Explained with ayahs 169–175
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا ؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آکر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 121
مسند احمد میں نبی ﷺ کی ایک حدیث مروی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ جو شخص نیک عمل لے کر دنیا سے جاتا ہے اسے اللہ کے ہاں اس قدر پر لطف اور پر کیف زندگی میسر آتی ہے جس کے بعد وہ کبھی دنیا میں واپس آنے کی تمنا نہیں کرتا۔ مگر شہید اس سے مستثنیٰ ہے۔ وہ تمنا کرتا ہے کہ پھر دنیا میں بھیجا جائے اور پھر اس لذت، اس سرور اور اس نشے سے لطف اندوز ہو جو راہ خدا میں جان دیتے وقت حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
چوتھی فضیلت یہ ہے ویستبشرون بالذین لم یلحقوابھم، یعنی وہ اپنے جن متعلقین کو دنیا میں چھوڑ گئے تھے ان کے متعلق بھی ان کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں رہ کر نیک عمل اور جہاد میں مصروف رہیں تو ان کو بھی یہاں آ کر یہی نعمتیں اور درجات عالیہ ملیں گے۔
اور سدی نے بیان فرمایا کہ شہید کا جو کوئی عزیز دوست مرنے والا ہوتا ہے شہید کو پہلے سے اس کی اطلاع کردی جاتی ہے کہ فلاں شخص اب تمہارے پاس آ رہا ہے وہ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے دنیا میں کسی دور افتادہ دوست سے بعد مدت ملاقات کی خوشی ہوتی ہے۔
اس آیت کا شان نزول جو ابو داؤد نے باسناد صحیح حضرت ابن عباس سے روایت کیا وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
169 تا 171: یہ ان منافقین کو تنبیہ ہے کہ خدا کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ نہ سمجھو، مردہ وہ نہیں ہیں بلکہ تم ہو وہ تو زندہ ہیں اور اپنے رب کے جوار رحمت میں اس کی نعمتوں سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ تم اپنی جہالت اور بےبصیرتی سے تر کھا رہے ہو کہ وہ مارے گئے اور خیال کر رہے ہو کہ اگر وہ تمہاری رائے پر چلتے، تمہاری ہی طرح گھروں میں بھیٹھ رہتے تو نہ مارے جاتے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس فضل و نعمت پر فرحاں و شاداں ہیں جس سے اللہ نے ان کو نواز رکھا ہے۔ تمہیں ان کی موت پر حسرت و وفسوس ہے اور ان کا عالم یہ ہے کہ دم بدم ان کو اپنے ان اخلا و اولاد سے متعلق جو ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور ان سے ملنے…
Read the full tafseer →170۔ 1 یعنی وہ اہل اسلام جو ان کے پیچھے دنیا میں زندہ ہیں یا مصروف جہاد ہیں، ان کی بابت وہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش وہ بھی شہادت سے ہمکنار ہو کر یہاں ہم جیسی پر لطف زندگی اختیار کریں۔ شہدائے احد نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہمارے وہ مسلمان بھائی جو دنیا میں زندہ ہیں، انہیں ہمارے حالات اور پر مسرت زندگی سے کوئی مطلع کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہاری یہ بات ان تک پہنچا دیتا ہوں ' اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد) علاوہ ازیں متعدد احادیث سے شہادت کی فضیلت ثابت ہے۔ مثلا ایک حدیث میں فرمایا (مامن نفس تموت، لھا عند اللہ حیر، یسرہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–173
59: جب کفار مکہ احد کی جنگ سے واپس چلے گئے تو راستے میں انہیں پچھتاوا ہوا کہ ہم جنگ میں غالب آجانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس آگئے، اگر ہم کچھ اور زور لگاتے تو تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہوسکتا تھا۔ اس خیال کی وجہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا۔ دوسری طرف آنحضرت ﷺ نے شاید ان کے ارادے سے باخبر ہو کر یا احد کے نقصان کی تلافی کے لیے جنگ احد کے اگلے دن سویرے صحابہ میں یہ اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کے تعاقب میں جائیں گے، اور جو لوگ جنگ احد میں شریک تھے صرف وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ صحابہ کرام اگرچہ احد کے واقعات سے زخم خوردہ تھے، اور تھکے ہوئے بھی تھے، مگر انہوں نے آنحضرت ﷺ کی اس دعوت پر لبیک…
Read the full tafseer →فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ……………” جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس پر خوش اور خرم ہیں ۔ “ یعنی وہ اللہ کے ہاں سے آیا ہوا رزق بڑی فرحت کے ساتھ حاصل کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں اچھی طرح ادراک ہوچکا ہوتا ہے کہ یہ تو اللہ کا فضل خاص ہے ۔ یہ فضل خاص ان کے لئے ثبوت ہے اللہ کی رضامندی کا ‘ اس لئے کہ وہ اس کی راہ میں قتل ہوئے ۔ پس اس سے زیادہ ان کے لئے اور کیا چیز سامان فرحت ہوسکتی ہے کہ انہیں اللہ کا رزق اس احساس کے ساتھ ملے کہ وہ ان سے راضی بھی ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
1 یعنی گھر میں بیٹھے رہنے سے موت تو رک نہیں سکتی، ہاں آدمی اس موت سے محروم رہتا ہے جس کو موت کے بجائے حیات جاودانی کہنا چاہئے۔ شہیدوں کو مرنے کے بعد ایک خاص طرح کی زندگی ملتی ہے جو اور مردوں کو نہیں ملتی، ان کو حق تعالیٰ کا ممتاز قرب حاصل ہوتا ہے۔ بڑے عالی درجات و مقامات پر فائز ہوتے ہیں۔ جنت کا رزق آزادی سے پہنچتا ہے جس طرح ہم اعلیٰ درجہ کے ہوائی جہازوں میں بیٹھ کر ذرا سی دیر میں جہاں چاہیں اڑے چلے جاتے ہیں، شہداء کی ارواح " حواصل طیور خضر " میں داخل ہو کر جنت کی سیر کرتی رہتی ہیں۔ ان " طیور خضر " کی کیفیت و کلانی کو اللہ ہی جانے، وہاں کی چیزیں ہمارے احاطہ خیال میں کہاں آسکتی ہیں۔ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–170
آیت 169 وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ط۔
یہی مضمون قبل ازیں سورة البقرۃ میں آچکا ہے : وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌط بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
169 روح اور جسم کے اتصال کا نام زندگی اور انفصال کا نام موت ہے۔ قرآن میں دو بار کی زندگی اور دو بار کی موت کا ذکر آیا ہے اور ان کی ترتیب یہ ہے (1) موت یعنی انسان کی پیدائش سے پہلے کا وقت جسے عالم ارواح کہتے ہیں۔ (2) زندگی یعنی پیدائش سے موت تک کا وقت (3) موت یعنی موت سے قیامت (حشر) تک کا وقت اور (4) زندگی یعنی حشر سے لے کرتا ابد لامتناہی مدت کے لیے، (جنت میں یا جہنم میں)
دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ موت کے عرصہ میں بھی کلی موت واقع نہیں ہوتی بلکہ زندگی کے کچھ نہ کچھ اثرات اس میں موجود ہوتے ہیں جیسے عالم ارواح میں تمام پیدا ہونے والے انسانوں سے الست بربکم کا وعدہ لیا گیا تھا اور جیسے عالم برزخ…
Read the full tafseer →350 ۔ (مگر آخر کار شہید ہو کر ان سے جا ملنے والے ہیں) من فضلہ “۔ اس فضل خداوندی کے اندر ہر قسم کی نعمتیں اور سرافرازیاں آگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–176
آیت نمبر 176 تا 180
ترجمہ : جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے (دوبارہ) قتال کے لیے نکلنے کے حکم پر لبیک کہہ دیا باوجودیکہ وہ احد میں زخم خوردہ ہوچکے تھے۔ (اور یہ اس وقت ہوا) کہ جب ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے پلٹ کر آنے کا ارادہ کیا۔ اور نبی ﷺ سے یوم احد کے بعد آئندہ سال بازار بدر کے موقع پر (مقابلہ آرائی) کا چیلنج کیا۔ اَلَّذِیْنَ مبتدا ہے اور اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ ، اس کی خبر ہے۔ ان میں سے جنہوں نے اس کی اطاعت کے ذریعہ نیکی اختیار کی اور اس کی مخالفت سے اجتناب کیا ان کے لیے اجر عظیم ہے اور وہ جنت ہے۔ اور یہ ایسے لوگ ہیں (الذین) سابق الذین سے بدل یا صفت ہے۔ کہ جب ان سے لوگوں یعنی نعیم بن…
Read the full tafseer →فرحین بما اتھم اللہ من فضلہ اللہ جو کچھ ان کو اپنے فضل سے عطا فرماتا ہے وہ اس پر خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہاں تک کسی عقل کی رسائی نہیں نہ اس کی تفصیل لفظوں میں بیان کی جاسکتی ہے۔
عبد الرزاق نے مصنف میں اور ابن ابی شیبہ نے اور احمد اور مسلم اور ابن المنذر نے مسروق کا قول بیان کیا ہے کہ ہم نے حضرت عبد اللہ یعنی ابن مسعود سے ان آیات کی تشریح پوچھی فرمایا : ہم نے بھی رسول اللہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا تھا ان کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہیں۔ عبد الرزاق کی روایت میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز پرندوں کی طرح ہوتی ہیں (بہر حال) ان پرندوں کے لیے سونے کی قندیلیں (پنجرے) عرش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
(170۔ 171) اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے جو انعامات ان کو عطا فرماتا ہے وہ اس سے خوش ہیں اور جو ان کے بھائی دنیا میں رہ گئے اور ان تک نہیں پہنچے وہ ان کی بھی اس حالت پر خوش ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انکو اس کی خوشخبری دی ہے نیز وہ انعامات خداوندی اور بلند درجات کی وجہ سے بھی خوش ہیں۔ جہاد میں جو تکالیف لاحق ہوتی ہیں، انکو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
يَسْتَبْشِرُوْنَ۔۔ : یعنی اپنے جن مسلمان بھائیوں کو جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول چھوڑ آئے ہیں ان کا تصور کر کے خوش ہوتے ہیں کہ ان کو بھی ہماری طرح پر لطف اور بےخوف و خطر زندگی حاصل ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پر وندں کے قالبوں میں ڈال دیا، جو جنت کی نہروں پر آتی ہیں، جنت کے پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں کے پاس ٹھہر جاتی ہیں، جب انھوں نے اپنے پاکیزہ کھانے اور پینے کو دیکھا اور اپنے حسن انجام کو ملاحظہ کیا تو کہنے لگے : ”اے کاش ! ہمارے بھائیوں کو بھی یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–170
آیت نمبر 169۔ 170
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ جو کچھ احد کے دن ہوا وہ امتحان تھا جو منافقین کو صادق (سچ بولنے والے) سے ممتاز اور الگ کرتا ہے تو پھر اس نے یہ بیان فرمایا کہ جو شکست خوردہ نہیں ہوئے اور شہید کردیئے گئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ معزز اور زندہ ہیں، اور یہ آیت شہداء احد کے بارے میں ہے اور یہ قول بھی ہے کہ یہ بئر معونہ کے شہداء کے بارے نازل ہوئی ہے (1) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2 صفحہ 399، ایضا صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث نمبر 3781، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلکہ یہ تمام شہداء کے بارے میں عام ہے، اور مصنف ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
(1) ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے لفظ آیت ” یستبشرون بنعمۃ من اللہ وفضل “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ آیت نے سارے ایمان والوں کو جمع کردیا سوائے شہداء کے اور بہت کم ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی فضیلت کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا جو ان کو عطا کیا گیا۔
(2) الحاکم نے اس کو صحیح کہا اور عبد الرحمن بن جابر (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا جب احد والوں کا ذکر کیا گیا اللہ کی قسم میں پسند کرتا ہوں اس بات کو کہ قتل کیا جاؤں اپنے اصحاب کے ساتھ پہاڑ کے دامن میں نحص الجبل سے مراد ہے اس کی جڑ یعنی دامن۔
حضرت حمزہ ؓ کی نماز…
Read the full tafseer →[فَرِحِیْنَ : اس حال میں کہ بہت ہی خوش ہیں ] [بِمَآ : اس سے جو ] [اٰتٰـٹہُمُ : دیا ان کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [مِنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [وَیَسْتَـبْشِرُوْنَ : اور وہ لوگ خوشی مناتے ہیں ] [بِالَّذِیْنَ : ان لوگوں کی جو ] [لَمْ یَلْحَقُوْا : (ابھی) نہیں جڑے ] [بِہِمْ : ان سے ] [مِّنْ خَلْفِہِمْ : ان کے پیچھے (رہ جانے والوں میں) سے ] [اَلاَّ خَوْفٌ : (اور یہ کہ) کوئی خوف نہیں ہے ] [عَلَـیْہِمْ : ان پر ] [وَلاَ ہُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [یَحْزَنُوْنَ : پچھتاتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
شہداء زندہ ہیں اور خوش ہیں
اوپر کی آیت میں مذکور ہے کہ منافقین نے اللہ کی راہ میں مقتول ہوجانے والوں کے بارے میں یوں کہا تھا کہ اگر ہماری بات مان لی جاتی تو مقتول نہ ہوتے گویا کہ ان کا مقتول ہوجانا ان کے نزدیک اچھا نہ ہوا اور ان کی خیر خواہی اس میں ظاہر کر رہے تھے کہ وہ مقتول نہ ہوتے اور دنیا میں اور زیادہ زندہ رہ جاتے آیت بالا میں ان لوگوں کی جاہلانہ بات کا توڑ بھی ہے اور مومنین کو تسلی بھی ہے اور بشارت بھی کہ جو حضرات اللہ کی راہ میں مقتول ہوئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ تو اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور دنیا کی چیزیں ان کے پاس نہیں ہیں تو یہ کوئی نقصان کی بات نہیں کیونکہ ان کو وہاں ان کے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
بیان اعزاز واکرم شہداء احد، دربار گاہ خداوند احد۔
قال تعالیٰ ولا تحسبن الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ اجرالمومنین۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے اس قول کا جواب دیا تھا جو یہ کہتے تھے کہ لواطاعونا ماقتلوا اس کے جواب میں فادروا عن انفسکم الموت اراشاد فرمایا اب اس آیت میں ان کے ایک شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ جن کو تم مقتول اور مردہ کہتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ وہ دنیا سے ناکام اور محروم ہوگئے اور حیات اور لذات سے محروم ہوگئے کہ وہ مردہ نہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اور ان کو بجائے اس حیات فانی کے ایک خاص قسم کی حیات جاودانی عطا کردی گئی ہے جو عیش وتنعیم میں اس دنیوی حیات سے کہیں بالا ہے اور برتر ہے چناچہ فرماتے…
Read the full tafseer →261 فَرِحِیْن۔ یہ یُرْزَقُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور فَضلِہٖ سے وہ انعام واکرام مراد ہے جو شہادت کے بعد جنت میں ان کو عطا کیا گیا ہے جنت کی یہ خاص نعمتیں اور یہ اعزاز واکرام چونکہ شہادت کی جزاء ہے اس لیے نعمت شہادت بھی فَضْلِہٖ میں داخل ہے۔ وھو فی الشھادۃ وما ساق الیھم من الکرامۃ والتفضیل علی غیرھم من کو نھم احیاء مقربین معجلا لھم رق الجنۃ ونعیمھا (مدارک ج 1 ص 151 یعنی بما اعطاھم من الثواب والکرامۃ والاحسان والافضال فی دار النعیم (خازن ج 1 ص 376) مطلب یہ کہ درجہ شہادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عالم برزخ میں ان کو جن نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ ان میں خوش وخرم ہیں۔ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ الخ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
ربط آیات : گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تنبیہ فرمائی کہ وہ منافقوں ، یہود اور نصاری کی مشابہت اختیار نہ کریں۔ جو روش انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر اختیار کی تھی اس سے منع فرمایا۔ نیز منافقین نے شہدائے احد کے متعلق کیا تھا۔ لو کانوا عندنا ما ماتوا وما قتلوا۔ یعنی اگر یہ لوگ جنگ میں شریک ہونے کی بجائے ہمارے ساتھ پڑے رہتے تو نہ مارے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی بھی تردید فرمائی۔ دوسری بات اللہ نے یہ بھی بیان فرمائی کہ جب منافقین سے کہا گیا ۔ تعالوا قاتلوا فی سبیل اللہ اوادفعوا۔ آؤ اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ یا کم از کم دشمن سے دفاع ہی کرو۔ تو انہوں نے یوں حیلہ سازی کی کہ یہ…
Read the full tafseer →فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ 0 ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ 0 ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ 170 ۘ
فرح
الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ،
(ر ح ) ا لفرح
کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی میں ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–171
ترکیب : الذین الخ صفت ہے الذین نافقوا کی لو اطاعونا شرط ماقتلوا جواب جملہ مقولہ قالوا کا۔ الذین قتلوا مفعول اول لاتحسبن کا امواتا مفعول ثانی۔ یرزقون صفت احیاء ‘ و یستبشرون معطوف ہے فرحین پر کیونکہ اسلم فاعل اس جگہ مشابہ فعل مضارع ہے۔ من خلفہم متعلق ہے یلحقوا سے۔ الا خوف ای بان لا خوف علیہم ان مصدریہ ہے اور موضع جملہ کا بدل ہے الذین سے بدل الاشتمال۔
تفسیر : یہ بھی منافقوں کا ایک شبہ مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے روکنے کے لئے تھا کہ وہ اپنے ان بھائیوں کی نسبت جو کہ جنگ میں شہید ہوگئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو مارے نہ جاتے۔ چونکہ حیات ایک مرغوب چیز اور مرنے سے ڈرنا ایک طبعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ط بَلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ ۔ لا فَرِحِیْنَ بِمَآ اٰتٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ لا وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِہِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ لا اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ م یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لا وَّاَنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ع
(اور ہرگز یہ خیال نہ کرو ان لوگوں کو جو قتل کیے گئے ہیں اللہ کے راستے میں، مردہ، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیئے جاتے ہیں۔ خوش ہیں ان نعمتوں سے جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–172
فہم القرآن
ربط کلام : احد کی ہزیمت کے بعد کفار کی دھمکی کا مسلمانوں کی طرف سے ردّ عمل جس میں ان کے ایمان کی تعریف کی گئی ہے۔
منافقوں کے کردار اور ان کی ہرزہ سرائی کے ذکر کے بعد اللہ کے راستے میں کٹ مرنے والوں کی حیات جاوداں اور دنیا و آخرت میں ان کے مقام و انعام کا ذکر کرتے ہوئے ان کے احترام کا لحاظ رکھنے کی تلقین کرنے کے بعد غازیوں اور مجاہدوں کا ایک دفعہ پھر تذکرہ ضروری سمجھا گیا جنہیں احد کی شکست کے فوراً بعد کفار کے لشکر کے کمانڈر ابو سفیان نے یہ چیلنج دیا تھا کہ میں تم پر دوبارہ حملہ آور ہو رہا ہوں۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ احد کے میدان میں مسلمانوں کو بھاری نقصان پہنچانے کے باوجود کفار…
Read the full tafseer →کیفیت حیات :
170: فَرِحِیْنَ بِمَآ ٰاتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ اَلاَّ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ فَرِحِیْنَ (وہ خوش ہونے والے ہیں) یہ یرزقون کی ضمیر سے حال ہے۔ بِمَآ ٰاتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عطاء فرمایا ہے) کہ وہ زندہ ہیں اور مقربین میں ہیں اور جنت کی نعمتیں اور رزق جلد ان کو مل رہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے انکی ارواح کو سفید پرندوں کے قالب میں ڈال دیا۔ وہ جنت کی نہروں میں چکر لگاتے اور اسکے پھلوں سے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 170۔:
فضل سے مراد رزق اور اس کا ثواب ہے ” ویستبشرون “ اور وہ اس میں خوش ہوتے ہیں ، (آیت)” بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم لم “ اس سے مراد وہ بھائی جن کو وہ دنیا میں زندہ چھوڑ کر آئے ایمان کی حالت میں اور جہاد کی حالت میں ان کو یہ معلوم ہے کہ جب ہمیں بھی شہادت سے نوازا جائے گا اور ہم ان سے ملیں گے اور وہ انعامات ہمیں بھی ملیں گے جوان کو ملے ، اس وجہ سے ان کو خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ (آیت)” ان لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
(169 ۔ 171) ۔ ابو داؤد اور مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور ترمذی میں حضرت جابر ؓ سے روایات ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہم لوگوں سے فرمایا کہ تمہارے ساتھ کے لوگ جو شہید ہوئے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے کو یہ درجہ دیا کہ ان کی جانوں کو ایک طرح کے سبز جانوروں کے پوٹوں میں رکھا۔ اور وہ جانور جنت کے میوے کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں میں پانی پیتے ہیں اور سونے کی قندیلیں جو عرش معلیٰ کے نیچے لٹکتی ہیں ان میں رہتے ہیں تو ان شہیدوں کی روحوں نے یہ تمنا کی کہ ان کے اس عیش اور راحت کی خبر کسی طرح ان کے ساتھ کے زندہ مسلمانوں کو پہنچ جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
آیت 169-171
ان آیات کریمہ میں شہداء کی کرامت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جن سے شہدئا کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے نوازا ہے اور اسی ضمن میں ان زندہ لوگوں کے لئے تسلی اور تعزیت ہے جن کے اقرباء نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ نیز ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دینا اور ان میں شوق شہادت پیدا کرنا ہے اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ) یعنی جو دشمنان دین کے ساتھ اس قصد کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو، قتل ہوگئے (امواتاً ) ” ان کو مردہ گمان مت کرو “ یعنی ان کے بارے میں تمہارے دل میں اس خیال کا گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–173
قول باری ہے (الذٰن قال لھم الناس ان الناس قد جمعوالکم۔ اور وہ، جن سے لوگوں نے کہا، تمہارے خلاف برفوجیں جمع ہوئی ہیں۔ ) تاآخرت آیت ۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ابن اسحاق سے مروی ہے کہ جن لوگوں نے یہ خبردی تھی، وہ ایک قافلے والے تھے، اس قافلے میں ابوسفیان بھی تھا۔ مقصد یہ تھا کہ جب مسلمان احد سے واپس جانے لگیں تو انھیں روکاجائے۔ دوسری طرف مشرکین کا ارادہ یہ تھا کہ ایک بار پھر پلٹ کر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے۔ سدی کا قول ہے کہ یہ ایک بدو تھا جسے معاوضہ دے کر مسلمانوں تک یہ خبرپہنچائے پر مامور کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص پر لفظ الناس کا اطلاق کیا یہ بات ان لوگوں کے بقول ہے جنھوں نے اس کی یہ…
Read the full tafseer →365 شہداء کیلئے نہ کوئی خوف نہ غم : کہ نہ ان کو آخرت کی عقوبت کا کوئی خوف و اندیشہ ہوگا کہ اس سے ان کے رب نے ان کو بچا کر مامون کردیا ہوگا۔ اور نہ ہی ان کو دنیاوی لذتوں کے چھوٹ جانے کا کوئی افسوس اور غم ہوگا کہ وہاں کی نعمتیں ایسی ہونگی کہ دنیا کی نعمتوں کی ان کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں ہوسکتی۔ نیز وہ اس بات پر خوش اور شاداں وفرحاں ہوں گے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہو کر حیات دنیا کی اپنی متاع گرانبہا کو اس کے صحیح مصرف میں لگایا جس کے نتیجے میں وہ حیات جاودانی کی کامیابی اور ابدی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوگئے۔ سو اس سے ان منافقین اور کمزور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
تشریح : اسی سورة کی آیت 157 میں شہید کے بارے میں تفصیل گزر چکی ہے۔ نبی ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ” جو شخص نیک عمل لے کر دنیا سے جاتا ہے اسے اللہ کے ہاں اتنی اچھی زندگی ملتی ہے جس کے بعد وہ کبھی دنیا میں واپس آنے کی تمنا نہیں کرتا کہ دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے۔ مگر شہید تمنا کرتا ہے کہ پھر دنیا میں بھیجا جائے اور پھر اس لذت، اس سرور اور اس نشے سے لطف اندوز ہو جو اللہ کی راہ میں جان دیتے ہوئے حاصل ہوتا ہے۔ “ ( مسند احمد )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اپنے جب مسلمانوں بھا ئیوں کو جہاد فی سبیل اللہ مشٖغول چھوڑ آئے ہیں ان کا تصور کر کے خوز ہوتے ہیں کہ ان کو بھی ہماری طرح پر لطف اور بیخوف و خطر زندگی حاصل ہوگی۔ بعض روایات میں ہے کہ شہدا بئر معونہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ خواہش کی کہ ہم جس عیش و خوشی میں زندگی بسر کر رہے ہیں ہمارے بھائیوں کو اس کی اطلاع پہنچا دی جائے تاکہ وہ بھی جہاد فی سبیل اللہ میں رغبت کریں چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ التجا منظور فرمائی اور یہ آیات نازل فرمائیں۔ (کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
(3:170) یستبشرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استبشار (استفعال) مصدر خوش ہیں۔ خوش ہوتے ہیں بالذین ان کے متعلق لم یلحقوا بھم جو ابھی نہیں آملے ان کے ساتھ ۔ من خلفھم ان کے پیچھے رہ جانے والوں میں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–177
لغات القرآن آیت نمبر 165 تا 177
اصبتم (تم نے پہنچادیا) مثلیھا (اس سے دوگنا) ادفعوا (دور کرو) اقرب (زیادہ قریب) قعدوا (بیٹھے رہے) لواطاعونا (اگر ہماری بات مانتے) ادرء وا (تم دور کرو) یرزقون (رزق دیئے جاتے ہیں) فرحین (خوش ہوتے ہیں) یستبشرون (بشارت وخوش خبری دیتے ہیں) لم یلحقوا (نہیں ملے) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) یسارعون ( دوڑتے ہیں) حظ (حصہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 165 تا 177
غزوۂ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتماعی غلطی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تکلیف اٹھا نا پڑی اس پر اہل ایمان نے تو صبر اور برداشت سے کام لیا لیکن مناقفین کو بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
شہیدوں کی روحوں کا ذکر
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے قالب عطا فرمائے اور وہ جنت کے شہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں، جنتی میوے کھاتے ہیں طلائی قنادیل میں زیر عرش معلیٰ ہیں ان میں رہتے ہیں۔ جب انہوں نے کھانے پینے رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بےرغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہاری خبر تمہارے بھائیوں کو پہنچا دیتا ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس سے ثابت ہوا کہ ارواح باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–174
[65] یعنی جنگ احد میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
(ف 1) حدیث میں آیا ہے کہ شہداء کی سب روحیں طیور خوش منظر کی شکل میں شاداں وفرحاں جنت کے آب رواں پر مصروف پرواز رہتی ہیں ، اس وقت انہیں احساس ہوتا ہے کہ اے کاش ہم اس حیات جادواں کے کوائف روح پرور کو اپنے اعزء واقربا تک پہنچا سکتے اور ان کے اعمال میں بھی شہادت کے جام ارغوانی کے لئے گدگدی پیدا کرسکتے ۔
اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ انہیں بھی اس زندگی سے مطلع کردیا گیا ہے ، اس لئے ان کی خواہشوں میں اور اضافہ ہوجاتا ہے ، (آیت) ” ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–170
ف 4 یہ منافق ایسے لوگ ہیں جو خود تو اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور اپنے ان بھائیوں کے متعلق جو میدان میں شہید ہوئے انہوں نے یوں کہا کہ اگر وہ لوگ ہمارا کہا مان لیتے اور ہمارے منع کرنے سے میدان میں نہ جاتے تو وہ بےکار اور بےفائدہ نہ مارے جاتے۔
اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے اچھا اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ میدان میں جانے سے ہی آدمی مرتا ہے اور گھر میں بیٹھنے سے نہیں مرتا تو تم اپنے اوپر سے موت کو رفع کردینا اور موت کو ٹلا دینا (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اگر موت کا کوئی وقت مقرر نہیں اور موت کسی نظم کے ماتحت نہیں ہے اور حضرت حق تعالیٰ کے حکم کو کسی کے مرنے جینے میں … دخل نہیں ہے بلکہ محض اتنی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
ف 3۔ اوپر غزوہ احدکاقصہ مذکور ہوچکا آگے اس سے متعلق ایک دوسرے غزوہ کا ذکر ہے جو غزوہ حمراء الاسد کے نام سے مشہور ہے وہ یہ کہ جب کفار قریش میدان احد سے مکہ واپس ہوئے تو رستہ میں جا کر اس پر افسوس کیا کہ باوجود غالب آجانے کے لوٹ آئے سو اب چل کر سب کا استیصال کردیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور پھر وہ مکہ ہی کی طرف ہولیے لیکن بعض راہ گیروں سے کہہ گئے کہ کسی تدبیر سے مسلمانوں کے دل میں ہمارا رعب جمادیا جائے آپ کو وحی سے یہ امر معلوم ہوگیا اور آپ ان کے تعاقب میں مقام حمراء الاسد تک پہنچے حمراء الاسد مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے وہاں آپ نے تین روز قیام فرمایا اس مقام پر ایک قافلہ…
Read the full tafseer →شہداء کو اللہ تعالیٰ نے جو انعامات دیئے ہیں وہ ان کو حاصل کر کے بہت خوش ہیں :
312: حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے احد والے روذ شہید کئے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھاتی ہیں اور جنتی نہروں سے پانی پیتی ہیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قنذیلوں میں آرام و راحت حاصل کر رہی ہیں۔ جب کھانے پینے ، رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کہ کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور راہ خدا کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ جائیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
So, in summation, their first merit as pointed out in this verse is their distinct perennial life; the second is their being well-provided from Allah and the third (فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ ) is that they shall always be happy with Allah's blessings and grace. The fourth (وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم) merit is the good news given to them about their relatives and circle of friends they left behind in the mortal world that they too shall deserve the same blessings and ranks with their Lord if they remain good in deeds and are active in Jihad…
Read the full tafseer →121. There is a Tradition from the Prophet that he who leaves the world after having lived righteously is greeted with a life so felicitous that he never wishes to return to the world. The only exception to this are martyrs who wish to be sent back to the world so that they may once again attain martyrdom and thereby enjoy that unique joy, bliss and ecstasy which one experiences at the time of laying down one's life for God. (Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. Ill, 103, 126, 153, 173, 251, 276, 278, 284, 289; Bukhari, 'Tafsir al-Qur'an', 6 and 21: Muslim, 'Al-Imarah', 108, 109. 121 - Ed.)
Read the full tafseer →