جاری کر جائے جو اس کی موت کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

61 ۔ (ان بدبختوں اور شامت زدوں کا) (آیت) ” یوم لا ریب فیہ “۔ یعنی قیامت کے دن۔ اس طرز تسمیہ سے مقصود قیامت کا محض ذکر ہی کردینا نہیں۔ بلکہ اس کے وقوع کی قطعیت کو ذہن میں تازہ کردینا ہے۔ (آیت) ” فکیف “ اس طرز استفہام سے مقصود عذاب کی ہولناکی کا اظہار ہے۔ استعظام وتھویل وھدم لما استندوا الیہ (روح) (آیت) ” لیوم “۔ میں ل، فی، کے معنی میں ہے۔ واللام فی قولہ لیوم بمعنی فی قالہ الکسائی (قرطبی) 62 ۔ (کہ کسی کو سزا بلاجرم یا زائد از جرم مل جائے یا کسی کی کوئی نیکی بغیر اجر کے چھوٹ جائے) (آیت) ” ماکسبت “۔ جو کچھ اس نے حاصل کیا ہے خواہ وہ حسنات ہوں یا سیئات۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیآءَ (الآیۃ) اولیاء ولی کی جمع ہے ولی ایسے دوست کو کہتے ہیں جس سے دلی محبت اور خصوصی تعلق ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو آپس میں ایک دوسرے سے خصوصی تعلق اور قلبی لگاؤ ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں اہل ایمان کو اس بات سے سختی سے منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دلی دوست بنائیں، کیونکہ کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور اہل ایمان کے بھی، تو پھر ان کو دوست بنانے کا جواز کس طرح ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ تاکہ اہل ایمان کافروں کی موالات اور ان سے خصوصی دوستی اور خصوصی تعلق سے گریز کریں۔ البتہ حسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فَكَيْفَ اِذَا جَمَعْنٰھُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ : پس ان کا کیا حال ہوگا اس وقت جبکہ ہم ان کو ایک یقینی دن کے حساب اور جزاء سزاء کے لیے جمع کریں گے۔ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ : اور ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ : اور کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ ھُم ضمیر جمع کل کی طرف راجع ہے کیونکہ لفظ کل معنی کے لحاظ سے جمع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کی نہ نیکی میں کمی کی جائے گی نہ بدی میں اضافہ۔ قتادہ نے کہا ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ نے اللہ سے دعا کی تھی کہ فارس اور روم کا ملک میری امت کو عطا فرما دے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(25) اسے محمد ﷺ مرنے کے بعد اس دن جس کے آنے میں بالکل شک نہیں، ان لوگوں کا کیا حال ہوگا اور یہ کیا کریں گے اور اس دن یہ عالم ہوگا کہ ہر ایک نیک وبد کو اس کی نیکی اور بدی کا پورا پورا بدلا مل جائے گا درحقیقت نہ ان کی نیکیوں میں کسی قسم کی کمی کی جائے گی اور ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا، بلکہ عدل کے جملہ تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعنی انھیں جان لینا چاہیے کہ قیامت کے روز جب ہمارے حضور جمع ہوں گے تو ان کا بہت برا حال ہوگا، ان کے یہ من گھڑت عقیدے ان کے کسی کام نہیں آسکیں گے اور نہ انھیں اپنے بزرگوں سے جھوٹی محبت اور دامن گیری اللہ کے عذاب سے بچا سکے گی۔ کوئی نبی یا ولی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر سفارش بھی نہیں کرسکے گا۔ (ترجمان)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 25۔ تو توقیف اور تعجب کی جہت پر حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کی امت کو خطاب ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 416 دارالکتب العلمیہ) یعنی کیا حال ہوگا ان کا یا وہ کیا کریں گے جب قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور ان سے ان کے وہ حسن مضمحل ہوجائیں گے جن کا وہ دنیا میں دعوی کرتے تھے اور جو کچھ انہوں نے اپنے کفر، اپنی جرات اور اپنے قبیح اعمال میں سے کمایا اس کا انہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ قول باری تعالیٰ ” لیوم “ میں لام بمعنی فی ہے، کسائی نے یہی کہا ہے۔ اور بصریوں نے کہا ہے : اس کا معنی ہے لحساب یوم “۔ (اس دن کے حساب کے لئے) اور طبری نے کہا ہے : لما یحدث فی یوم۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–26

(1) عبد بن حمید ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اس فارس اور روم کے ملک آپ کی امت کو دے دیئے جائیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من النار “۔ (2) ابن المنذر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے محمد ﷺ اپنے رب سے اس طرح سوال کیجئے لفظ آیت ” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء “ سے لے کر ” وترزق من تشاء بغیر حساب “ تک پھر جبرئیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے محمد ! اپنے رب سے سو ال کر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَکَیْفَ : تو کیسا ہوگا ] [اِذَا : جب ] [جَمَعْنٰہُمْ : ہم جمع کریں گے ان کو ] [لِیَوْمٍ : ایک ایسے دن کے لیے ] [لاَّ رَیْبَ : کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے ] [فِیْہِ : جس میں ] [ وَوُفِّیَتْ : اور پور اپورا دیا جائے گا ] [کُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان کو ] [مَّا : وہ ‘ جو ] [کَسَبَتْ : اس نے کمایا ] [وَہُمْ : اور ان پر ] [لاَ یُظْلَمُوْنَ : ظلم نہیں کیا جائے گا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–25

(وَ غَرَّھُمْ فِیْ دِیْنِھِمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ایسی سند نہیں جس میں اس کا وعدہ ہو کہ چند دن کے بعد وہ دوزخ سے نکل آئیں گے انہیں معلوم ہے کہ دین حق کا انکار کفر ہے اور کفر کا عذاب دائمی ہے۔ پھر بھی اوہام و خیالات اور افترات کی دنیا میں مستغرق ہیں ان کی خوش فہمیوں میں یہ بھی تھا کہ ہم انبیاء کرام کی اولاد ہیں وہ ہمیں بخشوا لیں گے، یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے بیٹوں کو عذاب نہیں دے گا۔ بس اتنا ہوگا کہ دوزخ سے عبور کریں گے اور یہ بھی کہتے تھے کہ (نَحْنُ اَبْنَآء اللّٰہِ وَ اَحِبَّآءُ ہٗ ) کہ ہم اللہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–25

ذکر بعض احوال شنیعہ یہود بےبہود۔ قال تعالی، ان لذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبیبن۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔ شروع سورت میں روئے سخن زیادہ تر نصاری کی طرف تھا اور گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عنوان سے یہود اور نصاری دونوں کو خطاب تھا اب ان آیات میں خاص یہود کے بعض افعال کی متعدد آیات میں یہود کا قاتل انبیاء ہونا بیان ہوا ہے اس لیے اس آیت سے خصوصیت کے ساتھ یہود کو خطاب شروع ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو دیدہ و دانستہ جان بوجھ کر ناحق قتل کرتے ہیں یعنی خود بھی جانتے ہیں کہ ہمارا یہ فعل سراسر ناحق ہے مگر حق کی عداوت اور دنیا کی محبت میں اتنے اندھے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35 یہ ان فریب خوردہ یہودیوں کے لیے اخروی تخویف ہے۔ لِیَوْمٍ میں لام بمعنی فی ہے۔ (قرطبی ج 4 ص 51، روح ج 3 ص 112) یعنی دنیا میں تو وہ کتاب اللہ کی طرف آنے سے انکار کر رہے ہیں اور جھوٹی آرزؤوں سے دل بہلا رہے ہیں مگر اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم ان سب کو ایک ایسے دن میں جمع کریں گے۔ جس کی آمد میں کوئی شک نہیں اور ان کی آرزؤوں کے علی الرغم ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائیگی اور اپنے ذاتی اعمال صالحہ کے بغیر بزرگوں سے انتساب کسی کام نہیں آئے گا۔ اور وہاں کسی پر ظلم بھی نہیں ہوگا۔ نہ کسی کے اعمال صالحہ کی جزا میں کمی کی جائے گی اور نہ کسی کے گناہوں کی واجبی سزا میں اضافہ کیا جائیگا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–25

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا تھا۔ کہ اہل کتاب نے دین میں اختلاف نہیں کیا مگر علم آجانے کے بعد محض سرکشی ، حسد ، عناد ، اور بغض کی وجہ سے انہوں نے دنیا کے جاہ و مال ، ریاست اور اقتدار کی خاطر دین حق کو قبول نہ کیا نیز یہ بھی بیان ہوا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرے گا۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ اس کے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ اللہ کے سچے دین کو مان لے۔ صحیح عقیدہ اختیار کرلے اور خدا تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہوجائے۔ آیات سے انکار : ان آیات میں بھی اہل کتاب کا ہی ذکر ہے۔ فرمایا ان الذین یکفرون بایات اللہ ، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَكَيْفَ اِذَا جَمَعْنٰھُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْہِ۝ 0 ۣ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۝ 25 كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–25

ترکیب : یدعون موضع حال میں ہے الذی سے اور ھم معرضون جملہ موضع رفع میں ہے ‘ صفت ہے فریق کی یا حال ہے ضمیر محرور سے۔ ذلک مبتداء بانہم خبر فکیف موضع نصب میں ہے اور عامل اس میں محذوف ہے تقدیرہ کیف یصنعون۔ لا ریب فیہ جملہ صفت ہے یوم کی ووفیت اس پر معطوف والعائد محذوف۔ تفسیر : یہ ان اہل کتاب کی ایک خصلت بد بیان کی جاتی ہے اور اس کا سبب بھی بتایا جاتا ہے کہ مذہب انبیائی میں تحریف کرکے انہوں نے چند ڈھکوسلے بنا رکھے ہیں جن کے اعتماد پر وہ ایسا کرتے ہیں۔ خصلت بد یہ تھی کہ جب ان کو باہمی منازعات کے فیصلہ کے لئے کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا کہ جو کتاب اللہ کہہ دے ٗ اس کو مانو تو وہ روٹھ کر چلے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰـہُمْ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ فِیْہِ قف وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لَایُظْلَمُوْنَ ۔ (سو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم انھیں ایک ایسے دن کے لیے جمع کریں گے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا) (25) جن لوگوں نے آخرت میں نجات کے لیے چند جھوٹے سہارے تراش رکھے ہیں اور امیدوں اور آرزوئوں میں بہل کر اس فریب میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ہمیں آخرت میں کوئی پکڑنے والا نہیں، اللہ نے جنت ہمارے لیے ہی پیدا کی ہے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اس روز ان کا کیا حال ہوگا جب ہم انھیں قیامت کے دن قبروں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–26

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب اسلام کی عظمت، غلبہ اور نبی محترم ﷺ کی عزت ختم کرنے کے درپے ہیں جب کہ عزت وذلت، اختیار و اقتدار، موت وحیات اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ یہودی اپنے آپ کو سلسلۂ نبوت کا وارث سمجھتے ہیں جس بنا پر انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکانے کی سازش کی اور اسی بنا پر یہ رسول محترم ﷺ ، اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کے درپے ہوئے اور رہتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں سب سے پاک، معزز اور اللہ تعالیٰ کے مقرب یہودی ہیں لہٰذا جب بھی غلبۂ اسلام یا مسلمانوں کی عزت واقبال کی بات ہو تو یہ لوگ اپنے آپ سے باہر ہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ان کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25: فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ۔ (پس انکا کیا حال ہوگا جب ہم ان کو ایک یقینی دن میں جمع کریں گے۔ اور ہر شخص کو اس کے کیے کا پوراپورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کی حق تلفی نہ کی جائے گی) فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ ۔ (اس وقت میں ان کا کیا حال ہوگا جس دن کی آمد میں کوئی شبہ نہیں) وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ جزائے اعمال مراد ہے وَھُمْ یہ جمع کی ضمیر کُلُّ کے معنی کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ وہ کل الناس یعنی جمع کے معنی میں ہے۔ لاَ یُظْلَمُوْنَ یعنی کسی انسان کی نہ نیکی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25۔ (فکیف اذا جمعناھم لیوم لاریب فیہ، پس ان کا کیا ہوگا اس وقت جب ہم ان کو ایک دن جمع کریں گے جس (دن) کے آنے میں کوئی شک نہیں) اس وقت ان کا کیا حال ہوگا یا اس وقت وہ کیا کرسکیں گے جب ان کو جمع کیا جائے گا ، ” لیوم “ سے مراد قیامت کا دن ہے (ووفیت اور وہ پورا پائے گا) ” ووفیت “ کا معنی ہے پورا پورا بدلہ (کل نفس ماکسبت ہر نفس کو جو اس نے کمایا) اس کا بدلہ دیا جائے گا نیکی اور برائی کا (ھم لا یظلمون اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا) یعنی ان کی نیکیوں کو کم کرکے اور ان کی برائیوں کو زیادہ کرکے ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–25

(23 ۔ 25) ۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ اور چند یہود کا ایک مدرسہ میں آمنا سامنا ہوا آپ نے ان سے اسلام لانے کو کہا ان میں دو شخص یہودی نعیم بن عمر و اور حارث بن زید نے آپ سے سوچھا کہ آخر آپ کس دین پر ہیں آپ نے فرمایا میں دین اور ملت ابراہیمی پر ہوں انہوں نے جواب دیا کہ حضرت ابراہیم تو خود دین یہود پر تھے پھر آپ ہم سے اور کونسا دین اختیار کراتے ہیں آپ نے فرمایا اگر حضرت ابراہیم دین یہود پر تھے تو تورات میں ضرور اس کا ذکر ہوگا۔ اگر تم سچے ہو تو لاؤ تورات میں کہاں یہ بات لکھی ہے دکھاؤ۔ ان دونوں شخصوں نے تورات کے لانے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–25

آیت 23-25 اللہ تعالیٰ اہل کتاب کی حالت بیان فرما رہا ہے جن پر انعام کرتے ہوئے اللہ نے انہیں اپنی کتاب دی۔ ان کا فرض تھا کہ سب سے زیادہ وہ اس پر قائم رہتے اور سب سے پہلے وہ اس کے احکام کو تسلیم کرتے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں بتارہا ہے کہ انہیں جب کتاب کے فیصلے (کو قبول کرنے) کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔ اپنے بدنوں کے ساتھ بھی منہ پھیرتے ہیں اور دلوں کے ساتھ بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ انتہائی قابل مذمت رویہ ہے۔ اس میں ہمارے لئے تنبیہ ہے کہ ان جیسا کام نہ کریں، ورنہ ہم بھی اس مذمت کے مستحق ہوں گے اور ہمیں بھی ان جیسی سزا مل سکتی ہے۔ بلکہ جس کو اللہ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 24–26

صرف اللہ ہی مالک الملک ہے قول باری ہے (قل اللھم مالک الملک توتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء، آپ کہیئے خدایا ! ملک کے مالک توج سے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے) قول باری (مالک الملک) کے متعلق ایک قول ہے کہ یہ ایسی صفت ہے جس کا اللہ کے سوا اور کسی کو استحقاق نہیں اس لیئے کہ وہی ہر ملک کا یعنی سارے جہان کا مالک ہے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں کے امورکامالک ہے۔ ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کا مالک ہے اور بندوں کے ہاتھ میں کچھ ہے اس کا بھی وہی مالک ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہاں ملک سے مراد نبوت ہے۔ قول باری (تؤتی الملک من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–25

50 اہل کتاب کے قابل تعجب حال کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا جس کے یہ حامل بھی ہیں اور اس پر ایمان کے دعویدار بھی۔ اور جس کی تعلیمات پر عمل کرنا اور کرانا ان کی ذمہ داری تھی اور ہے۔ ان سب باتوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ ایسی ہر دعوت پر فوراً لبیک کہتے اور آگے بڑھ کر اس کو قبول کرتے، جو اللہ کی طرف سے ان کو ملتی، اور اس کے مقتضیٰ پر یہ لوگ دل و جان سے عمل کرتے ہیں۔ مگر یہ اس کے برعکس اس سے منہ موڑتے اور اعراض کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر دوسروں کو بھی اس سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح ضلال واضلال کے دوہرے جرم کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–25

عیسائیوں کا جھوٹا عقیدہ اور انجام تشریح : اس مقام پر اللہ کی کتاب سے مراد تورات اور انجیل ہے اور کتاب کا کچھ حصہ پانے والوں سے مراد یہود و نصار ٰی کے علماء ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ یہود و نصار ٰی نہ اپنی آسمانی کتابوں پر عمل کرتے ہیں اور نہ ان باتوں کی پرواہ کرتے ہیں کہ آخرت میں سزا ملے گی۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ تو اللہ کے بڑے پیارے ہیں ان کو تو دوزخ میں ڈالاہی نہ جائے گا اور اگر سزا ملی بھی تو چند دن کے لئے ملے گی۔ اسی خیال سے وہ نیکی سے دور اور بدی سے نزدیک رہ کر زندگیاں گزار رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک اور ان کی کتابوں میں بار بار اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قیامت کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–30

آیات 21- 30 اسرارو معارف ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔ بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔ تو اے نبی ! ﷺ ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ینعی انہیں جان لینا چاہیے کہ قیامت کے روز جب ہمارے حضور جمع ہوں گے تو ان کا بہت براحال ہوگا ان کے یہ من گھڑت عقیدے انہیں بزرگوں سے جھو ٹی محبت اور دامن گیری خدا کے عذاب سے بچا سکے گی۔ کوئی نبی یا ولی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے غیر سفارش کا بھی مجاز نہ ہوگا۔ (ترجمان۔ وحیدی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–25

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 25 نصیب (حصہ) یدعون (وہ پکارے گئے (پکارے جاتے ہیں) لیحکم (تاکہ وہ فیصلہ کردے) یتولیٰ (پلٹ جاتا ہے منہ پھیر لیتا ہے) معرضون (وہ بےرخی اختیار کرتے ہیں، منہ پھیرتے ہیں) غرھم (اس نے ان کو دھوکہ میں ڈال دیا) یفترون (وہ گھڑتے ہیں) جمعنھم (ہم نے ان کو جمع کیا (ہم ان کو جمع کریں گے) وفیت (پوراپورا دیا (جائے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 25 سورة ال عمران کی آیت 23 سے 25 تک کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس بات کے دعویدار تھے کہ ہم اہل کتاب ہیں اور اس پر انہیں ناز بھی تھا جب ان کو ان ہی کی کتاب کی طرف یہ کہہ کر بلایا جاتا ہے کہ تم اپنے فیصلے اپنی ہی کتاب کے ذریعے کرلو تو وہ بجائے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–25

شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ اور چند یہود کا ایک مدرسہ میں آمنا سامنا ہوا۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ اس پر دو شخص نعیم بن عمر اور حارث بن زید نے آپ سے پوچھا کہ آپ کس دین پر ہیں۔ آپ نے فرمایا :” میں ملت ابراہیمی پر ہوں “۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم تو خود دین یہود پر تھے۔ پھر آپ ہم میں سے کون سا دین اختیار کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا :” اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دین یہود پر تھے تو توریت میں کہیں اس کا ذکر ہوگا اگر تم سچے ہو تو توریت لا کر دکھاؤ “۔ دونوں شخصوں نے توریت لانے سے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہود کو قائل کرنے کے لئے یہ آیت نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–26

[9] یہودی کہتے تھے کہ ہم نجات یافتہ امت اور اللہ کے چہیتے ہیں۔ اگر ہم میں سے کوئی آدمی دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس لئے نہیں کہ عذاب میں پڑا رہے بلکہ اس لئے کہ گناہ کے میل کچیل سے پاک صاف ہو کر جنت میں جا داخل ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–26

مالک الملک : (ف 2) یہودیوں کو اپنے مال و دولت پر فخر تھا ، مدینہ اور آس پاس بستیاں ان کے اقتدار میں تھیں اس لئے وہ فاقہ مست مسلمانوں طرف کوئی توجہ نہ دیتے ، قاعدہ ہے ایک باعروج قوم اپنے تمدن وتہذیب پر قانع ہوتی ہے ، قرآن حکیم میں بطور دعا کے اس حقیقت کو واضح کیا کہ مالک الملک صرف خدا ہے جس کی بادشاہتیں ہمیشہ رہیں گی اس کے خزانے کبھی ختم نہ ہوں گے ، وہ جسے چاہے اور نگ وپہیم کا مالک بنا دے اور جس سے چاہے تاج ونگین چھین لے ، عزت وذلت صرف اس کے قبضے میں ہے ! اس لئے کوئی تاجور اس کا انکار نہ کرے اور حکومت کے نشے میں احکم الحاکمین کی بادشاہت کو تحقیر کی نظروں سے نہ دیکھے کہ وہ پل بھر میں حکومت کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2۔ اے پیغمبر ﷺ ! کیا آپ نے ان لوگوں کا حال ملاحظہ نہیں کیا جن کو کتاب سماوی یعنی توریت کے علم میں سے ایک خاص اچھا حصہ دیا گیا ہے یعنی توریت کے اچھے خاصے عالم ہیں ان لوگوں کو اس عرض کے لئے کتاب الٰہی کی طرف دعوت دی جاتی ہے تا کہ وہ کتاب اللہ ان کے مابین مذہبی اختلاف کا فیصلہ کر دے اور توریت کو پڑھنے سے صحیح حکم معلوم ہوجائے تو کچھ لوگ ان ہی میں سے اس دعوت الی الکتاب سے بےرخی اور اغراض و انحراف کرتے ہوئے پہلو تہی کرتے ہیں اور منہ پھیرلیتے ہیں ان کی اس بےرخی اور اعراض و انحراف کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ یوں کہتے کہ ہم کو تو آتش دوزخ صرف چند روز کے سوا مس بھی نہیں کرے گی اور ان کو ان کے دین کے بارے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

ف 6۔ اگلی آیت میں امت محمدیہ کے کفار پر غالب آنے کی پیشنگوئی کی طرف تعلیم مناجات کے عنوان میں اشارہ ہے، جیسا شان نزول سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روم وفارس کے فتح ہوجانے کا وعدہ فرمایا تو منافقین و یہود نے استبعاد اور استہزاء کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نجات کا دارومدار کسی کی وہم پرستی پر نہیں بلکہ اس کے لیے مستقل قانون ہے : 65: ان بدبختوں ، وہم پرستوں اور شامت زدوں کا حال اس روز کیا ہوگا جس روز کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ” یَوْمٌ لَّا رَیْبَ فِیْهِ “ یعنی قیامت کے دن۔ اس طرز سے مقصود محض قیامت کا ذکر کردینا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے وقوع کی قطعیت کو ذہن نشین کرا دینا ہے۔ بڑے تاسف اور افسوس سے کہا جارہا ہے کہ کیا بنے گا ان پر جب ہم انہیں اس روز جمع کریں گے جس روز کا آنا یقینی ہے۔ اس روز تو ہر ایک شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا کہ کسی کو سزا بلا جرم یا زائد از جرم مل جائے یا کسی کی کوئی نیکی بغیر اجر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

While dealing with the subject of Jews, as in verses 21-22, the text goes on to censure a particular claim of theirs in the present verse. The address is to the Holy Prophet ﷺ and the reference is to the Torah given to the Jews who would have found it enough for them if they were really looking forward to guidance. But they elect to be in-different because they say and believe that the fire of Hell will not touch them except for a few days, after which, according to their supposition, they would be forgiven. This, it has been said, is self-deception caused by what they have been forging for…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–27

24. Those who disbelieved and disobeyed were seen to be prosperous, whereas the believers, with their devotion and loyalty to God, suffered all the deprivation, persecution and torment to which the Prophet and his followers were subjected around the year 3 A.H. The contrasting states of the two groups of men were the reverse of what would naturally be expected. This raised disturbing questions in people's minds about the underlying wisdom of this phenomenon. The verse conveys God's answer.

Read the full tafseer →