Explained with ayahs 130–136
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 98
احد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے۔ اس لیے حکیم مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لیے زرپرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خواری سے باز آؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے آدمی کے اندر روپے کی حرص بےحد بڑھتی چلی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو سود مت کھاؤ (یعنی مت لو اصل سے) کئی حصے زائد (کر کے) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو (یعنی جنت نصیب ہو اور دوزخ سے نجات ہو) اور اس آگ سے بچو جو (دراصل) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے (اور آگ سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ سود وغیرہ سے بچو)۔
معارف و مسائل
اس آیت میں سود کھانے کی حرمت و ممانعت کے ساتھ اضعافا مضاعفۃ کا ذکر حرمت کی قید نہیں، بلکہ سود کی قباحت کو واضح کرنے کے لئے ہے، کیونکہ دوسری آیات میں مطلقا ربو کی حرمت کا بیان نہایت تشدید و تاکید کے ساتھ آیا ہے، جس کی تفصیل سورة بقرہ میں آچکی ہے، اور اضعافا مضاعفۃ کے ذکر میں اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ جس کو…
Read the full tafseer →’ اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ‘ کی قید کا مقصد : لفظ ربوا کی تحقیق اور اس سے متعلق دوسرے بعض اہم سوالات پر سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے ساتھ اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً کی جو قید لگی ہوئی ہے اس سے مقصود یہ ہے نہیں کہ اسلام میں ممنوع صرف سود در سود ہے، بلکہ یہ قید، جیسا کہ ہم سورة بقرہ میں ’ لایسالون الناس الحافا ‘ کے تحت متعدد مثالوں سے واضح کرچکے ہیں، محض صورت حال کی تصویر اور اس کے گھنونے پن کے اظہار کے لیے ہے۔ جس طرح ’ لاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا : اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو اگر وہ قید نکاح میں آنا چاہتی ہیں ‘ میں ’ ان اردن تحصنا ‘ کی شرط سے مقصود یہ نہیں ہے کہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
130۔ 1 چونکہ غزوہ احد میں ناکامی رسول ﷺ کی نافرمانی اور مال دنیا کے لا لچ کے سبب ہوئی تھی اس لئے اب طمع دنیا کی سب سے زیادہ بھیانک اور مستقل شکل سود سے منع کیا جا رہا ہے اور اطاعت کی تاکید کی جا رہی ہے اور بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ کا یہ مطلب نہیں کہ بڑھا چڑھا کر نہ ہو تو مطلق سود جائز ہے بلکہ سود کم ہو یا زیادہ مفرد ہو یا مرکب مطلقًا حرام ہے جیسے کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے جس سے تنبیہ بھی مقصود ہے کہ سود خوری سے باز نہ آئے تو یہ فعل تمہیں کفر تک پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ و رسول سے محاربہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–130
44: امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرض لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی خیال ہوسکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں، اس آیت نے انہیں خبر دار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے، یہاں سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے ؛ بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا اس لئے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے ورنہ سورة بقرہ (آیت 277 اور 278) میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
یہ تمام ہدایات یہاں عین اس وقت جاری ہیں کہ سیاق کلام میں جنگی معرکہ پر بحث شروع ہونے والی ہے ۔ اور ان سے یہاں اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت کی طرف اشارہ مطلوب ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات انسانی شخصیت اور اس کی سرگرمیوں کو ایک جامع نقطہ نظر سے دیکھتا ہے ۔ اور انسان اور اس کی تگ ودو کو ایک ہی محور کے گرد گھماتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی پوری زندگی میں اللہ وحدہٗ لاشریک کی اطاعت اور پرستش کرنی ہے ۔ ہر معاملے میں صرف اس کی طرف متوجہ ہونا ہے ۔ اور صرف اسلامی نظام حیات ہی پوری زندگی پر حاوی کرنا ہے اور انسانی شخصیت کے تمام احوال اور تمام حالات پر اسلامی نظام حیات کو غالب کرنا…
Read the full tafseer →4 جنگ احد کے تذکرہ میں سود کی ممانعت کا ذکر بظاہر بےتعلق معلوم ہوتا ہے۔ مگر شاید یہ مناسبت ہو کہ اوپر (اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا) 3 ۔ آل عمران :122) میں " جہاد " کے موقع پر نامردی دکھلانے کا ذکر ہوا تھا۔ اور سود کھانے سے نامردی پیدا ہوتی ہے۔ دو سبب سے۔ ایک یہ کہ مال حرام کھانے سے توفیق طاعت کم ہوتی ہے اور بڑی طاعت جہاد ہے، دوسرے یہ کہ سود لینا انتہائی بخل پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ سود خوار چاہتا ہے کہ اپنا مال جتنا دیا تھا لے لے اور بیچ میں کسی کا کام نکلا، یہ بھی مفت نہ چھوڑے۔ اس کا علیٰحدہ معاوضہ وصول کرے۔ تو جس کو مال میں اتنا بخل ہو کہ خدا کے لئے کسی کی ذرہ بھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–133
آیت 130 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوا الرِّبآوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃًص
یہاں پر سود مرکب compound interest کا ذکر آیا ہے جو بڑھتا چڑھتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ شراب اور جوئے کی طرح سود کی حرمت کے احکام بھی تدریجاً نازل ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے ایک مکی سورة ‘ سورة الروم میں انفاق فی سبیل اللہ اور سود کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر سود کی قباحت اور شناعت کو واضح کردیا گیا : وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِج وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ جیسے کہ شراب اور جوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
118 اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑ کر جانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے کام بلا تاخیر کئے جائیں، جو اللہ کی مغفرت کا سبب بن سکتے ہیں اور وہ تمام اعمال صالحہ ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا بذات خود اللہ کی بخشش کا بہت بڑا سبب ہے۔ استغفار کے لیے کتاب و سنت میں بہت سی دعائیں منقول ہیں اور ایک دعائے استغفار کو تو رسول اللہ ﷺ نے سید الاستغفار فرمایا : آپ نے یہ استغفار صحابہ کرام ؓ کو سکھلایا اور صبح و شام نمازوں کے بعد یہ استغفار پڑھا کرتے تھے۔ اس استغفار کے الفاظ یہ ہیں : (اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لاَاِلَہَ الاَّاَنْتَ خَلَقْتَنِی وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ…
Read the full tafseer →263 ۔ (آیت) ” واتقوا اللہ لعلکم تفلحون “ ، تقوی اور فلاح میں یہ لزوم بتاکرگویا اس حقیقت کا اظہار کردیا کہ فلاح و کامیابی یا دنیا میں عافیت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا راز، احکام تقوی پر عمل کرنے میں ہے۔ (آیت) ” لعلکم۔ لعل “۔ کے لفظی معنی ” عجب نہیں “۔ کے ہیں۔ لیکن اوپر گزر چکا ہے کہ (آیت) ” لعل “۔ جب وعدۂ الہی کے بیان میں آتا ہے تو اس کے مفہوم میں بجائے شک وتردد کے یقین پیدا ہوجاتا ہے۔ اور ترجمہ ” تاکہ “ سے صحیح ہوتا ہے۔ قال اھل التفسیران لعل وعسی من اللہ للتحقیق (مدارک) (آیت) ” لا تاکلوا الربوا “۔ یعنی سودی کاروبار، لین دین کو بالکل حرام سمجھو، حرمت سود پر حاشیے پارۂ سوم میں ختم سورة بقر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–130
آیت نمبر 130 تا 143
ترجمہ : اے ایمان والو ! یہ بڑھتا ثڑھتا سود کھانا چھوڑ دو (مُضٰعَفَۃً ) الف اور بغیر الف دونوں طریقوں پر ہے۔ اس طور پر کہ مدت پوری ہونے پر مالی مطالبہ بڑھا دو ۔ اور مطالبہ میں مہلت دے دو ۔ (اکل ربا) کو ترک کرکے اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اس آگ سے ڈرو جو (اصالۃً ) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے کہ تم کو اس میں عذاب دیا جائے اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو کہ جس کی وسعت زمین و آسمان ہیں (سَارِعُوْا) میں قبل السین واؤ اور بدون واؤ دونوں (قراءتیں) ہیں۔ یعنی (جنت کی وسعت) ان دونوں کی وسعت کے مانند ہے…
Read the full tafseer →یا ایھا الذین امنو الا تاکلو الربوا اضعافا مضاعفۃ اے اہل ایمان سود نہ کھاؤ چند در چند بڑھا کر اضعافا مضاعفۃ قید احترازی نہیں ہے (کہ اگر چند در چند نہ ہو تو سود کھانے کی ممانعت نہیں) بلکہ مطلق ربوا کی ممانعت ہے اور ان کے طریق عمل پر زجر ہے۔
واتقوا اللہ لعلکم تفلحون اور فلاح کی امید رکھتے ہوئے سود اور دوسرے ممنوعات میں اللہ سے ڈرتے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
(130۔ 131) ثقیف والو ! روپیہ پر مدت میں سود مت لو اور اللہ سے اس بارے میں ڈرتے رہو تاکہ تمہیں غصہ اور عذاب سے نجات حاصل ہو اور سود کھانے میں جہنم کی آگ سے ڈرو جو اللہ تعالیٰ نے حرمت سود کے منکرین کے لیے پیدا کی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
شان نزول : یایھا الذین امنوا الا تاکلوا الربوا (الخ)
فریابی ؒ نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ لوگ وقت مقرر پر ادھار چیزوں کو فرورخت کیا کرتے تھے یہ مدت پوری ہونے کے بعد قرض میں اضافہ کردیتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”اے ایمان والو کئی حصے کرکے سود مت کھاؤ“۔
اور فریابی ؒ نے عطا سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ ثقیف، بنو نضیر…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْ كُلُوا الرِّبٰٓوا : شاید سود کا ذکر یہاں (جنگ احد کے تذکرے میں) اس لیے فرمایا کہ اوپر (آیت 122 میں) مذکور ہوا جہاد میں نامردی کا اور سود کھانے سے نامردی آتی ہے دو سبب سے، ایک یہ کہ مال حرام کھانے سے توفیق اطاعت کم ہوتی ہے اور بڑی اطاعت جہاد ہے اور دوسرے یہ کہ سود لینا کمال بخل ہے۔ چاہیے تھا کہ اپنا مال جتنا دیا تھا لے لیتا، بیچ میں کسی کا کام نکل جاتا، یہ بھی مفت نہ چھوڑے، اس کا جدا بدلہ چاہے، تو جس کو مال پر اتنا بخل ہو وہ جان کب دینا چاہے گا۔ (موضح)
پھر انصار کے یہود کے ساتھ سودی لین دین کے تعلقات تھے اور احد میں منافقین یہود کی وجہ سے نقصان پہنچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
آیت نمبر 130۔ تا 132۔
قولی تعالیٰ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔ سود کھانے سے یہ نہیں قصہ احد کے درمیان جملہ معترضہ ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : مجھے اس بارے میں روایت کردہ کوئی شے یاد نہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضرت مجاہد نے بیان کیا ہے : وہ ایک مدت تک بیع کرتے تھے اور جب مدت مقررہ گزر جاتی تو وہ اسے مؤخر کرنے کی شرط پر ثمن میں اضافہ کردیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” یایھال الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔ (میں کہتا ہوں) تمام گناہوں میں سے ربا کو خاص کیا گیا ہے، کیونکہ یہ وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جنگ کی اجازت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
(1) ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ لوگ مدت تک کے لیے آپس میں معاملہ کرتے تھے جب وہ مدت آجاتی تو وہ قیمت میں اضافہ کردیتے اور مدت میں بھی اضافہ کردیتے تو اس پر نازل ہوا لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔
(2) ابن جریر اور ابن المنذر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ قبیلہ ثقیف بنو مغیرہ والوں سے ادھار بیع کرتے تھے زمانہ جاہلیت میں جب مدت پوری ہوجاتی تو وہ لوگ کہتے کہ ہم رقم میں اضافہ کردیتے اور مدت میں اضافہ کر دو (اس پر یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔
دوگنا سود کی صورت
(3) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اس…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِينَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [لاَ تَاْکُلُوا : تم لوگ مت کھائو ] [الرِّبٰٓوا : سود ] [اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً : ضرب دے کر کئی گنا کرتے ہوئے ] [وَاتَّقُوا : اور تقویٰ اختیار کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ تم ] [تُفْلِحُوْنَ : فلاح پائو ]
ک ظ م
کَظَمَ (ض) کَظْمًا : کسی چیز کی روانی کو روکنا ‘ جیسے پانی ‘ سانس یا جذبات وغیرہ روکنا۔
کَظَمَ (ض) کَظْمًا وَکُظُوْمًا غَیْظَہٗ : غصہ کو پی جانا۔
کَاظِمٌ (اسم الفاعل) : روکنے والا۔ { اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کٰظِمِیْنَط } (المؤمن :18) ” جب دل نرخروں کے پاس ہوں گے روکنے والے ہوتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
سود کھانے کی ممانعت اور مغفرت خداوندی کی طرف بڑھنے میں جلدی کرنے کا حکم
ابھی غزوہ احد کا واقعہ پورا مذکور نہیں ہوا اس کا بہت سا حصہ باقی ہے۔ درمیان میں بعض گناہوں سے خصوصی طور پر بچنے کا حکم فرمایا اور تقویٰ کا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایا اور بعض طاعات کی ترغیب دی اور اہل اطاعت کے اخروی بدلہ کا تذکرہ فرمایا۔ غزوہ احد میں مسلمانوں سے جو حکم کی خلاف ورزی ہوگئی تھی۔ جس کا ذکر آیت شریفہ (اَنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوْا) میں فرمایا ہے یہاں عمومی طور پر گناہوں سے بچنے اور اطاعت میں لگنے کا حکم فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ گناہ عمومی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
ترہیب وتحذیر از نار آخرت وترغیب براعمال جنت۔
قال اللہ تعالی۔ یا ایھا الذین امنو لا تاکلو۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ العالمین۔
(ربط) ظاہر میں ان آیات کا ماقبل سے کوئی تعلق معلوم ہوتا ہے اس لیے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ جداگانہ اور مستقل کلام ہے جس میں اللہ نے امرونہی اور ترغیب وترہیب کو جمع کیا ہے مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کو بیان فرمایا ہے اور بعض علماء نے ان آیات کا ماقبل کے ساتھ اتصال اور ربط بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں صبر اور تقوی کا حکم تھا اور کفار کے ساتھ دوستی اور خلط ملط اور ان کو راز دار بنانے کی ممانعت تھی اب ان آیات میں پھر صبر اور تقوی کو بیان کرتے ہیں کہ صبر اور تقوی…
Read the full tafseer →197 حضرت شیخ نے فرمایا کہ ترغیب الی القتال کے بعد یہاں سے لیکر وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ تک ترغیب الی الانفاق ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کیوں نہیں کرتے خرچ کرنا تو درکنار تم تو کسی کو قرض بھی سود کے بغیر نہیں دیتے ہو آؤ اللہ کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا دوزخ کی آگ سے بچنے، اللہ تعالیٰ کی رحمت ومغفرت کے استحقاق اور دخول جنت کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں انفاق فی سبیل اللہ کی طرف ایک عجیب انداز سے ترغیب فرمائی ہے پہلے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے دلوں میں جہاد کی سپرٹ پیدا کی اس کے بعد اچانک سود خوری سے ممانعت کے احکام نازل فرمادئیے۔ سودی کاروبار سے ممانعت بھی در اصل روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد کا ذکر فرمایا۔ اور اس ضمن میں اہل ایمان کی تسلی کے لیے غزوہ بدر کا تذکرہ بھی ہوا۔ کہ اس جنگ میں اللہ نے اپنی خاص مہربانی سے اہل ایمان کے اطمینان اور بشارت کے لیے فرشتوں کو نازل فرمایا۔ مگر غزوہ احد میں مسلمانوں کی طرف سے کمزوری واقع ہوگئی تھی لہذا اس میں نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر احد کی جنگ میں شریک ہونے والے مشرکین کے حق میں بد دعا کرنے سے اللہ نے منع فرما دیا۔ بدر میں کامیابی کا راز بتایا کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا۔ اور صبر اور تقوی کو اختیار کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ کامیابی عطا فرمائی۔ ان غزوات…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً 0 ۠ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 130 ۚ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
ترکیب : اضعافا حال ہے الربوا سے عرضہا جملہ موضع جر میں ہے تقدیر الکلام عرضہا مثل عرض السٰمٰوت۔ اعدت صفت جنت کی ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے الذین ینفقون اور اسی طرح والذین اذا فعلوا اور الکاظمین اور العافین سب متقین کی صفت میں واقع ہے۔ ذکروا اللّٰہ جواب ہے اذا کا ‘ ومن مبتداء خبر ‘ وھم یعلمون حال ہے ضمیر لم یصروا سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں خدا نے اپنی مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان ہمارے قبضہ میں ہیں ہم جس کو چاہتے ہیں معاف کرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں عذاب دیتے ہیں۔ اس لئے یہاں پیشتر سود خوری سے منع کیا کیونکہ جب خدا تمہیں بخشتا اور تم پر رحم کرتا ہے تو تم بھی اپنے زیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنَوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْحَافًا مُّضٰعَفَۃً ص وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ ج وَاتَّقُوا النَّارَالَّتِیْٓ اُعِدَّتْ لِلْـکٰفِرِیْنَ ۔ ج وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ ج
(اے ایمان والو ! سود نہ کھائو دگنا چوگنا بڑھتا ہوا اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پائو۔ اور بچو اس آگ سے جو کافروں کے لیے تیار ہے۔ اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے) (130 تا 132)
جنگ احد کی شکست کے مضمر اسباب
پیشِ نظر آیات کریمہ اپنے مفہوم میں عموم بھی رکھتی ہیں اور خصوص بھی۔ عموم تو یہ ہے کہ ان آیات میں جو احکام دیے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
فہم القرآن
ربط کلام : سود خوری آدمی میں لالچ پیدا کرتی ہے۔ احد میں درّہ چھوڑنے کے پیچھے لالچ ہی کار فرما تھا۔
حرمت سود سے پہلے بعض صحابہ بھی اس کام میں ملوّث تھے۔ جس کے منفی اثرات کا نتیجہ تھا کہ جونہی درّے پر مامور اصحاب نے مجاہدین کو مال غنیمت لوٹتے ہوئے دیکھا تو اپنے کمانڈر سے بےقابو ہو کر غنائم اکٹھا کرنے پر ٹوٹ پڑے۔ اس اخلاقی کمزوری کو دور کرنے کے لیے حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے سود کو چھوڑ دو تاکہ تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکو اور اس آگ سے ڈرو جو اللہ کے حکم کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ بغاوت اور انکار کی روش اختیار کرنے کی بجائے ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول کی…
Read the full tafseer →سود کی مذمت :
130: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً وَّاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (اے ایمان والو ! نہ کھائو سود دونا دوگنا)
قراءت : مُّضَعَّفَۃً عین کی تشدید سے مکی و شامی نے پڑھا ہے۔ اس آیت میں ربا سے ممانعت کی گئی ہے اور دونا، دوگنا سود لینے کی جو رسم ان میں پائی جاتی تھی۔ اسکی مذمت کی ‘ انکا حال یہ تھا کہ جب قرض اپنے وقت کو پہنچ جاتا تو قرض خواہ کہتا یا تو میرا حق واپس کر یا پھر سود دے اور مدت میں اضافہ کروالے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ (تم اسکے کھانے میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (تاکہ تم کامیاب ہوجائو)
Read the full tafseer →130۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مضاعفۃ “۔ یہ اس وجہ سے ایسا کرتے تھے کہ ہماری زندگی طویل ہے اور قرض کے مال کی زیادتی ہو اور اس کی ادائیگی میں خوب تاخیر ہو ، ” واتقوا اللہ “ سو کھانے سے ڈرو۔ ” لعلکم تفلحون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
(130 ۔ 134) ۔ احد کی لڑائی کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ سود کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اسی لڑائی میں ایک بڑا موقع لین دین کا پیش آیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ احد کی لڑائی کے بعد مکہ کو واپس جاتے جاتے اپنے ساتھ کے مشرکین سے ابو سفیان نے کہا کہ مسلمانوں کی جوان جوان عورتیں لونڈیاں بنا کر نہ لایا اور ان کے سرگروہ رسول وقت کو اور بقیہ مسلمانوں کو ناحق زندہ چھوڑ آیا۔ اس کا مجھ کو بڑا افسوس ہے۔ یہ خبر آنحضرت کو پہنچی۔ آپ نے حکم دیا کہ کل کے روز لڑائی میں جو لوگ گئے وہی لوگ آج پھر مشرکین کے تعاقب میں چلیں۔ اگرچہ لوگ زخمی تھکے ہوئے تھے۔ لیکن انہوں فورًا اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کی جس تعمیل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
آیت 129
جب جنگ احد کے سنگین واقعات پیش آئے اور نبی ﷺ کو سخت مصائب پیش آئے، جن کی وجہ سے اللہ نے آپ کا مقام مزید بلند فرما دیا۔ اس موقع پر آپ کا سرمبارک زخمی ہوا، اور دندان مبارک شہید ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا : (کیف یفلح قوم شجوا نبیھم) (1) ” وہ قوم کس طرح فلاح پاسکتی ہے جس نے اپنے اپنے نبی کو زخمی کردیا۔ “ اس موقعے پر آپ ﷺ نے مشرکین کے سرداروں کے حق میں بد دعا بھی فرمائی۔ مثلاً ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر وحی نازل فرما کر آپ کو ان کے خلاف دعا کرنے، انہیں لعنت کرنے، ان کے لئے رحمت سے دوری کی درخواست کرنے سے منع فرما دیا اور فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–130
سود کی ہر صورت حرام ہے
قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
267 بڑھتا چڑھتا سود کھانے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ بڑھتا چڑھتا سود مت کھاؤ "۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا اور جیسا کہ سود مرکب یعنی سود درسود کی خاصیت ہے، اور { اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً } یعنی بڑھتے چڑھتے سود کی یہ قید احترازی اور بیان شرط کے طور پر نہیں، بلکہ بیان واقع اور تقبیح مزید کیلئے ہے۔ ( ابن کثیر، روح، کبیر، صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) اور غزوہ احد کے احوال کے بیان کے درمیان سود کی اس حرمت و ممانعت، اور مکارم اخلاق کے ذکر میں یہ درس ہے، کہ ایمان وتقویٰ ہی کے ذریعے مومن جہاد کے قابل ہوسکتا ہے، اور اپنے دشمن پر فتح و غلبہ پا کر اس کو زیر کرسکتا ہے، جبکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
اللہ کا اختیار
تشریح : غزوہ احد میں جب نبی کریم ﷺ زخمی ہوگئے تو آپ ﷺ کے منہ سے بددعا نکل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا : وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کے چہرے کو زخمی کردے۔ یہ آیات اسی کے جواب میں نازل ہوئی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ نہ چاہتے تھے کہ آپ ﷺ بددعا دیں تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ انسان کو اللہ کے کاموں کا بالکل علم نہیں اور نہ ہی کوئی اختیار حاصل ہے۔ یہ علم اور اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے عذاب دے اور جسے چاہے ہدایت دے ہر اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے ایمان کی توفیق دے کر بخش دے اور جسے چاہے کفر کی سزا میں پکڑ لے۔ ویسے اللہ واحد کی یہ دونوں صفات، یعنی رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–143
آیات 130- 143
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔
توکل :
نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔
زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–131
ف 5 اس میں اشارہ ہے کہ سود کھانا ارکھلا نا مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا جو شخص یہ کام کرتا ہے وہ صریحا کافر ہے اور اسے اپنے آپ کو جہنم کی آگ کے لیے تیارکھنا چاہیے۔ قر طبی )
Read the full tafseer →(3:130) الربو۔ بیاج۔ سود۔ اضعافا مضعفۃ۔ کئی گنا۔ چند در چند۔ مضعفۃ۔ اضعافا کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–138
لغات القرآن آیت نمبر 130 تا 138
اضعافاً (دوگنا) مضاعفة (دوگنے سے بھی زیادہ) سارعوا (تم دوڑو) عرضھا (اس کا پھیلاؤ) السرآء (خوشی، راحت) الضراء (تکالیف، پریشانیاں) الکاظمین (برداشت کرنے والے، پی جانے والے) العافین (معاف کردینے والے) فاحشة (بےحیائی) ظلموا انفسھم (اپنے نفسوں پر ظلم و زیادتی کی) لم یصروا (ضد نہیں کرتے) علیٰ مافعلوا (اس پر جو انہوں نے کیا) نعم (بہترین) اجرالعٰلمین (کام کرنے والوں کا بدلہ) سنن (طریقے) سیروا (تم چلوپھرو) عاقبة (انجام) بیان (وضاحت) ۔
تشریح : آیت نمبر 130 تا 138
گذشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ صبر وتقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جب بھی…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سود کو سخت منع فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–139
[47] جنگ احد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس لئے حکیم مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لئے زر پرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خوری سے باز آؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے اندر حرص بیحد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی اور سود دینے والوں میں سود خوروں کیخلاف نفرت و غصہ اور بغض۔ احد کی شکست میں ان…
Read the full tafseer →اضعافا مضاعفۃ :
(ف 1) سود کی مکمل بحث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے یہاں اس کی مزید شناعت آئی ہے کہ یہ کیا انصاف ہے ، تم اصل رقم سے کئی گنا زیادہ وصول کرلیتے ہو اور پھر تمہارا قرض باقی رہتا ہے ، بات یہ ہے کہ جاہلیت میں ایک شخص متعین حد تک کے لئے سود پر روپیہ دیتا ، جب وہ مقررہ وقت آتا اور مقروض نہ دے سکتا تو اس سے کہا جاتا کہ اصل رقم میں اضافہ کرو تو مدت بڑھائی جاسکتی ہے ، اسی طرح سود (آیت) ” اضعافا مضاعفۃ “ ہوجاتا جو قطعا ناقابل برداشت ہے ، اسلام نے اس سے روکا ہے ، اس کا یہ مقصد نہیں کہ جائز مقدار میں سود کا لینا دینا جائز ہے ، جیسا کہ بعض نافہم لوگوں نے سمجھا ہے ، یہ قید (آیت) ” اضعافا مضاعفۃ “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
ف 5 اے ایمان والو ! تم کئی کئی گنے بڑھا بڑھا کر اور کئی کئی حصے زائد کر کے سود نہ کھائو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو امید ہے کہ تم کو فلاح نصیب ہوگی اور تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گے۔
سورۂ بقرہ میں ہم سود کی تفصیل عرض کرچکے ہیں، عام طور سے وہاں کے سود خوروں کے دو طریقے تھے ایک یہ کہ سود پر روپیہ قرض دیا اور میعاد پر وصول نہ ہوا تو سود کو اصل میں ملا کر پوری رقم پر سود شروع کردیا پھر اگر وصول نہ ہوا تو اس سود کو اصل میں ملا دیا جیسا ہندوستان کے بنیئے کیا کرتے ہیں اور اس کو سود در سود کہتے ہیں اور کمپنی نے قصداً مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے قانوناً اس کو ہندوستان میں جاری کیا تھا۔
دوسرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
ف 4۔ یہ جو فرمایا کہ اصل سے کوئی حصے زائد کرکے۔ یہ سود کے حرام ہونے کی قید نہیں کیونکہ سود قلیل ہو یا کثیر سب حرام ہے۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو سود کی کمائی سے باز آنے کا حکم دیا جاتا ہے :
243: ” اَضْعَا فَا مُضَاعَفَۃ “ سود در سود کو کہا گیا ہے۔ عربوں میں دستور تھا اور غالباً ایسا ہی دستور تمام سود خواروں میں ہے کہ جب قرضہ کی میعاد پوری ہوجاتی ہے اور قرضہ ادا کرنے والا قرضہ ادا نہیں کرسکتا تو سود کو اصل رقم میں بڑھا کر دوبارہ میعاد مقرر کرلی جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص نے اپنی مجبوری کے باعث ایک بنئے سے سو روپے قرض لیے اور ایک سال کے بعد ایک سو بیس ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ سال گزر گیا لیکن وہ قرض ادا نہ کرسکا تو اب بنئے کی طرف سے 120 روپے اصل زر ہوگیا اور سال کے لیے جو رقم طے ہوئی اب وہ ایک صد بیس روپے پر ادا کرنا پڑے گا اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
The meaning of doubled and multiplied
The detailed rules regarding 'riba' and the philosophy underlying its prohibition have been discussed thoroughly in Surah al-Baqarah verses 275-278 (Volume 1 of this commentary). However, it may be pointed out here that words أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً of (doubled and multiplied) used in this verse do not mean that the prohibition of 'riba' is restricted only to a transaction where the interest is doubled or multiplied. In fact, these words are not used in a restrictive sense, because it is evident from Surah al-Baqarah that 'riba' or interest is prohibited…
Read the full tafseer →98. The major cause of the setback suffered at Uhud was that precisely at the moment of their victory the Muslims succumbed to the desire for worldly possessions, and turned to collecting booty rather than completing their task of crushing the enemy. Hence God thought fit to raise a barrier against this excessive adoration of money, and to urge them to give up usury which keeps man constantly absorbed in considering ways and means of amassing wealth and generally whets his appetite for money.
Read the full tafseer →