Explained with ayahs 176–180
مشفق نبی کریم ﷺ اور عوام
چونکہ جناب رسول اللہ ﷺ لوگوں پر بیحد مشفق و مہربان تھے اس لئے کفار کی بےراہ روی آپ پر گراں گذرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے حضور ﷺ کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
سورة اٰلِ عِمْرٰن 125
یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جماعت کو اس حال میں دیکھنا پسند نہیں کرتا کہ ان کے درمیان سچے اہل ایمان اور منافق، سب خلط ملط رہیں۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 126
یعنی مومن و منافق کی تمیز نمایاں کرنے کے لیے اللہ یہ طریقہ اختیار نہیں کرتا کہ غیب سے مسلمانوں کو دلوں کا حال بتادے کہ فلاں مومن ہے اور فلاں منافق، بلکہ اس کے حکم سے ایسے امتحان کے مواقع پیش آئیں گے جن میں تجربہ سے مومن اور منافق کا حال کھل جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
ربط آیات
سابقہ آیات میں منفاقین کی بےوفائی، بدخواہی کا ذکر تھا، مذکورہ آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کی تسلی ہے کہ آپ ان کفار کی حرکتوں سے رنجیدہ اور شکستہ خاطر نہ ہوں، وہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، آخری آیت میں اس خیال کا جواب ہے کہ بظاہر تو دنیا میں یہ کفار پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں تو ان کو مقہور و مغضوب کیسے سمجھا جائے ؟
خلاصہ تفسیر
اور آپ کے لئے وہ لوگ موجب غم نہ ہونے چاہئیں جو جلدی سے کفر (کی باتوں) میں جا پڑتے ہیں، (جیسے منافقین کہ ذرا مسلمانوں کا پلہ ہلکا دیکھا تو کھلم کھلا کفر کی باتیں کرنے لگتے ہیں، جیسا کہ واقعات مذکورہ میں معلوم ہوچکا ہے) یقینا وہ لوگ اللہ تعالیٰ (کے دین) کو ذرہ برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
آیات نمبر 176 تا 179، یہ آیتیں پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں۔ احد کی شکست کے بعد، جیسا کہ اوپر کی آیات سے واضح ہے اور ہم سورة کی تمہید میں بھی اشارہ کرچکے ہیں۔ وہ لوگ جو منافقانہ اسلام کی صفوں میں آگھسے تھے یا تو علانیہ کفر کی طرف پلٹ گئے یا پلٹ جانے کے لیے تمہیدیں استوار کرنے لگ گئے۔ یہ لوگ اس طمع خام میں مبتلا ہوگئے کہ قریش کی حمایت کر کے اس دین کو شکست دی جاسکتی ہے۔ چناچہ ان کی تمام سرگرمیاں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت اور کفر اور اہل کفر کی حمایت کے لیے وقف ہوگئیں۔ اس صورت حال پر ارشاد ہوا کہ اس سے ذرا بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کفر کی راہ میں ان لوگوں کی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
178۔ 1 اس میں اللہ کے قانون امہال (مہلت دینے) کا بیان ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مشیت کے مطابق کافروں کو مہلت عطا فرماتا ہے، وقتی طور پر انہیں دنیا کی فراغت و خوش حالی سے، فتوحات سے، مال اولاد سے نوازتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں ان پر اللہ کا فضل ہو رہا ہے لیکن اگر اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے والے نیکی اور اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو یہ دنیاوی نعمتیں، فضل الٰہی نہیں، مہلت الٰہی ہے۔ جس سے ان کے کفر و فسوق میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ بالآخر وہ جہنم کے دائمی عذاب کے مستحق قرار پاجاتے ہیں۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا ہے۔ مثلاً (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–179
60: آیت 176 سے 178 تک اس شبہ کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں تو انہیں دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی کیوں حاصل ہے ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آخرت میں تو کوئی حصہ ملنا نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ڈھیل دئیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے یہ مزید گناہوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت آنا ہے جب یہ اکٹھے عذاب میں دھر لیے جائیں گے۔ آیت 179 میں اس کے مقابل اس شبہ کا جواب ہے کہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ پسند ہیں، اس کے باوجود ان پر مصیبتیں کیوں آرہی ہیں ؟ اس کا ایک جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ آزمائشیں مسلمانوں پر اس لیے آرہی ہیں تاکہ مسلمانوں پر واضح…
Read the full tafseer →إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالإيمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ……………” جو لوگ ایمان چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کررہے ہیں ۔ ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے ۔ “ ایمان تک ان کے ہاتھ پہنچ سکتے تھے ۔ ایمان کے دلائل اس پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ۔ خود انسانی فطرت اور نفس کے اندر دلائل ایمان موجود ہیں ۔ خود انسان کے عجیب و غریب جسم کے منصوبے کے اندر ‘ اس میں باہم مکمل ہم آہنگی کے اندر ‘ اس میں ودیعت کردہ فطرت انسانی کے اندر ‘ پھر انسانی فطرت اور اس کے اس طبیعی وجود میں پائی جانے والی ہم آہنگی کے اندر ‘ پھر اس میں اس کے…
Read the full tafseer →2 یعنی جنہوں نے ایمانی فطرت کو بدل کر کفر اختیار کیا، خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین، یا منافقین، یا کوئی اور وہ سب مل کر بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ہاں اپنے پاؤں پر خود اپنے ہاتھ سے کلہاڑی مار رہے ہیں جس کا نتیجہ دردناک عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
آیت 176 وَلاَ یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْْکُفْرِ ج
مدینہ کے یہود اور مکہ کے مشرکین مسلمانوں کے خلاف ساز باز میں مصروف رہتے۔ کبھی یہودیوں کا کوئی وفد سرداران مکہ کے پاس جاکر کہتا کہ تم مسلمانوں پر چڑھائی کرو ‘ ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔ کبھی قریش یہودیوں سے رابطہ کرتے۔ گویا آج کل کی اصطلاح میں بڑی Diplomatic Activity ‘ ہو رہی تھی۔ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی وساطت سے اہل ایمان کو اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ ان کی سرگرمیوں سے رنجیدہ نہ ہوں ‘ ان کی ساری ریشہ دوانیوں کی حیثیت سیلاب کے اوپر آجانے والے جھاگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اِنَّہُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْءًا ط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
174 اس دور میں مسلمانوں کے علاوہ جتنی بھی اقوام تھیں۔ سب ہی اسلام دشمن اور اسے مٹانے کے درپے تھیں خواہ وہ مشرکین مکہ ہوں یا یہود مدینہ، منافقین ہوں یا دیگر قبائل عرب اور یہ سب لوگ اسلام کو کچلنے کے لیے حتیٰ المقدور کوششیں بھی کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ تمہارا یا اسلام کا کچھ بھی بگاڑنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ بس اپنی ہی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوسری بات جو آپ کو فی الواقعہ غمزدہ بنا رہی تھی وہ یہ تھی کہ آپ کی انتہائی کوششوں کے باوجود یہ لوگ اسلام کو سمجھنے اور اس کے قریب آنے یا اسے قبول کرنے کی کوشش ہی…
Read the full tafseer →365 ۔ (بلکہ الٹے خود ہی ہر طرح کے خسارہ میں رہیں گے) (آیت) ” الذین اشتروا الکفربالایمان “۔ اس میں اسلام کے دشمن خفیہ وعلانیہ ہر قسم کے آگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
آیت نمبر 181 تا 189
ترجمہ : یقیناً اللہ نے لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا اللہ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں اور یہ (کہنے والے) یہود ہیں یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ” مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقڑرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا “ آیت نازل ہوئی اور یہ (بھی) کہ اگر اللہ مالدار ہوتا تو ہم سے قرض نہ مانگتا، ہم ان کے قول کو ان کے اعمال ناموں میں لکھ رہے ہیں تاکہ اس کی ان کو جزاء دی جائے۔ اور ایک قراءت میں (یکتُب) یاء کے ساتھ معروف کا صیغہ ہے۔ اور ہم ان کے انبیاء کے ناحق قتل کرنے کو بھی لکھ رہے ہیں (قتَلھم) کے نصب اور رفع کے ساتھ، اور ہم کہیں گے آتش سوزاں کا عذاب چکھو۔ (یَقُوْلٌ) نون اور یاء کے ساتھ، یعنی…
Read the full tafseer →ان الذین اشتروا الکفر بالایمان جن لوگوں نے ایمان کے عوض کفر لے لیا اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ رسول اللہ کی بعثت سے پہلے (غائبانہ) آپ کی بعثت کا یقین رکھتے تھے لیکن جب آپ مبعوث ہوگئے اور کھلی ہوئی نشانیاں صداقت کی پیش کیں توا نہوں نے ماننے سے انکار کردیا اور دنیوی حرص میں آکرمحض عناد کی وجہ سے ایمان کو چھوڑ دیا۔
لن یضرو اللہ شیاء ولھم عذاب الیم اور اللہ کو ہرگز کچھ ضرر نہ پہنچا سکیں گے اور انہی کے لیے دکھ کا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →(177) اسی طرح جن لوگوں نے ایمان کو چھوڑ کر کفر کو اختیار کرلیا ہے اور وہ منافق ہیں، ان کے کفر اختیار کرلینے میں اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں ہوگا اور ان لوگوں کے لیے آخرت میں ایسا درد ناک عذاب ہوگا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی ،
Read the full tafseer →یعنی یہ لوگ ایمان کے بجائے کفر اختیارکر کے خود اپنا برا کر رہے ہیں، اس کے نتیجہ میں دردناک عذاب سے دو چار ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 177۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین اشتروا الکفر بالایمان “۔ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” لن یضروا اللہ شیئا “ اسے تاکید کے لئے مکرر لایا گیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : یعنی ایمان کو کفر کے ساتھ تبدیل کرنا۔۔۔۔۔ کے عوض اسے بیچنا یہ اس کی بری تدبیر میں سے ہے، (اور اس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کو ہر گز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے) پس اسے اس کی اطاعت نہ کرنے کا کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تدبیر کا کوئی خوف ہے اور شیئا “ دونوں آیتوں میں مصدر کی جگہ واقع ہونے سے منصوب ہے، گویا کہ یہ فرمایا : لن یضروا اللہ ضررا قیلا ولا کثیر “۔ (وہ اللہ تعالیٰ کو ہر گز تھورا یا زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
(1) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابوبکر المروزی نے جنائز میں ابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ کوئی انسان ایسا نہیں جو نیک ہو یا برا ہو مگر موت اس کے لیے بہتر ہے زندگی سے اگر وہ نیک ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمادیا۔ لفظ آیت ” وما عند اللہ خیر للابرار “ اور اگر وہ برا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین کفروا انما نملی لہم خیر لانفسہم انما نملی لہم لیزدادو اثما “۔
(2) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو الدرداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ نہیں ہے کوئی مومن مگر موت اس کے لیے…
Read the full tafseer →[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جنہوں نے ] [اشْتَرَوُا : خریدا ] [الْکُفْرَ : کفر کو ] [بِالْاِیْمَانِ : ایمان کے بدلے ] [لَنْ یَّضُرُّوا : وہ لوگ ہرگز نقصان نہ کریں ‘ گے ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [شَیْئًا : کچھ بھی ] [وَلَہُمْ : اور ان کے لیے
عَذَابٌ اَلِیْمٌ : ایک دردناک عذاب ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْءًا وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (بےشک جن لوگوں نے ایمان کو کفر کے بدلہ خرید لیا وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، اور ان کے لیے عذاب ہے درد ناک) کفر کو ایمان کے بدلے خرید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ایمان کے بدلہ کفر اختیار کرلیا۔ ایمان کو چھوڑ کر کفر کو رغبت کی چیز بنا لیا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہاں جو مکرر (لَنْ یَّضُرُّو اللّٰہِ شَیْءًا) فرمایا یہ بطور تاکید کے ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس سے تعریض مقصود ہو اور مطلب یہ ہو کہ یہ لوگ صرف اپنی ہی ذاتوں کو ضرر دے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
دشمنان اسلام کی سرگرمیوں کی بابت نبی کریم ﷺ کو تسلی
قال تعالی، ولایحزنک الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔ الیم۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں اسلام کے مقابلہ میں کافروں کی سازش کا ذکر تھا اب ان آیات میں نبی کریم کو تسلی دیتے ہوئے کہ آپ کافروں کی حرکات سے غمگین اور فکر مند نہ ہوں یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کا اور اس کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اپن اہی نقصان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ اے محمد ﷺ نہ غم میں ڈالیں آپ کو یہ لوگ جو کفر کی حمایت اور اعانت میں دوڑتے پھرتے ہیں اور آپ سے لڑنے کے لیے لشکر فراہم کرتے پھرتے ہیں اسلام کے مٹانے کے درپے ہیں آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے اور نہ ان کی کاروائیوں سے غمگین ہوجیے تحقیق یہ…
Read the full tafseer →269 ۔ یہ آیت عام ہے اور تمام کفار کو شامل ہے الایۃ الاولی فیمن نافق من المتخلفین۔ والثانیۃ فی جمیع الکفار او علی العکس (مدارک ج 1 ص 156) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
ربط آیات : شہداء کے فضائل بیان کرنے کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت بیان فرمائی تھی۔ غزوہ احد کے اختتام پر صحابہ کے زخموں کے ابھی خون بھی بند نہیں ہوئے تھے کہ وہ اللہ اور رسول کے حکم کی تعمیل میں کفار کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اجر عظیم کی بشارت سنائی۔ پھر مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لیے جو پراپیگنڈا کا ہتھیار استعمال کیا تھا ، اہل ایمان نے اس کا بھی کوئی اثر قبول نہ کیا ، بلکہ ان کے ایمان مزید مضبوط ہوگئے۔ ان کی زبان پر۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ کے الفاظ تھے ، گویا انہوں نے دشمن سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ لَنْ يَّضُرُّوا اللہَ شَـيْـــًٔـا 0ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 177
شری
الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه،
( ش ر ی ) شراء
اور بیع دونوں لازم ملزوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
ترکیب : ذلکم مبتدا الشیطان خبر ‘ یخوف جملہ حال ہے الشیطان سے ‘ والعامل الاشارۃ ای یخوفکم باولیائہ او یخوف اولیاءہ الذین کفروا فاعل ‘ لایحسبن الذین انما نملی لہم جملہ قائم مقام دو مفعولوں کے۔
تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ کفار اہل ایمان کو ڈراتے ہیں کہ تمہارے لئے فوجیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہاں فرماتا ہے کہ یہ ڈرانے والا (یعنی نعیم بن مسعود 1 ؎ یا جماعت کفار ابو سفیان وغیرہ) شیطان ہے کہ جو اپنے دوستوں یعنی مشرکین و کفار کی شوکت سے خدا کے دوستوں کو ڈرایا کرتا ہے اور دل میں وسوسہ ڈالا کرتا ہے یا یہ معنی کہ یہ شیطان اپنے یاروں کو ڈرایا کرتا ہے یعنی اس کا گذر زیادہ انہیں کے دل میں ہے۔ وہیں زیادہ وسوسہ ڈالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
وَلاَ یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِیْ الْکُفْرِ ج اِنَّھُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا ط یُرِیْدُاللّٰہُ اَلَّا یَجْعَلَ لَھُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَۃِ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُاالْـکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًاج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔
(نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو کفر کی راہ میں سبقت کررہے ہیں وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے، ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ بیشک جن لوگوں نے ایمان سے کفر کو بدلا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے) (176 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کی بجائے کافر کو آخرت میں مکمل سزا دینا، کفریہ کاموں میں ان کا جلدی کرنا، احد میں معمولی کامیابی حاصل کرلینا یہ مہلت دینے کا مقصد یہ ہے کہ یہ دل بھر کر گناہ کرلیں تاکہ قیامت کو انہیں ٹھیک ٹھیک سزادی جائے۔
اُحد میں کفار مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار تھے اور منافق ہمدرد اور خیر خواہ بن کر ان کے حق میں خفیہ کردار ادا کر رہے تھے۔ جس کی وجہ سے کبھی کافروں کے کردار پر تنقید کی جاتی ہے اور کبھی منافقوں کے روییّ کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ بسا اوقات منافقوں کے کردار اور اعتقاد کی بنا پر ان کے لیے بھی کفر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس فرمان میں منافق اور کافر دونوں ہی مراد ہوسکتے ہیں۔…
Read the full tafseer →177: اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کو ایمان کے بدلہ میں خرید کیا) اشْتَرَواکا یہاں معنی بدلہ میں لینا ہے۔ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا (وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو ذرہ بھر نقصان نہیں پہنچا سکتے)
نحو : شیئًا مصدر کی وجہ سے منصوب ہے یعنی شیئا من الضرر پہلی آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جو پیچھے رہنے والوں میں سے منافق تھے یا اسلام سے مرتد ہوگئے اور دوسری آیت تمام کفار کے متعلق یا اس کا عکس بھی ہوسکتا ہے۔ کہ پہلی کفار کے متعلق اور دوسری منافقین کے متعلق ہو۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے…
Read the full tafseer →177۔ (آیت)” ان الذین اشتروا “۔ جس نے ایمان کے بدلہ میں کفر کو لے لیا ، ” الکفر بالایمان لن یضروا اللہ شیئا “۔ کفر میں جلدی داخل ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو نقصان پہنچائیں گے (آیت)” ولھم عذاب الیم “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
(176 ۔ 180) ۔ کافر اور منافق جب کوئی مخالف کی بات کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ کو اس کا بڑا رنج ہوا کرتا تھا اس لئے اس لڑائی کے موقع سے جب عبد اللہ بن ابی ایک تہائی لشکر لے کر مدینہ واپس چلا آیا تو آنحضرت ﷺ کو بڑا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور ان میں اپنے رسول کی یوں تسلی فرمائی۔ کہ یہ لوگ اس طرح کی مخالفت کے سبب سے اللہ کے دین کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بلکہ اس مخالفت کے سبب سے ان ہی کو وقت مقرر پر وہ سخت عذاب بھگتنا پڑے گا جو اللہ کے ارادہ میں ان کے لئے قرار پا چکا ہے اور یہ منکر حکم الٰہی یہ نہ سمجھیں کہ اللہ نے ان کو جیتے جی کچھ مہلت جو دے رکھی ہے اس میں ان کے حق…
Read the full tafseer →آیت 177
رسول اللہ ﷺ لوگوں کی ہدایت کے بہت آرزو مند تھے اور ان کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لئے جدوجہد کرتے تھے۔ جب وہ ہدایت قبول نہ کرتے تو آپ بہت آزردہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر) یعنی ان کی کفر میں شدید رغبت اور چاہت کی وجہ سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں (انھم لن یضروا اللہ شیآء) ” وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “ پس اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر، اپنے رسول ﷺ کی مدد کرنے والا اور ان کے بغیر اپنے حکم کو نافذ کرنے والا ہے۔ اس لئے آپ ان کی پروا نہ کریں۔ یہ محض اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایمان سے محروم ہو کر اس دنیا میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–180
نجیل آدمی خوداپنا دشمن ہوتا ہے
قول باری ہے (ولایحسبن الذین یبخلون بما اتاھم اللہ من فضلہ ھوخیرالھم بل ھوشرالھم، سیطوقون مابخلوابہ یوم القیامۃ، جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ نجیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں بہت بری ہے جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روزان کے گلے کا طوق بن جائے گا) سدی کا قول ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور زکوۃ ادا کرنے میں نجل کریں ان کے لیے یہ حکم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اہل کتاب کے متعلق ہے، انھوں نے اپنی کتاب میں درج شدہ احکام الٰہی کو لوگوں سے…
Read the full tafseer →375 ایمان کی بجائے کفر کو اپنانے والوں کیلئے بڑا دردناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے ایمان کی بجائے کفر کو اپنایا وہ یقینا اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور انجام کار ان کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ انہوں نے نور ایمان سے منہ موڑ کر کفر کے اندھیروں کو اپنایا اور وہ اسی پر اڑے رہے۔ سو ایمان کی روشنی سے منہ موڑ کر کفر کی ظلمت میں گرنے والے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مارتے اور اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ لہذا آپ کو ان کے بارے میں غمگین و فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کہ داعی حق کی ذمہ داری پیغام حق و ہدایت کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ آگے ان کو راہ حق پر ڈال دینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
کفار کی سزا
تشریح : یہ آیات پچھلی آیات سے وابستہ ہیں اور ان کا مطلب آیات میں ہی واضح کردیا گیا ہے۔
مومنین کے لیے خوشخبری
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–180
آیات 172- 180
اسرارو معارف
الذین استجابوا للہ والرسول………………ان کنتم مومنین۔
یہ جملہ فضائل ان لوگوں کو حاصل ہیں جنہوں نے لاکھوں مشکلات کے باوجود اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے منہ نہ موڑا۔ یہی لوگ نیک بھی ہیں اور پرہیزگار بھی۔ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔
قرآن حکیم ساری انسانیت کے لئے اور ہمیشہ کے لئے اللہ کی آخری کتاب ہے۔ اس لئے اصولی باتیں بیان فرماتا ہے کہ مصائب دنیا بھی دراصل ترقی درجات کا سبب بن جاتے ہیں کہ جس قدر مشکلات میں اطاعت کرے گا اسی قدر اجر میں زیادتی ہوگی۔ چونکہ مثالی اور معیاری مومن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اس لئے ذکر ان کا کیا جاتا ہے ، جیسے یہاں ارشاد ہے۔
صاحب تفسیر…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی ایمان کے بجائے کفر اختیار کر کے خود برا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے ،
Read the full tafseer →(3:177) اشتروا۔ انہوں نے مول لیا۔ انہوں نے بیچا اشتراء (افتعال) سے، جس کے معنی خریدنا اور بیچنا دونوں کے آتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–177
لغات القرآن آیت نمبر 165 تا 177
اصبتم (تم نے پہنچادیا) مثلیھا (اس سے دوگنا) ادفعوا (دور کرو) اقرب (زیادہ قریب) قعدوا (بیٹھے رہے) لواطاعونا (اگر ہماری بات مانتے) ادرء وا (تم دور کرو) یرزقون (رزق دیئے جاتے ہیں) فرحین (خوش ہوتے ہیں) یستبشرون (بشارت وخوش خبری دیتے ہیں) لم یلحقوا (نہیں ملے) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) یسارعون ( دوڑتے ہیں) حظ (حصہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 165 تا 177
غزوۂ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتماعی غلطی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تکلیف اٹھا نا پڑی اس پر اہل ایمان نے تو صبر اور برداشت سے کام لیا لیکن مناقفین کو بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو قیامت کی تمام چیزوں کا علم عطا فرمایا گیا ہے۔
بخیل کا انجام : بخل کے معنی ہیں :” واجب کا ادا نہ کرنا “۔ یہاں بخل سے زکوٰۃ کا نہ دینا مراد ہے۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی روز قیامت میں وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گا اور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
[66] احد کے میدان سے جاتے ہوئے دشمن کہہ گئے تھے کہ آئندہ سال بدر میں فیصلہ کن مقابلہ ہوگا مگر جب وعدے کا وقت قریب آیا تو ان کی ہمت نے جواب دے دیا لیکن مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے اپنے آدمی پروپیگنڈا کرنے کے لئے چھوڑ دیئے جنہوں نے مدینہ پہنچ کر مسلمانوں میں یہ خبر پھیلانی شروع کردی کہ اب کے سال قریش نے اتنی زبردست تیاریاں کی ہیں اور ایسا بھاری لشکر جمع کیا ہے کہ اگر مسلمان مقابلے پر نکلے تو ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچے گا۔ اس پروپیگنڈے نے بجائے پست ہمتی پیدا کرنے کے مسلمانوں میں جوش ایمانی اور تیز کردیا۔ چناچہ پندرہ سو فدائین رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر پہنچ گئے لیکن دشمن مقابلے پر نہ آیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
امتیاز حق و باطل :
(ف 1) یہ آیت بھی سیاق احد میں ہے مقصد یہ ہے کہ یہ تمام مصائب جو اس جنگ میں برداشت کرنے پڑے ہیں ‘ یہ سب اس لئے تھے ، تاکہ حق و باطل میں فرق ہوجائے ، اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے کہ زیادہ دیر تک منافقین کم ہمت لوگ مسلمانوں میں طے جلے رہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دیتے رہیں ۔ وقت آگیا ہے کہ دونوں فریق الگ الگ اور ممتاز ہوجائیں ۔
(آیت) ” وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب “ کہہ کر یہ بتایا ہے مخلص وغیر مخلص میں جو اختلاف ہے ‘ یہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہے یہ نہیں جانتے تھے کہ کون دل میں ایمان کی پونجی مستتر رکھتا ہے اور کون ہے جس کا دل خبث ونفاق سے متعفن ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →ف 3 یقین جانو ! جن لوگوں ن ایمان کو چھوڑ کر اس کی جگہ کفر اختیار کر رکھا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو ہرگز ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور ان کو نہایت ہی درد ناک عذاب ہوگا۔ اور بڑی درد ناک سزا ملے گی۔ (تیسیر)
اس آیت میں عام طور سے فرمایا کوئی منافق ہو کافر ہو پھر کافر بھی یہودی ہو نصرانی ہو غرض کوئی ہو کہیں کا ہو جو اس صلاحیت اور استعداد کو چھوڑ کر جس سے ایک انسان اسلام قبول کرتا ہے اور اس استعداد اور صلاحیت سے کام لے گا جو کفر قبول کرنے میں ممد و معاون ہوتی ہے تو ایسے لوگ سن لیں کہ وہ اللہ کے دین کا کوئی نقصان نہیں کرسکتے اور ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو اپور ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
ف 2۔ اس آیت سے کوئی یہ شبہ نہ کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسی لیے مہلت دی ہے کہ اور زیادہ جرم کرنے سے عذاب کیوں ہوگا اصل سبب امہال کا زیادہ عقوبت ہے لیکن اس سبب کے سبب یعنی ازدیار اثم کو جو باختیار عبد ہے قائم مقام سبب بغرض افادہ بلاغت کلام کردیا گیا۔
Read the full tafseer →ایمان کی پونجی دے کر کفر کا سودا چکانے والے خود فیصلہ کرلیتے تو بہتر ہوتا :
321: جن لوگوں نے ایمان کے عوض کفر کا سودا چکایا ہے حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ایک رسول کے آنے کے منتظر تھے اور ان کو یقین تھا کہ وہ فاران کی چوٹیوں پر ہی اترنے والا ہے لیکن جب وہ رسول یعنہی محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوگئے انہوں نے کھلی نشانیوں بھی پیش فرمادیں جن کا وہ کسی طرح رد بھی نہ کرسکے لیکن دنیوی حرص میں آکر محض عناد کی وجہ سے انہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کردیا اس طرح گویا انہوں نے ایمان دے کر کفر حاصل کرلیا وہ اپنے اس سودے پر خود نظر ثانی کرتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ اچھا ! انہوں نے بھی ایسا کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
Previous verses mentioned the treachery and ill-will of the hypocrites. The present verses comfort the Holy Prophet ﷺ asking him not to grieve over the mischief made by the disbelievers for they cannot harm him in any way.
The last verse (178) carries a refutation of the false notion about disbelievers: How can they, while obviously prospering in the present world, be regarded as victims of Allah's wrath and rejection?
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
125. That is, God does not want to see the Muslim community in a hotch-potch condition with the true men of faith indistinguishable from the hypocrites.
126. This means that God does not resort to revelation to provide information as to whether specific individuals are true men of faith or hypocrites. God creates, instead, certain situations in which the faith of those who profess to believe is severely tested. The result is that the man of faith stands out clearly from the hypocrite.
Read the full tafseer →